25/08/2026
تحریر: ملک آفتاب
یہ ایک اچانک ہونے والا واقعہ ہے نہ اس کا عمران خان سے تعلق ہے نہ پی ٹی آئی سے، یہ کوئی پی ٹی آئی کا احتجاج تو تھا نہیں لہذا اس واقعے کا کسی بھی پارٹی سے تعلق جوڑنا پرلے درجے کی زیادتی ہے اور دانشورانہ بد دیانتی ہے، مشتعل طلباء کے درمیان کوئی بھی کسی بھی زمانے میں بد تمیزی کرے یا اکڑ دکھائے اسے چپیڑیں پڑتی ہی ہیں، یہاں تک یہ ایک معمول کا نہ سہی مگر غیر معمولی واقعہ ہر گز نہ تھا۔
جو لوگ بھی تھوڑا سا تاریخ سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ خود قائد اعظم کو 1948 میں ڈھاکہ یونیورسٹی میں دھینگا مشتی کا سامنا تو کرنا پڑا مگر ان پر آوازے کسے گئے، اسی ڈھاکہ یونیورسٹی میں سید سلیمان ندوی جیسے عالم کے ساتھ باقاعدہ بد تمیزی اور دھینگا مشتی ہوئی اور انہیں کھینچ کر سٹیج سے اتارا گیا، پنجاب یونیورسٹی میں ذوالفقار علی بھٹو اور عمران خان کے ساتھ بد تمیزی کے واقعات پیش آئے، 2017,18 میں پنجاب یونیورسٹی میں باقاعدہ پولیس افسر زخمی ہوئے اور پولیس کی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا، ایسے کئی واقعات گنے جا سکتے ہیں۔
اس لیے کسی یونیورسٹی میں کسی بھی افسر کے ساتھ بد تمیزی ہونا یا گالم گلوچ ہونا کوئی حیرت انگیز واقعہ نہیں، ساری دنیا میں یونیورسٹیوں میں ایسے واقعات ہو جاتے ہیں آپ سوچیں قائد اعظم، بھٹو، عمران، سید سلیمان ندوی جیسے لوگوں کا کیا مقام ہے اور ان کے فالوورز کتنی بڑی تعداد میں ہیں، لیکن کبھی کسی نے سوچا بھی نہیں کہ طلباء پر گولیاں چلا کر ان کو سبق سکھایا جائے، حتیٰ کہ پولیس افسران کے زخمی ہونے کے بعد بھی کوئی اس حد تک نہیں پہنچا ۔