26/08/2026
"جس ذکر سے دل نبی ﷺ کی طرف آئے، اس سے اعتراض کیوں؟"
ایک سوال ہے، اور یہ سوال نفرت کے لیے نہیں بلکہ سوچنے کے لیے ہے۔
اگر کسی مالی معاملے میں سود کو صرف نام بدل کر "پرافٹ" کہا جائے اور اسے حلال قرار دینے کے لیے فقہی توجیہات پیش کی جائیں، تو پھر ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ہر نئے معاملے کو صرف اس بنیاد پر فوراً حرام یا بدعت کہنا درست نہیں کہ "یہ نبی ﷺ کے زمانے میں اس شکل میں نہیں تھا۔"
12 ربیع الاول کو اگر کوئی مسلمان خوشی کا اظہار کرتا ہے، درود و سلام پڑھتا ہے، نعت پڑھتا ہے، سیرتِ رسول ﷺ بیان کرتا ہے، صدقہ و خیرات کرتا ہے، نظر و نیاز اللہ کے نام پر کرتا ہے، اور لوگوں کو قرآن و حدیث اور سنتِ رسول ﷺ کی طرف بلاتا ہے—تو اس کے عمل کو سمجھنے اور اس کی نیت کو دیکھنے کے بجائے اسے فرقہ واریت کی نظر سے کیوں دیکھا جائے؟
آج ہمارے نوجوان گھنٹوں موبائل، ٹی وی اور سوشل میڈیا پر ایسی چیزوں میں مصروف ہیں جو انہیں دین سے دور کرتی ہیں۔ اگر کوئی موقع انہیں رسول اللہ ﷺ کی سیرت، اخلاق، رحمت، سنت اور قرآن کی طرف لے آتا ہے، تو کم از کم اسے نفرت اور طعن و تشنیع کا ذریعہ نہ بنائیں۔
عبادت میں شرک ناقابلِ قبول ہے، اور اللہ کے سوا کسی کو معبود سمجھنا اسلام نہیں۔ لیکن رسول اللہ ﷺ سے محبت، آپ ﷺ کا ذکر، درود، سیرت اور آپ ﷺ کی تعلیمات کو عام کرنا تو خود دین کا حصہ ہے۔
اختلافِ رائے رکھیں، دلیل سے بات کریں، مگر مسلمانوں کو بانٹنے اور ایک دوسرے پر فتوے لگانے کو دین نہ بنائیں۔
ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ
ہم لوگوں کو نبی ﷺ کی طرف بلانا چاہتے ہیں یا ایک دوسرے سے لڑانا چاہتے ہیں؟
محبتِ رسول ﷺ نفرت کا نہیں، اصلاح کا راستہ بننی چاہیے۔ ﷺ