13/08/2026
آجکل بھارت کے امبانی خاندان کا بہت چرچا ہے کہ وہ بھارت کا ہی نہیں دنیا کے سب سے امیر خاندانوں میں سے ہے۔
لیکن ساتھ یہ بھی نوحہ گایا جاتا ہے کہ پاکستان کے پاس امبانی ، برلا ،ٹاٹا جیسی کمپنیاں کیوں نہیں ہیں۔
لیکن کیا کیا جائے کہ نئی نسل کے لیئے جاننا ضروری ہے ۔۔۔۔۔کہ 1970 تک پاکستان میں ایک دو نہیں نو دس نہیں ۔۔۔۔۔ بلکہ تیس چالیس امبانی، ٹاٹا برلا سے بڑے جینیئس صنعتکار، بینکار، بزنس جینئس تھے۔ جنہوں نے ملک کی معیشت کو سنبھالا ہوا تھا۔
ملک کوریا جاپان سے بہت آگے تھا، مڈل ایسٹ کے ممالک کسی گنتی میں نہیں تھے۔ ان صنعتکاروں بینکاروں کو بائیس خاندان کا نام دے کر ٹارگٹ کیا گیا۔ اور بلاول کے نانا جناب زولفقار علی بھٹو نے ان سب کو ایسا زمین پر پٹخا کہ نہ یہ لوگ راتوں رات سڑک پر آگئے اور ہمارا پیارا وطن جو ایشئین ٹائیگر بننے جا رہا تھا ایسا ڈوبا کہ ابھی تک ابھر نہ پایا۔
ان میں سہگل گروپ نے کپڑے کی صنعت کو عروج دیا،
داوود گروپ ہیوی وہیکل اور زرعی مشنری کے بادشاہ تھے۔ داوود ہرکولیس کے پاس ٹریکٹر کی پروڈکٹ تھی،
ہارون خاندان چھوٹی مصنوعات،
اصفہانی خاندان اور سلہٹ کے چائے کے باغات کے مالک تھے۔ ملک کی پہلی ائیرلائن قائم کی جو آج کی سب ائیر لائینوں سے بہتر تھی،
حبیب گروپ بینکنگ کے کنگ تھے۔ ساٹھ کی دہائی ان کا حبیب پلازہ ایشیاء کی بلند ترین عمارت تھی۔ ایشیاء میں پہلا IBM بینکنگ سسٹم اس بلڈنگ کی نویں منزل پر نصب ہوا۔ ۔
فینسی کپڑے کی صنعت نشاط گروپ کے پاس اور مختلف مصنوعات کے بانی تھے،
لاہور میں بیکو انڈسٹری یعنی بٹالہ انجینئرنگ سائیکل موٹرسائیکل اسمبل کرتے تھے۔ ان کی بیکو، ہرکولیس، سہراب، رستم سائیکل پورے ملک میں چلتی۔۔۔
میاں شریف اتفاق ٹیوب ویل اور تھریشر کے بانی تھے۔
سن چھیاسٹھ میں بیکو کے میاں لطیف اور اتفاق کے میاں شریف نے مغل پورہ ورکشاپ میں ٹینک سازی کی اجازت لی۔
لارنس پور وولن ملز کی سوٹنگ دنیا میں نمبر ون تھی جو کہ پوری صنعتی ریاست تھی۔ جن کے مالک مشینری بنگلہ دیش لے گئے۔
بھٹو صاحب۔۔۔۔جی ہاں وہی بھٹو جو ابھی تک سندھ میں زندہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔ نے ان 22 خاندانوں کے خلاف تحریک چلائی کہ ملک کی ساری دولت ان کے پاس ہے ان کے پیٹ سے نکالوں گا۔
ہم عوام کو ان کے خون کے پیاسے کر دیا تھا۔
ہم نے ان محسن خاندانوں کے خلاف خونی تحریک چلائی۔
بھٹو صاحب خود بھی فیوڈل تھے اور فیوڈلز یعنی بڑے زمین داروں نے پاور میں آکر سب صنعت کاروں کی املاک بلا معاوضہ قومی ملکیت میں لے لیں۔ جس کو نیشنلائیزیشن کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ سب جینئس خاندان تباہ و برباد ہوئے۔
بیکو کے میاں لطیف جرمنی چلے گئے، کسمپرسی کی حالت میں فوت ہوئے۔
اتفاق کے میاں شریف ملک چھوڑ کر گلف سٹیل ملز کے نام سے مڈل ایسٹ میں فیکٹری لگا کر بیٹھ گئے۔
اصفہانی کنگال ہوگئے ۔
ان کے سلہٹ کے چائے کے باغات بنگلہ دیش لے گیا۔
ائیرلائن پی آئی اے بن کر سفید ہاتھی بن گئی اور تباہی سے دوچار ہوئی،
حبیب گروپ سے حبیب بینک چھین لیا گیا،
سہگل گروپ نے کوہ نور جیسی بزنس ایمپائرز پلاٹ بنا کر نیلام کر دی۔ کوہ نور پوٹھوہار کی ماں کہلاتی تھی تباہ ہوئی۔
رہے سہے جاگیرداروں کو اسمبلیوں میں لا کر بٹھا دیا۔ مزدور بدتمیزیاں کرنے لگ گئے اور مالکوں کے گریبانوں تک ان کے ہاتھ پہنچ گئے۔ ایسے میں کاروبار خاک ہونا تھا۔
کاروبار بند کروا کر سیاست پہ لگا دیا
مشرقی پاکستان میں جنرل ایوب خان کے دور کے میمن سنگھ اور نرائن گنج بہت بڑے انڈسٹریل زون بنگلہ دیش کے کام آئے،
کراچی سائیٹ انڈسٹریل ایسٹیٹ جہاں گندھارا والے ہینو ٹرک بناتے،
شاہنواز لمیٹڈ، شیورلیٹ اور مرسیڈیز اسمبلی کرتے تھے، سب کچھ قومیا (نیشنلائیز) کرکے تباہ کر دیا گیا۔
ان خاندانوں میں سے اصفہانی کی بیٹی حسین حقانی کی اہلیہ امریکہ چلی گئی۔
عوام کو بے روزگار کیا فیوڈلز، وڈیرے چوہدری مخدوم لغاری جتوئی ٹوانے سب بڑے زمیندار اسمبلیوں میں پہنچ گئے اور ایلیکٹیبلز بن کر سیاسی جماعتوں کی مجبوری بن گئے اور اب وہ ہر جماعت میں ہوتے ہیں۔
اور صنعتکاروں کو تباہ کرکے لوگوں کو ان وڈیروں کا اور ملک کو آئی ایم ایف کا غلام بنا دیاگیا۔
کہاں تک سنو گے کہاں تک سناؤں
ہزاروں ہی شکوے ہیں کیا کیا بتاؤں