23/05/2026
📢 زمین خریدنے جا رہے ہیں؟ پٹواری کی ان 7 اصطلاحات کو سمجھیں، ورنہ بڑا نقصان ہو سکتا ہے! 🛑
اکثر لوگ زمین خریدتے وقت صرف پیسے اور جگہ دیکھتے ہیں، لیکن سرکاری کاغذات (فرد اور انتقال) میں لکھی اصطلاحات نہ سمجھنے کی وجہ سے بعد میں عدالتوں کے چکر کاٹتے پھرتے ہیں۔
آج ہم آپ کو انتہائی آسان الفاظ میں بتائیں گے کہ کھیوٹ، کھتونی اور خسرہ نمبر میں کیا فرق ہے، تاکہ آپ کسی بھی دھوکے سے بچ سکیں۔
📏 سب سے پہلے ایک اہم ترین بات (شہریوں کے لیے):
لاہور، اسلام آباد اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں 225 اسکوائر فٹ کا ایک مرلہ ہوتا ہے، جبکہ دیہاتوں میں یہ پیمائش مختلف ہو سکتی ہے۔ (پیمائش کا مکمل چارٹ نیچے تصویر میں دیکھیں 👇)
📑 زمین کے ریکارڈ کی 7 اہم اصطلاحات:
1️⃣ موضع (Village/Area):
یہ ایک بڑا یونٹ ہوتا ہے جو عموماً ایک بڑے گاؤں یا چند چھوٹے دیہات کو ملا کر بنایا جاتا ہے۔ زمین کا ریکارڈ ہمیشہ اسی موضع کے نام سے شروع ہوتا ہے۔
2️⃣ کھیوٹ نمبر (Khawat Number):
جب موضع بنتا ہے تو اس میں کئی خاندانوں کی زمین ہوتی ہے۔ زمین کو گروپس میں تقسیم کرنے کے لیے "کھیوٹ نمبر" دیا جاتا ہے۔
⚠️ یاد رکھیں: جب زمین فروخت ہوتی ہے، تو کھیوٹ نمبر تبدیل ہو سکتا ہے۔
3️⃣ کھتونی نمبر (Khatuni Number):
ایک کھیوٹ کے اندر کئی مالکان ہو سکتے ہیں۔ کس مالک کے پاس کتنی زمین ہے، یہ جاننے کے لیے ہر حصہ دار کو ایک "کھتونی نمبر" دیا جاتا ہے۔
⚠️ یہ نمبر بھی زمین کی خرید و فروخت پر تبدیل ہوتا رہتا ہے۔
4️⃣ خسرہ نمبر (Khasra Number) - سب سے اہم!
ایک کھتونی میں موجود ہر ایکڑ (کھیت) کو ایک مخصوص اور مستقل نمبر دیا جاتا ہے، جسے خسرہ نمبر کہتے ہیں۔
✅ یہ نمبر کبھی تبدیل نہیں ہوتا! اس میں کھیت کی چاروں طرف کی لمبائی اور چوڑائی بھی لکھی ہوتی ہے۔
5️⃣ مساوی یا شجرہ (Latha):
یہ پورے موضع (گاؤں/علاقے) کا کپڑے پر بنا ہوا نقشہ ہوتا ہے جس پر ہر کھیت، راستہ اور کنواں وغیرہ واضح طور پر پٹواری کے پاس درج ہوتا ہے۔
6️⃣ جمعبندی (Jamabandi):
یہ وہ مین رجسٹر ہے جس میں کس کھیوٹ، کھتونی اور خسرہ کا کون مالک ہے اور اس پر کاشت کون کر رہا ہے، سب لکھا ہوتا ہے۔ آپ کی "فرد" اسی رجسٹر سے نکلتی ہے۔
7️⃣ گردوری (Girdawari):
پٹواری سال میں دو بار موقع پر جا کر دیکھتا ہے کہ زمین پر کون سی فصل کاشت کی گئی ہے اور کون کر رہا ہے، اسے گردوری کہتے ہیں۔
💡 زمین خریدتے وقت سب سے بڑی غلطی اور پٹوار کا دھوکہ! (ضرور پڑھیں)
فرض کریں ایک شخص 2 ایکڑ کا مالک ہے۔ ایک ایکڑ کا خسرہ نمبر 50 ہے اور دوسرے کا خسرہ نمبر 100۔ آپ کو "خسرہ نمبر 50" والی زمین پسند آئی اور آپ نے سودا کر لیا۔
❌ غلطی: اگر پٹواری نے آپ کو پورے رقبے کی کھیوٹ سے فرد نکال کر دی اور آپ کے نام 1 ایکڑ منتقل کر دیا، تو قانوناً آپ دونوں ایکڑز (50 اور 100) میں آدھے آدھے ایکڑ کے مالک بن جائیں گے۔ کل کو اس مالک کے بچے آپ کو آپ کی پسندیدہ زمین سے بے دخل کر سکتے ہیں۔
✅ صحیح طریقہ: ہمیشہ مخصوص خسرہ نمبر (مثلاً خسرہ نمبر 50) کی فرد مانگیں اور اسی کی بنیاد پر رجسٹری یا انتقال کروائیں۔ تاکہ مستقبل میں کوئی جھگڑا نہ ہو۔
✍️ کیا آپ کو کبھی زمین کے معاملات میں پٹواری یا ریکارڈ کی وجہ سے پریشانی کا سامنا کرنا پڑا؟ کمنٹس میں اپنی کہانی شیئر کریں!
👉 مزید ایسی معلوماتی ویڈیوز اور پوسٹس کے لیے ہمارے پیج کو Like اور اپنے دوستوں کی بھلائی کے لیے Share ضرور کریں۔