03/05/2018
چوآ سیدن شاہ (ملک عظمت حیات سے ) ظالم قادیانیوں کی حکومتی حمایت اور بے گناہ مسلمانوں پر ظلم و ستم کھل کر عوام کے سامنے آ چکی ہے نبی اکرم ﷺ سے محبت اور ختم نبوت کے نعرے لگانے والے سانحہ دوالمیال کے مسلمان متاثرین کو کیوں بھول گئے ہیں ۔حکومت وقت سے ڈر یا وجہ کوئی اور ۔سانحہ دوالمیال کے متاثرین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تحفظ ختم نبوت ﷺ کے دعوے کرنے والے علماء اور دیگر معززین سانحہ دوالمیال کے متاثرین کا ساتھ دینے سے قاصر ہیں اور شاید اس سانحہ کو بھول گئے ہیں ۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ قتل اور اقدام قتل کے مجرم آزاد ہیں جبکہ لاٹھیوں اور ڈنڈوں والے ڈیڑھ سال سے پابند سلاسل ہیں جن کا کوئی پرسان حال نہیں۔موعید شاہ ، توقیر شاہ ، حفیظ الرحمان ، جلیل احمد ،راحت طارق ، عثمان اعظم ، وحید واپڈا ساکن دوالمیال ابھی تک جیل میں قید ہیں ۔مسلم لیگ ن کی مقامی قیادت ایم پی اے ، ایم این ایز نے بھی ذاتی دلچسپی نہیں لی اگر مقامی قیادت مسلمانوں کا ساتھ دیتی تو شاید آج یہ بے گناہ مسلمان اپنے گھروں میں بچوں کے ساتھ ہوتے ۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں غیر مسلموں اور دجالوں کی صف میں شمولیت کرنے والوں کو تحفظ جبکہ بے گناہ مسلمانوں کو ڈیڑھ سال سے جیل میں بند کیا ہوا ہے ۔ تحفظ ختم نبوت ﷺ کا جھنڈا تھامے بے گناہ مسلمان آج بھی ان جیلوں میں قید ہیں جبکہ تحفظ ختم نبوت ﷺ کے دعویدار علماء اور دیگر مذہبی قائدین اس معاملے کو سنگین نہیں لے رہے اور چپ سادھ کر بیٹھے ہیں ۔ سانحہ دوالمیال کے متاثرین نے کہا کہ اب ہم مذہبی قائدین اور دیگرضلعی حکومت سے بھی نا امید ہیں ۔سانحہ دوالمیال میں مسلمانوں پر ظلم و ستم اور ان کو جیلوں میں بند کرنا و دیگر جو بھی ہو رہا ہے تمام حقائق حکومت کے سامنے ہیں اس معاملے سے یہی لگتا ہے کہ حکومت نے قسم کھا لی ہے کہ مسلمانوں کے قادیانیوں کے سامنے سر جھکانے ہیں ۔اس درد ناک واقعہ پر علمائے کرام اور مذہبی قائدین کوچاہیئے کہ تحریک چلائیں اور متحد ہو جائیں تا کہ مسلمانوں میں ہمت اور جراء ت کے جذبات بلند ہوں اور سانحہ دوالمیال کے مظلوموں کو تختہ مشق ہونے سے بچایا جائے۔