Money Sharing Techniques

Money Sharing Techniques stationery, toys, gifts, photostate, at shop and online house hold goods (grocery)

28/12/2024
25/12/2024
25/12/2021
26/06/2021

محمد دین پینشنر ۔۔۔۔۔۔
جب میری سروس کے چند آخری سال رہ گئے تو بیٹھے بٹھائے جانے کیا جی میں آئی کہ میں نے جناب ادریس تارڑ صاحب اے جی پنجاب سے درخواست کی کہ مجھے پینشن سیکشن میں تعینات کر دیا جائے۔ میرے ذہن کے کسی کونے کھدرے میں یہ خواہش ضرور تھی کہ میں خود بھی چند سال میں پینشنر بننے والا ہوں تو کیوں نہ سروس کے آخری چند سالوں میں پینشنرز کی خدمت کی جائے ۔ اے جی صاحب نے میری درخواست کو قبول کیا اور مجھے پینشن سیکشن میں تعینات کر دیا۔
مجھے اپنی پوسٹنگ یوں یاد آ گئی کہ اج سوشل میڈیا پر، ایک ریٹائرڈ بیوروکریٹ اپنی سروس کی یادداشتیں بیان کر رھے تھے، اس ضمن میں انہوں نے اپنی محکمہ تعلیم میں پوسٹنگ، کے دوران ایک استانی کی ٹرانسفر کا دلخراش واقعہ سنایا کہ کس طرح وہ خاتون جس کے چھوٹے چھوٹے بچے تھے اور ان کی ٹرانسفر لاہور سے باہر شرقپور کر دی گئی تھی اور وہ اپنی ٹرانسفر کروانے کے لیے ماری ماری پھرتی رہی، لیکن کسی نے اس کی بات نہیں سنی ایک دن وہ جب گورنر پنجاب کی گاڑی کے سامنے لیٹ گئی تو گورنر کی مداخلت پر اس کی ٹرانسفر ہو گئی ۔ لیکن وہ اپنی نئی پوسٹ کا چارج لینے سے ایک دن پہلے اس دنیا سے ہی ٹرانسفر ہو گئی اور اپنے خالق حقیقی سے جا ملی۔ ان صاحب کے بیان کردہ واقعہ کے تناظر میں مجھے پینشن کے لیے آنے والے کئی بزرگ یاد آ گئے ۔ آنے والے بزرگوں کی اکثریت تو اپنی پینشن کے حوالے سے ہی آتی تھی ۔لیکن چند بزرگ اپنے زاتی مسائل بھی بیان کرنا شروع کر دیتے تھے جو میں چپ کر کے سن لیتا تھا کیونکہ میں جانتا تھا کہ سب بزرگ عمر کے اس حصے میں ہیں جہاں بہت سارے زاتی اور گھریلو مسائل پیدا ہو جاتے ہیں اور بزرگ اپنا دکھڑا سنانے کو کسی ھمدرد کی تلاش میں رہتے ہیں۔ کئی بزرگ اپنی اولاد کی بے رخی کا رونا روتے تو کچھ لوگ بچوں کے ھاتھوں ہونے والے زہنی اور جسمانی تشدّد کا زکر کرتے۔ ھرچند ایسے بزرگ تعداد میں بہت کم ہوتے تھے لیکن اس کی بیان کردہ کہانیاں اتنی دلخراش ہوتی تھیں کہ کلیجہ منہ کو آتا تھا ۔ میں نے کبھی ایسا سوچا تو نہیں تھا کہ ان بزرگوں کے بیان کردہ واقعات کو تحریر کروں گا اور ساتھیوں کے ساتھ شئیر کروں گا، لیکن اج "استانی جمیلہ کی کہانی" سن کر سوچا کہ ایک آدھ بزرگ کے متعلق کچھ بیان کیا جا سکتا ھے۔ ھرچند کہ اس میں میری خود نمائی کا پہلو ظاہر ہوتا ھے لیکن ایک امید کا روشن پہلو بھی ھے کہ ھمارے محکمہ کے لوگ شاید اس واقعہ کو پڑھنے کے بعد بزرگوں کی مدد زیادہ جوش وجذبہ سے کرنے لگیں ۔
غالباً 2014 کے آخر یا 2015 کے ابتدائی ایام کا زکر ھے کہ میرے بہت ہی پیارے دوست اور کولیگ، جناب عمران معراج صاحب میرے پاس تشریف لائے، عمران سے میرا تعلق شاید 2003 سے چلا آ رھا ھے جب میں اور وہ کمپیوٹر کوارڈینیشن سیکشن میں اکٹھے کام کرتے تھے۔ بعد میں ھم روٹین سیکشن میں ایک ساتھ کام کرتے رہے ۔برخوردار عمران کے ساتھ سرکاری سے زیادہ زاتی تعلقات ہیں جو الحمد للہ اج بھی اسی محبت اور جذبے کے ساتھ جاری و ساری ہیں ۔ سچی بات تو یہ ھے کہ روٹین سیکشن میں میری 90% کارکردگی کا کریڈٹ جناب عمران معراج، حاجی زبیر حیکم مرحوم اور ان کی ٹیم کو ہی جاتا ھے۔عمران میرے چھوٹے بھائی کا درجہ رکھتا ھے اور اس کی خوبیاں بیان کرنے کو شاید میرے پاس الفاظ نہ ہوں ۔
بات ہو رہی تھی کہ ایک دن عمران میرے پاس تشریف لائے بہت خوش نظر آ رھے تھے ۔ وجہ پوچھی تو بتانے لگے کہ اج میں اپنے والد صاحب کو ساتھ لے کر نیشنل بینک میں ان کی پینشن لینے گیا تھا۔ وھاں کچھ بزرگ، اپنی پنشن کے بارے میں کچھ مسائل کا زکر کر رھے تھے اور اپنی پریشانی کا اظہار کر رھے تھے ۔ ان میں سے ایک بزرگ کہنے لگے کہ اگر اپ کا کام اے جی آفس میں ھے تو وھاں جائیں اور انور شاہد کو مل لیں تمام مسائل حل ہو جائیں گے ۔ عمران کہنے لگے کہ اپ کا زکر اس انداز میں سن کر بہت خوشی ہوئی ۔ میں نے اس بزرگ کا حلیہ دریافت کیا ۔ مجھے وہ بزرگ اور ان کا کیس یاد تھا۔ بزرگوار میرے پاس چند ماہ پہلے تشریف لائے تھے اور بہت پریشان تھے، ان کی پریشانی کی وجوہات اجتک میری سمجھ میں نہیں آئیں کیوں کہ جس انداز میں ھمارے دفتر اور ٹریژری آفس لاہور میں کئی خرابیوں کے باوجود سٹاف، کے ہمدردانہ رویہ ہوتا ھے اس روپے کو دیکھتے ہوئے ناممکن تھا کہ کوئی بابا جی کو اتنا تنگ کرتا اور بابا جی کا انتہائی معمولی کام رک جاتا۔ یہی سمجھ آتی تھی کہ شاید اللہ کو بابا کی کی کوئی آزمائش مقصود تھی۔ اب آتے ہیں بابا جی کے واقعہ کی طرف ۔
سردیوں کے دن تھے کہ میں سیڑھیاں چڑھ کر اپنے کمرے میں جا رھا تھا ۔ سیڑھیوں میں مجھے ایک بزرگوار نظر آئے جن کی عمر عزیز شاید 80 سال کے قریب رہی ہو گی۔ ان کی نظر کچھ زیادہ ہی کمزور تھی اور وہ بمشکل سیڑھیاں چڑھ رھے تھے اور اے جی افس کے بارے میں خالص پنجابی میں کچھ ناقابلِ بیان کلمات ارشاد فرما رھے تھے۔ میں نے انہیں سہارا دے کر سیڑھیاں چڑھائیں اور ان سے مسئلہ دریافت کیا۔ جواب میں انہوں نے مجھے شدید برا بھلا کہا ۔جس پر میں ان کو وہیں چھوڑ کر آگے بڑھ گیا، ایک اور بزرگ جو وھاں کھڑے ہوئے تھے وہ ان کو فرمانے لگے کہ یہاں پر کسی کو اللہ کا خوف نہیں لہذا اپ کی بات کوئی نہیں سنے گا۔ بہتر ھے اپنا دکھ اللہ کو ہی بتاو۔
پتہ نہیں میرے جی میں کیا آئی کہ میں نے اپنے نائب قاصد صابر کو کہا کہ بابا جی کو میرے پاس لے آئیں ۔ جب وہ آ گئے تو میں نے ان کو بٹھایا اور صابر کو کہا بابا جی کو چائے پلائیں ۔ بابا جی سختی سے کہنے لگے میں نے چائے نہیں پینی۔ میں نے بھی بناوٹی غصہ سے کہا کہ کیوں نہیں پینی۔ میں پلا کے رہوں گا۔ جواب میں کہنے لگے میرے پاس چائے کے پیسے نہیں ہیں اس لیے نہیں پیوں گا۔ میں نے مزید بناوٹی غصہ سے کہا کہ میں نے یہاں کنٹین کھول رکھی ھے جو اپ سے پیسے لوں گا؟
بمشکل تمام ان کو چائے پلائی اور مسئلہ پوچھا انہوں نے بتایا کہ ان کا نام محمد دین ھے اور یہ کہ ان کی پینشن بک گم گئی ھے اور ڈیڑھ سال سے ان کو پینشن نہیں ملی۔ پینشن نہ ملنے سے گھر والے جو سلوک ان سے کر رھے تھے وہ انہوں نے مجھے بتایا تو میرا کلیجہ پھٹنے لگا۔ ان کی اولاد کا ان سے سلوک یہاں بیان نہیں کر سکتا۔ اس کے کیس کا جائزہ لیا تو پتہ چلا کہ ڈیڑھ سال پہلے ان کی پی پی او بک گم گئی تھی اور بینک والے کہ رھے تھے کہ ٹریژری افس سے ڈپلیکٹ بک بنوا کر لائیں۔ ٹریژری آفس والے کہتے کہ بینک سے ڈسبرسر ھاف لے کر آئیں جو بینک کے پاس مل نہیں رہی تھی۔ بابا جی بینک والوں کے کہنے پر پولیس رپورٹ بھی لکھوا چکے تھے ۔اور ڈیڑھ سال سے نیشنل بینک ، ٹی او آفس اور اے جی آفس کے درمیان گھوم رھے تھے ۔ میں نے اپنے سنیئر آڈیٹر عارف مرحوم کو بلا کر، پوچھا کہ ھم کیا کر سکتے ہیں؟ اس نے کہا کہ رولز کے مطابق یہ کام ٹی او لاہور نے کرنا ہے ۔ میں نے کہا کہ ٹی او کو پی پی او تو ھم ہی جاری کرتے ہیں تو کیوں نا ڈپلیکٹ پی پی او بھی ھم بنا دیں ۔ عارف نے کہا کہ ھمارے پاس لاسٹ پیمنٹ اور انکریزز کا ریکارڈ نہیں ھے۔ لاسٹ پیمنٹ کا سرٹیفکیٹ تو بابا جی کے پاس موجود کاغذات سے مل گیا جو نیشنل بنک نے جاری کیا ہوا تھا۔ میری درخواست پہ عارف نے جلدی جلدی نئی پی پی او بک اور ڈسبرسر ھاف بنا دیا اور اس پر سب انکریزز بھی لگا دیں ۔ میں نے پی پی او بابا جی کے حوالے کیا اور اس کے بقایا جات کی تفصیلی کیلکولیشن بھی بنا دی۔ انٹرنیٹ سے نیشنل بینک کا فون نمبر لیا اور مینجر سے بات کی اور اسے درخواست کی کہ بابا کی پیمنٹ کرا دیں ۔ مینجر بھلا آدمی تھا اس نے کہا کہ مجھے اس کیس کا پتہ ھے اپ ان کو بھیج دیں کام ہو جائے گا۔
اصل بات اب شروع ہوئی ۔ میں یہ سب کام کر کے نماز کے لیے چلا گیا، واپس آیا تو بابا جی کو سیڑھیوں پر بیٹھا پاپا۔ ان سے پوچھا تو بولے کہ انور شاہد کے پاس جانا ھے، میں نے ان کو بتایا کہ میں ہی ہوں تھوڑی دیر پہلے تو گئے آپ ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے نظر نہیں آتا اس لیے پہچان نہیں سکا۔اسے کمرے میں لے کر آیا۔ تو پوچھا اب کیا مسئلہ ھے۔ بابا جی روتے ہوئے کہنے لگے کہ میں نے لوگوں کو کاغذات دکھائے ہیں سب نے کہا ھے اپ کا کام ہو گیا ھے۔ وہ کہنے لگے یقین نہیں آتا کہ ڈیڑھ سال سے رکا کام ڈیڑھ گھنٹے میں ہو گیا ھے۔ پھر انہوں نے اپنی جیب سے دس روپے نکالے اور کہنے لگے میرے پاس دس روپے ہیں ۔ یہ اپ میری طرف سے تحفہ رکھ لیں میں پیدل باغبانپورہ چلا جاوں گا۔ اب رونے کی میری باری تھی ۔ اج بھی یاد ْآتا ھے تو جانے کیوں انسو نہیں رکتے ۔
میری اپنے افس کے تمام افیسرز اور ساتھیوں سے درخواست ھے کہ کبھی کسی بابے محمد دین کو رونے نہ دینا
انور شاہد آپ کے اس تحریر کے آخر میں میں حقیقتن رو پیرا اللّه اپ کو خوش رکھے آمین

08/05/2021

پاگل ہے انسان مرنے کے لیے
کئی سال تک جیتا رہتا ہے

20/06/2020
Do not loose a chance🥰🥰
19/05/2020

Do not loose a chance🥰🥰

07/04/2020

Stay home stay blessed
Thanks to all who like

27/08/2017
27/08/2017

Trendy n Latest Jewelery

27/08/2017

Variety of Men's STUFF Available Now

Address

CBR PHASE-I
Islamabad
44000

Opening Hours

Monday 09:00 - 21:45
Tuesday 09:00 - 21:45
Wednesday 09:00 - 21:45
Thursday 09:00 - 09:45
Saturday 09:00 - 21:45
18:00 - 21:45
Sunday 09:00 - 21:45

Telephone

5877979

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Money Sharing Techniques posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Money Sharing Techniques:

Share