StateLife insurance Corporation Of Pakistan Area 4849 DGK

StateLife insurance Corporation Of Pakistan Area 4849 DGK Save life with care Collect savings for life That's The only way of Insurance planing

اسٹیٹ لائف انشورنس خوشیوں کا خیال تحفّظ کے ساتھ ۔ ۔ ۔ تو آج ہی اسٹیٹ لائف انشورنس کی بیمہ پالیسی لے کر اپنے پیاروں کا مس...
30/09/2022

اسٹیٹ لائف انشورنس خوشیوں کا خیال تحفّظ کے ساتھ ۔ ۔ ۔
تو آج ہی اسٹیٹ لائف انشورنس کی بیمہ پالیسی لے کر اپنے پیاروں کا مستقبل محفوظ بنائیں ۔ ۔
0333-3109293

0333310929303421829293 ڈی جی خان مظفر گڑھ کوٹ چھٹہ جام پور
08/09/2022

03333109293
03421829293
ڈی جی خان مظفر گڑھ کوٹ چھٹہ جام پور

29/08/2022
29/08/2022
27/08/2020

Atractive salery
Parmotion Opartunity

22/04/2020

1994 میں بے نظیر بھٹو نے پاکستان کی تاریخ کے سب سے مہنگے بجلی کے پراجیکٹس ورلڈ بینک کی مدد سے طے کرکے پاکستان کی بربادی کی بنیاد رکھی-یہ بجلی کے منصوبے آئی پی پیز کے نام سے شروع کیے گئے اور اس وقت ان میں ساری کی ساری فارن فنڈنگ شامل تھی- اور یہ منصوبہ شروع کرتے وقت یہ طے ہوا کہ ہر 10 سال کے بعد ٹائم ٹو ٹائم پالیسی میں تبدیلیاں کی جاسکے گی چنانچہ ان مہنگے منصوبوں کی وجہ سے پاکستان میں واپڈا نے سارے پراجیکٹس بند کردیئے اور صرف ایک غازی بروتھا کے علاوہ کوئی منصوبہ مکمل نہ ہوسکا-

آئی پی پیز کے اس منصوبے میں یہ شرائط شامل تھیں کہ ان کمپنیوں کو 17 فیصد منافع لازمی دیا جائے گا اور یہ کمپنیاں جو بنائی گی حکومت کو وہ خریدنا پڑے گا- اورانکی پیمنٹ یعنی ادایئگیوں کا طریقہ کار ڈالر میں طے کیا گیا- چونکہ اس وقت یہ ساری انویسٹمینٹ ڈالرز میں تھی لہذا پیمنٹ ڈالر میں بھی ہوتی تو اتنا ایشو نہیں تھا-لیکن پھر بھی یہ ایک مہنگا منصوبہ تھا اور بے نظیر حکومت نے یہ ایگری مینٹ کرکے پاکستان کے انرجی سیکٹر کا بیڑا غرق کردیا-

2002 میں مشرف کے دور میں لوکل آئی پی پیز نے بھی اس میں انویسٹمینٹ شروع کی تو چونکہ لوکل آئی پی پیز نے اپنی انویسٹمینٹ روپوں میں کرنی تھی تو تو لہذا انکی پیمینٹس بھی روپوں میں ہونی چاہیے تھی لیکن ان لوکل آئی پی پیز یہاں ایک گیم چلائی اور انہوں نے ایک پروپوزل بنا کر مشرف کو دی کہ ہماری پیمنٹس ڈالر میں کی جائے-اور حیرت انگیز طور پر ان کی یہ پروپوزل منظور ہوگئی- اس طرح ان کمپنیوں کا 17 فیصد منافع سے بڑھ کر 32 فیصد پر چلاگیا-

مشرف حکومت کو احساس ہوا انہوں نے 2003 میں پیمنٹس کے طریقہ کار کو ڈالر سے تبدیل کرکے دوبارہ روپوں میں کردیا-اور یوں معاملات سیٹ ہوگئے- پھر 2007 اور 2008 میں دوبارہ پالیسی میں تبدیلی کی گئی اور تبدیلی کرکے پیمنٹس کو پھر روپوں سے ڈالر میں تبدیل کردیا گیا- اور پھر زرداری کے دور میں ہم نے بدترین بجلی کا بحران دیکھا- گردشی قرضے 450 ارب سے سے زائد کے ہوگئے- اب یہ پیسے ان کمپنیوں کو اگر آرام سے دیئے جاتے تو اپوزیشن نے شور مچانا تھا کہ ان کمپنیوں کو مفت میں پیسے دیئے جارہے لہذا بجلی کا بحران پیدا کیا جاتا- عوام تڑپتی کہ انکو پیسے کیوں نہیں دیتے-پیسے دو جان چھڑاؤ- اور یوں بجلی کا بدترین بحران پیدا ہوتا اور یہ لوگ ان کمپنیوں کو پیسے دیتے- اور پھر بجلی کا دورنیہ 18 گھنٹے سے کم ہوکر 12 یا 10 گھنٹوں پر آجاتا- ن لیگ بھی اس پر خاموش رہی کیونکہ ان کمپنیوں میں سے کچھ ن لیگ کے جاننے والے تھے اور کچھ پی پی کے- لہذا دونوں نے اندر کھاتے قوم کو چونا لگائے رکھا-

اس کے بعد ن لیگ کی حکومت آئی ن لیگ کی حکومت نے بھی اس پر کوئی کام نہیں کیا بلکہ اسحاق ڈار نے ان کمپنیوں کی ادائیگیوں کا آڈٹ کرانے کی بجائے رسیدوں کی فوٹو کاپیوں پر انکے واجبات ادا کردیئے اور یہ 450 ارب روپے کی ادایئگی تھی- دنیا میں یہ ایک ریکارڈ تھا کہ اسحاق ڈار نے 450 ارب روپے کی ادایئگی فوٹو کاپی رسیدوں پر کی- جس پر آڈیٹر جنرل نے اعتراض اٹھایا اور یوں آڈیٹر جنرل کو ہی اس کے عہدے سے ہٹادیا گیا- ن لیگ پر پریشر بنا تو ن لیگ نے یہاں ایک ٹیکنیکل گیم چلی- ن لیگ نے سب کا منہ بند کرنے کے لیئے آئی پی پیز کا آڈٹ کرنے کا فیصلہ کیا- لیکن اندر کھاتے آڈٹ کمپنیوں کے ساتھ گیم فکس ہوچکی تھی لہذا جیسے ہی ن لیگ نے ان کمپنیوں کا آڈٹ کا نوٹیفیکیشن جاری کیا اسی دن یہ آئی پی پیز کمپنیاں لاہور ہایئکورٹ سے جا کر اس نوٹیفیکیشن کے خلاف سٹے لے آتی ہیں اور 2015 کے بعد 2018 یعنی ن لیگ کی حکومت میں نہ تو وہ کیس لاہور ہایئکورٹ میں دوبارہ لگا- اور نہ ہی ن لیگ کی حکومت نے اس پر کوئی لاہور ہایئکورٹ یا سپریم کورٹ میں کسی قسم کی درخواست دائر کی- بلکہ اس سٹے پر ان کمپنیوں کو زائد ادایئگی کرتی رہی-

یوں ن لیگ نے عدالت کے کندھے پر بندوق رکھ کر کمپنیوں کو بھی پیسہ دیا اور خود بھی اس سے پیسہ بنایا- 2014 میں 10 سال مکمل ہوچکے تھے اور قانونی طور پر ن لیگ ان آئی پی پیز کے ساتھ کیئے گئے معاہدوں میں تبدیلی کرسکتی تھی لیکن ن لیگ نے اس معاہدے کو نہیں چھیڑا- اور نہ ہی اس میں کوئی تبدیلی کی بلکہ اسکو ایسے ہی چلنے دیا- یہ ن لیگ کی تیسری نااہلی تھی- عمران خان کی حکومت آئی ان آئی پی پیز کمپنیوں کی سرسری سی رپورٹ عمران خان کو پیش کی گئی-

اس رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا کہ آئی پی پیز کمپنیاں ٹیکنیکل طریقے سے پاکستان کے قومی خزانے کو چونا لگارہی ہیں- وہ رپورٹ ان 4 پوائینٹس پر مشتمل تھی1- تیل کی چوری۔ 2- پر یونٹ کاسٹ بہت مہنگی ہے- 3- شرائط طے ہوتے وقت منافع کی شرح 17 فیصد طے ہوئی لیکن یہ اب 70 فیصد منافع کما رہے ہیں 4- پلانٹس کا آڈٹ کرنے کی اجازت نہی دی جارہی-

یہ سارے پوائنٹس ایک الیکٹریکل انجنیئر کو آسانی سے سمجھ آگئے ہونگے لیکن آپ کی آسانی کے لیے اس کو دیسی الفاظ میں سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں-جس پلانٹ پر الیکٹریسٹی پیدا کی جاتی اس کی ایفی شینسی ان میں سے کسی کمپنی نے 45 فیصد سے زیادہ نہیں بتائی- جبکہ اداروں کی رپورٹس کے مطابق انکی ایفی شینسی تقریبا 60 فیصد کے آس پاس ہے- اور یوں یہ کمپنیاں تیل 45 فیصد ایفی شینسی کے لحاظ سے لیکر اوپر کے 15 فیصد تیل کا چونا لگاتی ہیں-او کئی برسوں سے یہ چونا لگارہی ہیں- یہ تیل کی چوری ہے- اس کے بعد اس پلانٹس سے بننے والے یونٹ کی کاسٹ تقریبا 22 سے 24 روپے کی پڑتی ہے- لہذا حکومت کو اس پر سبسڈی دینی پڑتی ہے- اور یہ مہنگے ترین یونٹس ہیں جو پاکستان کو خریدنے پڑرہے ہیں-

آئی پی پیز کمپنیوں کا منافع 17 فیصد طے ہوا تھا لیکن وہ منافع اس وقت 70 فیصد پر پنچ چکا ہے-اور یوں ایک جھٹکا سے حساب کے مطابق 160 ملین ڈالر پر پلانٹ سالانہ منافع یہ کمپنیاں کما رہی ہیں اور اگر سب آئی پی پیز کا حساب لگایئں تو یہ تقریبا ٹوٹل 200 ارب روپے سے زائد کا چونا اس قوم کو ہر سال لگ رہا ہے- اور ہمارا گردشی قرضہ اس وقت پی ٹی آئی کی حکومت نے 68 ارب ماہانہ سے کم کرکے تقریبا 20 ارب ماہانہ کے آس پاس لایا جاچکا ہے-اور اگر 200 ارب روپے سے زائد جو منافع فری میں یہ کمپنیاں وصول کررہی ہیں وہ ختم ہوجائے تو ہمارا گردشی قرضہ کم ہو کر 5 ارب ماہانہ سے بھی کم پر آجائے گا-

اب چونکہ پتہ تھا کہ عمران خان ان کمپنیوں کے ن لیگ کے ساتھ ملی بھگت کرکے لاہور ہایئکورٹ والے سٹے کو ختم کرکے اس کا فیصلہ جلدی لینا چاہتا ہے تو ان کمپنیوں نے حکومت سے عدالت سے باہر سیٹلمینٹ کرنے کی کوششیں تیز کردی-آپ پچھلے 5، 6 مہینوں کی اخبار اور ان آئی پی پیز کمپنیوں کے حکومت کے ساتھ مذاکرات ملاحظہ کرلیں- اسی دوران عمران خان نے اس پر انکوائری کمیشن بٹھادیا-اس انکوائری کمیشن کو تقریبا 8 مہینے انکوائری کرنے میں لگے-اور یوں انہوں نے 268 صفحوں کی ایک رپورٹ بنائی-

حضور یہ ہیں وہ ذرائع جہاں سے ہم نے اپنے فرنٹ مینوں کو فائدے دیکر ان سے اپنے بیرون ملک اکاؤنٹس میں پیسے منگوائے یا پھر اپنے الیکشنوں کے خرچے ان سے کروائے- جو بغضیئے کے ای ایس کے ایک انویسٹر کو اس میں انوالو کرکے پی ٹی آئی کو بدنام کرنے کی کوشش کررہے انکو بتاتا چلوں کہ کے ای ایس سی کو سندھ حکومت نے پچھلے 10 سالوں کے دوران جس طرح کھایا اور نقصان پہنچایا ہے اگر اس کی آڈٹ رپورٹ بھی آگئی تو حکومت سندھ کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے گی-

ابھی یہ فی الحال آئی پی پیز کمپنیوں کی آڈٹ رپورٹ ہے- لیکن بغضیئوں کو آپ اس پر ن لیگ اور پی پی کی مذمت کرتا نہیں دیکھیں گے بلکہ یہ حرام خور یہ کہتے ہوئے نظر آیئں گے کہ آئی پی پیز میں پی ٹی آئی کے 2 الفاظ "آئی اور پی" آتے ہیں لہذا اس کا قصور وار بھی عمران خان ہے- میرے ملک کو ایسے ایسے لوٹا گیا-

تحریر: عاصم چوہدری

31دسمبر تک اسٹیٹ لائف انشورنس کمپنی کی کسی بھی قسم کی پالیسی حاصل کریں اور حاصل دگنا فائدہ
06/12/2019

31دسمبر تک اسٹیٹ لائف انشورنس کمپنی کی کسی بھی قسم کی پالیسی حاصل کریں اور حاصل دگنا فائدہ

کومت پنجاب نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے ذریعہ ہونے والے غیر انسانی مظالم کے پیش نظر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کو...
04/12/2019

کومت پنجاب نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے ذریعہ ہونے والے غیر انسانی مظالم کے پیش نظر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے سامنے پیش کرنے کے لئے ’ملین دستخطوں مہم‘ کی درخواست کا آغاز کیا ہے۔ 10 ستمبر 2019 (یوم انسانی حقوق) کے موقع پر صوبہ بھر میں شروع کی گئی یہ مہم اقوام متحدہ کے سامنے پیش کی جائے گی تاکہ بھارتی مظالم کے خلاف ہمارا سخت احتجاج درج کیا جاسکے ، اور کشمیر کے حق خودارادیت کی حمایت کی جاسکے۔ ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ درخواست پر دستخط کرکے آپ کی حمایت کا وعدہ کریں۔ آپ کا دستخط قابل قدر ہے اور اس سے حقیقی فرق پڑتا ہے۔ براہ کرم دوسروں کی بھی حوصلہ افزائی کریں اور اپنا دستخط درج کرائی
https://kashmircommittee.punjab.gov.pk/

اپنی سیونگز میں اضافہ کریں ' اسٹیٹ لائف کے ساتھ انویسٹ کریں ۔ پاکستان میں انویسٹمنٹ کا سب سے قابل اعتماد ادارہ ۔ہر مہینے...
27/11/2019

اپنی سیونگز میں اضافہ کریں ' اسٹیٹ لائف کے ساتھ انویسٹ کریں ۔ پاکستان میں انویسٹمنٹ کا سب سے قابل اعتماد ادارہ ۔

ہر مہینے 8000 روپے انویسٹ کریں اور 7،400،000 ٹیکس فری میچورٹی پہ حاصل کریں.

Guaranteed Return Backed by Government of Pakistan

Address

Dera Ghazi Khan

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when StateLife insurance Corporation Of Pakistan Area 4849 DGK posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to StateLife insurance Corporation Of Pakistan Area 4849 DGK:

Share