Saym Traders

Saym Traders 20 years of experience in the cotton industry, we bridge the gap between ginners, spinners, & textile manufacturers.

We specialize in sourcing premium raw cotton delivering unparalleled market intelligence & personalized sourcing solutions.

23/05/2026
22/05/2026

COTTON CULTIVATION IN PUNJAB (2026) - BAHAWALPUR DIVISION

A review meeting on the current cotton situation in Bahawalpur Division was held under the chairmanship of.

During the briefing, it was shared that a target of 1.695 million acres has been set for cotton cultivation in Bahawalpur Division, out of which 80% has already been achieved. The current condition of the cotton crop was described as satisfactory.

It was further highlighted that more than 50% of Punjab’s total cotton cultivation target will be achieved from Bahawalpur Division, reflecting the agricultural importance of the region.

The Secretary Agriculture Punjab directed all concerned departments to ensure the achievement of 100% cotton cultivation target by May 31 and further accelerate field activities related to cotton crop management and farmer guidance.

🌿 Strong Cotton — Strong Economy 🇵🇰

22/05/2026

COTTON CULTIVATION IN PUNJAB - 2016, MULTAN & DGKHAN DIVISION

A review meeting on the current cotton situation in Multan and Dera Ghazi Khan Divisions was held under the chairmanship of Secretary Agriculture Punjab in Multan.

During the briefing, it was informed that a target of 775,000 acres has been set for cotton cultivation in Multan Division, while 81% of the target has already been achieved so far.

It was further shared that in Dera Ghazi Khan Division, a target of 425,000 acres has been fixed for cotton cultivation, and 93% of the target has already been successfully achieved.

The ongoing measures for the revival of cotton cultivation and strengthening Pakistan’s textile sector are showing positive results.

🌿 Strong Cotton — Strong Economy 🇵🇰

22/05/2026

پنجاب میں کپاس کی کاشت (2026) - بہاولپور ڈویژن

سیکرٹری زراعت پنجاب کی زیر صدارت بہاولپور ڈویژن میں کپاس کی موجودہ صورتحال کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ بہاولپور ڈویژن میں 16 لاکھ 95 ہزار ایکڑ رقبہ پر کپاس کی کاشت کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ اب تک 80 فیصد ہدف حاصل کر لیا گیا ہے۔ کپاس کی فصل کی موجودہ صورتحال تسلی بخش قرار دی گئی۔

مزید بتایا گیا کہ صوبہ پنجاب میں کپاس کی مجموعی کاشت کے ہدف کا 50 فیصد سے زائد حصہ بہاولپور ڈویژن سے حاصل کیا جائے گا، جو اس خطے کی زرعی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

سیکرٹری زراعت پنجاب نے ہدایت جاری کی کہ 31 مئی تک کپاس کی کاشت کے 100 فیصد ہدف کے حصول کو یقینی بنایا جائے اور فیلڈ فارمیشنز کپاس کی نگہداشت اور کسان رہنمائی کیلئے جاری سرگرمیوں میں مزید تیزی لائیں۔

🌿 مضبوط کپاس — مضبوط معیشت 🇵🇰

22/05/2026

پنجاب میں کپاس کی کاشت - 2016, ملتان اور ڈیرہ غازیخان ڈویژن

سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو کی زیر صدارت ملتان میں کپاس کی موجودہ صورتحال بارے جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ملتان ڈویژن میں 7 لاکھ 75 ہزار ایکڑ رقبہ پر کپاس کی کاشت کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ اب تک 81 فیصد ہدف حاصل کر لیا گیا ہے۔

مزید بتایا گیا کہ ڈی جی خان ڈویژن میں 4 لاکھ 25 ہزار ایکڑ رقبہ پر کپاس کی کاشت کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اور وہاں 93 فیصد ہدف کامیابی سے حاصل کر لیا گیا ہے۔

کپاس کی بحالی اور پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر کو مضبوط بنانے کیلئے جاری اقدامات مثبت نتائج دے رہے ہیں۔

🌿 مضبوط کپاس — مضبوط معیشت 🇵🇰

22/05/2026

Copy/Paste

*کاٹن کا جنازہ ہے ذرا جھوم سے نکلے*

حکومت پہلے ہی کاٹن کی فصل کو تباہ کرنے کے درپے ہے کاٹن زونز میں دھڑا دھڑ شوگر ملیں لگائی جارہی ہیں رحیم یار خان اور ۔۔۔۔ میں شوگر ملیں لگ رہی ہیں۔
کاٹن کی فصل ڈیڑھ لاکھ گانٹھوں سے تشویشناک حد تک کم ہوکر 55 لاکھ گانٹھوں کی انتہائی کم سطح پر آگئی ہے بلکہ کاشتکار بھی کپاس کی فصل اگانے سے گریز کررہے ہیں۔ اگر صورت حال ایسی ہی رہی تو کپاس کی پیداوار اور کم ہو جائے گی کیونکہ کپاس کی جگہ گنے کی بوائی کی جا رہی ہے۔
کپاس کی فصل کم ہونے کی وجہ سے جننگ فیکٹریاں بھی گاہے گاہے کم ہوتی جا رہی ہیں شہروں کے نزدیک کاٹن فیکٹریاں بھی پلاٹوں میں تبدیل ہو رہی ہیں شہر کے نزدیک زرعی رقبوں پر بھی رہائشی سوسائٹیاں قائم ہو رہی ہیں جنرز کے کہنے کے مطابق توانائی کی بلند قیمتیں اور حکومت کی جانب سے جننگ فیکٹریوں پر بے تحاشہ ٹیکس کے بوجھ کی وجہ سے جننگ فیکٹریاں چلانا بہت مشکل ہو گیا ہے۔
ایف آئی اے FIA نے 1936 میں قائم شدہ ملک کی تاریخی کاٹن کی پہچان کاٹن ایکسچینج بلڈنگ پر ناجائز قبضہ کر لیا ہے جبکہ معزز سندھ ہائی کورٹ نے کے FIA کے عملہ کو جب تک کورٹ کا فیصلہ نہیں آجاتا کاٹن ایکسچینج بلڈنگ میں داخل ہونے سے منع کیا ہوا ہے لیکن باوجود اس کے FIA کے عملے نے 320 رجسٹرڈ کاٹن بروکرز کے دفتروں کے تالے توڑ کر دفتروں پر ناجائز قبضہ کر لیا ہے اور ان کا سامان بھی قبضے میں لیا ہوا ہے ایسی ناانصافی تو دنیا ساری میں کہیں نہیں ہوتی! کاٹن بروکرز بے یار و مددگار ہو گئے ہیں انہیں لوٹا بھی گیا ہے اور رونے بھی نہیں دیتے۔ کس سے فریاد کریں!؟ ملک کے صنعتی اور تاجروں کے ادارے PCBA - PCGA - FPCCI - KCCI - APTMA بھی اس معاملے میں خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں حالانکہ KCA کے کئی بروکرز KCCI اور FPCCI کے رجسٹرڈ ممبران بھی ہیں! اپنے ممبران کے ساتھ یہ کھلے عام ظلم ہو رہا ہے لیکن یہ معتبر ادارے بھی کچھ ان کا ساتھ نہیں دے رہے۔ کیوں؟ کوئی تو پرسان حال ہو!!!
اب 1970 میں کاٹن کی ریسرچ کے لیے قائم کی ہوئی بلڈنگ کو جم خانے میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔
اس سے قبل کئی سالوں پہلے کراچی میں کونس روڈ پر پاکستان کے وجود میں آنے سے پہلے تعمیر کی ہوئی PCRI Heritage کی خوبصورت بلڈنگ کو توڑا گیا اور KCA کے کاٹن کے گودام بھی بند بندوق کی نوک پر ہتھیا کر وہاں امریکن ایمبیسی قائم کر دی گئی جو مائ کلاچی پر قائم کی ہوئی ہے۔
علاوہ ازیں حکومت کی غلیظ پالیسوں کی وجہ سے ملک کی سب سے زیادہ زر مبادلہ کمانے والی اور سب سے زیادہ روزگار دینے والے ٹیکسٹائل سیکٹر کو بھی تباہ کیا جا رہا ہے APTMA کے مطابق 150 تا 200 ٹیکسٹائل ملز بند ہو چکی ہے دیگر ملیں بھی بند ہونے والی ہیں۔

03/06/2025

03-06-2025

کاٹن مارکیٹ ہفتہ وار جائزہ
رپورٹ نسسیم عثمان

* *روئی کے بھاؤ میں استحکام۔*
* *کاروبار محدود۔*
* *نئی فصل 2025-26 کے سودے فی من 17200 سے17500 روپے میں ہو رہے ہیں۔ پھٹی فی 40 کلو کا بھاؤ 8000 تا 8500 روپے کے درمیان ہے۔*
* *زرائع کا کہنا ہے کہ فی الحال ملک میں نئی فصل کی تقریبا 2200 گانٹھوں جتنی پھٹی جِننگ فیکٹریوں میں پہنچ چکی ہے۔ صوبہ سندھ میں 3 اور پنجاب میں 4 جننگ فیکٹریاں جزوی طور پر چل رہی ہے۔*
* *عیدالاضحی کے بعد زیادہ کاروبار ہونے کی توقع ہے۔*
* *پنجاب میں کپاس کی کاشت کا 94 فیصد ہدف حاصل ہوگیا۔ افتخار علی سوہو سیکرٹری زراعت پنجاب*
* *ملک کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کی جانب سے EFS ختم کرنے اور مقامی روئی پر 18 فیصد سیلز ٹیکس ختم کیا جائے۔*
* *جی ایس ٹی ختم کرنے کا مسلسل مطالبہ بجٹ میں حل ہونے کی توقع۔*
* *پی سی جی اے اور اپٹما نے مشترکہ طور پر کپاس پر سے EFS ختم کرنے اور مقامی کپاس پر سے 18 فیصد سیلز ٹیکس ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔*
* *پورا کاٹن سیکٹر ملک کی تاریخ کے بد ترین معاشی بحران کا شکار ہے۔ چیئرمین CGF احسان الحق*
* *کپاس کی عالمی طلب و رسد، موجودہ و آئندہ رجحانات۔ ساجد محمود*

مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے کے دوران روئی کے بھاؤ میں استحکام رہا۔ کاروبار محدود رہا کپاس کی نئی فصل کی جزوی آمد شروع ہو چکی ہے فی الحال صوبۂ سندھ میں 3 جینگ فیکٹریاں جزوی طور پر چل رہی ہیں جبکہ صوبۂ پنجاب میں بھی 4 جینگ فیکٹریوں نے جزوی طور پر جینگ شروع کردی ہے صوبہ سندھ کے زیریں علاقوں سے پھٹی کی جزوی أمد شروع ہو چکی ہے فی الحال تقریباً 2200 گانٹھوں کی پھٹی جینگ فیکٹریوں میں پہنچ چکی ہے عید الاضحی کے بعد زیادہ کاروبار شروع ہونے کی امید ہے حکومت نے نئے سیزن 26-2025 کے لیے کپاس کا پیداواری ہدف ایک کروڑ 18 لاکھ گانٹھوں کا مقرر کیا ہے۔
فی الحال چالو سیزن کا کاروبار کم ہو رہا ہے روئی کا بھاؤ 15000 تا 17500 روپے فی من پر ہو رہا ہے زیادہ کاروبار ادھار میں ہو رہا ہے کوالٹی اور پیمنٹ کنڈیشن پر کاروبار ہو رہا ہے جنرز کے پاس روئی کا اسٹاک کم ہوتا جا رہا ہے
وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا ہے کہ حکومت مقامی کپاس پر 18 فیصد جنرل ٹیکس ختم کرنے کے لیے سنجیدگی سے کام کر رہی ہے تاکہ کپاس کی پیداوار کو فروغ دیا جائے یہ بات انہوں نے پیر کے روز ایک پریس کانفرنس میں بتائی P H M A نے حکومت پر زور دیا ہے PEAK HOUR میں بجلی کے TARIFFS میں کمی کرے تاکہ برامد کو فروغ ملے۔
صوبۂ سندھ و پنجاب میں کوالٹی اور پیمنٹ کنڈیشن کے مطابق روئی کا کاروبار فی من 15000 تا 17500 روپے تک ہوئے نئی فصل کے سودے فی من 17000 تا 17500 روپے میں ہوئے پھٹی فی 40 کلو 8000 تا 8800 روپے تک فروخت ہو رہی ہے۔
کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی اسپارٹ ریٹ کمیٹی نے اسپاٹ ریٹ فی من 16700 روپے کے بھاؤ پر مستحکم رکھا۔
کراچی کاٹن بروکرز فورم کے چیئرمین نسیم عثمان نے بتایا کہ بین الاقوامی کاٹن کے بھاؤ میں اتار چڑھا ہو رہا ہے نیویار کاٹن کے بھاؤ میں ملا جلا رجحان رہا 65.50 تا 69 سینٹ کے درمیان وعدے کے سودے ہو رہے ہیں۔ USDA کی ہفتہ وار برآمدی اور فروخت رپورٹ کے مطابق سال2024-25 کیلئے 1 لاکھ 18 ہزار 700 گانٹھوں کی ہوئی۔
ویتنام 65 ہزار 600 گانٹھیں خرید کر سرفہرست رہا۔
بنگلہ دیش 17 ہزار 300 گانٹھیں خرید کر دوسرے نمبر پر رہا۔
ترکی 12 ہزار 400 گانٹھیں خرید کر تیسرے نمبر پر رہا۔
سال 2025-26 کیلئے 13 ہزار 800 گانٹھوں کی فروخت ہوئی۔
پاکستان 7 ہزار 600 گانٹھیں خرید کر سرفہرست رہا۔
تھائیلینڈ 3 ہزار 500 گانٹھیں خرید کر دوسرے نمبر پر رہا۔
پیرو 2 ہزار 600 گانٹھیں خرید کر تیسرے نمبر پر رہا۔
برامدات 2 لاکھ 75 ہزار 400 گانٹھوں کی ہوئی۔
ویتنام 1 لاکھ 17 ہزار گانٹھیں درامد کرکے سرفہرست رہا۔
پاکستان 34 ہزار 300 گانٹھیں درآمد کرکے دوسرے نمبر پر رہا۔
ترکی 33 ہزار 900 گانٹھیں درآمد کرکے تیسرے نمبر پر رہا۔
دریں اثناء سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو نے بزنس کلب سے کہا ہے کہ پنجاب میں اب تک 33 لاکھ ایکڑ سے زائد رقبے پر کپاس کی کاشت مکمل ہو چکی ہے اور صوبہ 94 فیصد مقررہ ہدف حاصل کر چکا ہے۔ یہ بات انہوں نے کپاس کی موجودہ صورتحال پر منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو کا کہنا تھا کہ مرحلہ وار کاشت کے ذریعے کپاس کی پیداوار میں بہتری لانے کی ایک منفرد اور کامیاب روایت قائم کی گئی ہے۔
علاوہ ازیں پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) اور آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کی فوری اپیل کے بعد حکومت نے اس شعبے کی توجہ مبذول کرائی ہے، جو دہائیوں کے سب سے سنگین مالی بحران کا شکار ہے۔ دونوں تنظیموں نے ایک ہائی پروفائل لابنگ مہم شروع کی ہے، وزیر اعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر اور ملک گیر میڈیا بلٹز کا آغاز کیا ہے، جس میں ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن سکیم (EFS) کو فوری طور پر ختم کرنے یا مقامی طور پر پیدا ہونے والی کپاس اور اس کی ضمنی مصنوعات پر سیلز ٹیکس کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس کے بعد وزیر اعظم نے وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ (MNFSR) سے پالیسی سفارشات طلب کیں۔ جواب میں، وزارت نے باضابطہ طور پر صنعت کی تجاویز کی حمایت کی ہے۔ پی سی جی اے کے صدر کو لکھے گئے خط میں خادم حسین نے کہا کہ حکومت نے سفارش کی ہے کہ ملکی کپاس، کاٹن سیڈ، آئل کیک اور کاٹن سیڈ آئل پر 18 فیصد سیلز ٹیکس فوری طور پر ختم کیا جائے یا سوتی، دھاگے اور گرے کپڑوں کی درآمد پر اسی شرح سے ٹیکس عائد کیا جائے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ وزارت کی سفارشات کسانوں کی آمدنی کے تحفظ، ملکی پیداوار کو بحال کرنے اور مہنگی کپاس کی درآمد پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے انحصار کو روکنے کے لیے بھیجی گئی ہیں۔ اعلان میں بتایا گیا کہ پنجاب نے کسانوں کی آمدنی بڑھانے اور مختلف فصلوں کی پیداواری لاگت کو کم کرنے کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈیز کا نفاذ کیا ہے۔ انڈسٹری کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ٹیکسٹائل ملوں نے 2024-25 کے پہلے نو مہینوں کے دوران 300 ملین کلو گرام سوتی دھاگے اور 20 لاکھ گانٹھیں درآمد کیں، جس کے نتیجے میں اربوں ڈالر کا زرمبادلہ ضائع ہوا۔ تاہم ملکی پیداوار صرف 5.5 ملین گانٹھوں کی تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ دریں اثنا، غیر فروخت شدہ روئی اور دھاگے کا ایک بہت بڑا ذخیرہ، 200,000 گانٹھوں سے زیادہ، فیکٹریوں میں بے کار پڑی ہوئی ہے، جس کی طلب جمود کا شکار ہے۔ کاٹن جنرز فورم کے چیئرمین احسان الحق کا کہنا ہے کہ نتیجہ تباہ کن رہا ہے کیونکہ 800 سے زائد جننگ یونٹس اور 120 اسپننگ ملوں نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے، جب کہ مزید سینکڑوں ٹیکسٹائل یونٹس بمشکل کام کر رہے ہیں۔ "اگر موجودہ پالیسی جاری رہی تو اس شعبے کو مکمل طور پر تباہی کا خطرہ ہے،" انہوں نے خبردار کیا، انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جلد ہی نہ صرف کپاس بلکہ خوردنی تیل بھی درآمد کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے، جس سے ملک کی مالی مشکلات میں اضافہ ہو گا۔ MNFSR کی سفارشات میں فوری طور پر زور دیا گیا ہے، گھریلو پروڈیوسرز کے لیے فوری طور پر ٹیکس ریلیف یا درآمدات پر ایک ہی ٹیکس کے نفاذ کی سفارش کی گئی ہے تاکہ ایک برابری کی سطح کو بحال کیا جا سکے۔ اب تمام نظریں وفاقی حکومت پر لگی ہوئی ہیں کیونکہ پاکستان کی کاٹن اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔
2024/25 کے سیزن کے دوران دنیا بھر میں کپاس کی پیداوار 119.5 ملین گانٹھوں سے کم ہو کر 119.3 ملین گانٹھوں تک آ گئی، یعنی پیداوار میں 0.2 ملین گانٹھوں کی معمولی کمی ہوئی۔ چین 31.9 ملین گانٹھوں کے ساتھ بدستور سب سے بڑا پیداوار کنندہ رہا۔ بھارت کی پیداوار 23 ملین گانٹھوں تک محدود رہی، جس میں کمی دیکھی گئی، جبکہ برازیل کی پیداوار 17.9 ملین گانٹھوں تک پہنچ گئی جو کہ 0.3 ملین گانٹھوں کا اضافہ ہے۔ امریکہ نے 14.4 ملین گانٹھیں پیدا کیں اور پاکستان کی پیداوار 5.2 ملین گانٹھوں پر مستحکم رہی۔ آسٹریلیا کی پیداوار میں بہتری آ کر 5.6 ملین گانٹھوں تک جا پہنچی۔ افریقی ممالک، ترکی، ازبکستان اور دیگر ملکوں کی پیداوار میں معمولی رد و بدل دیکھا گیا۔
اسی عرصے میں عالمی کپاس کی کھپت 113.4 ملین گانٹھوں سے کم ہو کر تقریباً 112.8 ملین گانٹھوں تک آ گئی، یعنی کھپت میں 0.6 ملین گانٹھوں کی کمی ہوئی۔ چین 37.2 ملین گانٹھوں کے ساتھ سب سے بڑا صارف رہا، اس کے بعد بھارت 24.2 ملین گانٹھوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔ پاکستان کی کھپت 9.8 ملین گانٹھیں ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ ماہ کے مقابلے میں کم تھی۔ بنگلہ دیش، ترکی، ویتنام، برازیل، امریکہ، انڈونیشیا اور دیگر ممالک میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا۔ مجموعی طور پر دنیا میں کپاس کا ذخیرہ اس سال 6.7 ملین گانٹھوں کے اضافے کے ساتھ بڑھا۔
2025/26 کے لیے تازہ تخمینوں کے مطابق دنیا بھر کی کپاس کی پیداوار بڑھ کر تقریباً 117.8 ملین گانٹھوں سے تجاوز کر جائے گی، جو گزشتہ اندازے سے 1.7 ملین گانٹھیں زیادہ ہے۔ چین، بھارت، برازیل اور امریکہ میں پیداوار میں اضافہ متوقع ہے، تاہم پاکستان کی پیداوار 5.2 ملین سے کم ہو کر 4.8 ملین گانٹھوں تک گر سکتی ہے۔ آئندہ سیزن کے دوران عالمی کھپت میں بھی کمی کا امکان ہے، جو اندازاً 112 ملین گانٹھوں تک محدود رہنے کا تخمینہ ہے۔ چین، بھارت اور پاکستان میں کھپت کی سطح میں کمی متوقع ہے۔ یوں آنے والے سیزن کے اختتام پر دنیا میں کپاس کے مجموعی ذخائر میں 5.7 ملین گانٹھوں کا اضافہ ممکن ہے۔

15/05/2025

*پنجاب میں کپاس کی کاشت کے اعدادوشمار کی صورتحال*

*مرتب شدہ رپورٹ: از قلم ؛ ساجد محمود*

8 مئی 2025 کو جاری ہونے والی کراپ رپورٹنگ ڈیپارٹمنٹ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، پنجاب بھر میں کپاس کی کاشت کا عمل جاری ہے اور اب تک صوبے میں مجموعی طور پر 21 لاکھ 16 ہزار ایکڑ رقبے پر کپاس کاشت کی جا چکی ہے، جو مقررہ ہدف 35 لاکھ ایکڑ کے مقابلے میں 60 فیصد بنتی ہے۔

*جنوبی پنجاب* میں صورتحال قدرے حوصلہ افزا ہے جہاں 31 لاکھ ایکڑ کے مجموعی ہدف میں سے 18 لاکھ 98 ہزار ایکڑ پر کپاس بوئی جا چکی ہے جو ہدف کا 61 فیصد بنتی ہے۔ ملتان ڈویژن میں سب سے زیادہ پیش رفت ہوئی ہے جہاں 8 لاکھ 20 ہزار ایکڑ کے ہدف کے مقابلے میں 5 لاکھ 92 ہزار ایکڑ (72 فیصد) پر کاشت مکمل ہو چکی ہے۔ ڈیرہ غازی خان میں 5 لاکھ 10 ہزار ایکڑ کے ہدف میں سے 2 لاکھ 86 ہزار ایکڑ (56 فیصد) جبکہ بہاولپور میں 17 لاکھ 70 ہزار ایکڑ کے ہدف میں سے 10 لاکھ 20 ہزار ایکڑ (58 فیصد) رقبے پر کپاس کاشت کی جا چکی ہے۔ گزشتہ سال اسی تاریخ تک پنجاب میں 18 لاکھ 6 ہزار ایکڑ پر کپاس کاشت ہوئی تھی۔

*شمالی پنجاب* میں کل 4 لاکھ ایکڑ کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جس میں سے اب تک 2 لاکھ 18 ہزار ایکڑ پر کپاس کی فصل بوئی جا چکی ہے، جو ہدف کا 55 فیصد ہے۔ شمالی پنجاب کے مختلف اضلاع میں صورتحال مختلف ہے، مثلاً سرگودھا میں 1 لاکھ 60 ہزار ایکڑ کے ہدف کے مقابلے میں صرف 24 ہزار ایکڑ یعنی 15 فیصد رقبہ زیرکاشت آیا ہے، فیصل آباد میں 1 لاکھ 25 ہزار ایکڑ کے ہدف کے مقابلے میں 16 ہزار ایکڑ (13 فیصد)، لاہور میں 5 ہزار ایکڑ کے ہدف میں سے 1 ہزار ایکڑ (20 فیصد)، جبکہ ساہیوال میں قابل ذکر پیش رفت ہوئی ہے جہاں 1 لاکھ 10 ہزار ایکڑ کے ہدف کے مقابلے میں 77 ہزار ایکڑ (70 فیصد) رقبہ زیر کاشت آ چکا ہے۔

Address

Multan
60050

Opening Hours

Monday 09:00 - 23:00
Tuesday 09:00 - 23:00
Wednesday 09:00 - 23:00
Thursday 09:00 - 23:00
Friday 09:00 - 12:00
15:00 - 23:00
Saturday 09:00 - 23:00
Sunday 09:00 - 23:00

Telephone

+923333616555

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Saym Traders posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Saym Traders:

Share

Category