Blue fin Enterprises Custom Clearing Agent

Blue fin Enterprises Custom Clearing Agent Custom Clearing Agent & Comercial Importer

04/02/2026
04/02/2026

Waoo

25/12/2025

*کراچی کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن*
*تاریخ: 25 دسمبر 2025*

کراچی میں پورٹ سے منسلک کنٹینرز اور مال بردار ٹرکوں کی نقل و حمل کے حوالے سے ٹرانسپورٹرز کی جانب سے جاری سات روزہ ہڑتال حکومت کے ساتھ طویل اور نتیجہ خیز مذاکرات کے بعد 17 دسمبر کی رات تقریباً 9 بجے ختم ہو گئی۔ کراچی کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن کے *جنرل سیکریٹری شیخ وقاص انجم* کے مطابق اگرچہ ہڑتال کا باضابطہ خاتمہ ہو چکا ہے، تاہم ٹرکوں کی نقل و حمل اور ترسیل کا نظام تاحال شدید مشکلات کا شکار ہے اور حالات میں بہتری کا عمل نہایت سست رفتاری سے جاری ہے-

ہڑتال کے خاتمے کے فوراً بعد شہر میں غیر معمولی دباؤ دیکھنے میں آیا۔ سات دن سے رکی ہوئی ہیوی ٹریفک ایک ہی وقت میں سڑکوں پر آ گئی، جس کے باعث گل بائی، ماری پور، پورٹ کے داخلی و خارجی راستوں اور ٹرمینلز کے اطراف شدید ٹریفک جام پیدا ہوا۔ اس صورتحال نے کراچی کے موجودہ روڈ انفراسٹرکچر اور ٹریفک مینجمنٹ سسٹم کی سنگین کمزوریوں کو نمایاں کر دیا، جس کے اثرات پورٹ ایریا کے ساتھ ساتھ شہر کے دیگر حصوں تک بھی محسوس کیے گئے۔

ان غیر معمولی حالات میں پورٹ سے منسلک مجموعی آپریشنز جاری رہے۔ ٹرمینلز پر کنٹینرز کی ہینڈلنگ کا عمل جاری رہا، جبکہ کسٹمز اپریسمینٹ ساؤتھ نے کلیئرنس کے عمل میں سہولت فراہم کی، جس کی نگرانی چیف کلکٹر کسٹمز ساؤتھ *جناب واجد علی صاحب* کر رہے ہیں۔ یہ امر اس بات کا ثبوت ہے کہ متعلقہ اداروں نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور تجارتی سرگرمیوں کو مکمل تعطل سے محفوظ رکھا۔

تاہم اس پوری صورتحال میں بنیادی مسئلہ روڈ انفراسٹرکچر کی خستہ حالی، ٹریفک مینجمنٹ کی عدم موجودگی اور مؤثر منصوبہ بندی کے فقدان کی صورت میں سامنے آیا، جس کے باعث لاجسٹک چین، ٹریڈرز اور عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بالخصوص K.I.C.T ٹرمینل کے اطراف روڈ انفراسٹرکچر کی حالت نہایت ابتر ہے، ٹریفک کے بہاؤ کو منظم کرنے کا کوئی واضح انتظام موجود نہیں، اور عام حالات میں بھی یہاں شدید ٹریفک جام معمول بن چکا ہے، جبکہ ہڑتال کے بعد یہ صورتحال سنگین ٹرین ہو گئی ہے۔
اسی طرح پاکستان کے سب سے بڑے ٹرمینل S.A.P.T. تک رسائی ایک سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ نیٹی جیٹی پل سے اترنے کے بعد S.A.P.T. کے لیے صرف ایک ہی سڑک دستیاب ہے، جس پر کنٹینرز، رہائشی ٹریفک، نجی گاڑیاں، پبلک ٹرانسپورٹ اور ہیوی ٹرالے بیک وقت رواں دواں رہتے ہیں۔ اسی سڑک پر K.G.T.L. ٹرمینل کی موجودگی ٹریفک کے دباؤ کو مزید بڑھا دیتی ہے، جبکہ یہاں کسی مؤثر ٹریفک مینجمنٹ سسٹم کا مکمل فقدان ہے۔

سات روزہ ہڑتال اور اس کے بعد گاڑیوں کی شدید قلت کے باعث ٹرانسپورٹ کرایوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ جن روٹس پر عام حالات میں ٹرک کا کرایہ بیس ہزار یا تیس ہزار روپے تھا، وہ ہڑتال کے بعد بڑھ کر پچاس سے ساٹھ ہزار روپے تک پہنچ گیا۔ یہ اضافہ ایک غیر متوقع اور اضافی مالی بوجھ ثابت ہوا، جس سے مجموعی طور پر کاسٹ آف ڈوئنگ بزنس میں اضافہ ہوا۔ کنٹینرز کی بروقت نقل و حمل ممکن نہ ہونے کے باعث ٹریڈرز کو ڈیمریج اور ڈیٹینشن چارجز برداشت کرنا پڑے،

کراچی کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن ٹرانسپورٹ برادری اور ان کی نمائندہ تنظیموں سے مؤدبانہ اپیل کرتی ہے کہ غیر معمولی کرایوں میں اضافے سے گریز کیا جائے اور طے شدہ ریٹس اور جاری کردہ لسٹ کے مطابق گاڑیاں فراہم کی جائیں، تاکہ تجارتی سرگرمیاں بحال ہوں -

اس موقع پر ایک نہایت اہم سوال بھی سامنے آتا ہے کہ اس نوعیت کی ہڑتالیں بار بار کیوں ہو رہی ہیں۔ صرف رواں سال میں ٹرانسپورٹ برادری کی جانب سے دو بڑی ہڑتالیں ہو چکی ہیں، جو اس بات کی واضح نشاندہی کرتی ہیں کہ حکومت اور ٹرانسپورٹ برادری کے درمیان مؤثر رابطے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے مابین مربوط مشاورت کا فقدان موجود ہے۔

کراچی کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن حکومتِ سندھ اور وفاقی حکومت سے پُرزور مطالبہ کرتی ہے کہ آئندہ کسی بھی فیصلے سے قبل تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے، جن میں کراچی کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن، ایف پی سی سی آئی، تاجر برادری کی نمائندہ چیمبرز و ایسوسی ایشنز، ٹرانسپورٹرز کی نمائندہ تنظیمیں اور متعلقہ سرکاری ادارے شامل ہوں۔
ایک مستقل مشاورتی کمیٹی یا واضح لائحۂ عمل تشکیل دیا جائے، جس کا مقصد مسائل کو بروقت مذاکرات کے ذریعے حل کرنا ہو تاکہ مستقبل میں ہڑتال کی نوبت ہی نہ آئے۔

یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ ہر ہڑتال کے نتیجے میں ملک کو کروڑوں ڈالر کا معاشی نقصان ہوتا ہے، کسٹمز ایجنٹس برادری اس کی وجہ سے شدید متاثر ہوتی ہے اور اس کے اثرات بالآخر عوام تک مہنگائی کی صورت میں منتقل ہوتے ہیں۔

کراچی کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن حکومت، کسٹمز حکام اور ٹرانسپورٹ برادری کے ساتھ مکمل اور تعمیری تعاون کے لیے تیار ہے، تاکہ کراچی کی بندرگاہ سے وابستہ تجارتی سرگرمیاں بلا تعطل جاری رہ سکیں۔

*جنرل سیکریٹری*
*شیخ وقاص انجم-*
*کراچی کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن-*

*انفارمیشن سیکرٹری*
*نور علی کنانی-*
*کراچی کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن-*

23/10/2025

پاکستان کسٹمز اور چھالیہ مافیا کی ملی بھگت سے ملک میں چھالیہ و گٹکے کی غیر قانونی درآمد کا حجم ماہانہ 650 کنٹینر تک پہنچ گیا ہے، جس کے ذریعے قومی خزانے کو سالانہ 100 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہو رہا ہے، کیونکہ صرف 50 کنٹینر سرکاری ریکارڈ میں ظاہر کیے جاتے ہیں اور باقی مال کو خفیہ طور پر مارکیٹ میں پہنچا دیا جاتا ہے، جبکہ اس نیٹ ورک کو کسٹمز پریوینٹیو کے بعض افسران کو 30 کروڑ روپے سے زائد ماہانہ رشوت دے کر چلایا جا رہا ہے۔ انکشاف ہوا ہے کہ ڈپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن جعلی رپورٹس کے ذریعے عالمی ادارہ صحت کی مقررہ حد سے تین گنا زیادہ زہریلی چھالیہ کلیئر کر رہا ہے، اور کراچی کی 200 سے زائد غیر رجسٹرڈ فیکٹریاں یہ مضر صحت مصنوعات تیار کر رہی ہیں، جبکہ ضبط شدہ چھالیہ بھی تلف کرنے کے بجائے نیلام کر کے دوبارہ مارکیٹ میں پہنچا دی جاتی ہے، جس کے باعث صحت کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے مگر متعلقہ ادارے خاموش ہیں۔

03/09/2025

*ضبط شدہ اسمگلڈ گاڑیوں کو قانونی حیثیت دینے والے ایف بی آر افسران و اہلکاروں کیخلاف کارروائی شروع۔*

*اسلام آباد(ہمارا بلوچستان نیوز)ایف بی آر نے ضبط کی گئی اسمگل شدہ گاڑیوں کو غیر قانونی طور پر ریگولرائز کرنے میں ملوث ایف بی آر افسران و اہل کاروں کے خلاف کارروائی شروع کردی۔*

*ایف بی آر حکام کے مطابق ایف بی آر نے اگست 2021ء میں ضبط شدہ اسمگلڈ گاڑیوں کی نیلامی کے بعد ہونے والی بے ضابطگیوں کو روکنے کے لیے وی بوک (WeBOC) نظام میں آکشن ماڈیول متعارف کرایا تھا، اس کے ذریعے موٹر رجسٹریشن اتھارٹیز (ایم آر ایز)کو یہ سہولت دی گئی کہ وہ گاڑیوں کے نیلامی ریکارڈ کو آن لائن چیک کر سکیں تاکہ دستی اور کاغذی تصدیق پر انحصار کم ہو اور خریداروں کو شفافیت کے ساتھ سہولت میسر آئے۔*

*ایف بی آر کے مطابق تاہم جولائی 2025ء میں اس ماڈیول کے غلط استعمال کی شکایات سامنے آئیں جس پر ایف بی آر نے فوری تحقیقات شروع کیں، ریکارڈ کے مطابق نیلام شدہ گاڑیوں کی 1,909 تفصیلات سسٹم میں اپ لوڈ کی گئی تھیں جن میں سے 103 گاڑیاں جعلی یوزر آئی ڈیز کے ذریعے داخل کی گئیں مزید انکشاف ہوا کہ ان میں سے 43 گاڑیاں ایم آر ایز نے پہلے ہی رجسٹر کرلی تھیں اور یوں اسمگل شدہ گاڑیوں کو قانونی حیثیت دے دی گئی تھی۔*

*ایف بی آر کے مطابق ڈیجیٹل آڈٹ اور تحقیقات کے بعد ایف بی آر نے ان یوزر آئی ڈیز کی نشاندہی کی جن کے ذریعے جعلسازی کی گئی تھی اس دوران ایک ڈپٹی کلکٹر اور ایک اسسٹنٹ کلکٹر کو 9جولائی 2025ء کو معطل کر دیا گیا جن کے اکاؤنٹس اس فراڈ میں استعمال ہوئے تحقیقات سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ اس اسکینڈل میں بعض ایم آر ایز اور کار ڈیلرز کا نیٹ ورک بھی شامل ہے۔*

*ایف بی آر حکام کے مطابق معاملے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے ایف بی آر نے 9 جولائی کو ایف آئی اے، کسٹمز اور انٹیلی جنس اداروں پر مشتمل ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بنانے کی درخواست کی، ایف آئی اے کو 10 جولائی کو باضابطہ شکایت بھی ارسال کی گئی جس کے بعد جے آئی ٹی نے اپنی کارروائی کا آغاز کیا، نتیجتاً 28 اگست 2025ء کو ایف آئی اے نے ملوث افسران کے خلاف مقدمہ درج کر کے ان کی گرفتاری عمل میں لائی اب تک کسٹمز انفورسمنٹ بھی سات ایف آئی آر درج کر چکی ہے اور 13 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔*

*ایف بی آر کے مطابق یہ کارروائی اس بات کا واضح پیغام ہے کہ ادارے کے اندر موجود جرائم پیشہ عناصر کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی

14/08/2025

پاکستان اور ایران نے آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کے مسودے پر اتفاق کر لیا ہے، جس کے تحت دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے کے لیے متعدد اشیا کی فہرست کا تبادلہ کیا جا رہا ہے جن پر محصولات کو صفر یا کم کیا جائے گا۔ یہ تفصیلات وزارتِ تجارت نے ایران کے ساتھ تجارتی معاملات، بارٹر ٹریڈ اور غیر محصولاتی رکاوٹوں پر بریفنگ دیتے ہوئے بتائیں۔

وزیرِ تجارت جام کمال خان کی قیادت میں وزارتِ تجارت کی ٹیم نے سینیٹر انوشہ رحمان کی صدارت میں قائم کمیٹی کو مجوزہ ایجنڈے اور اٹھائے گئے سوالات پر بریف کیا۔ ابتدائی طور پر کچھ اختلافات سامنے آئے، خاص طور پر سیکرٹری کامرس اور کمیٹی کی چیئرپرسن کے درمیان، جو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے بادینی کراسنگ پوائنٹ کی بندش سے متعلق تھے۔
کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر نے بلوچستان کے تاجروں کے مسائل کا ذکر کیا جو ایران کے ساتھ بارٹر ٹریڈ میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، خاص طور پر بادینی کراسنگ پوائنٹ کی بندش کے باعث افغانستان کے ساتھ تجارت متاثر ہوئی ہے۔

سیکرٹری کامرس جاوید پال اور جوائنٹ سیکرٹری (ایف ٹی-ٹو) ماریا قاضی نے کہا کہ ایران نے اپنی مقامی پیداوار کی حفاظت کے لیے آم اور چاول پر موسمی پابندیاں لگا رکھی ہیں، جنہیں ایرانی حکام کے سامنے اٹھایا جا چکا ہے۔ پاکستان کی ایران کو برآمدات کی مالیت 700 سے 800 ملین ڈالر ہے جو سرکاری اعدادوشمار میں ظاہر نہیں ہوتیں کیونکہ یہ تیسری ملک یا غیر رسمی تجارت کے ذریعے ہوتی ہیں۔

بارٹر ٹریڈ کے حوالے سے نئے ایس آر او 642(1) 2023 میں اصلاحات کی گئی ہیں جن میں پانچ اہم نکات شامل ہیں: 1۔ بارٹر ٹریڈ میں شامل اشیا کی پابندی ختم کی گئی ہے اور آئی پی او/ای پی او کے تحت آنے والی تمام اشیاء کی تجارت کی اجازت دی گئی ہے۔ 2۔ پہلے صرف ایک ادارہ بارٹر ٹریڈ کر سکتا تھا، اب کنسورشیم بھی قائم کیا جا سکتا ہے۔ 3۔ غیر ممنوعہ اشیاء کے لیے این او سی کی شرط ختم کر کے پرائیویٹ ادارے یا کنسورشیم کو تصدیقی سرٹیفیکیٹ جاری کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ 4۔ پہلے درآمد کے بعد برآمد کی شرط کو ختم کر دیا گیا ہے۔ 5۔ نیٹ آف گڈز کا دورانیہ 90 دن سے بڑھا کر 120 دن کر دیا گیا ہے۔

وزیرِ تجارت جام کمال نے کہا کہ وہ اگلے ماہ ایران جائیں گے تاکہ جوائنٹ اکنامک کمیشن (جے ای سی) کے اجلاس میں تمام تجارتی مسائل زیر بحث لائے جا سکیں۔

وزارتِ تجارت نے بادینی کراسنگ پوائنٹ کی بحالی کے لیے بھی اقدامات کیے ہیں، جن میں انفراسٹرکچر کی تعمیر شامل ہے اور افغانستان کو مالی امداد بھی فراہم کی جائے گی۔

کمیٹی نے بلوچستان ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو منصوبے میں شامل کرنے کی مخالفت کی جبکہ چمن کراسنگ پوائنٹ کی عمارت اگلے ماہ افتتاح کے لیے تیار ہے۔

سینیٹر انوشہ رحمان نے وفاقی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کی قیادت پر سخت تنقید کی کہ وہ چین میں مشترکہ تجارتی چیمبر قائم کرنے کے لیے کارروائی نہیں کر رہے، جو پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے آسانی کا باعث ہوگا۔

کمیٹی نے بادینی سرحد کو فوری کھولنے کا مطالبہ کیا تاکہ مقامی کمیونٹیز کی معاشی حالت بہتر ہو سکے۔ وزارتِ تجارت اور کوئٹہ چیمبر آف کامرس کو افغانستان کے حکام سے رابطہ کر کے اس مسئلے کا حل نکالنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

وزیرِ تجارت نے کہا کہ بارٹر ٹریڈ کی سہولت کاری سے پاکستان اور ایران کے درمیان 10 ارب ڈالر کے دوطرفہ تجارتی ہدف کے حصول میں مدد ملے گی۔

چیمبر آف کامرس کو سرد خانے کی سہولیات اور ایل پی جی ٹرمینل کے قیام کے لیے تجاویز ایڈیشنل ایکوئٹی فنڈ میں جمع کروانے کی ہدایت دی گئی ہے۔

اجلاس میں سینٹرز بلال احمد خان، امیر ولی الدین چشتی، راحت جمالی، وزیرِ تجارت جام کمال خان، سیکرٹری کامرس جاوید پال اور دیگر حکام نے شرکت کی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025
https://urdu.brecorder.com/news/40275775?utm_source=whatsapp

Address

Karachi

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 13:00
15:00 - 19:00
Saturday 09:00 - 13:00

Telephone

03009386989

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Blue fin Enterprises Custom Clearing Agent posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Blue fin Enterprises Custom Clearing Agent:

Share