11/02/2026
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (PAC) کی تاریخ میں جنید اکبر خان صاحب کی کارکردگی ایک روشن مثال ہے۔ جہاں ماضی میں PAC کو سیاسی مفادات اور فائلیں دبانے کے لیے استعمال کیا گیا، وہیں جنید اکبر نے اسے غریب دشمن پالیسیوں اور کرپشن کے خلاف ایک ڈھال بنا دیا ہے۔ یہی حکومت جو ہر روز ہمارے اوپر کوئی نہ کوئی ظلم کر رہی ہوتی ہے اِسی کمیٹی کے ذریعے ہم ان کا اِحتساب کر سکتے ہے PAC کا چیئرمین ہونا تحریک انصاف کے لیے ایک ایسا "احتسابی ہتھیار" ہے جو حکومت کو دن رات جوابدہ بنا سکتا ہے۔
حقائق پر مبنی چند بڑی کامیابیاں:
اوّل تو جنید اکبر صاحب نے اس قانون کو چیلنج کیا جس کے تحت 200 یونٹ سے ایک یونٹ اوپر جانے پر غریب صارف کو 6 ماہ تک بھاری جرمانہ دینا پڑتا تھا۔ انہوں نے اسے "عوامی دشمنی" قرار دے کر تبدیلی کا حکم دیا۔
دوسرا یہ کہ جنید اکبر صاحب نے 877 ارب روپے کے نادہندگان کی فہرستیں نکالیں اور ڈسکوز (DISCOs) کے افسران کی مفت بجلی اور کرپشن پر سخت گرفت کی۔
تیسراوہ قومی خزانے کو اربوں کا چونا لگانے والے مافیا کے خلاف ڈٹ گئے۔ انہوں نے درآمدی گندم میں خرد برد اور شوگر ملز کو ملنے والی غیر قانونی رعایتوں پر دو ٹوک سوالات اٹھائے۔
چوتھا ترقیاتی منصوبوں میں کرپشن پر داسو ہائیڈرو پاور جیسے بڑے منصوبوں میں اربوں روپے کی بدانتظامی اور تاخیر پر خاموش رہنے کے بجائے کیسز کو براہِ راست NAB اور FIA کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔
جنید اکبر خان نے ثابت کیا کہ اگر نیت صاف ہو تو ادارہ طاقتور ہوتا ہے۔ ماضی کے "مک مکا" کے برعکس، انہوں نے ثابت کیا کہ کپتان کا سپاہی صرف عوام کے پیسے کا چوکیدار ہوتا ہے۔شفقت ایاز