State life Insurance corporation of Pakistan.

State life Insurance corporation of Pakistan. Your family depends on you? You need to insure your life and its liabilities.

Daddy please come back and pay our school fees.
21/05/2025

Daddy please come back and pay our school fees.

23/08/2024

3 applications has launched.

14/08/2024



We had an incredible time connecting with some truly talented professionals at the Pakistan HINDU Council Job Fair!It wa...
02/06/2024

We had an incredible time connecting with some truly talented professionals at the Pakistan HINDU Council Job Fair!

It was an enriching experience, unveiling promising career opportunities within Pakistan's vibrant insurance industry.

Incredible News Alert! State Life just hit a milestone of 10 MILLION patient admissions through our social health progra...
21/02/2024

Incredible News Alert! State Life just hit a milestone of 10 MILLION patient admissions through our social health programs! 🏥

That's 10 million lives touched, 10 million families supported, and 10 million reasons to celebrate our commitment to accessible healthcare for all!

🌟 Let's keep spreading positivity and making a real difference in people's lives together!

💚

گاڑی پانی میں گر جائے تو کیا کرنا ہے؟ بہت سے لوگ صرف اس وجہ سے ڈوب گئے کہ وہ نہیں جانتے تھے:- اگر آپ خود کو گاڑی میں پان...
08/09/2023

گاڑی پانی میں گر جائے تو کیا کرنا ہے؟

بہت سے لوگ صرف اس وجہ سے ڈوب گئے کہ وہ نہیں جانتے تھے:-

اگر آپ خود کو گاڑی میں پانی کے اندر پاتے ہیں تو گھبرائیں نہیں۔

1۔ دروازے کو دھکیلنے کی کوشش میں اپنی توانائی ضائع نہ کریں۔
2۔ کھڑکی مت کھولیں، گاڑی میں داخل ہونے والا پانی آپ کو باہر نہیں نکلنے دے گا۔ اور اگر اندر داخل ہو گیا تو گاڑی مکمل پانی میں ڈوب جائے گی۔ شیشے اور دروازے بند رہنے دیں۔
3۔ سر کے پیچھے والے ہیڈ ریسٹ کو کھینچ کر اوپر کی سمت نکالیں۔
4۔ اس کی اسٹیل کی تیز نوک کا استعمال کریں اور پچھلی کھڑکی کے شیشے کو توڑ دیں جو ڈگی کے اوپر لگا ہوتا ہے۔

▶️ انجنیئرنگ اور ڈیزائن کے لحاظ سے کار پانی میں تیرتی ہے اور پچھلی کھڑکی ہمیشہ باہر نکلنے کی سمت ہو گی۔ جیسا کہ تصویر میں دکھائی دے رہا ہے۔ یہ آپ کی جان بچا سکتا ہے۔

انجن بھاری ہوتا ہے اس لئے وہ حصہ پانی میں ڈوب جائے گا مگر ٹائروں کی ہوا کے باعث تیہہ تک نہیں جائے گا۔ پچھلے ٹائروں کی وجہ سے پچھلا حصہ تیرتا رہے گا اور پانی سے باہر رہے گا۔ گاڑی ڈوبے گی تب جب پانی اس کے اندر جا کر اسے بھاری کر دے گا۔

اپنے حواس ٹھیک رکھیں۔ پینک مت ہوں۔ دماغ اور سائنس کا استعمال کریں۔ تیرنا نہیں آتا تو بھی کوئی بات نہیں۔ پچھلی سیٹ میں سالڈ فوم ہوتا ہے وہ فلوٹ کر سکتی ہے۔ اسے آرام سے نکالیں اور پچھلے شیشے سے باہر نکال کر کچھ سواریوں کو اسے پکڑ کر پانی پر تیرنے دیں اس کے اوپر نہ چڑھیں بلکہ سائیڈوں پکڑ کر تیریں۔ کوئی چھوٹا بچہ البتہ بٹھا دیں اور اسے پکڑ کر رکھیں۔ کشتی کی طرح ہاتھوں سے پانی پیچھے کی طرف دھکیلتے ہوئے کنارے کی سمت بڑھیں۔ دوسرا سپیئر وہیل یا سٹپنی نکال کر اس کی مدد سے بھی تیرا جا سکتا ہے۔ پچھلی سیٹ کی بیک بھی آرام سے اتر سکتی ہے اسے بھی تیرنے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

زندگی بچانے کے لئے اعصاب اور ڈر پر قابو پانے سے بہت مدد مل سکتی ہے۔ اپنی گاڑی میں لگی اور پڑی ہر چیز پر ریسرچ کیا کریں۔ یہ ریسرچ آپ کی جان بچانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

انجن کی جانب سے اگر پانی اندر آنا شروع ہو تو فوری طور پر نکلنے کی کوشش کریں۔ یاد رکھیں گاڑی بنانے والے نے ہر سوراخ سیل کیا ہوتا ہے۔ ہمارے مکینک ان کو کھول دیتے ہیں لاپرواہی سے۔ جو جان لیوا ہو سکتا ہے۔ احتیاط کریں۔ چیک کرتے رہا کریں اپنی گاڑی کو۔

اللہ پاک آپ اور ہم سب کو اپنی امان میں رکھیں۔




کل رات ایک ایسا واقعہ ہوا، جس نے زندگی کے کئی پہلوؤں کو چھو لیا۔ شام کے کوئی سات بجے ہوں گے، موبائل کی گھنٹی بجی، اٹھایا...
14/07/2023

کل رات ایک ایسا واقعہ ہوا، جس نے زندگی کے کئی پہلوؤں کو چھو لیا۔
شام کے کوئی سات بجے ہوں گے، موبائل کی گھنٹی بجی،
اٹھایا تو ادھر سے رونے کی آواز
بڑی مشکل سے میں نے انہیں چپ کرایا اور پوچھا کہ بھابی جی آخر ہوا کیا ہے؟
ادھر سے آواز آئی کہ آپ کہاں ہیں اور کتنی دیر میں یہاں آ سکتے ہیں؟
میں نے کہا آپ پریشانی تو بتائیں اور بھائی صاحب کہاں ہیں اور ماں جی کدھر ہیں؟
آخر ہوا کیا ہے؟ لیکن ادھر سے صرف ایک ہی رٹ کہ آپ فوراً آجائیے۔
میں نے اسے مطمئن کرتے ہوئے کہا کہ ایک گھنٹہ لگے گا پہنچنے میں۔
جیسے تیسے گھبراہٹ میں پہنچا تو دیکھا کہ بھائی صاحب،
(جو ہمارے جج دوست ہیں) سامنے بیٹھے ہوئے ہیں۔
بھابی جی رونا چیخنا کر رہی ہیں۔۔۔
١٢ سال کا بیٹا بھی پریشان ہے اور ٩ سال کی بیٹی بھی کچھ کہہ نہیں پا رہی۔
میں نے بھائی صاحب سے پوچھا کہ " آخر بات کیا ہے؟"
لیکن بھائی صاحب کچھ بھی جواب نہیں دے رہے تھے۔
پھر بھابی جی نے کہا: "یہ دیکھئیے طلاق کے کاغذات ! کورٹ سے تیار کرا کر لائے ہیں۔ مجھے طلاق دینا چاہتے ہیں"
میں نے پوچھا: یہ کیسے ہو سکتا ہے؟
اتنی اچھی فیملی ہے دو بچے ہیں، سب کچھ سیٹلڈ ہے ۔
پہلی نظر میں تو مجھے یوں لگا کہ یہ مذاق ہے لیکن پھر میں نے بچوں سے پوچھا: آپ کی دادی کدھر ہیں ؟
تو بچوں نے بتایا؛ پاپا انہیں ٣ دن پہلے نوئیڈا کے "اولڈ ایج ہوم" میں شفٹ کر آئے ہیں۔
یہ سن کر میں نے نوکر سے کہا مجھے اور بھائی صاحب کو ایک ایک کپ چائے پلاؤ!
کچھ دیر میں چائے آئی۔ بھائی صاحب کو میں نے بہت کوشش کی چائے پلانے کی مگر انہوں نے نہیں پی۔
وہ کچھ ہی دیر میں معصوم بچے کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے اور بولے میں نے 3 دنوں سے کچھ بھی نہیں کھایا۔
میں اپنی 61 سالہ ماں کو کچھ لوگوں کے حوالے کر کے آیا ہوں۔
پچھلے سال سے میرے گھر میں ماں اتنی مصیبت ہو گئیں کہ میری بیوی نے قسم کھا لی کہ میں ماں جی کا دھیان نہیں رکھ سکتی، نہ تو یہ ان سے بات کرتی تھی اور نہ میرے بچے ان سے بات کرتے تھے۔
روز میرے کورٹ سے آنے کے بعد ماں بہت روتی تھی۔ بلکہ نوکر تک بھی ان سے خراب طرح سے پیش آتے تھے اور اپنی من مانی کرتے تھے۔
ماں نے 10 دن پہلے مجھ سے کہہ دیا، تو مجھے اولڈ ایج ہوم میں ڈال دے۔ میں نے بہت کوشش کی پوری فیملی کو سمجھانے کی لیکن کسی نے ماں سے سیدھے منہ بات تک نہیں کی۔
آہ! جب میں دو سال کا تھا تب ابّو جی انتقال کر گئے تھے۔ ماں نے دوسروں کے گھروں میں کام کاج کر کے مجھے پڑھا لکھا کر اس قابل بنایا کہ میں آج ایک جج ہوں۔
لوگ بتاتے ہیں کہ ماں دوسروں کے گھر کام کرتے وقت کبھی بھی مجھے اکیلا نہیں چھوڑتی تھی۔
اس ماں کو میں آج اولڈ ایج ہوم میں چھوڑ آیا ہوں۔ میں اپنی ماں کے ایک ایک دکھ کو یاد کر کے تڑپ رہا ہوں جو انھوں نے صرف میرے لیے اٹھائے تھے۔
مجھے آج بھی یاد ہے جب میں میٹرک کا امتحان دینے والا تھا تو ماں میرے ساتھ رات رات بھر بیٹھی رہتی تھی۔
ایک بار جب میں اسکول سے گھر آیا تو ماں کو بہت زبردست بخار میں مبتلا پایا۔
پورا جسم گرم اور تپ رہا تھا۔ میں نے ماں سے کہا تجھے تو تیز بخار ہے۔۔
تب ماں ہنستے ہوئے بولی ابھی کھانا بنا کر آئی ہوں اس لیے گرم ہوں۔
لوگوں سے ادھار مانگ کر مجھے یونیورسٹی سے ایل ایل بی تک پڑھایا۔
مجھے ٹیوشن تک نہیں پڑھانےدیتی تھی۔ کہیں میرا وقت برباد نہ ہو جائے۔
کہتے کہتے رونے لگے اور کہنے لگے۔
جب ایسی ماں کے ہم نہیں ہو سکے تو اپنے بیوی اور بچوں کے کیا ہوں گے۔
ہم جن کے جسم کے حصے ہیں، آج ہم ان کو ایسے لوگوں کے حوالے کر آئے ہیں' جو ان کی کسی عادت اور کسی بیماری کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے۔
جب میں اپنی ایسی ماں کے لیے کچھ بھی نہیں کر سکتا تو میں کسی اور کے لیے بھلا کیا کر سکتا ہوں۔
آزادی اگر اتنی پیاری ہے اور ماں اتنی بوجھ ہے تو، میں پوری آزادی دینا چاہتا ہوں۔
جب میں بغیر باپ کے پل گیا تو یہ بچے بھی پل جائیں گے۔ اسی لیے میں اسے طلاق دینا چاہتا ہوں
میں اپنی ساری پراپرٹی ان لوگوں کے حوالے کردوں گا اور خود بھی اسی اولڈ ایج ہوم میں رہ لوں گا۔ وہاں کم سے کم ماں کا ساتھ تو رہے گا۔
میری ماں میرا گھر ہونے کے باوجود اگر اولڈ ایج ہوم میں رہنے کے لیے مجبور ہے تو پھر مجھے بھی شاید کچھ عرصہ بعد وہیں جانا پڑے گا۔
ابھی سے ماں کے ساتھ رہتے رہتے میری عادت بھی ہو جائےگی اور ماں کی طرح تکلیف تو نہیں ہو گی۔
بھائی جتنا بول رہے تھے اس سے بھی زیادہ رو رہے تھے۔
باتوں میں رات کے 12:30 ہو گئے۔
میں نے بھابی جی کی جانب دیکھا تو ان کا چہرہ پچھتاوے کے جذبات سے بھرا ہوا تھا۔
میں نے ڈرائیور سے کہا چلو بھئی ہم لوگ ابھی فوراً اولڈ ایج ہوم چلتے ہیں۔ بھابی جی، بچے، اور ہم سب اولڈ ایج ہوم پہنچے۔
بہت زیادہ منت سماجت کرنے کے بعد گیٹ کھلا۔
بھائی صاحب نے گیٹ کیپر کے پیر پکڑ لئے۔ بولے اندر میری ماں ہے، میں اسے لینے آیا ہوں۔
چوکیدار نے پوچھا "کیا کرتے ہو صاحب" ؟
بھائی صاحب نے کہا۔ میں ایک جج ہوں۔
اس چوکیدار نے کہا "جہاں سارے ثبوت سامنے ہیں تب بھی آپ اپنی ماں کے ساتھ انصاف نہیں کر پائے تو اوروں کے ساتھ کیا انصاف کرتے ہوں گے صاحب!
اتنا کہہ کر ہم لوگوں کو وہیں انتظار کرنے کا کہہ کر وہ اندر چلا گیا۔
اندر سے ایک عورت آئی جو وارڈن تھی۔ اس نے بڑے زہریلے انداز میں کہا:
"2 بجے رات کو آپ لوگ انھیں گھر لے جا کر کہیں جان سے مار ڈالیں تو میں اللہ کو کیا جواب دوں گی ؟"
میں نے وارڈن سے کہا: "بہن آپ یقین کیجیے یہ لوگ بہت پچھتاوے میں ہیں"
اس پر وہ مجھے ان کے کمرے میں لے گئی۔
کمرے میں ماں کی کیفیت دیکھ کر لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔ صرف ایک فوٹو جس میں پوری فیملی تھی ماں وہ فوٹو اپنی بغل میں لئے جسے کسی بچے کو سلا رہی تھی۔
مجھے دیکھا تو اسے لگا کہیں بات نہ کھل جائے لیکن جب میں نے کہا کہ ہم لوگ آپ کو لینے آئے ہیں تو سب ہی جذباتی ہو کر ایک دوسرے سے لپٹ کر رونے لگے۔ آس پاس کے کمروں میں اور بھی بزرگ تھے۔ سب لوگ جاگ کر باہر تک آ گئے۔
ان سب کی بھی آنکھیں نم تھیں۔
کچھ وقت کے بعد چلنے کی تیاری ہوئی۔ پورے اولڈ ہوم کے لوگ باہر تک آئے۔ بہت مشکل سے ہم لوگ وہاں کے لوگوں کو چھوڑ پائے۔
کچھ اس امید سے خلاؤں میں دیکھ رہے تھے، شاید انہیں بھی کوئی لینے آئے۔
راستے بھر سب بظاہر تو خاموش تھے لیکن دل میں جذبات کی اتھل پتھل ہو رہی تھی۔ گھر پہنچتے پہنچتے قریب 3:45 ہو گئے۔
اب بھابی جی بھی اپنی خوشی کی چابی کہاں ہے۔ یہ سمجھ گئی تھیں اور میں بھی گھر چل دیا لیکن راستے بھر وہ ساری باتیں اور مناظر آنکھوں میں گھومتے رہے۔
ماں/باپ صرف ماں/باپ ہیں
اس کو مرنے سے پہلے نہ ماریں۔
ماں/باپ ہماری طاقت ہیں۔
انہیں کمزور نہ ہونے دیں۔
اگر وہ کمزور ہو گئے تو ہماری روایات اور تہذیب کی ریڑھ کی ہڈی کمزور ہو جائے گی اور بنا ریڑھ کی ہڈی کا سماج کیسا ہوتا ہے۔ یہ کسی سے چھپا ہوا نہیں!
💞 رب ارحمھما کما ربیانی صغیئرا 💞

  Bonus 2022
23/06/2023


Bonus 2022

🌟 Celebrating a Golden Year 2022! 🎉✨State Life Insurance is thrilled to announce the remarkable milestones we achieved t...
19/06/2023

🌟 Celebrating a Golden Year 2022! 🎉✨

State Life Insurance is thrilled to announce the remarkable milestones we achieved throughout the year. With unwavering dedication and the trust of our valued customers, we've reached new heights together! 🚀

Today State Life Insurance Corporation and Government of Balochistan signed a Memorandum of Understanding (MOU) to imple...
02/06/2023

Today State Life Insurance Corporation and Government of Balochistan signed a Memorandum of Understanding (MOU) to implement the Balochistan Health Card program for the citizens of the province. Shoaib Javed Hussain, Chairman SLIC, Executive Directors, and senior representatives graced the historic event with the Government of Balochistan to make healthcare accessible in the province, a momentous day for over 10 million people of Balochistan.

Implementing the Balochistan Health Card program means that healthcare facilities are more convenient for every citizen of Balochistan. Register yourself at NADRA and avail cashless hospitalization services both, in public and private sector, hospitals through any panel network hospital in Pakistan.

Moreover, State Life appreciates the Health Ministry of Balochistan for entrusting it with the responsibility of implementing the universal health insurance program for the people of Balochistan.

Address

Islamabad
46000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when State life Insurance corporation of Pakistan. posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to State life Insurance corporation of Pakistan.:

Share