APNA KARACHI / by waseem jan.

APNA KARACHI / by waseem jan. karachi is the largest city of PAKISTAN.Karachi is the financail and commercail capital of pakistan

25/08/2026
Good old days
19/08/2026

Good old days

19/08/2026
03/08/2026

Sind government wasting
People money

سینیئر اداکار و کامیڈین خالد نظامی بھی اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ، انا للہ وانا الیہ رجعون  مرحوم کافی عرصہ سے بستر علال...
29/07/2026

سینیئر اداکار و کامیڈین خالد نظامی بھی
اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ، انا للہ وانا الیہ رجعون
مرحوم کافی عرصہ سے بستر علالت پر تھے۔

ان کی نماز جنازہ کل بروز جمعرات بوقت ظہر
عثمانیہ مسجد بفر زون 15 بی کراچی میں ادا کی جائے گی

وہ پاکستانی کامیڈینز میں اپنا ایک منفرد انداز رکھتے تھے اور شائقین کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرتے رہتے تھے۔ انہوں نے 1963 میں شوبز کی دنیا میں قدم رکھا اور 1970 میں پی ٹی وی جوائن کیا۔ انہوں نے پی ٹی وی کے بہت سے ڈراموں میں بھی کام کیا۔ جن میں شہزوری، ان کہی اور انکل عرفی شامل ہیں۔ وہ اسٹینڈ اپ کامیڈین کے ساتھ ساتھ اداکار اور بہت اچھے موسیقار تھے۔ ان کی موسیقی میں روبینہ بدر کی آواز میں ایک گانا، تم سنگ نینا لاگے سپر ہٹ ہوا تھا۔

ان کی والدہ رشیدہ نظامی بہت جانی پہچانی مصنفہ تھیں، اور ان کے بھائی حسن نظامی معروف پینٹر آرٹسٹ تھے۔ خالد نظامی 8 مختلف آلات جیسے ستار، گٹار، طبلہ، ایکوریڈن، پیانو، رائیڈیم گٹار اور بنسری بجا سکتے ہیں۔

خالد نظامی پی ٹی وی کے پروگرام فروزاں کے میوزک ڈائریکٹر تھے۔ اپنے عروج کے دور میں ایک میوزیکل کمپنی انہیں امریکہ لے گئی جہاں وہ گزشتہ 28 سال مقیم تھے اور اب پاکستان آ گئے تھے۔ انہوں نے حقیت (1974) پہچان (1975) سورج بھی تماشائی (1980) اور زنجیر (1986) جیسی چند فلموں میں بھی کام کیا تھا۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مرحوم کی مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور سوگوار اہل خاندان و احباب کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین۔

کلفٹن کے دل میں دفن ’شہرِ خموشاں‘: جدید کراچی کی چکا چوند میں گم ڈیڑھ سو سال پرانا ’ہنو مہاراج قبرستان‘٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭...
19/07/2026

کلفٹن کے دل میں دفن ’شہرِ خموشاں‘: جدید کراچی کی چکا چوند میں گم ڈیڑھ سو سال پرانا ’ہنو مہاراج قبرستان‘
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
کراچی ( خصوصی رپورٹ: عبدالوہاب سلیمان عبداللہ ):
روشنیوں کے شہر، معاشی حب اور پاکستان کے سب سے بڑے میٹروپولیس کا دل کہلانے والا علاقہ کلفٹن اپنی بلند و بالا عمارات، جدید شاپنگ مالز اور پرشکوہ طرزِ زندگی کے لیے جانا جاتا ہے۔ لیکن اسی کلفٹن کے مصروف ترین تجارتی اور رہائشی مرکز کے عین درمیان ایک ایسا تاریخی اور پراسرار گوشہ بھی موجود ہے، جس کی خاموشی جدید کراچی کے شور میں کہیں گم ہو کر رہ گئی ہے۔
یہ کلفٹن کا ایک قدیم اور گمنام قبرستان ہے، جس کے وجود سے خود کلفٹن کے پُرآسائش بنگلوں اور فلیٹوں میں رہنے والے نوے فیصد لوگ بھی ناواقف ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ قبرستان کلفٹن کے معروف ضیاء الدین اسپتال سے مشرق کی جانب شارع غالب پر، بلاول چورنگی سے محض نصف کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ تاہم، سڑک سے گزرنے والے لاکھوں مسافروں کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی کہ ایک بلند و بالا پری کاسٹ دیوار کے پیچھے تاریخ کا ایک بڑا باب دفن ہے۔

نقشوں سے غائب، سرکاری ریکارڈ میں گمنام
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
جدید دور میں جہاں گوگل میپ کائنات کے ہر کونے کی درست نشان دہی کا دعویٰ کرتا ہے، وہیں یہ تاریخی قبرستان ڈیجیٹل دنیا کی نظروں سے بھی اوجھل ہے۔ نہ تو گوگل میپ پر اس کی کوئی درست شناخت موجود ہے اور نہ ہی کلفٹن کے کسی جدید نقشے میں اس کا کوئی نام و نشان ملتا ہے۔
حیرت کا یہ سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوتا؛ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (KMC) اور دیگر شہری اداروں کے ریکارڈ کے مطابق کراچی میں تقریباً 190 مسلم اور غیر مسلم قبرستان موجود ہیں، لیکن اس سرکاری فہرست میں بھی اس جگہ کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔
کراچی کی تاریخ پر گہری نظر رکھنے والے معروف محقق اور مصنف گل حسن کلمتی نے اپنی مشہور سندھی کتاب ”کراچی سندھ جی ماری“ میں اس جگہ کا سراغ لگایا ہے۔ انہوں نے تقریباً 60×150 فٹ رقبے پر پھیلے اس قبرستان کا نام ”ہنو مہاراج قبرستان“ لکھا ہے۔ تاریخی شواہد اور مقامی بزرگوں کے بیانات کے مطابق یہ قبرستان اندازاً ڈیڑھ سو سال پرانا ہے، جو کیماڑی کے مسان روڈ پر واقع ہندو شمشان گھاٹ (مُردوں کو جلانے کی جگہ) سے تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

کلفٹن کی دیوار اور وقت کی گرد
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ستر کی دہائی (1970s) میں کراچی کا منظرنامہ بالکل مختلف تھا۔ اس دور کے عینی شاہدین بتاتے ہیں کہ جب وہ کلفٹن کا رخ کرتے تھے تو یہ قبرستان سڑک سے صاف دکھائی دیتا تھا۔ اس زمانے میں سمندر کے پانی کی ہائی ٹائیڈ (مدوجزر) کے دوران نیٹی جیٹی سے آنے والا سمندری پانی اسی مقام تک پہنچ جاتا تھا، جس کے باعث یہ ایک کھلا اور ساحلی منظر پیش کرتا تھا۔ تاہم، بعد میں ساحلی زمین کی بھرائی (Land Reclamation) کے باعث یہاں کا جغرافیہ یکسر بدل گیا۔
نوے کی دہائی میں، سابق وزیرِ اعظم بے نظیر بھٹو کے دوسرے دورِ حکومت کے دوران، سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر بلاول ہاؤس اور اس کے اطراف کے علاقوں کی سیکیورٹی کو انتہائی سخت کر دیا گیا۔ اسی دوران یہاں ایک طویل اور اونچی پری کاسٹ کنکریٹ کی دیوار تعمیر کی گئی ہے۔ بدقسمتی سے، اسی دیوار نے اس تاریخی قبرستان کو ہمیشہ کے لیے عوام کی نظروں سے اوجھل کر دیا۔ یوں، گزرتے وقت کے ساتھ نئی نسل اس کے وجود سے بالکل بے خبر ہو گئی۔

منفرد طرزِ تدفین اور عقائد کا امین
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مقامی روایات اور تاریخی حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قبرستان بنیادی طور پر ہندوؤں کی ’میگھوار کمیونٹی‘ سے تعلق رکھتا ہے۔ پچاس کی دہائی میں یہاں تدفین کے مناظر دیکھنے والے چند بزرگوں نے سنسنی خیز تفصیلات بتائیں۔ ان کے مطابق:
"میگھوار برادری میں تدفین کا طریقہ کار عام روایات سے مختلف تھا۔ یہاں میت کو قبر میں عام حالت میں لٹانے کے بجائے لکڑیوں کے سہارے 'بیٹھنے کی پوزیشن' میں رکھا جاتا تھا۔ اس کے بعد اس پر کنکریٹ کی مضبوط سلیب رکھ کر مٹی ڈال دی جاتی تھی۔"
آج اگر اس قبرستان کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ متعدد قبریں وقت کے ستم اور دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث زمین کے برابر ہموار ہو چکی ہیں، جبکہ کئی قبروں پر کتبے آج بھی سلامت ہیں۔ ان دستیاب کتبوں کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں آخری تدفین سال 2019ء میں ہوئی تھی۔
میگھوار کمیونٹی کے مذہبی عقائد کے مطابق، کم عمر یا شیر خوار بچوں کی موت کی صورت میں انہیں نذرِ آتش (جلایا) نہیں جاتا، بلکہ مخصوص مذہبی رسومات کی ادائیگی کے بعد دفن کیا جاتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ قبرستان میں موجود بہت سی چھوٹی اور زمین بوس قبریں دراصل انہی بچوں کی ہیں۔

بین المذاہب ہم آہنگی کا خاموش گواہ
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
’ہنو مہاراج قبرستان‘ صرف ہندو برادری تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ کراچی کی روایتی بین المذاہب ہم آہنگی اور پناہ گیری کی ایک منفرد مثال بھی ہے۔ یہاں صرف ہندو برادری کے ہی نہیں، بلکہ ایک مسلمان بچے کی ابدی آرام گاہ بھی موجود ہے۔
تحقیق کے دوران معلوم ہوا کہ یہاں ضلع مظفر گڑھ کی تحصیل علی پور سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان کے تقریباً دو سالہ مسلمان بچے کی قبر بھی ہے۔ قبرستان کے قریبی علاقے ’گلشنِ سکندر آباد‘ کے ایک پرانے رہائشی نے تصدیق کی کہ کئی سال قبل ان کے ہاں ایک بچہ مردہ پیدا ہوا تھا، اور غریبی یا دیگر وجوہات کی بنا پر انہوں نے اس بچے کو اسی قدیم قبرستان میں سپردِ خاک کیا۔
دستیاب کتبوں کے مطابق، یہاں مدفون بزرگ ترین شخصیت ’پیتھا واہاڈا مکوانا‘ ہیں، جن کی تاریخِ پیدائش 1922ء اور وفات 1997ء درج ہے۔

لاوارث تاریخ اور اربابِ اختیار کی خاموشی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اس قبرستان کی سب سے الم ناک بات یہ ہے کہ آج تک کسی بھی سرکاری ادارے، جیسے کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ (CCB)، کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (KDA)، یا سندھ کلچر ڈیپارٹمنٹ نے اس کے داخلی دروازے پر اس کا نام تحریر کرنے کی زحمت نہیں کی۔ کراچی کی تاریخ کو محفوظ کرنے کے دعویدار شہری اداروں نے کبھی اس کی تاریخی حیثیت کو دستاویزی شکل دینے کی کوشش ہی نہیں کی۔ آج بھی یہ واضح نہیں ہے کہ اس جگہ کی انتظامی اور قانونی ذمہ داری کس ادارے کے پاس ہے۔
آج جب آپ اس گمنام قبرستان کے اندر قدم رکھتے ہیں، تو کلفٹن کا شور یکسر غائب ہو جاتا ہے۔ یہاں چاروں طرف پھیلے کیکر اور نیم کے قدیم درخت شہر کی تمام تر ہنگاموں کو اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں۔ یہ جگہ واقعی ایک سچا 'شہرِ خموشاں' معلوم ہوتی ہے، جہاں خاموشی خود بولتی ہے۔ کراچی کی تاریخ میں ایسے کئی مقامات ہیں جو وقت کی دھول میں گم ہو چکے ہیں، اور یہ گمنام قبرستان بھی کلفٹن کی چکا چوند کے پیچھے چھپا، ماضی کا ایک ایسا ہی خاموش گواہ ہے۔


بریلی کی ایک چھوٹی سی دکان سے دنیا بھر میں پھیلنے والا نام — ہاشمی کا حیرت انگیز سفربرصغیر کی تاریخ میں چند ایسے ادارے ہ...
13/07/2026

بریلی کی ایک چھوٹی سی دکان سے دنیا بھر میں پھیلنے والا نام — ہاشمی کا حیرت انگیز سفر
برصغیر کی تاریخ میں چند ایسے ادارے ہیں جنہوں نے محض تجارت نہیں کی بلکہ لوگوں کے دلوں میں اعتماد بھی پیدا کیا۔ ہاشمی انہی چند ناموں میں سے ایک ہے۔
میرے سامنے مارچ 1961ء کا ایک پرانا اخباری اشتہار رکھا ہے۔ اشتہار کے اوپر بڑے حروف میں لکھا ہے "بریلی کا سفر"۔ نیچے حکیم محمد حسن ہاشمی کی تصویر ہے، ساتھ ان کے صاحبزادے حکیم محمد معصومی جیلانی کا نام درج ہے، اور کراچی کے بندر روڈ پر واقع دواخانے کا پتہ بھی موجود ہے۔ اشتہار میں "معجون سفید" اور "معجون پائیدار" جیسی ادویات کا ذکر ہے، جو اس زمانے میں گھر گھر پہچانی جاتی تھیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ آخر یہ ادارہ شروع کہاں سے ہوا؟
اس کی داستان انیسویں صدی کے آخر میں اتر پردیش کے شہر بریلی سے شروع ہوتی ہے۔ 1794 میں حکیم محمد حسن ہاشمی نے ایک نہایت معمولی سی دکان قائم کی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب نہ بڑی فیکٹریاں تھیں، نہ مشینیں، نہ ٹیلی ویژن کی تشہیر، اور نہ سوشل میڈیا۔ ایک حکیم کی اصل پہچان اس کا علم، اس کی دیانت اور اس کے مریضوں کا اعتماد ہوتا تھا۔
حکیم محمد حسن ہاشمی نے یونانی طب کے قدیم نسخوں کو جدید انداز میں مرتب کیا۔ ان کی تیار کردہ ادویات آہستہ آہستہ بریلی سے نکل کر پورے شمالی ہندوستان میں مشہور ہونے لگیں۔ ان کا نام اعتماد کی علامت بنتا گیا۔
1947ء میں تقسیم ہند نے لاکھوں خاندانوں کی طرح ہاشمی خاندان کی زندگی بھی بدل دی۔ خاندان کے افراد پاکستان منتقل ہوئے اور کراچی کو اپنا نیا مرکز بنایا۔ نئے ملک میں ہر چیز نئے سرے سے شروع کرنا آسان نہیں تھا، مگر ہاشمی خاندان کے پاس ایک سرمایہ ایسا تھا جو کوئی تقسیم نہیں چھین سکتی تھی، اور وہ تھا لوگوں کا اعتماد۔
کراچی میں بندر روڈ پر دواخانہ قائم ہوا۔ اس کے بعد اخبارات میں مسلسل اشتہارات شائع ہونے لگے۔ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں پاکستان کے تقریباً ہر اردو اخبار میں ہاشمی کی مصنوعات کے اشتہارات نظر آتے تھے۔ معجون، سفوف، خمیرہ، شربت اور دیگر یونانی ادویات گھر گھر استعمال ہونے لگیں۔
یہ وہ دور تھا جب پاکستان میں دوا سازی کی صنعت ابھی ابتدائی مرحلے میں تھی، مگر ہاشمی نے روایت اور معیار کو برقرار رکھا۔ یہی وجہ تھی کہ ان کا نام صرف ایک دواخانہ نہیں بلکہ ایک ادارہ بنتا گیا۔
وقت گزرتا گیا، نسلیں بدلتی گئیں، لیکن ہاشمی نے خود کو وقت کے ساتھ بدلنا بھی سیکھا۔ چھوٹی سی دکان ایک جدید فارماسیوٹیکل ادارے میں تبدیل ہوگئی۔ تحقیق کے شعبے قائم ہوئے، جدید مشینری نصب ہوئی، بین الاقوامی معیار کے مطابق پیداواری نظام اختیار کیا گیا، اور درجنوں نہیں بلکہ سیکڑوں مصنوعات تیار ہونے لگیں۔
آج ہاشمی صرف یونانی ادویات تک محدود نہیں۔ صحت، غذائی سپلیمنٹس، جلد اور بالوں کی نگہداشت، خواتین اور مردوں کی صحت، بچوں کی مصنوعات، جڑی بوٹیوں پر مبنی علاج اور متعدد دیگر شعبوں میں ان کی مصنوعات دستیاب ہیں۔ پاکستان کے تقریباً ہر بڑے شہر میں ان کی مصنوعات فروخت ہوتی ہیں، جبکہ مشرق وسطیٰ، یورپ، شمالی امریکہ، افریقہ اور کئی ایشیائی ممالک تک بھی ان کی برآمدات ہوتی ہیں، جہاں جنوبی ایشیا کی کمیونٹی انہیں اعتماد کے ساتھ استعمال کرتی ہے۔
اگر ہم اس 1961ء کے معمولی سے اشتہار کو دیکھیں اور پھر آج کے جدید ہاشمی ادارے کا تصور کریں تو یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ ایک صدی پہلے کی چھوٹی سی دکان اتنی بڑی صنعت میں تبدیل ہو جائے گی۔
یہ صرف کاروبار کی کامیابی نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ اگر معیار، دیانت اور اعتماد کو نسل در نسل برقرار رکھا جائے تو ایک نام صدیوں تک زندہ رہ سکتا ہے۔
پاکستان کی صنعتی تاریخ میں اکثر ہم بڑی بڑی فیکٹریوں اور ملوں کا ذکر کرتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ بعض اوقات ایک چھوٹا سا دواخانہ بھی قومی صنعت کی تاریخ میں اتنا ہی اہم کردار ادا کرتا ہے جتنا ایک بڑا صنعتی ادارہ۔
1961ء کے اس اشتہار کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ زمانہ آج بھی ہم سے مخاطب ہے۔ اخبار کا زرد کاغذ، حکیم صاحب کی تصویر، بندر روڈ کا پتہ اور چند سطروں پر مشتمل اشتہار دراصل ایک ایسے سفر کی یادگار ہے جو بریلی کی ایک چھوٹی سی دکان سے شروع ہوا اور آج ایک بین الاقوامی شناخت رکھنے والے ادارے تک جا پہنچا۔
یہ صرف ہاشمی کی تاریخ نہیں، بلکہ برصغیر کی اس کاروباری روایت کی تاریخ بھی ہے جس میں علم، محنت، اعتماد اور مسلسل جدوجہد نسلوں تک منتقل ہوتی رہی۔

Address

D. H. A
Karachi
75505

Telephone

+923032089099

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when APNA KARACHI / by waseem jan. posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to APNA KARACHI / by waseem jan.:

Shortcuts

Share