SSM Ghulam Hussain Safdarabad

SSM Ghulam Hussain Safdarabad Best saving plans of life insurance

18/07/2026
18/07/2026

Urdu Alphabets Through English Connection

06/05/2026
09/03/2026

✦ ✦ وہ رات جب میں نے اپنے استاد کو سڑک پر دیکھا — اگلے دن انہوں نے کلاس میں جو کہا، وہ میری زندگی بدل گیا ✦ ✦

از: Haqeeqat Aur Fasana

---

گورنمنٹ کالج فیصل آباد کی پرانی عمارت کی تیسری منزل پر ایک کمرہ تھا، نمبر 17۔ اس کے دروازے پر پیتل کی تختی لگی تھی: پروفیسر الطاف حسین — شعبہ اردو

پروفیسر صاحب کا چہرہ ہمیشہ کتابوں جیسا سنجیدہ ہوتا تھا۔ سوٹ بوٹ میں ملبوس، بال سنگریزے سے کنگھے ہوئے، اور آنکھوں پر موٹے فریم کی عینک۔ وہ کلاس میں داخل ہوتے تو طلباء کی گردنیں جھک جاتیں۔ نظم کی تشریح کرتے ہوئے ان کی آواز میں ایسا وقار ہوتا کہ لگتا کہ شعر خود ان کی زبان سے پہلی بار وجود میں آیا ہے۔

میں نے ان سے پوچھا تھا: "سر، آپ اتنی محنت کیوں کرتے ہیں؟ کوئی تو قدر نہیں کرتا۔"

وہ مسکرائے تھے۔ "بیٹا، استاد وہ نہیں جو علم بیچے، استاد وہ ہے جو علم کا قرض ادا کرے۔ میں نے بھی کسی سے سیکھا تھا۔"

یہ بات مجھے اس وقت سمجھ نہیں آئی تھی۔

---

دسمبر کا مہینہ تھا۔ سردی اپنے عروج پر تھی۔ رات کے نو بجے تھے۔ میں گھر واپس جا رہا تھا کہ گھنٹہ چوک پر میری نظر ایک شخص پر پڑی۔

وہ شخص سڑک کے کنارے بیٹھا تھا۔ اس کے پاس پرانی سی سائیکل کھڑی تھی۔ اس نے ایک چھوٹی سی پلاسٹک کی چادر بچھائی تھی اور اس پر کچھ پرانی کتابیں سجی تھیں۔ گزرتے راہگوار بے پرواہ گزر جاتے۔ کوئی پوچھنے والا نہیں تھا کہ یہ شخص اتنی رات کو سردی میں کتابیں بیچنے کیوں بیٹھا ہے۔

میں نے قریب جا کر دیکھا۔

میرے قدم جم گئے۔

یہ پروفیسر الطاف حسین تھے۔

وہی پروفیسر صاحب جن کی کلاس میں بیٹھنے کے لیے طلباء میں رسی کشی ہوتی تھی۔ وہی پروفیسر صاحب جو میر تقی میر کے شعر پڑھتے ہوئے رو پڑتے تھے۔ وہی پروفیسر صاحب جن کے لیکچر سننے کے لیے دوسرے شعبوں کے طلباء بھی آتے تھے۔

وہ آج سڑک پر کتابیں بیچ رہے تھے۔

میں وہیں کھڑا رہ گیا۔ انہوں نے مجھے دیکھ لیا۔ پہلے تو ان کی آنکھوں میں شرمندگی سی جھلکی، پھر انہوں نے مسکرانے کی کوشش کی۔

"اے اللہ... بیٹا، تم؟"

میں نے کچھ نہیں کہا۔ میں ان کے پاس جا بیٹھا۔ سردی سے میرے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ ان کے ہاتھ بھی کانپ رہے تھے۔ مگر شاید سردی سے نہیں۔

"سر، آپ یہاں؟"

وہ خاموش رہے۔ پھر بولے: "بیٹا، تم کسی کو مت بتانا۔ پلیز۔"

میں نے پوچھا: "کیا ہوا سر؟ آپ تو پروفیسر ہیں۔ آپ کو ایسا کرنے کی کیا ضرورت؟"

انہوں نے آنکھیں جھکا لیں۔ "بیوی بیمار ہے۔ کینسر۔ تنخواہ میں گزارا نہیں ہو رہا۔ چھوٹی بچی ہے، اس کی فیس دینی ہے۔ مہینے کی پندرہ تاریخ کو تنخواہ ختم ہو جاتی ہے۔ یہ کتابیں میرے اپنے ذخیرے کی ہیں۔ بیچ رہا ہوں۔"

میرا دل بیٹھ گیا۔ یہ وہی شخص تھے جس نے ایک بار کلاس میں کہا تھا: کتابیں میرے لیے اولاد کی طرح ہیں۔

آج وہ اپنی اولاد کو بیچ رہے تھے۔

میں نے جیب سے سارے پیسے نکال لیے۔ سات سو روپے تھے۔ میں نے ان کے سامنے رکھ دیے۔

"سر، یہ لیں۔ اور یہ کتابیں مجھے دے دیں۔"

انہوں نے میری طرف دیکھا۔ آنکھوں میں نمی تھی۔ "بیٹا، تمہارے پاس کتنے پیسے ہیں؟"

"سر، بس اتنے ہیں۔ کل ماں سے لے لوں گا۔"

وہ بولے: "بیٹا، میں بھیک نہیں مانگ رہا۔ میں کتابیں بیچ رہا ہوں۔ تم جتنی کتابیں لو گے، اتنے ہی پیسے دو گے۔"

میں نے چار کتابیں اٹھا لیں۔ قیمت پوچھی تو دو سو روپے تھی۔ میں نے پانچ سو روپے رکھ دیے۔

"سر، یہ میرے لیے بہت قیمتی ہیں۔ یہ آپ کی اپنی کتابیں ہیں۔ ان پر آپ کے نوٹس ہیں۔ میرے لیے یہ انمول ہیں۔"

ان کی آنکھ سے آنسو ٹپک پڑا۔

---

اگلے روز کلاس تھی۔ پروفیسر صاحب آئے۔ وہی سوٹ بوٹ، وہی وقار، وہی سنجیدگی۔ جیسے کل رات کچھ ہوا ہی نہ ہو۔

لیکچر شروع ہوا۔ موضوع تھا: استاد کا مقام

وہ پڑھا رہے تھے: "استاد وہ نہیں جو صرف پڑھائے، استاد وہ ہے جو جینا سکھائے۔"

اچانک ان کی آواز رک گئی۔ وہ میری طرف دیکھ رہے تھے۔

"بیٹو، تم میں سے ایک لڑکا ہے۔ میں اس کا نام نہیں لوں گا۔ لیکن کل رات اس نے مجھے سکھایا کہ استاد کبھی صرف استاد نہیں ہوتا، وہ کبھی شاگرد بھی بن جاتا ہے۔"

کلاس میں خاموشی چھا گئی۔ میں نے سر جھکا لیا۔

وہ بولتے رہے: "میں نے سوچا تھا کہ میں تمہیں پڑھا رہا ہوں۔ لیکن کل مجھے پتہ چلا کہ اصل میں تم مجھے پڑھا رہے ہو۔ عزت دینا، محبت کرنا، اور بغیر کسی توقع کے کسی کے کام آنا — یہ تم نے مجھے سکھایا۔"

پوری کلاس خاموش تھی۔ کوئی سمجھ نہیں پایا تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔ صرف میں جانتا تھا۔

---

دو ماہ بعد پروفیسر صاحب کی اہلیہ کا انتقال ہو گیا۔ ہم سب ان کے گھر گئے۔ چھوٹی سی کوٹھری میں بیوی کا جنازہ پڑا تھا۔ پروفیسر صاحب دیوار سے لگ کر رو رہے تھے۔

میں ان کے پاس گیا۔ انہوں نے مجھے دیکھا اور مجھے گلے سے لگا لیا۔

"بیٹا، وہ کتابیں جو تم نے خریدی تھیں... وہ میرے پاس واپس آ گئی ہیں۔ وہ پیسے تم نے دیے تھے، انہی سے بیوی کا آخری علاج ہوا۔ تم نے مجھے وہ دن دیے جو میں اس کے ساتھ گزار سکا۔"

میں نے کچھ نہیں کہا۔ میں صرف روتا رہا۔

---

آج دس سال بعد کی بات ہے۔ میں خود پروفیسر ہوں۔ اسی کالج میں پڑھاتا ہوں۔ کمرہ نمبر 17 وہی ہے۔ پیتل کی تختی پر اب میرا نام ہے۔

پروفیسر الطاف حسین ریٹائر ہو چکے ہیں۔ وہ کبھی کبھی کالج آتے ہیں۔ آتے ہیں تو میری کلاس میں بیٹھتے ہیں۔ میں پڑھاتا ہوں اور وہ سنتے ہیں۔ طلباء حیران ہوتے ہیں کہ یہ بوڑھے صاحب کون ہیں۔

میں انہیں نہیں بتاتا۔

لیکن جب وہ جاتے ہیں تو میز پر کوئی کتاب رکھ جاتی ہے۔ اس کے پہلے صفحے پر لکھا ہوتا ہے:

"یہ کتاب اس لڑکے کے نام جس نے مجھے سکھایا کہ استاد کبھی مرتا نہیں، وہ صرف شاگردوں میں زندہ رہتا ہے۔"

---

خلاصہ:
دنیا میں بہت سے استاد ہیں جو علم دیتے ہیں۔ مگر کچھ استاد ایسے ہوتے ہیں جو زندگی دیتے ہیں۔ اور کچھ شاگرد ایسے ہوتے ہیں جو استاد کو عزت دیتے ہیں۔ اصل کامیابی وہ نہیں جو ڈگریوں سے ملتی ہے، اصل کامیابی وہ ہے جب کوئی تمہیں دیکھ کر کہے: یہ میرے استاد ہیں۔

---

سوال:
کیا آپ کی زندگی میں بھی کوئی ایسا استاد ہے جس نے آپ کو صرف سبق نہیں، بلکہ جینے کا ڈھنگ سکھایا؟ اگر ہے تو آج ہی انہیں فون کر لیں۔ کل بہت دیر ہو جائے گی۔ ❤️

#محبت #احترام

26/12/2025

life

29/11/2025

اسٹیٹ لائف انشوانس کا پوریشن آف پاکستان
کیا غلط ہے اور کیا صحیح ہے؟
پیسے کا استعمال بھی ایک فن ہے حقیقت میں دیکھاجائے تو ہمارہے معاشرے میں زیادہ تر مسائل پیسے کے غلط استعمال کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔
بیٹی کی شادی ایک حقیقت اور بیٹے کی اعلیٰ تعلیم والدین کی خواہش ہوتی ہے ۔
لیکن اس واضح حقیقت کو جان لینے کے بعد بھی اکثر والدین کو یہی کہتے سناہے کہ ہم اپنی بیٹی کی شادی اور بیٹے کی اعلی ٰ تعلیم کی وجہ سے سخت پریشان ہیں اور راتوں کی نیند بھی چھن گئی ہے کیونکہ ہمارے پاس پیسےکا بر وقت انتظام نہیں ۔لیکن اگر سنجیدگی سے سو چاجائے تو دراصل اس ضرورت کیلئے آپ کے پاس 18 سے 20 کا عرصہ موجودہے
لیکن آپ کی ذراسی غفلت اور لاپر واہی آپ کیلئے پر یشانی باعث بن گئی ۔
بچے کی پیدائش کے ساتھ ہی بچت پر توجہ دیں۔
صرف اسٹیٹ لائف ہی ان تمام پریشانیوں کا حل ہے۔
جوآپ کو بچت کرنا سکھاتاہے اور مستقبل میں بیٹی کی شادی اور بیٹے کی اعلیٰ تعلیم کیلئے بھی وافر مقد ار میں سرمایہ فراہم کرتاہے۔
آپ بھی اسٹیٹ لائف کی خدمات حاصل کر کے مستقبل کی پر یشانوں سے بچیں

Address

Safdar Abad
Qila Sheikhupura

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when SSM Ghulam Hussain Safdarabad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share