11/04/2026
سرمایہ کاروں کی جانب سے ایرانی ریال بھاری مقدار میں خریدنے اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے بیس لاکھ ڈالر کا ٹول ٹیکس خریدنے کے سبب ایرانی ریال کی قدر جنگ کے باوجود کم ہونے کے بجائے بڑھ گئی۔
ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک بوستان نے
بی بی سی
کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ جنگ سے پہلے ایک کروڑ ایرانی ریال 2500 روپے میں مل جاتے تھے لیکن اب ایک کروڑ ایرانی ریال 10 ہزار پاکستان روپے میں مل رہے ہیں، لوگوں کا خیال ہے کہ جنگ جلد ختم ہوگی اور ایران پر عائد پابندیاں بھی اٹھ جائیں گی جس کے بعد ایرانی ریال کی قدر میں بڑا اضافہ ہوگا اسی وجہ سے لوگ بڑی مقدار میں ایرانی کرنسی خرید رہے ہیں اور سرمایہ کاری کررہے ہیں۔
ملک بوستان کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے بیس لاکھ ڈالر کا ٹول ٹیکس وصول کرنے کا اقدام بھی ایرانی کرنسی کی مضبوطی کا باعث بنا ہے،ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو ایرانی ریال اور چینی یوآن میں ٹول ادا کرنے کا کہا ہے جس کا ایرانی کرنسی پر مثبت پڑا ہے اور اس کی قدر میں کافی زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے پاکستانی روپیہ کے مقابلے میں ایرانی ریال کی قیمت میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جنگ شروع ہوئے تاحال ایک ماہ سے زائد کا وقت گزر چکا ہے۔
ایرانی ریال میں انوسٹمنٹ کرنا ایک اچھی شارٹ ٹرم انوسٹمنٹ ہو سکتی ہے، کیونکہ اس کی قدر میں حال ہی میں اضافہ ہوا ہے۔ ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول ٹیکس لینے کے اعلان کے بعد ایرانی ریال کی قدر میں 400 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ایک کروڑ ایرانی ریال جو پہلے 2500 روپے میں ملتے تھے، اب 10 ہزار روپے میں خریدے جا رہے ہیں۔
*ایرانی ریال میں انوسٹمنٹ کے فوائد:*
- *قدر میں اضافہ*: ایرانی ریال کی قدر میں اضافہ ہونے کی توقع ہے، جو انوسٹمنٹ کے لیے اچھا ہے۔
- *پابندیاں ختم ہونے کی امید*: ایران پر عائد پابندیاں ختم ہونے کی امید ہے، جس سے ایرانی ریال کی قدر میں مزید اضافہ ہوگا۔
- *آبنائے ہرمز سے ٹول ٹیکس*: ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول ٹیکس لینے سے ایرانی ریال کی قدر میں اضافہ ہوا ہے۔
Western Union Islamabad