03/04/2026
🚨 ڈیجیٹل کریٹرز کے لیے اہم اپڈیٹ 🚨
حکومت پاکستان نے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے ہونے والی کمائی کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے ایک نیا ڈرافٹ فریم ورک تیار کر لیا ہے۔ یہ اقدام براہ راست ان تمام کانٹینٹ کریٹرز کو متاثر کرے گا جن کی پہنچ وسیع ہے۔ ایف بی آر کا یوٹیوبرز پر ٹیکس لگانے کا نیا منصوبہ نئی تجاویز کے مطابق، 50,000 سبسکرائبرز رکھنے والے کسی بھی کریٹر کو باقاعدہ کاروباری ادارہ سمجھا جائے گا۔ اس کے علاوہ، اگر آپ کے سبسکرائبرز کم بھی ہوں، لیکن ایک سہ ماہی میں آپ کی ویڈیوز پر 12,500 ویوز آئیں، تب بھی آپ پر ٹیکس کے قوانین لاگو ہوں گے۔ اہم تفصیلات: ✅ 50k سبسکرائبرز: اگر آپ کے اتنے سبسکرائبرز ہیں تو آپ قانونی طور پر بزنس کلاس میں آئیں گے۔ ✅ ویوز کا معیار: یوٹیوب کے لیے، ایف بی آر نے ہر 1000 ویوز پر 195 روپے کی کمائی کا بینچ مارک تجویز کیا ہے۔ ✅ خرچوں کی حد: کریٹرز اپنے خرچوں کا دعویٰ کر سکتے ہیں، لیکن یہ حد آپ کی کل آمدنی کے 30 فیصد سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔ اگلا قدم کیا ہے؟ یہ اس وقت صرف ایک ڈرافٹ تجویز (SRO 546(I)/2026) ہے۔ ایف بی آر نے تمام اسٹیک ہولڈرز اور کانٹینٹ کریٹرز کو اپنی آراء یا اعتراضات جمع کرانے کے لیے 7 دن کا وقت دیا ہے۔ اس کے بعد، یہ قوانین نافذ العمل ہوں