24/04/2026
غوث،عبد،صدیق اور قطب وحدت،روحانی مناصب و مراتب کا نظام
عبد، صدیق اور قطب وحدت کے مناصب صحابہ کرام اور خیر القرون کے دور سے مختص تھے۔ تاہم زمانہ مابعد میں بھی بعض خصوصی حالات میں قلیل حضرات کو ان میں سے بعض مناصب سے نوازا جاتا رہا۔ جب بھی اسلام پر کوئی افتاد پڑی اور محسوس کیا گیا کہ ظلمت کا مقابلہ غوث کی قوت سے نہیں کیا جاسکتا تو عمومی ڈگر سے ہٹ کر کسی اللہ کے بندے کو غوث کی بجائے کسی اونچے منصب پر فائز کیا گیا تا کہ وہ اپنی روحانی توجہ کی قوت سے لادینیت کی ظلمت کو دین کے اجالے میں بدل سکے۔
مثلاً شیخ عبدالقادر جیلانیؒ یہ "عبد"، حضرت امام غزالیؒ یہ صدیق“ اور
حضرت مجدد الف ثانیؒ ” قطب وحدت‘ تھے۔ یاد رہے کہ اشتراک منصب
ومنازل کے باوصف انبیائے کرام علیہ اسلام، صحابہ کرام اور اولیائے کرام کے درجہ، شان اور شرف میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ غوث اور نچلے مناصب ہر زمانہ میں ہوتے ہیں لیکن بڑے مناصب خاص حالات میں ۔ غوث تمام دنیا کی روحانی حکومت کا صدر ہوتا ہے اور چاروں اقطاب اس کے وزراء کا درجہ رکھتے ہیں۔
ان میں قطب الاقطاب بطور سیکرٹری فرائض انجام دیتا ہے۔ سنیارٹی کے لحاظ سے پہلے قطب الاقطاب، پھر قطب ،ارشاد، پھر قطب مدار اور پھر قطب ابدال آتا ہے۔
قطب مدار کو بقاء عالم کا سبب بنایا جاتا ہے۔ قطب ابدال کا وجود بقاء سے متعلق امور میں وصول فیض کا ذریعہ ہے۔ اس لیے پیدائش، رزق، مصائب، صحت و آرام کے حاصل ہونے کا تعلق قطب ابدال کے فیض سے مخصوص ہے اور ایمان، ہدایت، تو بہ اور امور خیر کی توفیق قطب ارشاد کے فیض کا نتیجہ ہے۔ پھر ابدال، اوتاد، نجباء، نقباء، اخیار اور ابرابر ہوتے ہیں۔ یہ سب اپنی الگ الگ شاخوں کے باوجود منصب میں تقریباً مساوی ہوتے ہیں۔۔۔ اگر دنیا کو چالیس برابر ملکوں میں تقسیم کیا جائے تو ہر ملک کا سربراہ ابدال ہوگا-