IMRAN JAVED & CO

IMRAN JAVED & CO Imran Javed & Company, Public Accountants, is a distinguished firm offering a comprehensive suite of professional services.

We offer Income Tax & Sales Tax Return filing, company registration (Private or SMC-Private Ltd), AOP or Partnership Firm Registration, Trade Mark Registration to safeguard your brand, and Internal Auditing & Financial Reporting to ensure operations. Our expertise encompasses taxation, corporate advisory, accounting, business planning, feasibility studies, trademarks, copyrights, and ERP solutions

. We are committed to delivering strategic insights and tailored solutions to drive business growth and ensure compliance. Our team of seasoned professionals brings a wealth of experience across various industries, enabling us to provide personalized and effective consultancy services. At Imran Javed & Company, we prioritize client success by fostering long-term partnerships and delivering results-oriented solutions.

24/07/2025

محترم کلائنٹس،
السلام علیکم!

سِیلز ٹیکس ایکٹ کے SRO 350 کے تحت ہر سِیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ فرد/ادارے کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی FBR بائیومیٹرک تصدیق ہر سال 31 جولائی سے پہلے مکمل کروائے۔

براہِ کرم نوٹ فرمائیں کہ اگر کسی بھی رجسٹرڈ فرد نے مقررہ تاریخ تک بائیومیٹرک تصدیق نہ کروائی تو اس صورت میں وہ سِیلز ٹیکس ریٹرن جمع نہیں کروا سکے گا، جس سے قانونی پیچیدگیاں اور جرمانے بھی لاگو ہو سکتے ہیں۔

آپ سے گزارش ہے کہ اس اہم قانونی تقاضے کو بروقت مکمل کریں تاکہ کسی قسم کی دفتری یا مالی رکاوٹ پیش نہ آئے۔

مزید معلومات یا رہنمائی کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

شکریہ

عمران جاوید اینڈ کمپنی

0321-6306548

18/07/2025

To all my sales tax clients
اہم اطلاع برائے سیلز ٹیکس
براہِ کرم 31 جولائی 2025 سے قبل اپنی ایف بی آر بائیومیٹرک تصدیق مکمل کر لیں،
بصورتِ دیگر سیلز ٹیکس ریٹرن جمع نہیں ہو سکے گی۔
31 جولائی 2025 کے بعد بائیومیٹرک تصدیق صرف کمشنر کی منظوری کے بعد ہی ممکن ہو گی۔

05/07/2025
Announcement Regarding Tax Year 2025 Filing ServicesImran Javed & Company, Public Accountants, will commence preparation...
02/07/2025

Announcement Regarding Tax Year 2025 Filing Services

Imran Javed & Company, Public Accountants, will commence preparation and submission of Annual Income Tax Returns for Tax Year 2025 effective 1st August 2025. Our permanent office is now operational at Opposite Gate No. 1, Baab-e-Hamza, Wahdat Colony, Shah Shamas Road, Near Rasheed Abad Chowk, Multan.

Services include income tax compliance for individuals and corporate entities, tax advisory, and electronic filing support. Clients may schedule consultations during business hours (Monday to Saturday, 9:00 AM to 7:00 PM).

Early engagement is recommended to facilitate timely processing and regulatory adherence. For inquiries or appointments:

Imran Javed & Company
Contact: 0321-6306548
Email: [email protected]
Website: www.ijcopa.com

12/06/2025

ٹیکس ماہرین کے کردار کے خاتمے کی خواہش

2002 میں اس وقت کے چیئرمین ایف بی آر عبداللہ یوسف نے کہا تھا کہ وہ ایسا نظام دیں گے جس سے "محکمے کا بھتہ اور وکیل کی فیس بند کروا دیں گے"۔ دو دہائیاں گزرنے کے بعد اب موجودہ وزیرِ خزانہ نے یہ ارشاد فرمایا کہ "ہم ٹیکس کنسلٹنٹس اور وکلاء کا کردار ختم کر دیں گے"۔ ایک ٹیکس ایڈوائزر کی حیثیت سے یہ بات باعثِ افسوس، تشویش اور حیرت ہے کہ نظام کی خامیوں کا بوجھ ان لوگوں پر ڈالا جا رہا ہے جو خود اس نظام کی پیچیدگیوں کو سلجھانے میں حکومت، محکمے اور ٹیکس گزاروں کی مدد کرتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اگر ہمارا ٹیکس نظام اتنا ہی سادہ، شفاف اور سہل ہوتا تو کسی شہری کو وکیل یا ٹیکس کنسلٹنٹ کی ضرورت ہی کیوں پیش آتی؟ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا ٹیکس نظام تکنیکی اصطلاحات، ابہام، مسلسل بدلتے قوانین، پیچیدہ فارموں، اور اختیارات کے غیرمتوازن استعمال پر مبنی ہے۔ ایسے میں ماہرین کی خدمات لینا محض ایک سہولت نہیں بلکہ بعض اوقات ایک ناگزیر ضرورت بن جاتی ہے۔ ان کا کردار ایک پل کا ہوتا ہے جو ٹیکس گزار اور ریاست کے درمیان ایک مؤثر، قانونی اور بااعتماد رابطہ قائم کرتا ہے۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ اگر ایف بی آر کے افسران کی نیت واقعی شفافیت کی طرف بڑھنے کی ہے تو پھر سب سے پہلے محکمے کے اندر موجود رشوت، اختیارات کے غلط استعمال، اور دھونس پر مبنی کارروائیوں کا سدباب کیا جائے۔ یہ کہنا کہ وکیل اور مشیر ختم ہو جائیں تو نظام درست ہو جائے گا، ایک طفلانہ سوچ ہے۔ کیا عدالتیں وکلاء کے بغیر انصاف دے سکتی ہیں؟ کیا مریض ڈاکٹر کے بغیر صحتیاب ہو سکتے ہیں؟ تو پھر ایک ٹیکس گزار، جسے قانون اور حساب کتاب کی پیچیدگیوں کا علم نہیں، وہ ماہر کی مدد کے بغیر اپنی ذمہ داریاں کیسے ادا کرے گا؟

اس وقت دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک جیسے امریکہ، برطانیہ، جرمنی، جاپان میں بھی ٹیکس ایڈوائزرز، اکاؤنٹنٹس اور قانونی ماہرین کا اہم اور قابلِ قدر کردار تسلیم کیا جاتا ہے۔ ان ممالک کی حکومتیں ٹیکس ایڈوائزرز کو اپنا شراکت دار سمجھتی ہیں، نہ کہ رکاوٹ یا دشمن۔ یہ صرف پاکستان میں ہے جہاں بجائے نظام کی اصلاح کے، نظام کو سمجھنے والے ماہرین کو ہی ہدفِ تنقید بنا دیا جاتا ہے۔

مزید یہ کہ پاکستان کے لاکھوں کاروباری افراد اور تنخواہ دار طبقہ پہلے ہی ایف بی آر کے نوٹسز، بے جا جرمانوں، اور غیرضروری دفتری چکروں سے پریشان ہے۔ اگر ان کے ساتھ ساتھ ان کی معاونت کرنے والے ماہرین کا بھی کردار ختم کر دیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ عام شہری کو ریاست کے سامنے لاوارث چھوڑ دیا جائے۔

یہ وقت الزام تراشی کا نہیں بلکہ تعاون اور اصلاح کا ہے۔ ٹیکس کنسلٹنٹس، وکلاء، اور چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس اس ملک کے ذمہ دار شہری ہیں، جو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے نظام کو چلانے میں ریاست کا ہاتھ بٹاتے ہیں۔ ان کی کردار کشی کرنا، مسائل کا حل نہیں بلکہ نئے مسائل کو جنم دینا ہے۔ ریاست اور محکمے کو چاہیے کہ وہ ان ماہرین کو دشمن نہیں بلکہ پارٹنر سمجھیں، تاکہ پاکستان کا ٹیکس نظام واقعی شفاف، مستحکم اور عوام دوست بن سکے۔

عمران جاوید انصاری
فنانس سیکرٹری
ایم ٹی بی اے

11/06/2025

بجٹ ایک نیا بوجھ

پاکستان میں مالی سال 2025 کے لیے حکومت نے 14,000 ارب روپے کا ٹیکس ہدف مقرر کیا ہے۔ یہ ہدف بظاہر ملکی معیشت کو سنبھالنے، قرضوں کی ادائیگی اور ریاستی اخراجات پورے کرنے کے لیے رکھا گیا ہے، لیکن جب اس ہدف کو عوام کی معاشی سکت کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ ایک سنگین سوال کو جنم دیتا ہے: کیا یہ بوجھ عوام کے کندھوں پر ڈالنا کسی طور پر منصفانہ ہے؟

اگر اس ہدف کو ملک کی 15 کروڑ آبادی پر مساوی تقسیم کیا جائے تو فی کس سالانہ بوجھ 93,333 روپے بنتا ہے۔ یہ رقم ماہانہ تقریباً 7,777 روپے بنتی ہے، جو ایک اوسط پاکستانی کی ماہانہ آمدن کے تناسب سے کہیں زیادہ ہے۔ پاکستان میں کروڑوں افراد دیہاڑی پر کام کرتے ہیں، ہزاروں نوجوان بیروزگار ہیں، لاکھوں خاندان غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، ایسے میں یہ تصور بھی کرنا کہ ہر شہری یہ بوجھ اٹھا سکتا ہے، حقیقت سے منہ موڑنے کے مترادف ہے۔

یہ تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان کا ٹیکس نظام سراسر غیر منصفانہ ہے۔ بالواسطہ ٹیکسوں کا جال عام شہری کی زندگی کو دن بہ دن مشکل بناتا جا رہا ہے۔ تنخواہ دار طبقہ اور متوسط گھرانے ہر چیز پر سیلز ٹیکس، پٹرولیم لیوی، بجلی کے بلوں پر سرچارج اور دیگر خفیہ ٹیکس ادا کرتے ہیں، جب کہ دوسری طرف اشرافیہ ٹیکس دینے سے بچنے کے نت نئے طریقے اختیار کرتی ہے۔ بڑے زمیندار، ریئل اسٹیٹ مافیا، غیر دستاویزی کاروبار، اور اثر و رسوخ رکھنے والے طبقات قانون سے بالاتر ہیں۔

ملک میں باقاعدہ ٹیکس فائلرز کی تعداد محض چند فیصد ہے۔ باقی سارا بوجھ انہی مخلص شہریوں پر ہے جو پہلے ہی مہنگائی، بیروزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی سے نڈھال ہیں۔ ایسے میں 14,000 ارب کا ہدف عوام دشمنی کے مترادف محسوس ہوتا ہے، نہ کہ ریاستی ذمہ داری کا اظہار۔

حکومت بارہا دعویٰ کرتی ہے کہ یہ ٹیکس عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ہیں، لیکن عملاً عوام کو صحت، تعلیم، روزگار، انصاف یا تحفظ میں سے کوئی بنیادی سہولت میسر نہیں۔ جب ٹیکس کے بدلے میں عوام کو کچھ نہ ملے تو یہ صرف پیسے کی وصولی نہیں، بلکہ استحصال کہلاتا ہے۔ ریاستی اعتماد کی بحالی تب ہی ممکن ہے جب ٹیکس کا نظام شفاف، منصفانہ اور موثر ہو۔ ہر شہری کو اپنی آمدن کے مطابق ٹیکس ادا کرنا چاہیے، لیکن اس کا آغاز طاقتور طبقوں سے ہونا چاہیے، نہ کہ پہلے سے پسے ہوئے عوام سے۔

اگر حکومت واقعی ملک کو معاشی بحران سے نکالنا چاہتی ہے تو اسے سب سے پہلے اپنی ترجیحات درست کرنی ہوں گی۔ ٹیکس نیٹ کو بڑھانے، اشرافیہ کو قانون کے دائرے میں لانے، اور بالواسطہ ٹیکسوں کے بجائے براہ راست ٹیکسوں کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ بصورت دیگر، یہ ہدف عوام کے لیے محض ایک عددی عذاب اور معیشت کے لیے ایک غیر حقیقی خواب بن کر رہ جائے گا۔

عمران جاوید انصاری

10/06/2025

آسانی یا پریشانی

ایف بی آر نے حال ہی میں ٹیکس آسان ایپ میں لاگ ان کے لیے ڈیوائس رجسٹریشن کا جو نظام متعارف کروایا ہے، اگر اسے اسی طرح جاری رکھا گیا تو آنے والے دنوں میں ٹیکس فائلنگ کا پورا عمل مزید پیچیدہ، سست اور غیر مؤثر ہو جائے گا۔

آج ہم ایک کمپیوٹر پر درجنوں کلائنٹس کا کام کرتے ہیں، کل یہ صورت حال اس قدر مشکل ہو جائے گی کہ ہر کلائنٹ کے لیے علیحدہ ڈیوائس درکار ہو گی، جو نہ صرف غیر عملی ہے بلکہ مہنگی بھی۔ ٹیکس پروفیشنلز کے لیے یہ ایک ناقابلِ برداشت بوجھ بن جائے گا۔ خاص طور پر چھوٹے شہروں میں، جہاں ایک دفتر میں ایک یا دو کمپیوٹرز پر ہی تمام کام ہوتا ہے، وہاں یہ سسٹم مکمل طور پر فیل ہو جائے گا۔

آنے والے وقت میں جیسے جیسے ایف بی آر کی ڈیجیٹل انحصاری بڑھے گی، اگر ہر بار ڈیوائس رجسٹریشن، OTP، ای میل ویریفکیشن جیسے مراحل میں پھنسا دیا جائے گا، تو وقت کے ساتھ ساتھ صارفین کا اعتماد سسٹم سے ختم ہوتا چلا جائے گا۔ لوگ کوشش کریں گے کہ کسی اور غیر رسمی ذریعہ سے کام نکلوائیں، اور یہ عمل ایف بی آر کے اصل مقاصد کو ہی نقصان پہنچائے گا۔

مستقبل میں جب ای آڈٹ، ای نوٹس، ای اپیل جیسے مراحل مزید عام ہوں گے، تب یہ ڈیوائس لاکنگ سسٹم اس قابل نہیں ہو گا کہ ایک سے زیادہ کیسز اور کلائنٹس کو مؤثر طریقے سے ہینڈل کر سکے۔ کنسلٹنٹس کے لیے وقت پر کام مکمل کرنا ناممکن ہوتا چلا جائے گا، اور ایف بی آر خود شکایات میں گھرا نظر آئے گا۔

اس سب کے علاوہ ایک بہت بڑی تعداد ٹیکس گزاروں کی ایسی ہے جو ایسی ڈیوائسز استعمال ہی نہیں کرتے جن میں ایپلی کیشن یا انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہو۔ بعض ایسے بھی ہیں جو لکھنا پڑھنا تک نہیں جانتے اور صرف اپنے ٹیکس ایڈوائزر کے ذریعے سسٹم سے جُڑے ہوئے ہیں۔ ان کے لیے یہ نیا نظام سمجھنا اور اس پر عمل کرنا نہ صرف مشکل بلکہ ناممکن ہو گا۔ نتیجتاً، انہیں بھی غیر ضروری ذہنی دباؤ اور پیچیدگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یہ ایک درد سر پریکٹس ہوگی، اس سے بڑھ کر کچھ نہیں۔

عمران جاوید انصاری

چیف کمشنر آر ٹی او ملتان ، کمشنر کارپوریٹ اور کمشنر ملتان زون آرٹی او ملتان کے ساتھ چیمبر آف کامرس کے نمائندگان کے ساتھ ...
06/05/2025

چیف کمشنر آر ٹی او ملتان ، کمشنر کارپوریٹ اور کمشنر ملتان زون آرٹی او ملتان کے ساتھ چیمبر آف کامرس کے نمائندگان کے ساتھ ملتان ٹیکس بار ایسوسی ایشن کی میٹنگ میں شرکت

05/05/2025

اسلام آباد( مہتاب حیدر)ایف بی آرکے اندرتبدیلیوں کے اس منصوبے پر عملدرآمد کے دوران کہ جس کابہت شوروغوغا سنتےتھے اور جس پر قومی خزانے کے اربوں روپے بھی خرچ ہوئے تھے، دیکھنے میں یہ ٓیا ہے کہ ٹیکس جمع کرنے کی مشینری کی بدانتظامی کی شکایات جنوری سے اپریل کے صرف چارمہینوں میں بڑھ کر 550 فیصد ہوگئی ہیں۔ یہ بے پناہ اضافہ ایف بی آر کی مبینہ بدانتظامی سے متعلق شکایات پر مبنی ہے، جن میں اختیارات کا غلط استعمال، غیر قانونی نوٹسز، مناسب طریقہ کار کے بغیر اکاؤنٹس کی منسلکیاں، جعلی یا فلائنگ انوائسز، سیلز ٹیکس اکاؤنٹس کی ہیکنگ وغیرہ شامل ہیں۔وفاقی ٹیکس محتسب (FTO) کے پاس درج شکایات کی تعداد جنوری تا اپریل 2025 کے پہلے چار ماہ میں 13,000 تک پہنچ گئی، جو کہ گزشتہ سال 2024 کے اسی عرصے میں صرف 2000 شکایات تھیں۔ ماضی میں FTO کو سالانہ اوسطاً 2500 شکایات موصول ہوتی تھیں، جبکہ اس سال صرف چار ماہ میں 13,000 شکایات ایک تشویشناک اشارہ ہیں۔یہ بات خاص طور پر قابل غور ہے کہ 2024 کے پورے سال میں کل 13,500 شکایات درج ہوئیں، جبکہ 2025 کے ابتدائی چار ماہ میں ہی شکایات کی تعداد 13,000 سے تجاوز کر گئی۔ رابطہ کرنے پر ایف بی آر کے اعلیٰ حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ ایف بی آر کو مالی سال 2025 کے لیے 12,970 ارب روپے کا بلند ہدف دیا گیا تھا، جسے بعد میں آئی ایم ایف کی منظوری سے کم کرکے 12,332 ارب روپے کیا گیا، مگر یہ ہدف اب بھی انتہائی بلند ہے۔ اس وجہ سے ایف بی آر کی اعلیٰ انتظامیہ نے فیلڈ دفاتر پر ماہانہ اور سہ ماہی اہداف ہر صورت حاصل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا، جس کے نتیجے میں فیلڈ افسران نے ہر ممکن طریقہ اختیار کیا تاکہ زیادہ سے زیادہ محصولات اکٹھے کیے جا سکیں۔آئی ایم ایف پروگرام کے تحت، ایف بی آر کو ٹیکس-ٹو-جی ڈی پی شرح 10.6 فیصد حاصل کرنے کے لیے سخت دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ آمدنی پیدا کرنے والے شعبے خود سست روی کا شکار ہیں۔

05/05/2025

صدر لاہور چیمبر نے صنعتی و تجارتی تنظیموں کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا
صدر لاہور چیمبر آف کامرس میاں ابوذر شاد نے پیر کو صنعتی و تجارتی تنظیموں کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا۔

میاں ابوذر شاد نے انکم ٹیکس ترمیمی آرڈیننس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایف بی آر کے ہاتھ میں ایک اور تلوار پکڑا دی گئی، ایف بی آر کو اکاؤنٹ منجمد کرنے کا فوری اختیار دے دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ آرڈیننس کے تحت ایف بی آر کو کاروباری مقامات پر افسر تعینات کرنے کا اختیار مل گیا، پارلیمنٹ کو بائی پاس کرنا خطرناک روایت ہوگی۔

26/04/2025

ٹیکس ریٹرن میں غلطی ہوئی؟ اب ہر غلطی پر پینلٹی نہیں لگے گی — جانیں سندھ ہائی کورٹ کا زبردست فیصلہ!"
موضوع:
سیلز ٹیکس ایکٹ کے تحت پینلٹی کے نفاذ پر سندھ ہائی کورٹ کا شاندار فیصلہ
کیس ریفرنس:
Special Sales Tax Reference Application No. 160 of 2024
تاریخ:
16 اپریل 2025
فورم:
سندھ ہائی کورٹ
فریقین:
درخواست گزار: مسز نیو ایرا فیبرک، کراچی
جواب دہندہ: کمشنر ان لینڈ ریونیو، زون-I، چیف کمشنر ٹیکس آفس، کراچی اور دیگر

تفصیلات اور فیصلے کی جھلکیاں:

1. سندھ ہائی کورٹ نے اپنے حالیہ فیصلے میں سیلز ٹیکس ایکٹ، 1990 کے تحت لگائی گئی پینلٹی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے قرار دیا کہ:

2. سیکشن 33(1) کے تحت پینلٹی عائد کرنے کے لیے ضروری ہے کہ قانون کی دانستہ خلاف ورزی (mens rea) ثابت کی جائے۔

3. صرف ریٹرن کی کمی یا تاخیر کی بنیاد پر بغیر نیت ثابت کیے پینلٹی لگانا درست نہیں۔

4. اس کیس میں ٹیکس حکام نے شوکاز نوٹس تو سیکشن 11(1) کے تحت جاری کیا تھا (قابل وصول ٹیکس کی تعین کے لیے)، مگر پینلٹی سیکشن 33(1) کے تحت عائد کر دی، جو ریٹرن فائل نہ کرنے (سیکشن 26 کی خلاف ورزی) سے متعلق ہے۔

5. چونکہ سیکشن 26 کی خلاف ورزی کا کوئی علیحدہ نوٹس جاری نہیں ہوا تھا، لہٰذا سیکشن 33(1) کے تحت پینلٹی کا نفاذ غیر قانونی قرار دیا گیا۔

فیصلے کے اثرات:

☑️اب ایف بی آر اور دیگر ٹیکس حکام کو پینلٹی عائد کرتے وقت یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ٹیکس دہندہ نے جان بوجھ کر قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔
☑️غیر ارادی یا تکنیکی غلطیوں پر محض پینلٹی نہیں لگائی جا سکتی جب تک mens rea ثابت نہ ہو۔
☑️ٹیکس دہندگان کو اب اپنے دفاع میں مضبوط بنیاد میسر آ گئی ہے۔

☑️یہ فیصلہ ٹیکس قوانین میں مزید شفافیت، انصاف اور احتساب کو فروغ دے گا۔

اختتامیہ:
یہ فیصلہ بلاشبہ پاکستان میں ٹیکس قانون کی تاریخ میں ایک "لینڈ مارک جیجمنٹ" کے طور پر یاد رکھا جائے گا، جو ٹیکس دہندگان کے حقوق کے تحفظ میں ایک سنگ میل ہے۔

23/04/2025

INPUT TAX DISALLOWANCE UNDER SECTION 8(1)(a) DOES NOT APPLY TO CASES WHERE INPUT / RAW MATERIALS HAVE BEEN LOST / DAMAGED, AS SUCH LOSSES DO NOT CONSTITUTE USAGE FOR NONTAXABLE PURPOSES.

Civil Appeals. No. 947 of 2002
SUPREME COURT OF PAKISTAN
M/S MAYFAIR SPINNING MILLS LTD VS THE COLLECTOR OF SALES TAX & FEDERAL EXCISE

Brief facts:
M/s Mayfair Spinning Mills Ltd., a manufacturer of cotton yarn, had purchased bales of ginned cotton in December 1996 and paid input tax accordingly. However, at the time of filing of sales tax return, the company calculated output tax which appeared to be less after adjusting input tax. Therefore, the company claimed the refund.

The Tax Officer issued a show cause notice to justify the refund claim which culminated into passing of order, granting a partial refund due to some cotton bales being damaged and others destroyed in a fire, making them unusable for taxable supplies. The respondent appealed this decision, but both the Collector (Appeals) and the Customs, Excise and Sales Tax Tribunal upheld the Tax Officer's decision.

The case was subsequently taken to the Lahore High Court, where a 2:1 split decision favored the respondent. The majority opinion held that input tax can be adjusted by the taxpayer.

The Commissioner Inland Revenue then sought leave to appeal, questioning the interpretation of sections 7 and 10 of the ST Act, asserting that these provisions were misconstrued, particularly regarding the relationship between input tax and the goods purchased. The respondent-taxpayer defended the majority view, arguing that input tax may be deducted for both past and future taxable supplies without needing the goods to be actually used in production.

Decision:
The Supreme Court dismissed the appeal by the Commissioner Inland Revenue, upholding the Lahore High Court's majority opinion stating that loss of goods to fire does not invalidate the input tax adjustment claim, as the materials purchased were intended to be used for production. The Court clarified that deductions are not restricted to goods physically used in the tax period but can include intended future use.

The Court also addressed the question whether input tax deductions could be claimed under Section 7 of the ST Act for goods destroyed by fire and no longer available for taxable supplies. It was answered that registered persons can deduct input tax incurred for taxable supplies made or to be made, focusing on the following three key conditions:

the input tax must be intended for taxable supplies,

it can be accounted for future supplies; and

the deductions must align with the same tax period as the output tax.

The Court further held that section 8, which disallows input tax on goods for nontaxable supplies, was not applicable since loss through destruction does not equal use for non-taxable purposes.

Consequently, the tax authority's appeal was dismissed, allowing the taxpayer to claim full refund.

Address

House No 1144, Bawa Safra, Near Wahdat Colony, Shah Shamas Road
Multan
60000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when IMRAN JAVED & CO posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to IMRAN JAVED & CO:

Share

Category