ELITE TAX CARE

ELITE TAX CARE PROFESSIONAL SERVICES INCOME TAX, SALES TAX ,AUDIT PROCEEDINGS,APPEALS AND REVENUE MATTERS

29/07/2026

**چھوٹے دکانداروں کے لیے بڑی خوشخبری: ایف بی آر نے SRO 1166(I)/2026 جاری کر دیا**

پاکستان میں چھوٹے کاروبار اور دکاندار ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی سہولت اور کاروباری ماحول کو آسان بنانے کے لیے وفاقی حکومت اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے **SRO 1166(I)/2026** کے ذریعے ایک نیا اور آسان **"اسپیشل پروسیجر فار سمال شاپ کیپرز"** متعارف کرایا ہے۔

اس اسکیم کا مقصد چھوٹے دکانداروں کو پیچیدہ ٹیکس نظام سے نکال کر ایک سادہ، قابلِ فہم اور کاروبار دوست طریقہ کار فراہم کرنا ہے تاکہ وہ آسانی سے ٹیکس نظام کا حصہ بن سکیں۔

**اہم خصوصیات کیا ہیں؟**

🔹 یہ اسکیم ایسے انفرادی دکانداروں کے لیے ہے جن کا سالانہ کاروبار **20 کروڑ روپے (200 ملین روپے)** تک ہو۔

🔹 اسکیم مکمل طور پر **رضاکارانہ (Voluntary)** ہے۔ دکاندار چاہیں تو اس خصوصی طریقہ کار کے تحت ٹیکس ادا کریں یا معمول کے مطابق انکم ٹیکس ریٹرن فائل کریں۔

🔹 اہل دکانداروں کے لیے **POS سسٹم لگانا لازمی نہیں ہوگا۔**

🔹 **ڈیجیٹل انوائسنگ کی شرط بھی لاگو نہیں ہوگی۔**

🔹 خریداریوں پر **ودہولڈنگ ٹیکس کاٹنے کی ذمہ داری نہیں ہوگی۔**

🔹 عام حالات میں **آڈٹ نہیں کیا جائے گا**، البتہ غیر معمولی لین دین یا ٹیکس سے بچنے کی واضح کوشش کی صورت میں کارروائی کی جا سکتی ہے۔

🔹 دکانداروں کے لیے **سادہ اور مختصر ایک صفحے کا ریٹرن** متعارف کرایا گیا ہے جو اردو اور علاقائی زبانوں میں بھی دستیاب ہوگا۔

**ٹیکس کی شرح کیا ہوگی؟**

اس خصوصی اسکیم کے تحت دکاندار اپنے **مجموعی ٹرن اوور کا صرف 1 فیصد** ٹیکس ادا کریں گے۔ اس سے ٹیکس کا حساب کتاب آسان ہوگا اور کاروباری طبقے کو غیر ضروری پیچیدگیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

**رجسٹریشن کیسے ہوگی؟**

دکاندار FBR کے **IRIS پورٹل، موبائل ایپلیکیشن** یا قریبی ٹیکس دفتر کے ذریعے آسانی سے رجسٹریشن کروا سکیں گے۔

**اس اقدام کی اہمیت**

کاروباری برادری طویل عرصے سے ایک ایسے ٹیکس نظام کا مطالبہ کر رہی تھی جو چھوٹے تاجروں کے لیے آسان، شفاف اور قابلِ عمل ہو۔ SRO 1166(I)/2026 اسی سمت میں ایک اہم قدم ہے جس سے نہ صرف ٹیکس نیٹ میں اضافہ ہوگا بلکہ چھوٹے دکانداروں کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔

ایف بی آر کے مطابق اس اسکیم سے چھوٹے تاجروں کو کاروبار پر توجہ دینے کا موقع ملے گا جبکہ ٹیکس نظام میں شمولیت بھی آسان اور دوستانہ انداز میں ممکن ہوگی۔

**آئیں، ایک مضبوط، دستاویزی اور ترقی یافتہ معیشت کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔**

26/07/2026

2026 انکم ٹیکس ریٹرن فائلنگ: ایف بی آر نے نئے
دستاویزی تقاضے متعارف کرا دیے

ریٹرن فائلنگ کا آغاز 27 جولائی 2026 سے ہوگا
پاکستانی اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ٹیکس دہندگان کے لیے 2026 کی انکم ٹیکس ریٹرن فائلنگ کا عمل مزید تکنیکی بنا دیا گیا ہے۔ ریٹرن کی درست فائلنگ اور ممکنہ اعتراضات یا مسترد ہونے سے بچنے کے لیے مختلف آمدنی، اثاثہ جات اور لین دین سے متعلق اضافی معلومات اور
دستاویزات فراہم کرنا ضروری ہوں گی۔

اہم دستاویزی تقاضے درج ذیل ہیں:
🔹 تنخواہ کی آمدن (Salary Income)
تنخواہ ظاہر کرنے والے افراد کو اپنے آجر (Employer) کا نام، شناختی کارڈ نمبر اور NTN فراہم کرنا ہوگا۔ ایف بی آر سسٹم آجر کی رجسٹریشن کی تصدیق کرے گا۔

🔹 بیرونِ ملک سے موصول ہونے والی ترسیلات زر (Foreign Remittances)
بیرونِ ملک سے آنے والی رقم کے لیے بھیجنے والے کا NTN، رشتہ (Relationship) اور بینک کا جاری کردہ PRC (Proceeds Realization Certificate) فراہم کرنا ہوگا۔
ویسٹرن یونین یا دیگر ایکسچینج کمپنیوں کے ذریعے موصول ہونے والی رقم کے لیے ان کیشمنٹ رسید محفوظ رکھنا ضروری ہوگا تاکہ متعلقہ ٹیکس سہولت حاصل کی جا سکے۔

🔹 قرضہ جات (Loans)
موصول ہونے والے قرضوں کے لیے قرض دینے والے شخص کا نام اور NTN ظاہر کرنا ہوگا۔
🔹 یوٹیلیٹی اور موبائل ٹیکس سرٹیفکیٹس
بجلی، پانی، انٹرنیٹ اور موبائل سروسز کے ٹیکس سرٹیفکیٹس حاصل کرنا ہوں گے۔
بجلی کے ٹیکس سرٹیفکیٹس متعلقہ کمپنی کے آن لائن پورٹل سے جبکہ موبائل ٹیکس سرٹیفکیٹس متعلقہ موبائل کمپنی کی ایپ سے حاصل کیے جا سکیں گے۔

🔹 وراثتی اثاثے (Inheritance)
وراثت میں حاصل ہونے والے اثاثوں کے لیے مرحوم شخص کا نام اور NTN فراہم کرنا ہوگا تاکہ سسٹم تصدیق کر سکے۔

🔹 جائیداد اور گاڑیوں کے لین دین
یکم جولائی 2025 سے 30 جون 2026 تک خریدی یا فروخت کی گئی جائیداد کے لیے:

▪ خرید و فروخت کا معاہدہ
▪ ودہولڈنگ ٹیکس چالان (236C، 236K)
▪ سیل ڈیڈ کی کاپی
فراہم کرنا ضروری ہوگا۔

گاڑیوں کے لین دین میں ماڈل، رنگ اور قیمت کی تفصیلات درج کرنا ہوں گی۔ گاڑی کی فروخت پر کیپیٹل گین ٹیکس لاگو نہیں ہوتا، تاہم خریداری کے وقت ادا شدہ ایڈوانس ودہولڈنگ ٹیکس کا ریکارڈ رکھنا ضروری ہوگا تاکہ ایڈجسٹمنٹ کی جا سکے۔

🔹 سرمایہ کاری اور انشورنس
لائف انشورنس پریمیم اور جائیداد کی اقساط کی ادائیگیوں کو اثاثہ جات کی تفصیلات میں شامل کرنا ہوگا۔
⚖️ ماہرین کے مطابق:

2026 کی ریٹرن فائلنگ میں معلومات کی جانچ پڑتال کا نظام مزید سخت ہو گیا ہے، اس لیے ٹیکس دہندگان کو بروقت تمام متعلقہ ریکارڈ، سرٹیفکیٹس اور دستاویزات مکمل کر لینی چاہئیں تاکہ ریٹرن فائلنگ میں مشکلات سے بچا

13/06/2026

بجٹ 2026-27:
ٹیکس اور پراپرٹی ریلیف کی بڑی تفصیلات۔

✔ تنخواہ دار افراد کے لیے انکم ٹیکس میں کمی
6 لاکھ تک آمدن پر کوئی ٹیکس نہیں
6 سے 12 لاکھ پر 1%
12 سے 22 لاکھ پر 6,000 + 11%
22 سے 32 لاکھ پر 116,000 + 20%
32 سے 41 لاکھ پر 316,000 + 25%
41 سے 56 لاکھ پر 541,000 + 29%
56 سے 70 لاکھ پر 976,000 + 32%
70 لاکھ سے اوپر 35%
اہم بات: 35% ٹیکس اب 41 لاکھ کے بجائے 70 لاکھ سے شروع ہوگا۔

✔ پراپرٹی پر سیکشن 7E ختم کرنے کی تجویز
✔ پراپرٹی خرید و فروخت ٹیکس میں کمی
فروخت کنندہ: 2.75% فلیٹ
خریدار: 1.5% فلیٹ

✔ سپر ٹیکس میں کمی
50 کروڑ تک ختم
50 کروڑ سے اوپر 10% سے کم کرکے 8%

✔ ایکسپورٹرز کے لیے ریلیف
ٹیکس 2% سے کم کرکے 1.25%

✔ بیرون ملک کارڈ استعمال پر ٹیکس
5% سے کم کرکے 0.5%

✔ آئی ٹی ایکسپورٹرز کے لیے 0.25% ٹیکس 2029 تک جاری رکھنے کی تجویز

✔ بیرون ملک اثاثوں پر CVT ختم

نئے ٹیکس اقدامات
✔ یوٹیوب، فیس بک، ٹک ٹاک آمدن پر نیا ٹیکس نظام

✔ ہول سیلرز اور ڈسٹری بیوٹرز پر ٹیکس 0.25% سے 0.5%
✔ سروسز پر ودہولڈنگ ٹیکس میں تبدیلی
✔ ای سگریٹ پر ٹیکس 10,000 سے بڑھا کر 16,500 فی کلو
✔ لگژری گاڑیوں پر اضافی ٹیکس

✔ پٹرولیم مصنوعات پر نئی ایکسائز ڈیوٹی

سیلز ٹیکس تبدیلیاں

✔ میگزین اور سینیٹری ٹیمپونز ٹیکس فری

✔ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایت 2027 تک

✔ 20 کروڑ سے زیادہ ٹرن اوور والا ریٹیلر Tier-1 ہوگا

✔ مزید اشیا پر سخت ٹیکس وصولی

کسٹمز ڈیوٹی میں بڑی کمی

✔ 20% سے 10-15%

✔ 15% اور 10% کو 5-10%

✔ 5% کو زیرو کرنے کی تجویز

✔ زرعی مشینری پر تمام ڈیوٹیز ختم

✔ کینسر ادویات کے خام مال پر ڈیوٹی ختم

✔ تعمیراتی گاڑیوں پر ڈیوٹی کم

دیگر اہم اقدامات

✔ بیرون ملک سفر پر ٹیکس کم

۔✔ Sports drinks پر FED ختم

✔ بینک ڈیٹا اور ٹیکس سسٹم لنک ہوگا

۔✔ FBR کا faceless نظام لایا جا رہا ہے

✔ کمپنیوں کو الیکٹرانک فائلنگ لازمی ہوگی

یہ بجٹ عوام، کاروبار اور پراپرٹی سیکٹر کے لیے بڑی تبدیلیاں لے کر آ

16/07/2025

ہوم ریمٹنس (Home Remittance) پر ٹیکس چھوٹ: قانون، شرائط اور اعلیٰ عدالتوں کے فیصلے - قسط نمبر 5
ابتدائی تعارف:
پاکستان میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانی جب اپنے اہل خانہ کو رقم بھیجتے ہیں تو اُسے ہوم ریمٹنس کہا جاتا ہے۔ اس پر عمومی طور پر کوئی انکم ٹیکس نہیں لگتا، لیکن یہ چھوٹ کچھ شرائط سے مشروط ہے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) 5 ملین روپے سالانہ تک موصول ہونے والی Remittance پر ذرائع آمدن (source) نہیں پوچھتا، لیکن اگر رقم اس حد سے تجاوز کرے تو FBR دستاویزات مانگنے یا پوچھ گچھ کا حق رکھتا ہے۔
مزید برآں، FBR اس بات کا بھی جائزہ لیتا ہے کہ رقم بھیجنے والا (Remitter) قریبی خونی رشتہ دار ہے یا کوئی بے نامی شخص۔
قانونی بنیاد – سیکشن 111(4)، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001
سیکشن 111(4) کے مطابق:
“اگر کوئی شخص بینکاری ذرائع سے غیر ملکی زرِ مبادلہ حاصل کرے اور شیڈول بینک سے انکیش کروا کر اس کا سرٹیفکیٹ پیش کرے، تو وہ رقم آمدنی تصور نہیں ہوگی، اور اس پر ٹیکس نہیں لگے گا۔”

قانونی چھوٹ حاصل کرنے کی شرائط:
بینکاری ذریعہ
رقم پاکستان میں کسی تسلیم شدہ بینک (Scheduled Bank) کے ذریعے آئے
Encashment
رقم پاکستانی روپے میں تبدیل کی جائے
PRC سرٹیفکیٹ
Proceeds Realization Certificate لازمی حاصل کیا جائے
حد
5 ملین روپے سالانہ تک FBR ذریعہ نہیں پوچھے گا
اضافی دستاویزات
5 ملین سے زائد رقم کی صورت میں Remitter کی شناخت، رشتہ داری، CNIC یا Passport کی کاپی، بیرونِ ملک ملازمت کا ثبوت پیش کیا جا سکتا ہے.

کون ہونا چاہیے Remitter
FBR درج ذیل خونی رشتہ داروں یا قریبی فیملی ممبرز سے بھیجی گئی Remittance کو قابل قبول سمجھتا ہے:
والد، والدہ
بیٹا، بیٹی
بہن، بھائی
شریکِ حیات
اگر کوئی غیر متعلقہ فرد remittance بھیج رہا ہے تو FBR پوچھ سکتا ہے کہ رقم کی نوعیت کیا ہے۔

اہم عدالتی نظائر (Expanded Case Laws):
1. Army Welfare Sugar Mills Ltd. v. Federation of Pakistan (1992 SCMR 1652)
فورم: سپریم کورٹ آف پاکستان
خلاصہ:
عدالت نے فیصلہ دیا کہ ٹیکس سے متعلق کسی بھی چھوٹ کے لیے قانون میں دی گئی شرائط کو مکمل طور پر پورا کرنا لازم ہے۔ اگر کوئی ٹیکس دہندہ قانونی تقاضے پورے کیے بغیر چھوٹ کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ دعویٰ قابل قبول نہیں۔ اس کیس میں FBR کا مؤقف تھا کہ remittance کا ذریعہ اور طریقہ شفاف نہیں تھا۔
2. CIR v. Ameer Abdullah Khan Rokhari (PTR No.83 of 2012
فورم: لاہور ہائی کورٹ
خلاصہ:
اس کیس میں ٹیکس دہندہ نے ہوم ریمٹنس کو ظاہر کیا اور اس کے ساتھ بینک سے جاری کردہ PRC بھی فراہم کیا۔ عدالت نے FBR کے اعتراضات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ جب تمام تقاضے مکمل ہوں تو صرف شک کی بنیاد پر remittance کو آمدنی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
3. Civil Petition No. 2100/2024
فورم: سپریم کورٹ آف پاکستان
خلاصہ:
FBR نے ایک شہری کو 6 ملین روپے کی ریمٹنس پر نوٹس جاری کیا۔ شہری نے remitter کے شناختی دستاویزات، PRC اور SWIFT تفصیلات فراہم کیں۔ عدالت نے FBR کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے شہری کو ریلیف دیا اور قرار دیا کہ اگر remittance کا قانونی ثبوت ہو تو FBR اس پر سوال نہیں اٹھا سکتا۔

اہم نکات (Takeaways):
ہوم ریمٹنس پر ٹیکس سے چھوٹ صرف اسی وقت حاصل کی جا سکتی ہے جب وہ بینکنگ چینل سے ہو اور PRC موجود ہو؛
خونی رشتہ داروں سے موصول شدہ رقوم پر FBR نسبتاً کم اعتراض کرتا ہے؛
5 ملین روپے سے کم کی ریمٹنس پر ذرائع کا سوال نہیں کیا جاتا، بشرطیکہ ثبوت مکمل ہو؛
عدالتی نظائر FBR کو پابند کرتے ہیں کہ وہ شواہد کی بنیاد پر کارروائی کرے نہ کہ شک کی بنیاد پر۔
اختتامیہ:
ہوم ریمٹنس پر ٹیکس سے چھوٹ ایک بڑی سہولت ہے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ تمام قانونی تقاضے مکمل کیے جائیں۔ Encashment Certificate اور remitter کی تفصیلات مکمل ہوں تو FBR کو قانونی طور پر اعتراض کا کوئی جواز نہیں رہتا۔ ٹیکس دہندگان کو چاہیے کہ وہ PRC کو محفوظ رکھیں اور سالانہ 5 ملین سے زائد ریمٹنس کی صورت میں اضافی دستاویزات تیار رکھیں۔

16/07/2025

⚖️ سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ: ایف بی آر ’’سزا دینے والی ایجنسی‘‘ نہیں بن سکتا!

📢 کاروباری طبقے اور ٹیکس گزاروں کے لیے بڑی خوشخبری!

سپریم کورٹ نے واضح کر دیا:
✅ اب ایف بی آر کسی کا بینک اکاؤنٹ راتوں رات خالی نہیں کر سکے گا!
ریکوری کا عمل ’’grab and go‘‘ نہیں بلکہ شفاف، قانونی اور منصفانہ ہونا ضروری ہے۔

✅ اہم نکات:

🔹 ٹیکس حکام سزا دینے والی ایجنسی کے طور پر کام نہیں کر سکتے۔
🔹 سیکشن 140 کے تحت فوری ریکوری یا بینک اکاؤنٹ فریز کرنا غیر قانونی ہے۔
🔹 ریکوری سے پہلے ٹیکس دہندہ کو مناسب وقت، اطلاع اور قانونی شنوائی دینا لازم ہے۔
🔹 فوری ریکوری کاروباری ساکھ اور شہری وقار کے خلاف ہے۔
🔹 سپریم کورٹ: “ٹیکس وصولی کا مقصد پکڑ دھکڑ نہیں، بلکہ قانون کے مطابق شفاف عمل ہے۔”

📌 کیس ریفرنس:
Pakistan LNG Limited & Serene Air (Pvt) Ltd vs Commissioner Inland Revenue (Legal)
سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے 16 اپریل اور 24 جون 2024 کے فیصلے کو برقرار رکھا۔

بینچ:

جسٹس منیب اختر (سربراہ)

جسٹس عائشہ اے ملک (فیصلہ تحریر)

جسٹس شاہد وحید

📚 قانونی حوالہ:
Income Tax Ordinance 2001 – Section 140
(ریکوری آف ٹیکس)

✅ اہم مثال:

پاکستان ایل این جی لمیٹڈ سے Rs. 2.9 بلین اور سیرین ایئر سے Rs. 1.8 بلین کی فوری ریکوری کالعدم۔

بینک اکاؤنٹس سے نکالی گئی رقم واپس کرنے کا حکم۔۔۔

📌 سپریم کورٹ کا دوٹوک پیغام:
“ٹیکس حکام کا رویہ شہری حقوق اور کاروباری وقار کو مجروح نہیں کر سکتا۔ ہر ریکوری سے پہلے واضح اطلاع، وقت اور طریقہ کار ضروری ہے۔”

🖊️
آصف بیگ ٹیکس کنسلٹنٹ —
📞 03061313562

11/07/2025

ٹیکس ریٹرن فائلنگ 2025 میں اہم تبدیلی!
اب پن کوڈ کی بجائے ویریفکیشن کوڈ آئے گا!
ایف بی آر نے ٹیکس ریٹرن کی تصدیق کے طریقہ کار میں تبدیلی کر دی ہے۔
اب ٹیکس دہندگان کو پن کی جگہ رجسٹرڈ موبائل نمبر پر ویریفکیشن کوڈ موصول ہوگا، جس کے بعد ریٹرن جمع ہو سکے گا۔

اس تبدیلی سے کام کے دنوں میں مشکلات بڑھ سکتی ہیں، خاص طور پر جب ٹیکس دہندگان کی بڑی تعداد سسٹم میں داخل ہو رہی ہو۔

اپڈیٹ رہیں، بروقت فائل کریں، اور کسی بھی پریشانی سے بچنے کے لیے اپنا موبائل نمبر درست رکھیں۔

پنجاب حکومت نے یکم جولائی 2025 سے صوبے بھر میں 'ستھرا پنجاب' منصوبے کے تحت Garbage ٹیکس وصول کرنے کا اعلان کیا ہے۔ صوبائ...
28/06/2025

پنجاب حکومت نے یکم جولائی 2025 سے صوبے بھر میں 'ستھرا پنجاب' منصوبے کے تحت Garbage ٹیکس وصول کرنے کا اعلان کیا ہے۔
صوبائی کابینہ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے خزانہ اور ترقی نے اس منصوبے کی منظوری دی ہے، جس پر ابتدائی طور پر 200 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔

اہم نکات (Garbage Tax کی تفصیلات):

دیہی علاقوں (Rural Areas) میں:

2 سے 5 مرلہ کا گھر: 200 روپے ماہانہ

10 مرلہ یا اس سے زائد: 400 روپے ماہانہ

چھوٹے کاروبار: 300 روپے

درمیانے کاروبار: 700 روپے

بڑے کاروبار / فیکٹریاں / صنعتیں: 1,000 روپے ماہانہ

شہری علاقوں (Urban Areas) میں:

5 مرلہ تک گھر: 300 روپے

5 سے 10 مرلہ: 500 روپے

10 مرلہ سے 1 کنال: 1,000 روپے

1 سے 2 کنال: 2,000 روپے

2 کنال سے زائد: 5,000 روپے ماہانہ

تجارتی مقامات (Commercial Areas):

دوکانیں: 500 روپے

درمیانے کاروبار: 1,000 روپے

فیکٹریاں، صنعتیں، بڑے کاروبار: 3,000 روپے ماہانہ

نوٹ:-

لاہور اور دیگر شہروں کی کچی آبادیوں (Informal Settlements) کے رہائشی اس ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گے۔

27/06/2025

اگر کسی گھر کے بچے آپکی عزت نہیں کرتے تو سمجھ جائیں اس گھر کے بڑے آپکی غیر موجودگی میں آپکو اچھے الفاظ سے یاد نہیں کرتے..!

21/06/2025

نان فائلرز کے لیے بینکوں سے کیش نکلوانے کی حد 50 ہزار روپے سے بڑھا کر 75 ہزار روپے کرنے کی تجویز منظور

نان فائلرز پر یومیہ 75 ہزار روپے نکلوانے پر ودہولڈنگ ٹیکس 0.6 فیصد سے بڑھا کر 0.8 فیصد کرنے کی تجویز منظور

آمدن سے زیادہ بینکاری لین دین کرنے والے افراد کا ڈیٹا بینکوں سے لینے کی تجویز منظور

تنخواہ دار طبقے پر انکم ٹیکس کی ردو بدل کی تجویز منظور

6 لاکھ سے 12 لاکھ سالانہ آمدن پر ٹیکس 2.5 فیصد سے کم کرکے ایک فیصد کرنے کی تجویز منظور

کارپوریٹ سیکٹر پر سپر ٹیکس میں 0.5 فیصد کمی کی تجویز منظور

کرنٹ اکاؤنٹ میں ہائی ٹرانزیکشنز کرنے والوں کا ریڈ فلیگ جاری کیا جائے گا، چیئرمین ایف بی آر

09/07/2024

Address

SAMAN ABAD OPPOSITE SUB DIVISIONAL COURTS
Gojra
36120

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ELITE TAX CARE posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category