05/06/2025
جب دل اللہ کی یاد میں ڈوب جائے، تو نہ مال کی فکر رہتی ہے، نہ دنیا کی۔یہ ایک ایسا لمحہ تھا جب حضرت ابراہیمؑ کا دل محبوبِ حقیقی کی ثنا سن کر بے قرار ہو اٹھا۔
یہ عشق کی وہ معراج ہے جہاں ایک ایک جملہ سننے کے لیے پوری دنیا لٹا دینے کا جذبہ جاگ اٹھتا ہے۔
ایک مرتبہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی بکریوں کا ریوڑ چرا رہے تھے کہ ایک آدمی قریب سے گزرا۔ گزرتے ہوئے اس نے اللہ تعالیٰ کی شان میں یہ الفاظ ذرا بلند آواز سے کہے۔ ’’سبحان ذی الملک و الملکوت سبحان ذی العزۃ و العظمۃ الھیبۃ و القدرۃ و الکبریاء و الجبروت‘‘ پاک ہے وہ زمین کی بادشاہی اور آسمان کی بادشاہی والا‘ پاک ہے وہ عزت بزرگی‘ ہیبت اور قدرت والا اور بڑائی و دبدبے والا ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب اپنے محبوب حقیقی کی تعریف اتنے پیارے الفاظ میں سنی تو دل مچل اٹھا۔ فرمایا کہ اے بھائی یہ الفاظ ایک مرتبہ اور کہہ دینا۔ اس نے کہا کہ مجھے اس کے بدلے کیا دیں گے۔ آپؓ نے فرمایا آدھا ریوڑ۔ اس نے یہ الفاظ دوبارہ کہہ دیئے آپ کو اتنا مزہ آیا کہ بے قرار ہو کر فرمایا اے بھائی یہ الفاظ ایک مرتبہ پھر کہہ دیجئے۔ اس نے کہا اب مجھے اس کے بدلے کیا دیں گے۔ فرمایا بقیہ آدھا ریورڑ۔ اس نے یہ الفاظ سہہ بارہ کہہ دیئے آپ کو اتنا سرور ملا کہ بے ساختہ کہا اے بھائی! یہ الفاظ ایک مرتبہ اور کہہ دیجئے اس نے کہا اب تو آپ کے پاس دینے کیلئے کچھ بچا نہیں اب آپ کیا دیں گے۔ فرمایا اے بھائی میں تیری بکریاں چرایا کروں گا تم ایک مرتبہ میرے محبوب کی تعریف اور کر دو۔ اس نے کہا حضرت ابراہیم خلیل اللہ آپ کو مبارک ہو میں تو فرشتہ ہوں مجھے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے کہ جاؤ اور میرا نام لو اور دیکھو کہ وہ میرے نام کے کیا دام لگاتا ہے۔
(عشق الہی ص٣١
یہ حضرت ابراہیمؑ ہیں... جن کا ہر عمل، ہر قربانی، رہتی دنیا تک امتِ مسلمہ کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
یہ وہی خلیل اللہ ہیں جن کا عشق اتنا سچا تھا کہ رب نے اُن کی یاد کو "قربانی" کی صورت میں قیامت تک زندہ رکھا۔
راہِ عشق پر چلنے والوں کے لیے یہ پیغام ہے کہ جس دل میں اللہ بستا ہو، وہاں دنیا کی کوئی چیز قیمتی نہیں رہتی۔
💖 راہِ عشق کا پیغام:
جو رب کی یاد میں سب کچھ قربان کر دے،
وہی خلیل بنتا ہے،
اور جو خلیل کے راستے پر چلے،
وہی راہِ عشق کا مسافر بنتا ہے...