18/06/2024
تمہیں میں دوست کہتی تھی
تمہیں اپنا سمجھتی تھی
عجب اک خوش گمانی سی مجھے دن رات رہتی تھی
کہ تم بھی دوست ہو میرے
مجھے اپنا سمجھتے ہو
مرے ہونے نہ ہونے سے تمہیں بھی فرق پڑتا ہے
مگر میں آج سمجھی ہوں کہ ایسا رابطہ ہی کب تھا
بہت ہی تلخ ہے لیکن مجھے یہ بات کہنی ہے
مری وہ خوش گمانی مر گئی ہے آج سینے میں
مجھے معلوم ہے آنسو مری پوروں پہ مہکیں گے
میں اجڑی آرزوؤں کے کئی نوحے بھی لکھوں گی
مگر میں کیا کروں شاید یہی قسمت میں لکھاہے
بہت نادان ہو تم بھی
بہت خوش فہم رہتے ہو
تمہیں یہ علم ہی کب ہے
کہ غم بے اعتنائی کا
ہر اک غم سے بڑا غم ہے
اور اس حیرت بھرے غم کی جو شدّت ہے
سمجھ لو وہ کسی ـ’’سوری‘‘سے کم ہو ہی نہیں سکتی
یہ ایسا زخم ہے جو لاکھ چاہیں بھر نہیں سکتا
یہ ایسے اشک ہیں جو لاکھ چاہیں رو نہیں سکتے
یہ وہ پودا ہے کہ جو کاٹنے سے اور بڑھتا ہے
تمہیں یہ علم ہی کب ہے
مرے اندر جو ٹوٹا ہے وہ واپس جڑ نہیں سکتا
مری وہ خوش گمانی پھر سے زندہ ہو نہیں سکتی
مجھے تم سے یہ کہنا ہے
تمہارا اور میرا ساتھ بس اتنا ہی تھا شاید
تمہارے ساتھ گذرے وقت کو میں یاد رکھوں گی
کسی بھی بات سے میری تمہارا دل دکھا ہو تو
مجھے تم معاف کر دینا💔