State Life Insurance Corporation Of Pakistan Lahore Zone

State Life Insurance Corporation Of Pakistan Lahore Zone The Life Insurance Business in Pakistan was nationalized during March 1972. Initially Life Insurance The Zonal Offices deal exclusively with Sales and Marketing.

CORPORATE PROFILE

Brief History

The Life Insurance Business in Pakistan was nationalized during March 1972. Initially Life Insurance business of 32 Insurance Companies was merged and placed under three Beema Units named “A”, “B” and “C” Beema Units. However, later these Beema Units were merged and effective November 1, 1972 the Management of the Life Insurance Business was consolidated and entru

sted to the State Life Insurance Corporation of Pakistan. State Life Insurance Corporation of Pakistan is headed by a Chairman and assisted by the Executive Directors appointed by Federal Government. Up to July 2000 the Corporation was run by Board of Directors constituted under Life Insurance (Nationalization) Order 1972. In July 2000, under Insurance Ordinance 2000, the Federal Government reconstituted the Board of Directors of State Life which runs the affair of this Corporation. The basic structure of the Corporation consists of Four Regional Offices, Twenty-Six Zonal Offices, a few Sub-Zonal Offices, 111 Sector Offices, and a network of 461 Area Offices across the country for Individual Life Insurance; Four Zonal Offices and 6 Sector Offices with 20 Sector Heads for Group & Pension are involved in the Marketing of Life Insurance Plans policies and products offered by State Life and a Principal Office. Underwriting of Life Insurance Policies and the Policyholder's Services. Regional Offices, each headed by a Regional Chief, supervise business activities of the Zones functioning under them. The Principal Office, based at Karachi, is responsible for corporate activities such as investment, real estate, actuarial, overseas operations, etc. Major Achievements
The major function of the State Life Insurance Corporation of Pakistan is to carry out Life Insurance Business; however, it is also involved in the other related business activities such as investment of policyholders� fund in Government securities, Stock market, Real Estate etc. The major achievements of State Life are as under:

On the commencement of the operations, the Corporation took a very important step by effecting reduction up to 33% in the premiums on the past and potential Life Policies for the benefit of the Policyholders.State Life is profitable organization and it paid Rs.3.473 billion as dividend to the Government of Pakistan since its inception in 1972.State Life has played very vital role in the economy by providing employment to the people of the country as permanent employees and as part of its marketing force and by investing the huge funds in different sectors of the economy. The Investment Portfolio of State Life as at 31.12.2011 stands at Rs.275.11 billions.Investment portfolio also includes investment in Real Estate which stands at a book value of Rs.2.538 billion as at 31.12.2011 whereas it fair value is around Rs.21.622 billion in the same period.The Paid up Capital increased from Rs.10 million in 1972 to Rs.1,100 million in 2011.The Premium income increased from Rs.0.317 billion in 1972 to 44.81 billion in 2011. Similarly Investment income including rental income increased from Rs.0.81 billion in 1972 to 31.05 billion in 2011.Total statutory fund of State Life stands at Rs.268.60 billion in 2011 as against Rs.1.494 billion in 1972State Life is smoothly striving towards its objective of making life insurance available to large section of the society by extending it to common man. As at December, 2011 the total number of policies enforce under individual life were 3.774 million and number of lives covered under group life insurance were 6.044 million.

31/01/2019

جب آپ لوگوں کی ذات میں دلچسپی لیتے ہیں، ان کے بارے میں کچھ جاننے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کے فائدے کے لیے کچھ مشورہ دینا چاہتے ہیں تو لوگ بھی آپ کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں۔ وہ اس بات کے منتظر ہوتے ہیں کہ آپ ان سے سوال کریں اور وہ خوش دلی سے اس کے جواب دیں۔کسی شخص سے بات چیت کے زریعے ذاتی معلومات حا صل کرنا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اس شخص کا آپ پر اعتماد نہ ہو۔ ممتاز #انشورنس #سیلز منین #فرینک #بیچگر اپنے اجنبی دوستوں سے ایک کمال کا جملہ کہتے، ،، میں آپ کو ایک ایسی بات بتانا چاہتا ہوں ،جوآپ کے مستقبل میں آپ کو فائدہ دے گی،، یہ الفاظ نیک نیتی اور خلوص سے ادا کیئے جائیں تو اس کے اثرات بہت اچھے ہوتے ہیں، #پراسپیکٹ یہ سمجھ لیتا ہے کہ یہ شخص کوئی چیز #فروخت نہیں کررہا بلکہ مجھے کوئی اچھا مشورہ دینا چاہتا ہے۔ اسے اپ پر اعتماد ہوتا ہے، پھر آپ اس سے چند سوالات کی اجازت مانگ کر سوال جواب سے معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔ درمیان میں یہ شروع ہی میں آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ جناب اگر آپ میرے کسی سوال کو جواب نہ دینا چاہیئں تو میں اس پر اصرار نہیں کروں گا اور نہ ہی اس بارے میں آپ سے کوئی شکوہ کروں گا۔ مزید یہ کہ آپ کی بتائی ہوئی معلومات میرے پاس امانت ہوں گی، اور کسی سے آپ اس بارے میں کوئی بات نہیں سنیں گے۔ اگر کسی سے آپ ایسی کوئی بات سنیں گے بھی تو وہ آپ ہی اسے بتائیں گے، میں کبھی نہ بتاوں گا۔ یہ جادوئی جملے فروخت سے پہلے فروخت کی اہمیت رکھتے ہیں۔

31/01/2019

زندگی بُہت عجیب چیز ہے ، یہ ہمیں ہمیشہ سب کُچھ اور ساری تمنائیں ایک ساتھ اکٹھے نہیں دیتی ۔ ہمیں ہر صُورت کُوئی ایک شے ، کُوئی ایک راستہ ، کُوئی ایک خواہش ، تمنا چُننی ہوتی ہے ۔ایسے میں ایک خواہش ، راستہ اور تمنا کو چھوڑنا بھی پڑتا ہے ۔ ہم دونوں راستے منتخب کرلیں اور پھر ہمارا سفر کامیابی سے گامزن رہے ۔ دو کشتیوں کا سوار ہمیشہ ہی ڈُوب جاتا ہے ۔کامیابی کا سفر اور راستہ ایسا ہی راستہ ہوتا ہے جو نہ صرف مُشکل ہوتا ہے بلکہ اُس پر سفر کرنے والے قدموں کے نشان بھی کم ہوتے ہیں اور زیادہ تر اِس راستے پر سفر کرنے والے اکیلے اور تنہا ہی نظر آتے ہیں۔
جبکہ جُھوٹ اور فریب کا راستہ بظاہر دیکھنے میں آسان بھی ہوتا ہے بلکہ اُس پر لاتعداد قدموں کے نشان بھی مُوجود ہوتے ہیں اور راستے میں ساتھ سفر کرنے والے بھی بُہت مِل جاتے ہیں ۔
بظاہر یہ ایک مُشکل اور کٹھن فیصلہ ہوتا ہے کہ آپ وُہ راستہ چُنیں جو کم لوگوں نے چُنا ہو لیکن ابدی اور ازلی کامیابی محض اِسی راستے پر چلنے سے ہی حاصِل ہوسکتی ہے ۔
ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ کبھی ہم پیچھے مُڑ کر دیکھیں تو ہمیں یہ محسُوس ہو کہ اتنا سارا سفر رائیگاں چلا گیا ۔ یاد رکھیں زندگی میں دُوسرا موقع بُہت کم خُوش نصیبوں کو مِلتا ہے ۔ اگر آج آپ کے پاس موقع ہے اور صحیح راستہ بھی آپ کو نظر آرہا ہے تو کبھی بھی یہ مت دیکھیں یا سوچیں کہ یہ راستہ کِتنا دُشوار گُزار ہے اور شاید آپ کو اکیلے بھی طے کرنا پڑے ۔ یہ باتیں سوچ کر اپنا حوصلہ پست نہ کریں بس سیدھا راستہ چُن لیں۔

31/01/2019

ٹو نی فرگو شن کے نا م سے ہر سیلز مین اور ہر بڑی چھو ٹی کمپنی وا قف ہے ۔وہ جنو بی کیرو لینا کے ایک پڑے اسٹو ر میں کا م کر تا تھا ۔ایک بار ایک امریکی کمپنی نے اس کی کمپنی کو پیش کش کی کہ اگر وہ تیس دنو ں میں زیا دہ سے زیا دہ ٹا ئر فر و خت کر ے گا تو ٹا ئر بنا نے و الی کمپنی اس کو کمپنی کے ٹا ئروں میں سے ایک سیٹ مفت دے گی ۔
ٹو نی فر گو شن نے جب یہ پیش کش پڑھی تو کچھ دیر بعد وہ ایک پر نٹ شا پ پر پہنچا اور حسب زیر سطریں پر نٹ کر نے کا آر ڈر دیا۔
میرا نا م ٹو نی فرگو شن ہے ۔میں کہیں جا رہا تھا تو میں نے آپ کی کا ر کو گز رتے دیکھا ۔میں یہ دیکھ کر خا صا پریشا ن ہو اکہ آپ کی کار کے ٹا ئر خطرے کی حد تک نا قا بل استعمال ہو چکے ہیں۔کسی بھی وقت دھو کہ دے سکتے ہیں۔ میں ایک مشہو ر اور قا بل اعتما د ٹا ئر بنا نے و الی فیکٹر ی میں کا م کر تا ہو ں۔ہم نے اعلی معیا ر کی سیل لگا رکھی ہے ۔اگر آپ نے مجھے یا د فر ما یا تو میں آپ کو ٹا ئروں کی کوا لٹی ،قیمت اور سا ئز کے با رے میں مطلع کر دونگا۔آپ کی خدمت کر نے میں مجھے دلی مسرت حاصل ہو گی ۔میرا فو ن نمبر ۱۷۹۲۔۵۵۵ ہے۔اور آپ مجھے صبح ۸ بجھے سے لے کر شا م سا ڑے پا نچ بجے تک یا د فر ما سکتے ہیں۔میں ہفتہ تا پیر تک مو جو د ہو تا ہو ں۔
ےہہ دل سے زکر گزار ہو ں
ٹو نی فر گو شن
ٹو نی نے یہ طبع شدہ کا رڈ اپنے کو ٹ کی جیب میں رکھ لیا ،وہ سڑک پر کھڑا ہو جا تا تو اس کا ر میں اپنا کارڈ پھیک دیتا جس کے ٹا ئر خستہ ہو گئے ہو تے تھے۔دی گئی مدت میں ٹو نی نے دوسرے سیلزمینو ں کے مقا بلہ میں کہیں زیا دہ ٹا ئر فرو خت کیے اور ٹا ئروں کا سیٹ جیت لیا۔
ٹو نی فر گو شن نے ٹائر کمپنی کے دفتر میں بیٹھ کر فر و خت نہیں کیے تھے ،وہ سڑک پر کھڑے ہو کر ہر کا ر پر نگا رکھے رہتا تھا،اور جس کا ر کے ٹا ئر خر اب ہو چلے ہو تے ان کے ما لکا ن کو کما لاندا ز میں مطلع کر دیا کر تا تھا ۔مطلب یہ کہ وہ ان کی ضر و رت کی نشا ن دہی کرتا تھا ۔اور کا ر ما لکا ن کو اپنے تعاون کی مخلصا نہ پیش کش کرتا تھا ۔اس طرح وہ اپنے مقصد میں کا میا ب ہو جا تا تھا۔

31/01/2019

بنک میں ایک چھوٹی بچی اپنی والدہ کے ساتھ داخل ہوئی اور کاونٹر پر کیشئیرکو چیک دیتے ہوئے معصومیت سے کہا ،، انکل میرے والد نے ایک اور چیک بھیجا ہے،، کیشئیر نے مسکراتے ہوئے بچی سے چیک وصول کیا۔ اور اسے ٹوکن دے کر انتظار کرنے کو کہا،جب ماں بیٹی کو پے منٹ ہوگئی تو میں نے کیشئیر سے پوچھا یہ کیا قصہ ہے۔اس بچی کے والد کہاں ہیں،جو اسے چیک دے کر بنک بھیج دیا۔ کیشیئر نے افسردہ لہجے میں کہا یہ ایک المیہ کہانی ہے۔ اس بچی کے والد فوت ہوچکے ہیں، لیکن ابھی تک اسے یہی پتہ ہے کہ وہ کہیں دور گئے ہوئے ہیں۔ تو پھر یہ چیک کہاں سے آتے ہیں، جس کی تم ادائیگی بھی کرتے ہو۔یہ چیک انشورنس کمپنی سے آتے ہیں، اس بچی کے والد نے اس کی تعلیم کے لیے ایک پالیسی لی تھی، جس کے تحت اسے ہر ماہ ادائیگی ہوتی ہے۔ انشورنس میں ہر طرف کہانیاں ہی کہانیاں بکھری ہوئی ہیں،سچی کہانیاں، جن میں انسانی معاشرے کے المیہ ہمارے سامنے آتے ہیں، جب آپ کے کسی دوست عزیز رشتہ دار کا انتقال ہوتا ہے، تو کیا آپ کا دل نہیں چاہتا کہ اس خاندان کی سرپرستی کریں، ان بچوں کی تعلیم کا بندوبست کریں، جن کے سر سے شفقت پدری کا سایہ اٹھ گیا ہے، یہ ہماری اخلاقی، دینی،اور معاشرتی ذمہ داری بھی ہے، لیکن کیا ہم یہ کرپاتے ہیں۔ کوئی بھی بہت زیادہ عرصے ان یتیموں اور بیواﺅں کی خبر گیری نہیں کرتا۔ لیکن انشورنس اپنا وعدہ پورا کرتی ہے، بیمہ داروں کو کلیم کی ادائیگی ایک انشورنس ایجنٹ کا سب سے بڑا کام ہے، خدمت میں عظمت ہے،اگر آپ نے اس بارے میں اب تک نہیں سوچا تو اب سوچیئے،معاشرے کے بے سہارا لوگوں کا سہار بنئے،ہمارے وسائل محدود ہیں، اور ہم ایسے خاندانوں کی مدد نہیں کرپاتے ، اور صرف سوچتے رہ جاتے ہیں تو پھر انشورنس سے کیوں نہ مدد لی جائے؟

31/01/2019
30/01/2019
30/01/2019

خو د پر بھرو سا کریں ۔ اپنا کام جوش جذبے اور منصوبہ بندی سے کریں۔ اپنے ہدف کو سامنے رکھیں ، اسے پورا کرنے کلے لیے مرحلہ وار آگے بڑھیں، ایک دن ایک ہفتے اور ایک ماہ میں کوئی کام مکمل نہیں ہوتا، کام مسلسل کریں گے تو کوئی نہ کوئی کام تکمیلی مراحل طے کرے مکمل ہوجائے گا۔آپ کو آگے بڑھنے اور تر قی حا صل کر نے کے لیے اپنے با س اور منیجر کو احسا س دلا نا ہو گا کہ آپ نے اپنا ہدف حا صل کر نے کے لیے کس قدر محنت کی ہے۔ اپنے ساتھیوں کا بھی خیال کریں ان کی مدد کریں۔ اپنی تعریف میں اس قدر آگے نہ بڑھ جا ئے کہ با ت مبا لغہ آرائی کے زمرے میں آجا ئے ۔یہ با ت آپ کے خلا ف بھی ہو سکتی ہے ۔

30/01/2019

کیا آپ نے کبھی سوچا کہ آپ اپنے کلائنٹ، بیمہ دار، گاہک کی کس طرح خدمت کرتے ہیں۔ اپنے آپ کو اپنے حریفوں سے ممتاز کرنے کا ایک طاقتور ذریعہ گاہکوں کے لیے خدمات ھیں- یہ کسی بھی کاروباری اداروں کی اھم ترین خوبیوں میں سے ایک ہے اور گاہکوں کے لیے خدمات پر توجہ دینے سے آپ ان بڑی کمپنیوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں جن کے پاس بہت تنوع, کم قیمتیں اور دوسرے انعامات ھوتے ھیں جو آپ نہیں دے سکتے۔ لیکن آپ اپنے گاہکوں کی خدمات کی ذمہ داری پوری طرح نہیں نبھاتے ۔ کیوں نہیں نبھاتے؟ اس کی ایک وجہ لاعلمی ہے۔ لاعلمی یہ کہ آپ کے سامنے گاہکوں کے لیے اچھی خدمات کی کوئی ایسی مثال نہیں ھے جس کو وہ اپنی لئے ماڈل بنا سکیں۔مختلف لوگ جنہوں نے کسٹمرسروس کو پہلی ترجیح دینے والی مشھور کمپنیوں کا مطالعہ کیا ھے, ان کی کتابوں کا مطالعہ کریں اور ان کی آڈیو ٹیپس سنیں اور غور کریں کہ آپ ان بڑے ناموں سے کیا سیکھ سکتے ہیں۔ کامیاب کاروباری افراد اپنے کاروبار کے تمام پہلوﺅں کو بہتر بنانے کے لئے ہمیشہ مختلف طریقے تلاش کرتے رہتے ھیں-

30/01/2019

محبت مجھے ان جوانوں سے ہے۔ ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند ۔ یہ معمولی بات نہیں ہے۔ اس کے لیے عزم تازہ چاہیے۔ کچھ کرنے اور اپنے آپ کو منوانے کا حوصلہ۔ یہی وقت ہے کام کرنے منوانے اور جیت کا دکھانے کا۔ دشمن سے مقابلے کے بعد گھونسا مارنے کا خیال آئے تو اسے اپنے منہ پر ماریے۔وقت نکل جانے کے بعد یہ خیال آئے کہ میں نے فلاں فلاں سے رابطہ نہیں کیا۔ تو سوائے افسوس کچھ نہیں ملتا۔

30/01/2019

وہ رستہ ہرگز منزل کی طرف نہیں جاتا جو مسائل اورمشکلات سے عبارت نہیں ہوتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کسی مسئلہ یا مشکل کی ٹھیک ٹھیک اور بر وقت نشان دہی کر لینا ایک ذمہ دار صاحب فکر کی اہم خصوصیت ہے۔ایک انجینئر کہتے ہیں کہ میں جب ایک تعمیراتی پروجیکٹ کی انتظامی کمیٹی کا لیڈر تھا تو میں ان مسائل اور مصائب کو مسلسل دائرہ تصور اور احاطہ تخیل میں لے آتا تھا۔ جو ہمیں مستقبل کے پانچ، دس یا بیس سال بعد پیش آ سکتی ہیں۔ کسی منصوبے کی کامیابی کا دارمدار آپ کی سوچ بچار اور منصوبہ بندی پر ہوتا ہے۔ جو لوگ پیش آنے والی مشکلات پر غور و فکر کرتے ہیں۔ وہ اپنی محتاط فکر کے باعث ان تمام ممکنہ اعتراضات کے جوابات سوچ لیتے ہیں۔ اور پھر مشکلات کا سامنا ہوتے ہی ان پر قابو پا لیتے ہیں۔ ،،یہ ممکن نہیں ہے،، جیسے الفاظ مارکیٹنگ کے افراد کے لیے موزوں نہیں ہیں۔ آپ کی ذاتی رائے کچھ بھی ہو۔ لیکن کسٹمر یا گاہک کی رائے کو اہمیت دیں، اس کو پورا کرنے کے لیے کوئی درمیانی راستہ نکالیں۔ اگر چہ یہ کام مشکل اور نا قابل عمل نظر آتا ہے۔ لیکن کسی گاہک کو کھو دینے کی نسبت کم مہنگا ہے۔
اگر آپ کسی آرگنائزیشن کے ناظم ہیں، یا کسی سیلز ٹیم کے رکن یا لیڈر ہیں یا کسی ادارے کے انچارج ہیں اور آپ کی تنظیم یا ادارے کو کوئی مشکل پیش نہیں ہے تو سمجھ جائیں کہ ضرور کوئی مسئلہ یا مشکل موجود ہے۔ کسی مسئلے یا مشکل کی موجودگی کو محسوس نہ کرنا بذات خود ایک بڑا مسئلہ ہے۔ جب کوئی لیڈر اپنی تنظیم کے بارے میں اس قسم کا اطمینان محسوس کرتا ہے کہ کوئی مسئلہ یا مشکل درپیش نہیں ہے تو آپ یہ سمجھ جائیے کہ وہ تنظیم ترقی افروز اور فروغ پذیر نہیں ہے، بالکل وہ زوال پذیر ہے کیونکہ ترقی کی راہ میں مشکلات لازمی طور پر ہوتی ہیں۔ وہ رستہ ہرگز منزل کی طرف نہیں جاتا جو مسائل اورمشکلات سے عبارت نہیں ہوتا۔

Address

Mozang Branch
Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when State Life Insurance Corporation Of Pakistan Lahore Zone posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share