27/07/2019
ایک امریکی سٹریٹجسٹ کا کہنا ھے کہ کوئی یہ مت سوچے کہ خمینی نے انقلاب برپا کرکے امریکہ سے ایک اڈہ چھین لیا اور امریکہ کو تیل سے محروم کردیا۔۔۔ھرگز نہیں بلکہ اس شخص نے ھماری 300سال کی محنت پر پانی پھیر دیا ھے
اس نے ھماری آئیڈیالوجی پر سوالیہ نشان لگا دیا ھے۔ھم نے تین صدیوں کی سخت محنت کے بعد پوری دنیا کو اپنی آئیڈیالوجی کے تابع کرلیا تھا اور اب ھم اپنے نیوورلڈآرڈر اور دنیا کو واحدسیاسی،
اقتصادی،اورثقافتی نظام کے ذریعے ایک Global village میں بدلنے کی تیاریاں کررھے تھےاورEnd of history کے نظریے کو دنیاکے مسلم عقیدے میں بدلناچاہ رھے تھے کہ۔۔۔۔ اچانک خمینی میدان میں آ گیا اور اس نے ھمارے تمام
"اصول موضوعہ"کو ایک ایک کرکے مخدوش کردیا۔۔اس نے ھمیں کہا کہ ایک وہ دن تھا کہ جب تم سوشل تھیوریاں لکھتے تھے اور پوری دنیا ان تھیوریوں پروحی سمجھ کرعمل کرتی تھی اورتمھاری تھیوریوں سے ھٹ کرسوچنے کو گناہ کبیرہ تصورکرتی تھی۔۔لیکن اب وہ دن گئے۔۔۔آج کے بعدھم عمل کریں گے اور تم ھمارے عمل کو دیکھ کرتھیوریاں لکھنا۔۔۔۔اس نے اپنے انقلاب کے ذریعے ھماری ساری تھیوریاں باطل کردیں ھم نے کیپیٹلزم کے ذریعے دنیا کو ترقی یافتہ اور غیر ترقی یافتہ میں تقسیم کیاتھا۔۔۔اس نے آکر دنیا کو مستکبرین ومستضعفین میں تقسیم کرکے ھمارے خلاف عالمی جنگ کا آغاز کردیا ھم نے دنیا کو جمھوریت اورانسان کی انسان پر حکومت کادرس دیاتھا اس نے آکر خداکی حکومت کانعرہ لگادیا ھم نے اصالت منفعت
(utilitiarism )
کا درس دیا تھا تواس نے زھد،ایثار،تقوی کادرس دیا ھم نے دنیاکوانتہاپسندی سے نجات دینے کے لئے پلورل ازم اور tolerance کا درس دیا تو اس نے آکرحق و باطل کا نعرہ لگادیا ھم نے دنیا کو عالمی طاقتوں کے سامنے تسلیم کرنے کے لئے(Realism ) کا درس دیا لیکن اس نے آکر عالمی طاقتوں کے ساتھ جہاد،مبارزہ اور شہادت کا درس دیا ھم نے دنیا والوں کومہذب بنانے کے لئے ان کوعالمی ڈپلومیسی کے قوانین کا پابند بننے کے درس دیا تھا لیکن خمینی نے ڈپلومیسی کے سارے قوانین اپنے پاؤں تلے روند کر سلمان رشدی کے قتل کا فتوی دے دیا
ھم نے دنیا کو جمھوریت کا درس دیا اورھر شخص کواپنی رائے اورووٹ کا حق عطا کیا تھا لیکن اس شخص نے آکر اس کو عقل،اخلاق، عدالت کی توھین قراردیا اورسوال اٹھایا کہ کیاعالم اورجاھل،صالح اور فاسق رائے کے لحاظ سے برابرھوسکتے ھیں؟؟؟
ھم نے دنیا والوں کویہ باور کرادیا تھا کہ دین کی ڈیٹ ایکسپائرھوچکی ھے اوراب دین کازمانہ نہیں رھا لیکن اس نے دین کی بنیاد پر انقلاب برپا کرکے ھمیں دنیاسے آنکھ ملانے کے قابل نہیں چھوڑاھے
ھم نے دنیا کو امیریکن گلوبلائزیشن کے پرچم تلے جمع کیاتھالیکن اس شخص نے آکر"گلوبلائزیشن مھدوی"کاپرچم بلندکردیا
ھم نے دنیاکوسمجھایاتھا
کہ تاریخ پرجبرحاکم ھے اورموجودہ حالات کے مقابلے میں ھرقسم کی مزاحمت ایک عبث کوشش ھے لیکن اس شخص نے دنیاکے اٹھائیس سے زیادہ ممالک کوانقلاب کے خطرے سے دوچارکردیاھے