23/07/2026
🛒 بغیر این ٹی این / غیر فعال ٹیکس دہندہ سے سامان کی خریداری — کاروباری افراد کے لیے اہم ٹیکس نکتہ
کیا آپ اپنے کاروبار کے لیے ایسے شخص سے سامان خریدتے ہیں جس کے پاس این ٹی این نہیں یا جس کا نام فعال ٹیکس دہندگان کی فہرست (ATL) میں شامل نہیں؟
اگر ایسا ہے تو یہ معاملہ آپ کی قابلِ ٹیکس کاروباری آمدن اور انکم ٹیکس پر براہِ راست اثر ڈال سکتا ہے۔
📌 متعلقہ قانونی شق:
انکم ٹیکس آرڈیننس، 2001 کی دفعہ 21(q) کے تحت، مقررہ حالات میں ایسے شخص سے خریدے گئے سامان پر کیے گئے اخراجات کا 10 فیصد قابلِ ٹیکس کاروباری آمدن کا حساب لگاتے وقت بطور خرچ منظور نہیں کیا جاتا، جو فعال ٹیکس دہندگان کی فہرست میں شامل نہ ہو یا مطلوبہ ٹیکس رجسٹریشن نہ رکھتا ہو۔
💰 اس کا عملی اثر کیا ہوگا؟
اگر کسی کاروبار نے ایسے فروخت کنندہ سے ایک کروڑ روپے کا سامان خریدا، تو:
کل خریداری: 1,00,00,000 روپے
10 فیصد ناقابلِ قبول خرچ: 10,00,000 روپے
یعنی دس لاکھ روپے کا خرچ ٹیکس کے حساب میں قابلِ قبول نہیں ہوگا، جس کے نتیجے میں کاروبار کی قابلِ ٹیکس آمدن میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
مثال کے طور پر، اگر قابلِ اطلاق انکم ٹیکس کی شرح 29 فیصد فرض کی جائے تو:
اضافی ٹیکس اثر = 10,00,000 × 29٪ = 2,90,000 روپے
یعنی بظاہر ایک معمول کی خریداری کاروبار کے لیے 2 لاکھ 90 ہزار روپے تک اضافی ٹیکس لاگت پیدا کرسکتی ہے۔
⚠️ کیا اس پر الگ سے جرمانہ بھی عائد ہوتا ہے؟
صرف اس بنیاد پر کہ سامان کسی بغیر این ٹی این یا غیر فعال ٹیکس دہندہ سے خریدا گیا ہے، دفعہ 21(q) کا بنیادی نتیجہ خریداری کے متعلقہ اخراجات کے 10 فیصد کی عدم منظوری ہے، نہ کہ بذاتِ خود کوئی الگ جرمانہ۔
البتہ کسی مخصوص معاملے میں دیگر قانونی دفعات، استثنائی صورتیں اور حقائق بھی قابلِ غور ہوسکتے ہیں۔
✅ کاروباری اداروں کے لیے اہم سبق
خریداری کرتے وقت صرف قیمت اور معیار دیکھنا کافی نہیں۔ فروخت کنندہ کی ٹیکس حیثیت، این ٹی این اور فعال ٹیکس دہندگان کی فہرست میں موجودگی کی بروقت جانچ بھی ضروری ہے۔ معمولی سی عدم توجہی سال کے اختتام پر قابلِ ٹیکس آمدن اور ٹیکس واجبات میں غیر متوقع اضافہ کرسکتی ہے۔
یاد رکھیے:
> درست فروخت کنندہ کا انتخاب صرف کاروباری فیصلہ نہیں، ایک اہم ٹیکس فیصلہ بھی ہے۔
دستبرداری: یہ تحریر عمومی آگاہی کے لیے ہے۔ کسی مخصوص معاملے میں فیصلہ کرنے سے پہلے متعلقہ قانون، تازہ ترین ترامیم اور اپنے ٹیکس مشیر سے پیشہ ورانہ رائے ضرور حاصل کریں۔