09/07/2021
افغانستان کے معاملے میں آج امریکی صدر کے حتمی اعترافِ شکست نے گزشتہ ہر صدی کی طرح اس صدی میں بھی جہاد بالسیف کی اہمیت کو اُجاگر کیا ہے۔
قرآن کا دیا گیا یہ اصول فطری بھی ہے، امن کے لیے لازم بھی، کہ آپکے قائم کردہ نظامِ زندگی کو نقصان پہنچانے یا آپکی رُعیت کی جان و مال اور عزّت پامال کرنے کی نیّت سے آپکے گھر میں داخل ہونے والا دشمن یہ حق رکھتا ہے کہ اُسے بے دریغ قتل کیا جائے۔ خواہ شیطٰن کے پیروکار ہر سال مرزا قادیانی جیسے ہزار کذّاب بھیج کر اس اصول کو گہنانے کی کوشش کریں یا آپ خود ہی جہاد بالسیف کے اس نظریہ امن کو بھاری بھرکم لفّاظی کے نیچے دبانے کی کوشش کرتے رہیں، ہر دور میں، دنیا کے کسی نہ کسی کونے میں، کوئی نہ کوئی غیرت مند گروہ اپنے عمل سے یہ ثابت کرتا رہے گا کہ جہاد نہ صرف غیرت عزّت، وقار اور امن و سلامتی کی تڑپ میں گُندھا ایک فطری اصول ہے بلکہ ہر دور میں یہ بھی ثابت ہوتا رہے گا کہ دنیا میں ایسا کوئی اسلحہ یا فوج موجود نہیں جو ایمان والوں میں بِلٹ اِن اس فطری جزبے پر حتمی فتح حاصل کر سکے۔۔۔ محمد رضوان خالد چوھدری