29/08/2026
تاوان کے لیے اغوا ہر حال میں دہشت گردی نہیں! — سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ تاوان کے لیے اغوا صرف اس بنیاد پر خود بخود دہشت گردی نہیں بن جاتا کہ یہ جرم اینٹی ٹیررازم ایکٹ کے شیڈول میں شامل ہے۔ دہشت گردی ثابت کرنے کے لیے یہ دکھانا ضروری ہے کہ ملزم کا عمل عوام میں خوف، عدم تحفظ یا دہشت پیدا کرنے یا عوامی نظم و نسق کو متاثر کرنے کے ارادے سے کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ جب استغاثہ اہم گواہ پیش نہ کرے، شناخت پریڈ ناقص یا تاخیر سے ہو، مغوی ملزم کو شناخت نہ کرے اور تاوان کی رقم کی وصولی بھی مشکوک ہو تو محض قیاس اور کمزور شواہد کی بنیاد پر سزا برقرار نہیں رکھی جا سکتی۔
سپریم کورٹ کے اہم قانونی نکات
تاوان کے لیے اغوا اور دہشت گردی میں فرق:
تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 365-A کے تحت تاوان کے لیے اغوا ایک سنگین جرم ہے، لیکن ہر ایسا جرم لازماً دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتا۔
دہشت گردی کے لیے مخصوص نیت ضروری:
اینٹی ٹیررازم ایکٹ کے تحت سزا کے لیے ایسا واضح ثبوت ضروری ہے کہ جرم کا مقصد عوام میں خوف، دہشت یا عدم تحفظ پیدا کرنا یا عوامی نظم کو متاثر کرنا تھا۔
شیڈول میں شامل ہونا کافی نہیں:
صرف یہ حقیقت کہ تاوان کے لیے اغوا اینٹی ٹیررازم ایکٹ کے شیڈول میں شامل ہے، جرم کو خود بخود دہشت گردی نہیں بنا دیتی۔
اہم گواہ کو پیش نہ کرنا:
اگر کوئی شخص واقعہ کا اہم عینی شاہد ہو اور اس کی گواہی مقدمے کے لیے انتہائی اہم ہو، لیکن استغاثہ اسے پیش نہ کرے، تو اس کا منفی اثر استغاثہ کے مقدمے پر پڑ سکتا ہے۔
قرآنِ شہادت کے تحت منفی قرینہ:
اہم اور دستیاب شہادت پیش نہ کرنے کی صورت میں قانونِ شہادت، 1984 کے آرٹیکل 129(g) کے تحت عدالت منفی قرینہ اخذ کر سکتی ہے۔
شناخت پریڈ میں خامیاں:
ناقص یا غیر ضروری تاخیر سے ہونے والی شناخت پریڈ، اور خصوصاً مغوی کا ملزم کو شناخت نہ کرنا، استغاثہ کے مقدمے کو شدید کمزور کر سکتا ہے۔
تاوان کی رقم کی مشکوک برآمدگی:
اگر مبینہ تاوان کی رقم کی برآمدگی قابلِ اعتماد اور مضبوط شواہد سے ثابت نہ ہو تو اسے ملزم کے خلاف مضبوط شہادت نہیں سمجھا جا سکتا۔
دیگر شواہد کا فقدان:
بینکنگ لین دین، ٹیلی فونک رابطوں اور دیگر اہم شواہد کا مؤثر طور پر ثابت نہ ہونا بھی استغاثہ کے مقدمے میں شک پیدا کرتا ہے۔
عدالت کی اہم آبزرویشن
سپریم کورٹ کے مطابق مقدمے میں اہم گواہ کا پیش نہ ہونا، ناقص و تاخیر سے شناخت پریڈ، مغوی کا شناخت نہ کرنا، مغوی کا بیان ریکارڈ کرنے میں تاخیر، بینکنگ اور ٹیلی فونک رابطوں کا ناقابلِ اعتماد ہونا اور مبینہ تاوان کی مشکوک برآمدگی—ان تمام عوامل کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو استغاثہ کی کہانی قابلِ اعتماد نہیں رہتی۔
اہم اصول:
ہر تاوان کے لیے اغوا دہشت گردی نہیں؛ دہشت گردی کے لیے قانون کے مطابق واضح ارادہ اور قابلِ اعتماد ثبوت ضروری ہے۔