12/08/2026
# Copied
آج State Life Office میں ایک ایسی فائل پر نظر پڑی جس نے مجھے اندر تک ہلا کر رکھ دیا۔
صرف 31,895 روپے… اور ایک خاندان کا سہارا!
جب سے State Life جوائن کی ہے، الحمدللہ کام کرنے میں ایک الگ ہی خوشی محسوس ہوتی ہے۔ دوست احباب مذاق بھی اڑاتے ہیں، کوئی کہتا ہے انشورنس کون لیتا ہے، کوئی کہتا ہے ابھی عمر پڑی ہے، بعد میں دیکھیں گے۔
لیکن آج State Life Office میں ایک ایسی فائل پر نظر پڑی جس نے مجھے اندر تک ہلا کر رکھ دیا۔
فائل Death Claim کی تھی۔
نام تھا بشیر احمد۔
عمر تقریباً 53 سال۔
پیشہ: ڈرائیور۔
بشیر احمد نے 31 دسمبر 2025 کو State Life سے ایک پالیسی حاصل کی۔ اس پالیسی کے لیے انہوں نے تقریباً 31,895 روپے ادا کیے۔
لیکن شاید انہیں بھی معلوم نہیں تھا کہ زندگی ان کے لیے صرف چند ہفتوں کا مزید سفر لے کر آئی ہے۔
16 مارچ 2026 کو، یعنی پالیسی لینے کے تقریباً ڈھائی ماہ بعد، بشیر احمد کو دل کا دورہ پڑا اور وہ رضائے الٰہی سے اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔
پیچھے ایک بیوہ، بیٹے اور بیٹیاں رہ گئے۔
ایک گھر کا سربراہ چلا گیا۔
ایک باپ چلا گیا۔
ایک شوہر چلا گیا۔
اور ایک خاندان اچانک زندگی کے ایسے موڑ پر کھڑا ہوگیا جہاں سب سے بڑا سوال یہی ہوتا ہے:
"اب آگے کیا ہوگا؟"
بشیر احمد کی زندگی کا نعم البدل تو کوئی رقم نہیں ہوسکتی۔
ان کے بچوں کو ان کے والد واپس نہیں مل سکتے۔
ان کی اہلیہ کو ان کا شوہر واپس نہیں مل سکتا۔
لیکن…
ان کی ایک چھوٹی سی مالی منصوبہ بندی آج ان کے خاندان کے لیے ایک بڑا سہارا بن رہی ہے۔
صرف 31,895 روپے کی ادائیگی کے بعد ان کے خاندان کو تقریباً 5 لاکھ 50 ہزار روپے کا Death Claim ملنے کی توقع ہے، پالیسی کی شرائط اور کلیم کی منظوری کے مطابق۔
بظاہر شاید کسی کے لیے یہ رقم بہت بڑی نہ ہو۔
لیکن جس گھر کا کمانے والا اچانک دنیا سے چلا جائے، اس گھر کے لیے یہی رقم بچوں کی فیس بن سکتی ہے، گھر کا راشن بن سکتی ہے، کرائے میں مدد بن سکتی ہے، بیوہ کے لیے سہارا بن سکتی ہے اور سب سے بڑھ کر مشکل وقت میں کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بچا سکتی ہے۔
اور یہاں میں صرف ایک سوال کرنا چاہتا ہوں۔
کیا بشیر احمد کو معلوم تھا کہ وہ صرف چند ماہ بعد اس دنیا میں نہیں ہوں گے؟
نہیں!
کیا انہیں معلوم تھا کہ ان کی پالیسی ان کے خاندان کے لیے اتنی جلدی استعمال ہوگی؟
نہیں!
کیا انہیں معلوم تھا کہ 31 دسمبر کو ادا کیے گئے 31,895 روپے ان کے خاندان کے لیے چند ماہ بعد لاکھوں روپے کا سہارا بن جائیں گے؟
شاید نہیں۔
لیکن انہوں نے ایک کام ضرور کیا تھا۔
انہوں نے اپنی فیملی کے مستقبل کے بارے میں سوچا تھا۔
انہوں نے یہ نہیں کہا کہ:
"ابھی تو بہت وقت ہے۔"
انہوں نے یہ نہیں کہا:
"بعد میں کرلیں گے۔"
انہوں نے یہ نہیں کہا:
"جب ضرورت پڑے گی، تب دیکھا جائے گا۔"
انہوں نے اپنی استطاعت کے مطابق Planning کی۔
اور آج ان کے جانے کے بعد ان کی وہ Planning ان کے خاندان کے کام آ رہی ہے۔
یہ تحریر کسی کی موت کو State Life کی تشہیر بنانے کے لیے نہیں ہے۔
یہ تحریر زندگی کی ایک حقیقت یاد دلانے کے لیے ہے۔
ہم سب مستقبل کے منصوبے بناتے ہیں۔
گھر بنانا ہے، گاڑی لینی ہے، کاروبار کرنا ہے، بچوں کو پڑھانا ہے، شادی کرنی ہے، زمین خریدنی ہے۔
لیکن ایک سوال اکثر بھول جاتے ہیں:
"اگر میں کل نہ رہا تو میرے گھر والوں کا کیا ہوگا؟"
خدارا!
اس سوال سے بھاگیں نہیں۔
زندگی کسی کو بتا کر نہیں آتی کہ اس کا آخری دن کون سا ہے۔
حادثہ، بیماری، دل کا دورہ یا کوئی بھی مشکل وقت عمر دیکھ کر نہیں آتا۔
اسی لیے اپنے بچوں، اپنی بیوی، اپنے والدین اور اپنے خاندان کے لیے Financial Planning ضرور کریں۔
انشورنس کا مقصد موت کو روکنا نہیں۔
مقصد یہ ہے کہ اگر کمانے والا اچانک چلا جائے تو اس کے پیچھے رہ جانے والوں کی زندگی مکمل طور پر نہ ٹوٹے۔
آج بشیر احمد ہمارے درمیان نہیں ہیں۔
اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کے اہل خانہ کو صبر عطا فرمائے۔ آمین۔
لیکن ان کی کہانی ہمارے لیے ایک سوال چھوڑ گئی ہے:
"اگر کل آپ نہ رہے… تو آپ کے خاندان کا کیا ہوگا؟"
اس سوال کا جواب آج تلاش کریں۔
کل شاید بہت دیر ہو جائے۔
اپنے مستقبل کی Planning کریں۔
اپنی فیملی کے مستقبل کی Planning کریں۔
کیونکہ اچھا کمانے والا صرف وہ نہیں جو اپنی زندگی میں اپنے گھر والوں کے لیے خرچ کرے…
اچھا گھر کا سربراہ وہ بھی ہے جو اپنی غیر موجودگی میں بھی اپنے خاندان کے لیے ایک سہارا چھوڑ کر جائے