28/09/2026
کچھ یادیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں جتنا بھولنے کی کوشش کرو وہ اتنی ہی شدت سے واپس آتی ہیں
مجھے آج بھی بینظیر پارک یاد ہے جو سلطان آباد کی بیک سائیڈ پر ہے
وہ جگہ شاید میرے لیے صرف ایک پارک نہیں رہی
وہ میری زندگی کا وہ مقام بن گئی جہاں میں نے اپنی دوست کے سامنے دل کھول کر رویا تھا
وہ میرے ساتھ تھی
میں رو رہی تھی
اور مجھے لگ رہا تھا کہ کم از کم وہ میرے ساتھ ہے
لیکن پھر اسے اپنے ابو کا ڈر لگا
اور وہ مجھے وہاں اکیلا چھوڑ کر چلی گئی
میں اسے جاتے ہوئے دیکھتی رہی
شاید اسے بھی مجبوری تھی
شاید وہ رکنا چاہتی بھی ہو تو رک نہیں سکتی تھی
لیکن اُس وقت میرے دل نے صرف ایک بات محسوس کی
میں اکیلی رہ گئی تھی
وہ چلی گئی اور میں وہیں بیٹھی رہی
آنکھوں میں آنسو تھے اور دل میں نہ جانے کتنی باتیں
کسی کو کیا بتاتی کہ جس دوست کو میں اپنا سہارا سمجھ کر رو رہی تھی وہ بھی مجھے چھوڑ کر جا چکی ہے
اس وقت شاید میں نے خود کو سنبھال لیا تھا
لیکن آج جب وہ لمحہ یاد آتا ہے تو دل کے اندر سے ایک سوال اٹھتا ہے
کیا میں واقعی اتنی اکیلی تھی کہ جسے اپنا سمجھا وہ بھی مجھے وہاں چھوڑ کر چلی گئی؟
کبھی کبھی انسان کو چھوڑ کر جانے والا شخص برا نہیں ہوتا
حالات اسے مجبور کر دیتے ہیں
لیکن پیچھے رہ جانے والے کے دل پر جو گزرتی ہے وہ پھر بھی اپنی جگہ سچ ہوتی ہے
مجھے آج بھی وہ جگہ یاد آتی ہے
وہ دن یاد آتا ہے
وہ آنسو یاد آتے ہیں
اور سب سے زیادہ وہ لمحہ یاد آتا ہے جب میں نے دیکھا تھا کہ میری دوست جا رہی ہے
اور میں کچھ نہیں کر سکتی تھی
کیا کیا یاد کروں
وہ دن یاد کروں
وہ جگہ یاد کروں
یا وہ احساس کہ جس وقت مجھے کسی کے ساتھ کی سب سے زیادہ ضرورت تھی
میں وہاں اکیلی رہ گئی تھی
کچھ زخم وقت کے ساتھ بھر جاتے ہیں
اور کچھ صرف خاموش ہو جاتے ہیں
میرا بھی شاید وہی زخم ہے
جو آج بھی خاموش ہے
لیکن جب بینظیر پارک کا خیال آتا ہے
تو اندر کہیں پھر سے وہی لڑکی رو پڑتی ہے