Dar-Ul-Falah Foundation

Dar-Ul-Falah Foundation Need your Help for human welfare

09/07/2021

افغانستان کے معاملے میں آج امریکی صدر کے حتمی اعترافِ شکست نے گزشتہ ہر صدی کی طرح اس صدی میں بھی جہاد بالسیف کی اہمیت کو اُجاگر کیا ہے۔
قرآن کا دیا گیا یہ اصول فطری بھی ہے، امن کے لیے لازم بھی، کہ آپکے قائم کردہ نظامِ زندگی کو نقصان پہنچانے یا آپکی رُعیت کی جان و مال اور عزّت پامال کرنے کی نیّت سے آپکے گھر میں داخل ہونے والا دشمن یہ حق رکھتا ہے کہ اُسے بے دریغ قتل کیا جائے۔ خواہ شیطٰن کے پیروکار ہر سال مرزا قادیانی جیسے ہزار کذّاب بھیج کر اس اصول کو گہنانے کی کوشش کریں یا آپ خود ہی جہاد بالسیف کے اس نظریہ امن کو بھاری بھرکم لفّاظی کے نیچے دبانے کی کوشش کرتے رہیں، ہر دور میں، دنیا کے کسی نہ کسی کونے میں، کوئی نہ کوئی غیرت مند گروہ اپنے عمل سے یہ ثابت کرتا رہے گا کہ جہاد نہ صرف غیرت عزّت، وقار اور امن و سلامتی کی تڑپ میں گُندھا ایک فطری اصول ہے بلکہ ہر دور میں یہ بھی ثابت ہوتا رہے گا کہ دنیا میں ایسا کوئی اسلحہ یا فوج موجود نہیں جو ایمان والوں میں بِلٹ اِن اس فطری جزبے پر حتمی فتح حاصل کر سکے۔۔۔ محمد رضوان خالد چوھدری

ایک دن بادشاہ نے اپنے تین وزراء کو دربار میں بلایا اور تینوں کو حکم دیا کہ تینوں ایک ایک تھیلا لے کر باغ میں داخل ہوں۔او...
03/07/2021

ایک دن بادشاہ نے اپنے تین وزراء کو دربار میں بلایا اور تینوں کو حکم دیا کہ تینوں ایک ایک تھیلا لے کر باغ میں داخل ہوں۔
اور وہاں سے بادشاہ کے لیے مختلف اچھےاچھے پھل جمع کریں۔
وزراء بادشاہ کے اس عجیب حکم پر حیران رہ گئے اور تینوں ایک ایک تھیلا پکڑ کر الگ الگ باغ میں داخل ہوگئے۔
پہلے وزیر نے کوشش کی کہ بادشاہ کے لیے اسکی پسند کے مزیدار اور تازہ پھل جمع کرے اور اس نے کافی محنت کے بعد بہترین اور تازہ پھلوں سے تھیلا بھر لیا۔
دوسرے وزیر نے خیال کیا کہ بادشاہ ایک ایک پھل کا خود تو جائزہ نہیں لے گا کہ کیسا ہے اور نہ ہی پھلوں میں فرق دیکھے گا۔
اس لیے اس نے بغیر فرق دیکھے جلدی جلدی ہر قسم کے تازہ اور کچے اور گلے سڑے پھلوں سے اپنا تھیلا بھر لیا۔
اور تیسرے وزیر نے سوچا کہ بادشاہ کی توجہ صرف تھیلے کے بھرنے پر ہوگی۔ اس کے اندر کیا ہے، اسے بادشاہ نہیں دیکھے گا۔
یہی سوچ کر وزیر تھیلے میں گھاس پُھوس اور پتے بھر لیے اور محنت سے بچ گیا اور وقت بچایا۔
دوسرے دن بادشاہ تینوں وزراء کو اپنے تھیلوں سمیت دربار میں حاضر ہونے کا حکم دیا۔
جب تینوں دربار میں حاضر ہوئے تو بادشاہ نے تھیلے کھول کر بھی نہ دیکھے اور حکم دیا کہ تینوں کو ان کے تھیلوں سمیت 1 ماہ کے لیے دوردراز جیل میں قید کر دو۔
اب اس دوردراز جیل میں تینوں کے پاس کھانے پینے کے لیے کچھ نہیں تھا، سواۓ اس تھیلے کے جو انھوں نے جمع کیا تھا۔
اب پہلا وزیر جس نے اچھے اچھے پھل چن کر جمع کیے تھے، وہ مزے سے اپنے انہیں پھلوں پر گزارہ کرتا رہا۔
یہاں تک کے 1 ماہ باآسانی گزر گیا۔
اور دوسرا وزیر جس نے بغیر دیکھے تازہ خراب تمام پھل جمع کیے تھے۔ اس کے لیے بڑی مشکل پیش آئی کچھ دن تو تازہ پھل کھا لیے لیکن پھر کچے اور گلے سڑے پھل کھانے پڑے، جس سے وہ بہت زیادہ بیمار ہوگیا اور اسے بہت تکلیف اٹھانی پڑی۔
اور تیسرا وزیر جس نے اپنے تھیلے میں صرف گھاس پُھوس ہی جمع کیا تھا۔
وہ کچھ دن بعد ہی بھوک سے مر گیا کیونکہ اس کے پاس کھانے کو کچھ نہ تھا۔
اب
آپ اپنے آپ سے پوچھیے
آپ کیا جمع کر رہے ہیں ؟
آپ اس وقت اس باغ (دنیا)میں ہیں۔
جہاں سے آپ چاہیں تو نیک اعمال اپنے لیے جمع کریں اور چاہیں تو خراب اعمال؟
مگر یاد رہے جب بادشاہ کا حکم صادر ہوگا،
تو آپ کو اپنی جیل قبر میں ڈال دیا جاۓ گا۔
اس جیل میں آپ اکیلے ہونگے جہاں آپ کے ساتھ صرف آپ کے اعمال کی تھیلی ہوگی۔ تو جو آپ نے جمع کیا ہوگا، وہی آپ کو وہاں کام دے گا۔
تو آج تھوڑی سی محنت کرکے اچھی اچھی چیزیں یعنی نیک اعمال جمع کرلیں اور وہاں آسانی اور آرام والی زندگی گزاریں

ایک پانی سے بھرے برتن میں ایک زندہ مینڈک ڈالیں اور پانی کو گرم کرنا شروع کریں جیسے ہی پانی کا درجہ حرارت بڑھنا شروع ہو گ...
23/06/2021

ایک پانی سے بھرے برتن میں ایک زندہ مینڈک ڈالیں اور پانی کو گرم کرنا شروع کریں
جیسے ہی پانی کا درجہ حرارت بڑھنا شروع ہو گا ، مینڈک بھی اپنی باڈی کا درجہ حرارت پانی کے مطابق ایڈجسٹ کرے گا اور تب تک کرتا رہے گا جب تک پانی کا درجہ حرارت "بوائلنگ پوائنٹ" تک نہیں پہنچ جاتا ۔۔۔۔
جیسے ہی پانی کا ٹمپریچر بوائلنگ پوائنٹ تک پہنچے گا تو مینڈک اپنی باڈی کا ٹمپریچر پانی کے ٹمپریچر کے مطابق ایڈجسٹ نہیں کر پائے گا اور برتن سے باہر نکلنے کی کوشش کرے گا لیکن ایسا کر نہیں پائے گا کیونکہ تب تک مینڈک اپنی ساری توانائی خود کو "ماحول کے مطابق" ڈھالنے میں صرف کر چکا ہو گا
بہت جلد میندک مر جائے گا۔۔۔
یہاں ایک سوال جنم لیتا ہے
"وہ کونسی چیز ہے جس نے مینڈک کو مارا؟"
سوچیئے!
میں جانتا ہوں کہ آپ میں سے اکثر یہ کہیں گے کہ
مینڈک کو مارنے والی چیز وہ "بے غیرت انسان" ہے جس نے مینڈک کو پانی میں ڈالا
یا پھر کچھ یہ کہیں گے کہ
مینڈک اُبلتے ہوئے پانی کی وجہ سے مرا۔۔۔
لیکن،
سچ یہ ہے کہ مینڈک صرف اس وجہ سے مرا کیونکہ وہ وقت پر جمپ کرنے کا فیصلہ نہ کر سکا اور خود کو ماحول کے مطابق ڈھالنے میں لگا رہا ۔۔۔
ہماری زندگیوں میں بھی ایسے کاپیڈ۔۔۔۔ آتے ہیں جب ہمیں خود کو حالات کے مطابق ایڈجسٹ کرنا پڑتا ہے لیکن ایسا کرتے ہوئے خیال رکھیں کہ کب آپ نے خود کو حالات کے مطابق ڈھالنا ہے اور کب حالات کو اپنے مظابق ۔۔۔۔
اگر ہم دوسروں کو اپنی زندگیوں کے ساتھ جسمانی، جذباتی، مالی، روحانی اور دماغی طور پر کھیلنے کا موقع دیں گے تو وہ ایسا کرتے ہی رہیں گے
اس لیے وقت اور توانائی رہتے "جمپ" کرنے کا فیصلہ کریں ۔۔۔۔

19/06/2021

دوسگے بھائیوں کے بڑے بڑے زرعی فارم ساتھ ساتھ واقع تھے دونوں چالیس سال سے ایک دوسرے سے اتفاق سے رہ رہے تھے اگر کسی کو اپنے کھیتوں کیلئے کسی مشینری یا کام کی زیادتی کی وجہ سے زرعی مزدوروں کی ضرورت پڑتی تو وہ بغیر پوچھے بلا ججھک ایک دوسرے کے وسائل استعمال کرتے تھے .
لیکن ایک دن کرنا خدا کا یہ ہوا کہ ان میں کسی بات پر اختلاف ہو گیا اور کسی معمولی سی بات سے پیدا ہونے والا یہ اختلاف ایسا بڑھا کہ ان میں بول چال تک بند ہو گئی اور چند ہفتوں بعد ایک صبح ایسی بھی آ گئی کہ وہ ایک دوسرے کے سامنے کھڑے گالی گلوچ پر اتر آ ئے اور پھر چھوٹے بھائی نے غصے میں اپنا بلڈوزر نکالا اور شام تک اس نے دونوں گھروں کے درمیان ایک گہری اور لمبی کھاڑی کھود کر اس میں دریا کا پانی چھوڑ دیا
․․․․اگلے ہی دن ایک ترکھان کا وہاں سے گزر ہوا تو بڑے بھائی نے اسے آواز دے کر اپنے گھر بلایا اور کہا کہ وہ سامنے والا فارم ہاؤس میرے بھائی کا ہے جس سے آج کل میرا جھگڑا چل رہا ہے اس نے کل بلڈو زر سے میر ے اور اپنے گھروں درمیان جانے والے راستے پر ایک گہری کھاڑی بنا کر اس میں پانی چھوڑ دیا ہے.
میں چاہتا ہوں کہ میرے اور اس کے فارم ہاؤس کے درمیان تم آٹھ فٹ اونچی باڑ لگا دو کیونکہ میں اس کا گھر تو دور کی بات ہے اس کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا اور دیکھو مجھے یہ کام جلد از جلد مکمل کر کے دو جس کی میں تمہیں منہ مانگی اجرت دوں گا ۔
ترکھان نے سر ہلاتے ہوئے کہا کہ مجھے پہلے آپ وہ جگہ دکھائیں جہاں سے میں نے باڑھ کو شروع کرنا ہے تاکہ ہم پیمائش کے مطابق ساتھ والے قصبہ سے ضرورت کے مطابق مطلوبہ سامان لا سکیں .
موقع دیکھنے کے بعد ترکھان اور بڑا بھائی ساتھ واقع ایک بڑے قصبہ میں گئے اور تین چار متعلقہ مزدوروں کے علا وہ ایک بڑی پک اپ پر ضرورت کا تمام سامان لے کر آ گئے ترکھان نے اسے کہا کہ اب آپ آرام کریں اور اپنا کام ہم پر چھوڑ دیں․․․ترکھان اپنے مزدوروں کاریگروں سمیت سارا دن اور ساری رات کام کرتا رہا ۔
صبح جب بڑے بھائی کی آنکھ کھلی تو یہ دیکھ کر اس کا منہ لٹک گیا کہ وہاں آٹھ فٹ تو کجا ایک انچ اونچی باڑھ نام کی بھی کوئی چیز نہیں تھی ،وہ قریب پہنچا تو یہ دیکھ کر اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں کہ وہاں ایک بہترین پل بنا ہوا تھا جہاں اسکے چھوٹے بھائی نے گہری کھاڑی کھود دی تھی.
جونہی وہ اس پل پر پہنچا تو اس نے دیکھا کہ پل کی دوسری طرف کھڑا ہوا اس کا چھوٹا بھائی اسکی طرف دیکھ رہا تھا چند لمحے وہ خاموشی سے کھڑا کبھی کھاڑی اور کبھی اس پر بنے ہوئے پل کو دیکھتا رہا اور پھر اس کے چہرے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ ابھری چند سیکنڈ بعد دونوں بھائی نپے تلے آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے پل کے درمیان آمنے سامنے کھڑے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے اور پھر دونوں بھائیوں نے آنکھوں میں آنسو بھرتے ہوئے ایک دوسرے کو پوری شدت سے بھینچتے ہوئے گلے لگا لیا۔۔
دیکھتے ہی دیکھتے دونوں بھائیوں کے بیوی بچے بھی اپنے گھروں سے نکل کر بھاگتے اور شور مچاتے ہوئے پل پر اکٹھے ہو گئے اور دور کھڑا ہوا ترکھان یہ منظر دیکھ دیکھ کر مسکرا رہا تھا .
بڑے بھائی کی نظر جونہی ترکھان کی طرف اٹھی جو اپنے اوزار پکڑے جانے کی تیاری کر رہا تھا تو وہ بھاگ کر اس کے پاس پہنچا اورکہا کہ وہ کچھ دن ہمارے پاس ٹھہر جائے لیکن ترکھان یہ کہہ کر چل دیا کہ اسے ابھی اور بہت سے”پُل “ بنانے ہیں۔
برائے مہربانی کوشش کریں کہ لوگوں کے درمیان پل بنائیں دیواریں نہ بنائیں.

07/05/2021

🗻مکہ کے پہاڑ بنجر کیوں ہیں؟
(رمضان کی نسبت سے ایک پر اثر تحریر📝)
جب میں عمرہ کرنے گیا تو آصف شیخ مجھے ساتھ لے کر ایک ڈاکٹر علوی صاحب کو مبارکباد دینے گیا کہ انہیں بادشاہ نے شہریت دی تھی۔ وہ ڈاکٹر بھی کیا کمال کے تھے۔ پوچھنے لگے”شاہ صاحب، کہاں جا رہے ہیں آپ؟“ میں نے کہا” جدہ کا قصد کیا ہے“ کہنے لگے آپ میرے ساتھ چلیں گے۔جب یہ پتہ چلا کہ وہ مجھے پڑھتے ہیں اور بھی خوشی ہوئی۔
سفرکا آغاز ہوا تو انہوں نے اگلی سیٹ پر بیٹھے ہوئے ایک عجیب و غریب سوال کردیا ”مکہ کے پہاڑ اتنے بنجر کیوں ہیں؟“
اپنا علم تو وہیں دھرا رہ گیا۔ وہ پھر گویا ہوئے” شاہ صاحب میں نے دنیا کے کئی پہاڑ دیکھے مگر وہ مکہ کے پہاڑوں کی طرح بنجر اور بے آب و گیاہ نہیں ہیں؟
اس کے پیچھے اللہ کی منشا کیا ہے“؟
میں نے تو سر نڈر کر دیا۔ وہ مسکرائے اور کہنے لگے ”قبلہ اللہ پاک چاہتے تھے کہ آنے والے حاجیوں کی توجہ صرف میرے گھر پر رہے اس شہر کو پکنک پوائنٹ نہیں بنایاجائے گا۔
بات دل کو لگی۔

یہ پرانا واقعہ مجھے اب کیوں یاد آیا؟
اس کے پیچھے ہمارے دوست انگریزی ادب کے استاد اسد اعوان ہیں جنہوں نے مجھے ایک ویڈیو بھیجی اور ساتھ تاکید کی کہ یہ جو رمضان شریف میں چینلز پر طوفان بدتمیزی چل رہا ہے اس کے خلاف لکھیں۔
میں نے وہ ویڈیو دیکھی تو چونک اٹھا۔ اس میں ایک عالم دین بڑی صراحت ‘وضاحت کے ساتھ موجودہ سحر و افطار پر لگنے والے میلوں کی حقیقت پر روشنی ڈال رہے تھے۔ بات سمجھ میں آئی، دل کو لگی۔ سچ کہا انہوں نے کہ یہ باقاعدہ سوچی سمجھی سازش کے ساتھ مختلف میڈیا مالکوں کو کروڑوں روپے دیئے جارہے ہیں کہ رمضان کا تقدس پامال کرو، سحر و افطار کے اوقات کو تفریح بنا دو۔ انہوں نے مکہ کے اس عکاس میلہ کا حوالہ دیا کہ قبل اسلام جب لوگ مکہ میں خانہ کعبہ عبادت کے لئے آتے تو وہاں عکاس کا میلہ لگا ہوتا تھا۔ گویا زمانہ جہالت میں یہی کچھ ہوتا ہے۔ اس کا چھوٹا موٹا عکس درباروں پر لگنے والے عرسوں میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ جہاں سرکسی موت کا کنواں اور کئی اور خرافات ہوتی ہیں۔ مجھے معاً خیال آیا کہ واقعی رمضان کوئی فیسٹیول نہیں ہے۔

خدا کے لئے آﺅ بیٹھ کے سوچیں واقعی سب کچھ ایسے ہی نہیں ہو رہا۔ وہ اوقات جو اللہ کی رحمتیں لوٹنے کے ہیں سب ٹی وی سکرین کے سامنے بیٹھے ہوتے ہیں۔ وہ گھڑیاں جو دعائیں مانگنے کی ہوتی ہیں ہم کیا دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ سراسر لہو و لعب، کھیل تماشہ اور رنگ بازی، نام اس کا رمضان سپیشل ہوتا ہے۔ اللہ ہم پر رحم کرے ۔ میں نے کراچی کے اس ڈرامہ مولوی کو دیکھا ۔ یقین کیجیئے یہ کلپ کسی نے بھیجا۔ وہ حضرت زبان نکال کر کے اداکاری کر رہے ہیں۔ دو سنگرز کچھ گا رہی ہیں۔ حاضرین تالیاں پیٹ رہے ہیں۔ کہیں انعامات کی بارش ہو رہی ہے اور کہیں موبائل بانٹے جارہے ہیں۔ بجا کہا ان عالم دین نے کہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ پیکٹ کرنے والوں نے پروگرام کے لئے ماڈل کو ضروری قرار دیا ہے اور اس کے ساتھ کچھ دین فروش مولوی بھی ہائر کر لئے جاتے ہیں تاکہ اس پروگرام کو اسلامی کہا جا سکے۔ وہ عالم دین کہنے لگے میں تو دو تین سال پہلے تو بہ تائب ہو گیا اور کسی چینل پر نہیں جاتا۔

معزز قارئین! میں بھی ان پروگرامز کو نہ صرف جائز سمجھتا تھا بلکہ میں نے ان کے حق میں لکھا بھی کہ کیا حرج ہے کہ اداکار اور اداکارائیں اسی بہانے اللہ اور اس کے رسول کا ذکر کر لیتی ہیں۔ اور یقیناً اچھی باتیں ان پر اثر انداز بھی ہوتی ہوں گی۔ ہو سکتا ہے میرے دل میں کہیں یہ خواہش بھی چھپی ہو کہ روشن خیالوں اور دنیا داروں سے میں خوب داد پاﺅں گا۔ جہالت کے پا س حق سے زیادہ دلیلیں ہوتی ہیں۔ مگر اخلاص اور سچائی نہیں ہوتی۔ اسد اعوان کی بھیجی ہوئی ویڈیو دیکھ کر میں چونک اٹھا اور حقیقت ذہین نشین ہوئی کہ نہیں بھئی یہ تو ہمیں شوگر کوٹڈ زہر کی گولیاں دی جارہی ہیں۔ واقعی ایسا ہے کہ ہماری عبادات کے تقدس کو برباد کرنے کا پروگرام ہے کہ ہماری مذہبی روایات و اقدار کی روح مار دی جائے۔ یہ شیطان ہی ہے جو اپنے حیلوں اور بہانوں سے ہماری خواہشات پر ڈھلے ہوئے کاموں کو دین بنا دیتا ہے۔ وہ گناہ کے کاموں کونہایت دلفریب اور خوب صورت بنا دیتا ہے مثلاً اچھے اچھے شاعر اپنے تئیں کئی گانوں کو مشرف بہ نعت کرتے رہے کہ گانوں کی دھنوں پر نعتیں کہتے رہے۔ اللہ معاف کرے، نعت سن کر دھیان فلم کے سین پر چلا جاتا ہے گانے والے کی طرف۔

کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اس طرح ٹی وی کی لغویات سنتے ہوئے روزہ اچھی طرح گزر جاتا ہے حالانکہ روزہ انہی شیطانی کاموں سے بچنے کا نام ہے وگرنہ اللہ کو ہمارے بھوکا رکھنے سے کیا مطلب، روزہ اللہ کے لئے ہے اور اس کا بدلہ بھی اللہ کے پاس ہے بلکہ وہ خود اس کا اجر دے گا۔ روزہ سحری سے افطار تک عبادت ہی تو ہے بلکہ اس کا اہتمام بھی عبادت ہے۔ یہ مہینہ اللہ کے لئے سر نڈر کرنے اور خود سپردگی کا نام ہے۔ چاہیے تو یہ کہ سحری سے پہلے تلاوت کی جائے ، افطار کے بعد تراویح کی فکر کی جائے ، یہ مہینہ کھیل تماشہ دیکھنے کا تو نہیں۔
روزہ محسوس کرنے کا نام ہے اور اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کا نام۔ مجھے تو اب جاکے احساس ہوا کہ اللہ نے مکہ کے پہاڑ اس قدر بنجر کیوں رکھے ہوئے ہیں۔

اللہ توجہ چاہتا ہے وگرنہ وہ بہت بے نیاز ہے اتنا بے نیاز ہے کہ بندہ سراسر زنگ ہو جاتا ہے، دل سیاہ ہو جاتا ہے اور عقل کے در بند ہو جاتے ہیں۔ اس کی توجہ ہی تو روشنی ہے۔ سب کچھ انسان پر عیاں کر دیتی ہے۔ شرط وہی ہے کہ اللہ کی طرف رجوع کیا جائے، طلب پیدا کی جائے اور دامن وا کیا جائے۔ جس طرح کے میلے ٹھیلے ٹی وی پر ہو رہے ہیں اللہ تو انسان کو ویسے ہی بھول جاتا ہے۔ وہاں تو اپنی خواہشات کو جوس پلایا جارہا ہوتا ہے۔ اب بھی وقت ہے میڈیا مالکان سوچیں کہ وہ کیا کررہے ہیں۔ کس کاسٹ پر کام کررہے ہیں۔ ان علمائے دین کو تو ضرور سوچنا چاہیے جو چند ٹکوں، شہرت یا پھر دل پشوری کے لئے ان پروگراموں میں جا بیٹھتے ہیں جہاں حضور کریم کے دین کو مسخ کیا جا رہا ہوتا ہے۔ جہاں پرلے درجے کے جاہل اور فسق و فجور میں ڈوبے ہوئے دینی مسائل بتا رہے ہوتے ہیں بلکہ بعض اوقات مفتی کے منصب پر آن بیٹھتے ہیں ۔ مجھے نہیں معلوم پیمرا کا بھی کوئی اس میں عمل دخل ہے کہ نہیں ۔ چلیے اگر اخلاقیات کا ہی وہ کچھ خیال کریں تو کوئی لائحہ عمل وہ بنا سکتے ہیں ۔ سب رنگینیوں میں گم ہیں اس لئے روزہ داروں ہی کو کچھ کہا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے اس عظیم عمل کی حفاظت کریں۔ رسول پاک نے جبرائیل ؑ کی ایک دعا پر کہ جس کو رمضان شریف ملے وہ اپنی بخشش نہ کروا سکے، اس پر لعنت ہو، آمین کہی تھی۔
برکتوں والے اس مہینے کو قیمتی بنائیں اور اللہ کی ناراضگی کا باعث نہ بنیں۔ سچ کہا ان عالم دین نے سحر اور افطار کے وقت جو غل غپاڑا ہوتا ہے ایسے میں اللہ کی برکتیں اور رحمتیں کہاں اتریں گی۔
ہمیں اپنا رویہ بدلنا ہو گا ان دو ایک اینکرز کو سلام جنہوں نے اپنے پروگرام میں ایسی فضولیات کو شامل کرنے سے انکار کردیا...!!

(منقول)

‏اِخلاص کسے کہتے ہیں۔۔۔جُنید بغدادی کہتے تھے کہ میں نے اِخلاص ایک حجام سے سِیکھا۔ایک میرے اُستاد نے کہا کہ تُمہارے بال ب...
27/04/2021

‏اِخلاص کسے کہتے ہیں۔۔۔

جُنید بغدادی کہتے تھے کہ میں نے اِخلاص ایک حجام سے سِیکھا۔ایک میرے اُستاد نے کہا کہ تُمہارے بال بہت بڑھ گئے ہیں اب کٹوا کے آنا۔جیب میں پیسے کوئی نہیں تھے ، حجام کی دُکان کے سامنے پہنچے تو وہ گاہک کے بال کاٹ رھا تھا
‏اُنہوں نے عرض کی چاچا اللہ کے نام پہ بال کاٹ دو گے۔ یہ سنتے ہی حجام نے گاہک کوسائیڈ پر کیا اور کہنے لگا پیسوں کے لیے توروز کاٹتا ھوں۔ اللہ کے لیے آج کوئی آیا ھے۔

اب انُکا سر چُوم کے کُرسی پہ بٹھایا روتے جاتے اور بال کاٹتے جاتے۔حضرت جنید بغدادی نے سوچا کہ زندگی
‏میں جب کبھی پیسے ھوئے توان کو ضرور کچھ دوں گا۔
عرصہ گزر گیا یہ بڑے صوفی بزرگ بن گئے۔

ایک دن ملنے کے لیے گئے واقعہ یاد دلایا اور کچھ رقم پیش کی۔ تو حجام کہنے لگا جُنید تو اتنا بڑاصوفی ھوگیا
تجھےاتنا نہیں پتا چلا کہ جو کام اللہ کے لیے کیا جائے اس کا بدلہ مخلوق سے نہیں لیتے۔۔!

26/04/2021

قدیم یونان میں ایک پہلوان تھا جس کا نام مائیلوتھا۔۔۔ یہ اُس دور میں چھ دفعہ اولمپک جیت چکا تھا۔۔۔ اس پہلوان کی پہچان تھی یہ ایک بڑے بیل کو اپنے کندھے پر لے کر چلتا تھا. طاقت کا یہ نظارہ ہی اس کے مخالفین کیلئے کافی ہوتا۔۔۔وہ جنگ سے پہلے ہی جنگ ہار جاتے تھے.
۔۔۔
فرض کیا آپ بھی کورڈن گاوں میں ہوتے اور دیکھتے ملو ایک بیل کندھے پر بٹھائے چل رہا ہے تو آپ کیا کرتے..؟ آپ بھی ایک بیل کو اٹھانے کی کوشش کرتے اور ناکام ہو جاتے. لیکن ملو نے کسی کو دیکھ کر بیل نہیں اٹھایا تھا. اس نے بیل کے بچے کو سارا دن کندھے پر گھمانے سے یہ سفر شروع کیا تھا. تب شائد لوگ اس پر ہنستے ہوں گے.
روزانہ بیل کے بچھڑے کو کندھے پر بٹھا کر گھومنے والے ملو کی طاقت بیل کے بچے کی بڑھتی جسامت کے ساتھ بڑھتی چلی گئ. یہاں تک کہ اب یہ دیکھنے والوں کیلئے حیرت کے دور میں داخل ہوگئی. ملو اب اس جسامت کا بیل لیکر گھوم رہا ہوتا تھا جس کا دوسرا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا.
۔۔۔
مایوسی اپنی صلاحیت اپنی طاقت اور اپنا مقام کسی ایسے فرد کے ساتھ تولنے میں ملتی ہے جس کے ماضی کے سفر سے ہم آگاہ نہ ہوں. آپ بھی یہ سفر کسی بھی وقت شروع کر سکتے ہیں، لیکن آج کے اس مقام کیلئے شروعات کا یہ سفر شرط ہے.(منقول)
۔۔۔
علمی میدان میں پہلوان بننے کے لیے صرف ایک ہی شرط ہے اپنے سفر کا آغاز کر دیجیئے ۔۔۔ کسی کو ہرانے کےلیے نہیں بلکہ علم کے سمندر سے سیراب ہونے کےلیے۔۔۔ جتنا گہرا غوطہ اتنا سُچا موتی
۔۔۔
مولا کریم ہمیں علم کے سمندر میں سے سیراب ہونے کی توفیق بخشیں۔آمین
۔۔۔ ❤️

21/04/2021

غیر مذہبی انتہا پسندی

مذہبی انتہا پسندی کے بعدمعاشرے کو اب غیر مذہبی انتہا پسندی کا سامنا ہے۔ ہمیں سمجھنا ہو گا کہ انتہا پسندی کی یہ دونوں شکلیں تباہ کن ہیں ۔ نجات صرف اعتدال میں ہے ۔ سماج اگر توازن اور تہذیب کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتا ہے تو اسے انتہا پسندی کی ہر شکل کی نفی کرنا ہو گی ۔

مذہبی انتہا پسندی کے مظاہر ہمارے لیے اجنبی نہیں ، ہم یہ سب کچھ دیکھ چکے ۔ اس پر مزید کچھ کہنا تکرارکے سوا کچھ نہیں ہو گا۔ غیر مذہبی انتہا پسندی کا طریق واردات البتہ مختلف ہے اور یہ حسین عنوانات کے تحت بروئے کار آ رہی ہے۔.

آج کا موضوع یہی غیر مذہبی انتہا پسندی ہے جس نے طے کر لیا ہے کہ کہیں کوئی بھی خرابی ہو نشانے پر مذہب ، اہل مذہب اور مذہبی شناخت کو رکھنا ہے ۔ میں اس رویے کے چند مظاہر آپ کے سامنے رکھ دیتا ہوں ۔

رمضان المبارک کی آمد آمد ہے ۔ رمضان کے ساتھ ہی ہمارے ہاں مہنگائی بڑھ جاتی ہے ۔ مہنگائی کی اس واردات کے پیچھے بہت سارے عوامل ہیں ۔ سماجی بھی ، معاشی بھی اور انتظامی بھی ۔ لیکن ان سب عوامل کو یکسر نظر اندازکرتے ہوئے سوشل میڈیا پر اگلے روز ایک پوسٹ پر داد و تحسین نچھاور ہو رہی تھی جس میں لکھا تھا :’’ وہ ماہ مقدس آنے والا ہے جب متقی حضرات 10 روپے کی چیز 100 روپے میں بیچ کر مسجد میں جا کر جماعت سے نماز پڑھیں گے‘‘۔

یہ بظاہر مہنگائی کے خلاف پوسٹ ہے لیکن نشانے پر مسجد اور نمازی ہیں ۔ گویا یہ طے کر لیا گیا ہے کہ بازار تو اہل تقویٰ سے بھرا پڑا ہے ، کسی دنیا دار کی تو وہاں کوئی دکان ہی نہیں اور ذخیرہ اندوزی اور مہنگائی کی ذمہ داری صرف ان دکانداروں پر عائد ہوتی ہے جنہیں نمازوں کی بہت فکر رہتی ہے۔ یعنی یہ سب کچھ اہل مذہب کا کیا دھرا ہے۔

ایک اور پوسٹ میرے سامنے رکھی ہے :’’ مسجد میں سیمنٹ کی بوری اس وقت دیں جب محلے میں آٹے کی بوری لینے والا کوئی نہ ہو‘‘۔ بڑے انسان دوست طریقے سے گویا یہ تاثر دیا گیا کہ محلے میں بھوک کی وجہ یہ ہے کہ آپ سب کچھ مساجد کو دے دیتے ہیں ۔ یعنی خدمت خلق کا ناگزیر پہلو مسجد کی نفی کی صورت پیش کیا جا رہا ہے ۔

یہ کبھی نہیں کہا جائے گا کہ یورپ کے دورے کم کر کے یا سیاحت کے مزے محدود کر کے یا اپنی پراڈو کی جگہ سوزوکی لے کر یا نسبتا سستا موبائل لے کر یا مہنگے برانڈز کی بجائے ذرا کم مہنگے سوٹ زیب تن فرما کر باقی کے پیسوں سے محلے کے غریب کی مدد کرو ۔ نشانے پر مسجد ہے اور مسجد کو دی جانے والی سیمنٹ کی بوری سے ہونی والی تکلیف انہیں بے چین کیے ہوئے ہے ۔

اپنی ساری ہم نصابی سرگرمیاں سلامت ، بس محلے کی مسجد کو دی گئی سیمنٹ کی ایک بوری انہیں گوارا نہیں ۔

حج کا موقع آتا ہے تو یہ دہائی دیتے ہیں اتنے پیسے اگر حج اور عمرے پر خرچ کرنے کی بجائے غریبوں پر خرچ کر دیے جائیں تو کیا ہی کمال ہو جائے۔ ایسا تقابل کبھی اپنے غیر ملکی دوروں کے بارے میں نہیں کیا جاتا ۔ این جی اوز کے اکثر اجتماع مہنگے ہوٹلوں میں ہوتے ہیں جہاں مخصوص شرکاء بلا کر کارروائی ڈالی جاتی ہے تا کہ ڈونرز مطمئن ہو جائیں اور مزید ڈالر آتے رہیں ، کبھی یہ نہیں کہا جائے گا کہ این جی اوز کے یہ اجتماع ذرا سستے ہوٹلوں میں کر کے باقی پیسے غریب کو دے دیے جائیں ۔

تقابل ہمیشہ مذہبی سرگرمی سے ہو گا۔ کبھی حج سے ، کبھی مسجد سے ، کبھی عمرے سے ، کبھی قربانی سے۔

بظاہر یہ انسان دوستی ہے ، اندرون خانہ واردات مگر کچھ اور ہے ۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جس طبقے پر یہ طعنہ زن ہوتے ہیں غریب پروری میں بھی وہی طبقہ ان سے آگے ہے ۔ عطیات اور صدقات دینے میں پاکستان کا یہ روایتی معاشرہ آج بھی دنیا میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔

مذہب ایک ہمہ جہت تصور ہے ۔ یہاں عبادات بھی ہیں اور خدمت خلق بھی ۔ خدمت خلق کے میدان میں بھی ، امر واقع یہ ہے کہ یہ مذہبی طبقہ سب سے نمایاں ہے ۔ تعلیمی ادارے ہوں یا ہسپتال اور خیراتی ادارے ، اہل مذہب آپ کو سب سے آگے نظر آئیں گے ۔ یہ کیسی دیانت ہے کہ طنز اور دشنام کے نشانے پر یہی مذہبی طبقہ ہو اور ناقدین محض چند میٹھے میٹھے ٹویٹ اور فیس بک پر اقوال زریں نما گمراہ کن پوسٹس لگا کر خود کو سرخرو تصور کر لیں ۔ یہ خیر خواہی نہیں جنون اور جہالت ہے۔

دنیا میں کہیں کوئی سائنسی ایجاد سامنے آئے گی تو کہا جائے گا دنیا نے یہ بھی کر لیا اور ہمارا مولوی ابھی تک فلاں بحث میں پھنسا ہے ۔ علم کی دنیا میں مگر یہ تقابل ہی نا معتبر ہے ۔ دنیا کے سائنسدانوں کا تقابل آپ کو اپنے سائنسدانوں سے کرنا چاہیے، مولوی سے نہیں ۔ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی وزارت مسٹر فواد چودھری کے پاس ہے مولانا فواد چودھری کے پاس نہیں ہے ۔

ہر شخص کی نجی زندگی کے احترام کا درس دیا جائے گا لیکن کوئی کرکٹر اگر نماز اور دین کی طرف رجوع کرے گا تو اس کا تمسخر اڑانا شروع کر دیا جائے گا ۔ یہ رویہ ایک نفسیاتی عارضے کی خبر دے رہا ہے ۔ آپ اسے غیر مذہبی انتہا پسندی بھی کہہ سکتے ہیں۔

جیسے مذہبی انتہا پسند کو ہر معاملے میں یہودی سازش نظر آ جاتی ہے ایسے ہی غیر مذہبی انتہا پسند کو ہر معاملے میں مولوی کا قصور دکھائی دیتا ہے۔

معاشرہ ان دونوں انتہائوں کا یرغمال ہوتا جا رہا ہے ۔ ایک طرف سے مطلع کہا جاتا ہے اور واہ واہ کی صدائیں بلند ہوتی ہیں ۔ پھر دوسری جانب سے مقطع کہا جاتا ہے اور مکر مکر کے مطالبے ہوتے ہیں جیسے ہر مینڈک اپنے کنویں کو کل کائنات سمجھ کر داد طلب ہوتا ہے ۔

سماج اگر ارتقاء چاہتا ہے تو اسے اس مشاعرے سے بے نیازہو کر اعتدال کی طرف آنا ہو گا ۔ ہم سب میں غلطیاں ہیں اور ہم سب میں خوبیاں ہیں ۔ کوئی گروہ عقل کل نہیں۔ نفرت کے بیوپاریوں کو نظر انداز کرکے اعتدال کی طرف بڑھنے کی ضرورت ہے۔

یاد رکھیے ، مذہبی انتہا پسندی سے کوئی خیر برآمد نہیں ہوا تو غیر مذہبی انتہا پسندی بھی کسی خیر کا باعث نہیں بنے گی۔

14/04/2021

👈 *اللہ تعالی کیساتھ تجارت* 👉

حضرت موسیٰؑ کے زمانے میں ایک آدمی تھا ۔ وہ بے چارہ بہت ہی غریب تھا ۔ وہ نان شبینہ کو ترستا تھا ۔ ایک دفعہ ان کی حضرت موسیٰ ؑ سے ملاقات ہو گئی ۔ وہ کہنے لگا ، حضرت! آپ کلیم اللہ ہیں اور کوہ طور پر جا رہے ہیں ۔ آپ میری طرف سے اللہ تعالیٰ کی خدمت میں یہ فریاد پیش کر دینا کہ میری آنے والی زندگی کا سارا رزق ایک ہی دم دے دیں تاکہ میں چند دن تو اچھی طرح کھا پی کر جاؤں ۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اس کی فریاد اللہ رب العزت کی خدمت میں پیش کر دی ۔ پروردگار نے اس کی فریاد قبول فرمائی اور اسے چند بکریاں ، گندم کی چند بوریاں اور جو چیزیں اس کے مقدر میں تھیں ، وہ سب عطا فرما دیں ۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ ؑ اپنے کام میں لگ گئے ۔

ایک سال کے بعد حضرت موسیٰ ؑ کو خیال آیا کہ میں اس بندے کا پتہ تو کروں کہ اس کا کیا بنا ؟ جب اس کے گھر پہنچے تو آپ نے دیکھا کہ اس نے عالیشان مکان بنایا ہوا ہے ۔ اس کے دوست آئے ہوئے ہیں ۔ ان کے لئے دستر خوان لگے ہوئے ہیں ۔ ان پر قسم قسم کے کھانے لگے ہوئے ہیں اور سب لوگ کھا پی کر مزے اڑا رہے ہیں ۔ حضرت موسیٰ ؑ یہ سارا منظر دیکھ کر بڑے حیران ہوئے۔ جب کچھ دنوں کے بعد کوہ طور پر حاضر ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی ہوئی تو عرض کیا ، اے پروردگار عالم ! آپ نے اسے جو ساری زندگی کا رزق عطا فرمایا تھا، وہ تو تھوڑا سا تھا اور اب تو اس کے پاس کئی گنا زیادہ نعمتیں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ۔ اے میرے پیارے موسیٰ ؑ ! اگر وہ رزق اپنی ذات پر استعمال کرتا تو اس کا رزق تو وہی تھا جو ہم نے اس کو دے دیا تھا ، لیکن اس نے ہمارے ساتھ نفع کی تجارت کی ۔ حضرت موسیٰ نے عرض کیا، اے اللہ ! اس نے کون سی تجارت کی ؟ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اس نے مہمانوں کو کھانا کھلانا شروع کر دیا اور میرے راستہ میں خرچ کرنا شروع کر دیا ۔ میرا یہ دستور ہے کہ جو میرے راستہ میں ایک روپیہ خرچ کرتا ہے ، میں اسے کم از کم دس گنا زیادہ دیا کرتا ہوں چونکہ اس کو تجارت میں نفع زیادہ ہواہے ، اس لیے اس کے پاس مال و دولت بہت زیادہ ہے....

13/04/2021

*ایک امریکی ائیرلائن میں* *ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻧﮯ ﻓﻼﺋﯿﭧ میں سوﺍﺭ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯽ ﺍﭘﻨﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺑﮍﮬﺎ ﺩﯾﺎ،*
*ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﺘﺎﺏ ﺑﻨﺪ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ *ﺳﺎﺗﮫ ﮔﺮﻡ ﺟﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﻼﯾﺎ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺑﺰﺭﮒ ﺗﮭﯿﮟ، جبکہ*
*ﻋﻤﺮ ﺳﺎﭨﮫ ﺍﻭﺭ ﺳﺘﺮ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﮨﻮﮔﯽ ﻭﮦ ﺷﮑﻞ ﺳﮯ ﭘﮍﮬﯽ ﻟﮑﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﻤﺠﮫ ﺩﺍﺭ ﺑﮭﯽ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﯾﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ*

*ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﺘﺎﺏ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﺮ ﮐﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ؟*
*”ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﻋﺮﺑﯽ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﮨﮯ“*
*ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﯾﮧ ﺍُﺭﺩﻭ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﮨﮯ*
*ﻭﮦ ﻣﺴﮑﺮﺍﺋﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺑﮍﮬﺎﯾﺎ ﻣﻼﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﺮ ﺗﮏ ﺟﮭﻼ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﯽ۔*
*” ﺗﻢ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﮨﻮ“*
*ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮔﺮﻡ ﺟﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ”ﺟﯽ جی ﺑﺎﻟﮑﻞ“*
*ﻭﮦ ﺣﻘﯿﻘﺘﺎً ﺧﻮﺵ ﮨﻮ ﮔﺌﯿﮟ*
*ﻓﻼﺋﯿﭧ ﻟﻤﺒﯽ ﺗﮭﯽ،ﭼﻨﺎنچہ ﮨﻢ ﺩﯾﺮ ﺗﮏ ﮔﻔﺘﮕﻮﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﮯ*

*ﺟﯿﻨﺎ ﺍﻣﺮﯾﮑﯽ ﮨﯿںﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﯽ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮨﯿﮟ،*
*ﻭﮦ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﻤﻮﮞ ﮐﻮ *” ﻋﺎﻟﻤﯽ ﺗﻨﺎﺯﻋﮯ“* *ﭘﮍﮬﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ،*
*ﭼﻨﺎنچہ ﻭﮦ *ﻣﺴﺌﻠﮧ ﮐﺸﻤﯿﺮ ﺳﮯ بھی ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﻭﺍﻗﻒ ﮨﯿﮟ*
*ﻭﮦ ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﻣﺤﻤﺪ ﻋﻠﯽ ﺟﻨﺎﺡ ﺍﻭﺭ ﻣﮩﺎﺗﻤﺎ ﮔﺎﻧﺪﮬﯽ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﺗﮭﯿﮟ،*
*ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ؟*
*”ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﻧﮯ ﮔﺎﻧﺪﮬﯽ ﮐﻮ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﮯ"*

*ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ۔*

*”ﺟﯽ ﮨﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮔﺎﻧﺪﮬﯽ ﮐﯽ ﺍٓﭨﻮﺑﺎﺋﯿﻮ ﮔﺮﺍﻓﯽ(سوانعمری) ﺑﮭﯽ ﭘﮍﮬﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺕ ﺳﻤﺎﺟﯽ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﻄﺎﻟﻌﮧ ﺑﮭﯽ ﮐﯿﺎ“*
*ﺟﯿﻨﺎ ﻧﮯﻣﺠﮫ* *ﺳﮯﮔﺎﻧﺪﮬﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺕ ﺳﻤﺎﺟﯽ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﭼﮭﺎ؟*

*ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ،*
*ﭘﻮﭖ ﮔﺮﯾﮕﻮﺭﯼ ﺍﻭﻝ ﻧﮯ*
*950ﺀ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺕ ﺧﻮﻓﻨﺎﮎ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﯽ ﻓﮩﺮﺳﺖ ﺟﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ*
*ﺍﻥ ﮐﺎ ﮐﮩﻨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺳﺎﺕ ﮔﻨﺎﮦ؟*
*ﮨﻮﺱ ﺑﺴﯿﺎﺭ ﺧﻮﺭﯼ ﻻﻟﭻ، ﮐﺎﮨﻠﯽ ﺷﺪﯾﺪ ﻏﺼﮧ ﺣﺴﺪ ﺍﻭﺭ ﺗﮑﺒﺮ ﮨﻼﮎ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ*

*ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺍﮔﺮ ﺍﻥ ﺳﺎﺕ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﭘﺮ ﻗﺎﺑﻮ ﭘﺎ ﻟﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺷﺎندﺍﺭ ﺑﮭﺮﭘﻮﺭ ﺍﻭﺭ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮔﺰﺍﺭﺗﺎ ﮨﮯ*

*ﮔﺎﻧﺪﮬﯽ ﺟﯽ ﻧﮯ ﭘﻮﭖ ﮔﺮﯾﮕﻮﺭﯼ ﮐﮯ ﺳﺎﺕ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﯽ ﻓﮩﺮﺳﺖ ﺳﮯ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮ ﮐﺮ 1925ﺀ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺕ ﺳﻤﺎﺟﯽ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﯽ ﻓﮩﺮﺳﺖ ﺟﺎﺭﯼ ﮐﯽ، ﺍﻥ ﮐﺎ ﮐﮩﻨﺎ ﺗﮭﺎ؟*

*ﺟﺐ ﺗﮏ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻌﺎﺷﺮﮦ ﺍﻥ ﺳﺎﺕ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﭘﺮ ﻗﺎﺑﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﺗﺎ ﻭﮦ ﻣﻌﺎﺷﺮﮦ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﻣﻌﺎﺷﺮﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺘﺎ*

*ﮔﺎﻧﺪﮬﯽ ﺟﯽ ﮐﮯ ﺑﻘﻮﻝ ﺍﺻﻮﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺳﯿﺎﺳﺖ ﮔﻨﺎﮦ ﮨﮯ*

*ﮐﺎﻡ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺩﻭﻟﺖ ﮔﻨﺎﮦ ﮨﮯ*

*ﺿﻤﯿﺮ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺧﻮﺷﯽ ﮔﻨﺎﮦ ﮨﮯ*
*ﮐﺮﺩﺍﺭ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﻋﻠﻢ ﮔﻨﺎﮦ ﮨﮯ،*

*ﺍﺧﻼﻗﯿﺎﺕ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺗﺠﺎﺭﺕ ﮔﻨﺎﮦ ﮨﮯ*

*ﺍﻧﺴﺎﻧﯿﺖ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﮔﻨﺎﮦ ﮨﮯ*
*ﺍﻭﺭ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮔﻨﺎﮦ ﮨﮯ*
*ﯾﮧ ﺳﺎﺕ ﺍﺻﻮﻝ ﺑﮭﺎﺭﺕ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮔﺎﻧﺪﮬﯽ ﮐﺎ ﺳﻤﺎﺟﯽ ﺍﯾﺠﻨﮉﺍ ﺗﮭﺎ۔*

*ﻭﮦ ﻣﺴﮑﺮﺍﺋﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﮭﭙﮑﯽ ﺩﯼ۔ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ؟*
*”ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﻣﺤﻤﺪ ﻋﻠﯽ ﺟﻨﺎﺡ ﮐﮯ ﺳﺎﺕ ﺍﺻﻮﻝ ﺑﮭﯽ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﻮ“*
*ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ۔*

*”ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﭘﺮﯾﮑﭩﯿﮑل ﺑﺎﺍﺻﻮﻝ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺗﮭﮯ"*
*ﻭﮦ ﻓﺮﻣﻮﺩﺍﺕ ﭘﺮ ﯾﻘﯿﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ*
*ﭼﻨﺎنچہ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﻗﻮﻡ ﮐﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﺤﺮﯾﺮﯼ ﺍﯾﺠﻨﮉﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔*
*ﻭﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺘﯽ ﺭﮨﯿﮟ،*

*ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ؟*

*ﮔﺎﻧﺪﮬﯽ ﺍﻭﺭ ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﻕ ﺗﮭﺎ*
*ﮔﺎﻧﺪﮬﯽ ﻓﻼﺳﻔﺮﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﭘﺮﯾﮑﭩﯿﮑﻞ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺗﮭﮯ،*
*ﻭﮦ ﮐﮩﻨﮯ ﮐﮯ بجاۓ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﯾﻘﯿﻦ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ،*
*ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﺍﻗﻮﺍﻝ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﮐﯽ ﻣﺜﺎﻟﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﯿﮟ۔*
*ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ،*
*ﻭﮦ ﺑﻮﻟﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﻣﺜﺎﻟﯿﮟ ﺳﻨﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﻮﮞ۔*

*ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ؟*
*ﻣﺜﻼً ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﻧﮯ*

*ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻭﻗﺖ ﮐﯽ ﭘﺎﺑﻨﺪﯼ ﮐﯽ،*
*ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮﮌﺍ*
*ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﻗﺮﺑﺎﺀ ﭘﺮﻭﺭﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ،*
*ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺭﺷﻮﺕ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﻟﯽ*
*ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺬﮨﺒﯽ ﺭﺟﺤﺎﻧﺎﺕ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺋﺶ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ*

*( ﻭﮦ ﺳﻨﯽ ﺗﮭﮯ، ﻭﮨﺎﺑﯽ ﺗﮭﮯ، ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺑﺮﯾﻠﻮﯼ، ﻗﺎﺋﺪ ﻧﮯ* *ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﮐﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎﻥ ﺧﺒﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﻧﮯ ﺩﯼ)*
*ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻭﻋﺪﮮ ﮐﯽ ﭘﺎﺑﻨﺪﯼ ﮐﯽ*
*ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﻤﺠﮭﻮﺗﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮﮌﺍ،*
*ﭘﺮﻭﭨﻮﮐﻮﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﯿﺎ*
*ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﺭﻗﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﺎﺋﯽ،*
*ﭨﯿﮑﺲ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﭽﺎﯾﺎ،*

*ﺍٓﻣﺪﻧﯽ ﻧﮩﯿﮟﭼﮭﭙﺎئی*

*ﺍﺻﻮﻟﻮﮞ ﭘﺮ ﺳﻤﺠﮭﻮﺗﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ، ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﺣﻖ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﺭﺍ، ﺍﻭﺭ ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺴﯽ ﺷﺨﺺ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﺪﺗﻤﯿﺰﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ۔*

*ﻭﮦ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﯿﮟ ﻭﯾﻞ ﮈﻥ ﺍٓﭖ ﭨﮭﯿﮏ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ،*
*ﻭﮦ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺑﮩﺖ ﺷﺎندﺍﺭ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺗﮭﮯ،ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﺍﻧﺴﭙﺎﺋﺮڈ ﮨﻮﮞ۔*
*ﻭﮦ ﺭﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍٓﮨﺴﺘﮧ ﺳﮯ ﺑﻮﻟﯿﮟ؟*
*”ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﺍٓﭖ ﺳﮯ ﻣﺰﯾﺪ ﺳﻮﺍﻝ ﭘﻮﭼﮫ ﻟﻮﮞ ﺗﻮ ﺍٓﭖ ﻣﺎﺋﯿﻨﮉ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ“*
*ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ۔*
*”ﻧﮩﯿﮟ ﺿﺮﻭﺭ* *ﭘﻮﭼﮭﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﮞ“*
*ﻭﮦ ﺑﻮﻟﯿﮟ؟*
*”ﮐﯿﺎ ﺍٓﭖ ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ“*
*ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻓﻮﺭﺍً ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ؟*
*” ﺩﻝ ﻭ ﺟﺎﻥ ﺳﮯ وﮦ ﺑﻮﻟﯿﮟ؟*
*”ﺍٓﭖ ﭘﮭﺮ ﺑﺘﺎﺋﯿﮯ ﺍٓﭖ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﮐﯽ ﮐﻮﻥ ﮐﻮﻥ ﺳﯽ ﺧﻮﺑﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ“*
*ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﯾﮧ ﺳﻮﺍﻝ ﻏﯿﺮ ﻣﺘﻮﻗﻊ ﺗﮭﺎ،*
*ﻣﯿﮟ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔*
*ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺑﺎﺋﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻟﮕﺎ،*
*ﻭﮦ بھانپ ﮔﺌﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍٓﮨﺴﺘﮧ ﺍٓﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺑﻮﻟﯿﮟ۔*

*”ﺍٓﭖ ﯾﮧ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﮟ ﺍٓﭖ ﺻﺮﻑ ﯾﮧ ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ۔*
*ﺍٓﭖ ﮐﯽ ﻗﻮﻡ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ* *ﻗﺎﺋﺪ ﮐﯽ ﮐﻮﻥ ﮐﻮﻥ ﺳﯽ ﺧﻮﺑﯽ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ *ﺫﺍﺕ ﮐﺎ ﺣﺼﮧ ﺑﻨﺎﯾﺎ“*
*ﻣﯿﮟ ﻣﺰﯾﺪ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ،*
*ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺎﺗﮭﮯ ﭘﺮ ﭘﺴﯿﻨﮧ ﺍٓ ﮔﯿﺎ،*
*ﻭﮦ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﯿﮟ؟*
*ﻣﯿﮟ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﯽ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﻢ ﮨﻮﮞ،*
*ﻣﯿﮟ ﺍﺳﻼﻡ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﺴﭙﺎﺋﺮ ﮨﻮﮞ،*
*ﻣﯿﮟ ﺍٓﺩﮬﯽ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﺩﯾﮑﮫ ﭼﮑﯽ ﮨﻮﮞ،*
*ﺍٓﭖ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺩﻭ ﻋﻤﻠﯽ ‏(ﻣﻨﺎﻓﻘﺖ) ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﯿﮟ،*

*ﺍٓﭖ ﻟﻮﮒ ﮨﻤﯿﺸﮧ نبی پاک ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ صلى الله عليه وسلم ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﮨﯿﺮﻭ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ،*
*ﺍٓﭖ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺧﻠﻔﺎﺀ ﺍﻭﺭ *ﺻﺤﺎﺑﮧؓ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺍٓﺋﯿﮉﯾﻞ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ،*
*ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﻋﻤﻞ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﯼ ﺍٓﺗﯽ ﮨﮯ،*
*ﺗﻮ ﺍٓﭖ ﺍﻥ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺑﯽ ﺑﮭﯽ ”ﺍﮈﺍﭘﭧ“ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ،*
*ﺍٓﭖ ﻣﯿﮟ ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﺍٓﺋﯿﮉﯾﻠﺰ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﻮﺑﯽ ﻧﻈﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺍٓﺗﯽ۔*

*ﺍٓﭖ ﻟﻮﮒ ﻗﺎﺋﺪ ﺍﻋﻈﻢ ﺟﯿﺴﯽ ﺷﺨﺼﯿﺎﺕ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺯ ﻋﻤﻞ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﯿﮟ،*
*ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﮐﻮ ﻧﻮﭦ ﭘﺮ ﭼﮭﺎﭖ ﺩﯾﺎ، ﺍٓﭖ ﮨﺮ ﻓﻮﺭﻡ ﭘﺮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻋﺰﺕ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔*
*ﺍﻭﺭ ﺍٓﭖ ﺍﻥ ﮐﮯﻟﯿﮯ ﻟﮍﻧﮯ ﻣﺮﻧﮯ ﮐﮯﻟﯿﮯ ﺑﮭﯽ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ،*
*ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﺍﻥ ﺟﯿﺴﺎ ﺑﻨﻨﮯ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﯼ ﺍٓﺗﯽ ﮨﮯ،*
*ﺗﻮ ﺍٓﭖ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺑﺎﺋﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ،*

*ﭼﻨﺎنچہ*
*ﻣﯿﺮﺍ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﮨﮯ؟*
*ﺍٓﭖ ﺍﮔﺮ ﺍﺳﻼﻡ ﭘﮭﯿﻼﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ،*
*ﺗﻮ ﺍٓﭖ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ صلى الله عليه وسلم ﺟﯿﺴﯽ ﻋﺎﺩﺗﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﻟﯿﮟ،*
*ﺍﻭﺭ ﺍٓﭖ ﺍﮔﺮ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﻮ ﺗﺮﻗﯽ ﯾﺎﻓﺘﮧ*
*ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ،*
*ﺗﻮ ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﮐﮯ* *ﺍﺻﻮﻟﻮﮞ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ،*
*ﺍٓﭖ ﮐﺎ ﻣﻠﮏ ﯾﻮﺭﭖ ﺳﮯ ﺍٓﮔﮯ ﻧﮑﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔*
*ﻭﮦ ﺭﮐﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻧﺮﻡ ﺍٓﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺑﻮﻟﯿﮟ؟*
*ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﮨﺮ ﭘﮩﻠﯽ ﮐﻼﺱ ﻣﯿﮟ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﻤﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍٓﺋﯿﮉﯾﻠﺰ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ* *ﻣﯿﮟ ﭘﻮﭼﮭﺘﯽ ﮨﻮﮞ،*
*ﯾﮧ ﺟﺐ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍٓﺋﯿﮉﯾﻠﺰ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ،*

*ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺘﯽ ﮨﻮﮞ ﺍٓﭖ ﻭﮦ ﺧﻮﺑﯿﺎﮞ ﮔﻨﻮﺍﺋﯿﮟ،*
*ﺟﻮ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍٓﺋﯿﮉﯾﻠﺰ ﺳﮯ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮐﯿﮟ،*

*ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﺮ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﻤﻮﮞ ﮐﺎ ﺭﺩ ﻋﻤﻞ ﺍٓﭖ ﺟﯿﺴﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ،*
*ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﺗﯽ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﺍٓﺋﯿﮉﯾﻞ ﮐﻮ ﺍٓﺋﯿﮉﯾﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻧﻮﮞ ﮔﯽ،*
*ﺟﺐ ﺗﮏ ﺍٓﭖ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﮭﻠﮏ ﻧﻈﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺍٓﺗﯽ،*

*ﺍٓﭖ ﺍﮔﺮ ﺩﻝ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍٓﺋﯿﮉﯾﻠﺰ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﺍٓﺋﯿﮉﯾﻞ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ،*
*ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺍٓﭖ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻋﺎﺩﺗﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﻮﻧﯽ ﭼﺎﮨﺌﯿﮟ،*
*ﻭﺭﻧﮧ ﺍٓﭖ (ﻣﻨﺎﻓﻖ) ﮨﯿﮟ۔*

*ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﻣﻨﺎﻓﻖ ﮐﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﺍﻭﺭ ﺍﭼﮭﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮔﺰﺍﺭﺗﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ۔*

*(منقول)*

09/04/2021

*ظالم کون*.... ؟

قسطنطنیہ(ترکی) کے دو عجائب خانے ہیں- ایک سرکاری عجائب خانہ، جہاں نہایت ہی قدیم زمانے کے پتھر اور کتبے اور اسی قسم کی یاد گار چیزیں ہیں-سکندر یونانی کا سنگی تابوت بھی ہے. جو کہ میں دیکھ نہیں سکا -
دوسرا عجائب خانہ کسی عیسائی نے اپنے ذاتی خرچ پہ بنوایا. اس میں بڑے قدیمی نوادرات موجود ہیں- میں سارا عجائب خانہ گھوم پھر کر دیکھ چکا تو آخر میں ایک کمرے میں پہنچا، جہاں میں نے ایک عجیب درد انگیز تماشہ دیکھا - جس کا اثر دیر تک میرے دل پر رہا ۰۰۰۰
ایک جداگانہ کمرے میں چند عورتوں کی تصویریں ہیں جو طرح طرح کے عذاب میں مبتلا ہیں۰۰۰
ایک عورت شکنجے میں دی جا رہی ہے-ایک کی پیٹھ پر جلتی ہوئی لوہے کی پٹڑی رکھ دی گئ ہے کہ گردن سے لے کر کمر تک چار انگلی کھال اتر گئ ہے ۰۰۰
اسی طرح اوروں کو عجیب عجیب طریقے سے اذیت دی جا رہی ہے ۰۰۰‎
یہ عورتیں وضع اور لباس سے شریف اور دولت مند نظر آرہی ہیں۰۰۰‎
اکثر حسین اور نازک اندام ہیں- سخت تعجب ہوتا ہے کہ کن ظالم ہاتھوں نے ان حسن کی دیویوں پر ہاتھ اٹھانے کی جرات کی ہوگی۰۰۰‎
دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ *اسپین میں جب اسلامی حکومت تباہ ہوکر عیسائیوں کی حکومت قائم ہوئی تو عموما مسلمان تبدیل مذہب پر مجبور کئے گۓ- چونکہ اسلام کا اثر آسانی سے دلوں سے مٹ نہیں سکتا تھا اس لیۓ ان کو انواع و اقسام کی اذیتیں دی جاتی تھیں ۰۰۰۰*
بے کسی اور کمزوری کے لحاظ سے عورتوں پر زیادہ ظلم ڈھایا جاتا تھا- یہ مظلوم عورتیں اس حیرت انگیز دردناک اذیت ناک واقعہ کی یاد گار ہیں۰۰۰
اس وقت مجھ کو خیال ہوا کہ ! یہی عیسائی ہیں جو ہم کو طعنہ دیتے ہیں کہ *اسلام بزور شمشیر پھیلا۰۰۰۰*
میں یہ نہ سمجھ سکا کہ عجائب خانہ کا بانی جو عیسائی ہے کس غرض سے ان تصویروں کو یہاں بنا رکھا ہے تو کیا وہ *عیسائیوں کا فخر کارنامہ دکھانا چاہتا ہے؟؟؟؟*
*جو اسلام کو ظالم کہتے ہیں، عیسائیت کو مظلوم ۰۰۰۰!!!*

🛣 سفرنامہ : *روم و مصر و شام!*
(مولانا شبلی رحمتہ اللہ علیہ)

08/04/2021

_*بیوی ہو تو ایسی*_

ایک بادشاہ محل کی چھت پر ٹہلنے چلا گیا۔ ٹہلتے ٹہلتے اسکی نظر محل کے نزدیک گھر کی چھت پر پڑی جس پر ایک بہت خوبصورت عورت کپڑے سوکھا رہی تھی۔
بادشاہ نے اپنی ایک باندی کو بلا کر پوچھا:
کس کی بیوی ہے یہ؟
باندی نے کہا: بادشاہ سلامت یہ آپ کے غلام فیروز کی بیوی ہے۔
بادشاہ نیچے اترا ، بادشاہ پر اس عورت کے حسن وجمال کا سحر سا چھا گیا تھا۔
اس نے فیروز کو بلایا۔
فیروز حاضر ہوا تو بادشاہ نے کہا : فیروز ہمارا ایک کام ہے۔ ہمارا یہ خط فلاں ملک کے بادشاہ کو دے آؤ اور اسکا جواب بھی ان سے لے آنا۔
فیروز: اس خط کو لے کر گھر واپس آ گیا خط کو اپنے تکیے کے نیچے رکھ دیا، سفر کا سامان تیار کیا، رات گھر میں گزاری اور صبح منزل مقصود پر روانہ ہوگیا اس بات سے لاعلم کہ بادشاہ نے اس کے ساتھ کیا چال چلی ہے۔
ادھر فیروز جیسے ہی نظروں سے اوجھل ہوا بادشاہ چپکے سے فیروز کے گھر پہنچا اور آہستہ سے فیروز کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا۔
فیروز کی بیوی نےپوچھا کون ہے؟
بادشاہ نے کہا: میں بادشاہ ہوں تمہارے شوہر کا مالک۔
تو اس نے دروازہ کھولا۔ بادشاہ اندر آ کر بیٹھ گیا۔
فیروز کی بیوی نے حیران ہو کر کہا: آج بادشاہ سلامت یہاں ہمارے غریب خانے میں۔
بادشاہ نے کہا : میں یہاں مہمان بن کر آیا ہوں۔
فیروز کی بیوی نے بادشاہ کا مطلب سمجھ کر کہا: میں اللہ کی پناہ چاہتی ہوں آپکے اس طرح آنے سے جس میں مجھے کوئی خیر نظر نہیں آ رہی۔
بادشاہ نے غصے میں کہا: اے لڑکی کیا کہہ رہی ہو تم ؟ شاید تم نے مجھے پہچانا نہیں میں بادشاہ ہوں تمہارے شوہر کا مالک۔
فیروز کی بیوی نے کہا: بادشاہ سلامت میں جانتی ہوں کہ آپ ہی بادشاہ ہیں لیکن بزرگ کہہ گئے ہیں۔
شیر کو اگرچہ جتنی بھی تیز بھوک لگی ہو لیکن وہ مردار تو نہیں کھانا شروع کر دیتا
اور کہا: بادشاہ سلامت تم اس کٹورے میں پانی پینے آ گئے ہو جس میں تمہارے کتے نے پانی پیا ہے۔
بادشاہ اس عورت کی باتوں سے بڑا شرمسار ہوا اور اسکو چھوڑ کر واپس چلا گیا لیکن اپنے چپل وہیں پر بھول گیا ۔
یہ سب تو بادشاہ کی طرف سے ہوا۔
اب فیروز کو آدھے راستے میں یاد آیا کہ جو خط بادشاہ نے اسے دیا تھا وہ تو گھر پر ہی چھوڑ آیا ہے اس نے گھوڑے کو تیزی سے واپس موڑا اور اپنے گھر کی طرف لپکا۔ فیروز اپنے گھر پہنچا تو تکیے کے نیچے سے خط نکالتے وقت اسکی نظر پلنگ کے نیچے پڑے بادشاہ کے نعال (چپل) پر پڑی جو وہ جلدی میں بھول گیا تھا۔
فیروز کا سر چکرا کر رہے گیا اور وہ سمجھ گیا کہ بادشاہ نے اس کو سفر پر صرف اس لیئے بھیجا تاکہ وہ اپنا مطلب پورا کر سکے۔ فیروز کسی کو کچھ بتائے بغیر چپ چاپ گھر سے نکلا۔ خط لے کر وہ چل پڑا اور کام ختم کرنے کے بعد بادشاہ کے پاس واپس آیا تو بادشاہ نے انعام کے طور پر اسے سو ١٠٠ دینار دیئے۔ فیروز دینار لے کر بازار گیا اور عورتوں کے استعمال کے قیمتی کپڑے اور کچھ تحائف بھی خرید دئیے۔ گھر پہنچ کر بیوی کو سلام کیا اور کہا چلو تمہارے میکے چلتے ہیں۔
بیوی نے پوچھا: یہ کیا ہے؟
کہا: بادشاہ نے انعام دیا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ یہ پہن کر اپنے گھر والوں کو بھی دکھاؤ۔
بیوی : جیسے آپ چاہئیں، بیوی تیار ہوئی اور اپنے والدین کے گھر اپنے شوہر کے ساتھ روانہ ہوئی داماد اور بیٹی اور انکے لائے گئے تحائف کو دیکھ کر وہ لوگ بہت خوش ہوئے۔
فیروز بیوی کو چھوڑ کر واپس آ گیا اور ایک مہینہ گزرنے کے باوجود نہ بیوی کا پوچھا اور نہ اسکو واپس بلایا۔
پھر کچھ دن بعد اسکے سالے اس سے ملنے آئے اور اس سے پوچھا: فیروز آپ ہمیں ہماری بہن سے غصے اور ناراضگی کی وجہ بتائیں یا پھر ہم آپکو قاضی کے سامنے پیش کریں گئے۔
تو اس نے کہا: اگر تم چاہو تو کر لو لیکن میرے ذمے اسکا ایسا کوئی حق باقی نہیں جو میں نے ادا نہ کیا ہو۔
وہ لوگ اپنا کیس قاضی کے پاس لے گئے تو قاضی نے فیروز کو بلایا۔
قاضی اس وقت بادشاہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ لڑکی کے بھائیوں نے کہا: اللّٰه بادشاہ سلامت اور قاضی القضاہ کو قائم و دائم رکھے۔ قاضی صاحب ہم نے ایک سر سبز باغ، درخت پھلوں سے بھرے ہوئے اور ساتھ میں میٹھے پانی کا کنواں اس شخص کے حوالے میں دیا۔ تو اس شخص نے ہمارا باغ اجاڑ دیا سارے پھل کھا لیئے، درخت کاٹ لئیے اور کنویں کو خراب کر کے بند کردیا۔
قاضی فیروز کی طرف متوجہ ہو کر پوچھا: ہاں تو لڑکے تم کیا کہتے ہو اس بارے میں؟
فیروز نے کہا: قاضی صاحب جو باغ مجھے دیا گیا تھا وہ اس سے بہتر حالت میں نے انہیں واپس کیا ہے۔قاضی نے پوچھا: کیا اس نے باغ تمھارے حوالے ویسی ہی حالت واپس کیا ہے جیسے پہلے تھا؟
انہوں نے کہا : ہاں ویسے ہی حالت میں واپس کیا ہے لیکن ہم اس سے باغ واپس کرنے کی وجہ پوچھنا چاہتے ہیں۔
قاضی: ہاں فیروز تم کیا کہنا چاہتے ہو اس بارے؟
فیروز نے کہا: قاضی صاحب میں باغ کسی بغض یا نفرت کی وجہ سے نہیں چھوڑا بلکہ اسلیئے چھوڑا کہ ایک دن میں باغ میں آیا تو اس میں، میں نے شیر کے پنجوں کے نشان دیکھے تو مجھے خوف ہوا کہ شیر مجھے کھا جائے گا،
اس لئے شیر کے اکرام کی وجہ سے میں نے باغ میں جانا بند کردیا۔
بادشاہ جو ٹیک لگائے یہ سب کچھ سن رہا تھا، اور اٹھ کر بیٹھ گیا اور کہا۔ فیروز اپنے باغ کی طرف امن اور مطمئن ہو کر جاؤ۔ واللہ اس میں کوئی شک نہیں کہ شیر تمھارے باغ آیا تھا لیکن وہ وہاں پر نہ تو کوئی اثر چھوڑ سکا ، نہ کوئی پتا توڑ سکا اور نہ ہی کوئی پھل کھا سکا وہ وہاں پر تھوڑی دیر رہا اور مایوس ہو کر لوٹ گیا اور خدا کی قسم میں نے کبھی تمھارے جیسے باغ کے گرد لگے مظبوط دیواریں نہیں دیکھیں۔
تو فیروز اپنے گھر لوٹ آیا اور اپنی بیوی کو بھی واپس لے لیا۔ نہ تو قاضی کو پتہ چلا اور نہ ہی کسی اور کو کہ ماجرا کیا تھا!!!
کیا خوب بہتر ہے اپنے اہل وعیال کے راز چھپانا تاکہ لوگوں کو پتہ نہ چلے
اپنے گھروں کے بھید کسی پر ظاہر نہ ہونے دو۔

Address

Sargodha

Telephone

+923478562061

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dar-Ul-Falah Foundation posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Dar-Ul-Falah Foundation:

Share