09/05/2026
آج ایک دلچسپ خبر نظر سے گزری کہ میانمار میں 11 ہزار قیراط کا ایک بہت بڑا روبی دریافت ہوا ہے، جسے دنیا کے سب سے بڑے روبیز میں شمار کیا جا رہا ہے۔
سب سے پہلے اگر سادہ لفظوں میں بات کریں تو “روبی” ایک انتہائی قیمتی سرخ رنگ کا پتھر ہوتا ہے، جسے اردو میں عام طور پر “یاقوت” کہا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں یہ ہیرے، زمرد اور نیلم کی طرح انتہائی قیمتی جواہرات میں شمار ہوتا ہے۔ بڑے بڑے بادشاہوں کے تاج، مہنگے زیورات اور ارب پتی لوگوں کی کلیکشن میں اصل روبی کی بہت زیادہ اہمیت ہوتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ روبی تقریباً 11 ہزار قیراط یعنی لگ بھگ 2.2 کلو وزنی ہے، اور میانمار کے مشہور جیم مائننگ علاقے Mogok کے قریب دریافت ہوا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ماضی میں وزن کے حساب سے اس سے بڑا پتھر بھی مل چکا ہے، لیکن یہ نیا روبی اپنی رنگت، شفافیت اور کوالٹی کی وجہ سے زیادہ قیمتی سمجھا جا رہا ہے۔
اب اگر قیمت کی بات کریں تو ابھی اس کی حتمی ویلیو سامنے نہیں آئی، لیکن ماہرین کے اندازوں کے مطابق اس طرح کا اعلیٰ معیار کا روبی کروڑوں ڈالرز تک جا سکتا ہے۔ بعض اندازوں کے مطابق اس کی قیمت 50 ملین ڈالر یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ پاکستانی روپوں میں بات کریں تو یہ تقریباً 140 سے 150 ارب روپے یا اس سے بھی اوپر جا سکتی ہے۔
میانمار کافی عرصے سے دنیا بھر میں قیمتی پتھروں، خاص طور پر روبیز، کے لیے مشہور ہے۔ وہاں کی کانوں سے نکلنے والے پتھر دنیا کے بڑے بڑے جیولرز اور کلیکٹرز تک پہنچتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس دریافت نے عالمی جیولری مارکیٹ میں بھی خاص توجہ حاصل کی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ دریافت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب میانمار پہلے ہی سیاسی اور معاشی مسائل کا شکار ہے۔ اس کے باوجود وہاں کی جیم مائننگ انڈسٹری اب بھی دنیا کی اہم ترین انڈسٹریز میں شمار ہوتی ہے۔
سچ بات یہ ہے کہ ایسی خبریں پڑھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے کہ زمین کے اندر آج بھی کتنی قیمتی چیزیں موجود ہیں جن تک ابھی انسان کی رسائی ہی نہیں ہو سکی۔ کبھی ایک کان سے سونا نکل آتا ہے، کبھی ہیرے، اور کبھی اس طرح کا دیوہیکل روبی پوری دنیا کی توجہ اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔