Raja Shahzaib Tax & Legal Services

Raja Shahzaib Tax & Legal Services Tax Problems? Legal Confusion? We Handle It Professionally. NTN • Tax Filing • Sales Tax • Company Registration • Legal Drafting
Serving Across Pakistan 🇵🇰

Raja Shahzaib Tax & Legal Services
16/06/2026

Raja Shahzaib Tax & Legal Services

پنجاب میں زمینوں کی رجسٹری کا نیا طریقہ کارNew Process of Property Sale Deed in PunjabRaja Shahzaib Tax & Legal Services
30/05/2026

پنجاب میں زمینوں کی رجسٹری کا نیا طریقہ کار
New Process of Property Sale Deed in Punjab
Raja Shahzaib Tax & Legal Services

27/05/2026
21/05/2026

ایف بی آر کا بوتل بند پانی تیار کرنے والی کمپنیوں کیلئے نیا حکم نامہ جاری۔۔۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے سیلز ٹیکس جنرل آرڈر (STGO) 2026 جاری کرتے ہوئے تمام بوتل بند پانی تیار اور پیک کرنے والی کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر Electronic Production Monitoring System نصب کریں۔

اس سسٹم میں بارکوڈ اسکینر، کاؤنٹنگ سینسر، IP کیمرہ، PLC، LED ڈسپلے، UPS اور دیگر جدید آلات شامل ہوں گے جبکہ تمام ڈیٹا حقیقی وقت میں ایف بی آر کے سنٹرل کنٹرول یونٹ کو منتقل کیا جائے گا۔

ایف بی آر نے تمام متعلقہ رجسٹرڈ افراد کو ہدایت دی ہے کہ 15 جون 2026 تک اس سسٹم کی تنصیب مکمل کریں۔

اس اقدام کا مقصد بوتل بند پانی کی پیداوار کی نگرانی، ٹیکس شفافیت اور قانونی تقاضوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے
Raja Shahzaib Tax & Legal Services

ٹیکس کی دنیا میں بڑا دھماکہ: پنجاب حکومت کا راتوں رات نیا قانون نافذ! کاروباری طبقے اور عوام کے لیے بڑی خبر! پنجاب حکومت...
20/05/2026

ٹیکس کی دنیا میں بڑا دھماکہ: پنجاب حکومت کا راتوں رات نیا قانون نافذ! کاروباری طبقے اور عوام کے لیے بڑی خبر!

پنجاب حکومت نے ٹیکس کے نظام کو آسان اور بہتر
بنانے کے لیے ایک نیا قانون پاس کیا ہے، جسے **"دی پنجاب سیلز ٹیکس آن سروسز (امینڈمنٹ) ایکٹ 2026"** کا نام دیا گیا ہے۔ یہ قانون 14 مئی 2026 سے پورے پنجاب میں لاگو ہو چکا ہے۔ اس کا مقصد پرانے ٹیکس قانون (2012) میں تبدیلیاں کر کے اسے وقت کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہے۔
سب سے پہلی بڑی تبدیلی یہ کی گئی ہے کہ پنجاب ریونیو اتھارٹی (PRA) کو اب نئے ضوابط اور رولز بنانے کے زیادہ قانونی اختیارات دے دیے گئے ہیں، تاکہ وہ ٹیکس کے معاملات کو زیادہ اچھے طریقے سے چلا سکے۔
اس نئے قانون میں مختلف سروسز (خدمات) پر ٹیکس کی حد کو بالکل واضح کر دیا گیا ہے:
* **فون اور انٹرنیٹ (ٹیلی کمیونیکیشن) سروسز:** ان پر ٹیکس کی حد **ساڑھے انیس فیصد (19.5%)** رکھی گئی ہے۔
* **سامان کی ترسیل (ٹرانسپورٹ):** ریل یا سڑک کے ذریعے سامان ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجنے کی سروس پر ٹیکس کی حد **پندرہ فیصد (15%)** ہوگی۔
* **باقی تمام سروسز:** ان دونوں کے علاوہ جتنی بھی سروسز ہیں، ان پر ٹیکس کی حد **سولہ فیصد (16%)** مقرر کی گئی ہے۔
قانون کو زیادہ سخت اور فعال بنانے کے لیے محکمہ جاتی عہدوں میں بھی تبدیلی کی گئی ہے۔ اب پرانے عہدے "اسسٹنٹ کمشنر" کی جگہ **"انفورسمنٹ آفیسر یا آڈٹ آفیسر"** کام کریں گے، جن کا کام ٹیکس کی وصولی اور حساب کتاب کی کڑی نگرانی کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ، انفرادی افسران کے بجائے اب زیادہ تر بڑے اختیارات براہِ راست "اتھارٹی" کے پاس ہوں گے۔
اس قانون کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ اب پنجاب ریونیو اتھارٹی کو زیادہ خود مختاری دے دی گئی ہے۔ نئے رولز بنانے یا ٹیکس کے نظام کو بہتر کرنے کے لیے اب اتھارٹی کو بار بار حکومت سے منظوری لینے کے طویل طریقہ کار کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا، بلکہ وہ خود فوری فیصلے کر سکے گی۔ یہ تمام ترامیم سیکرٹری جنرل چوہدری عامر حبیب کے دستخطوں کے ساتھ جاری کی گئی ہیں تاکہ صوبے میں ٹیکس کا نظام تیز رفتار اور شفاف ہو سکے۔

انفارمیشن اچھی لگے تو لائک ضرور کریں
ٹیکس آسان زبان میں سمجھنے کے لیے پیج کو فالو کرلیں
ٹیکس اینڈ کارپوریٹ سروسز حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں
Raja Shahzaib Tax & Legal Services
03005227545

15/05/2026

یف بی آر زرعی آمدن پر ٹیکس نہیں لیتا…
اگر زرعی آمدن ظاہر کی ہے تو قانون کو سمجھنا بہت ضروری ہے، ورنہ بعد میں جرمانہ، نوٹس اور پریشانی سب کچھ ہو سکتا ہے۔

فرض کریں آپ کے پاس پاکستان میں زرعی زمین ہے۔ آپ فصل اگاتے ہیں، اسے مارکیٹ میں فروخت کرتے ہیں اور اس سے آمدن حاصل کرتے ہیں۔ اب عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ چونکہ زرعی آمدن FBR کے لیے Exempt ہوتی ہے، اس لیے اس پر کسی قسم کا ٹیکس نہیں بنتا۔ لیکن اصل قانون یہاں سے شروع ہوتا ہے۔
پاکستان میں زرعی آمدن پر وفاقی حکومت یعنی FBR انکم ٹیکس وصول نہیں کرتی۔ اسی وجہ سے انکم ٹیکس ریٹرن میں Agricultural Income کو Exempt Income کے طور پر ظاہر کیا جاتا ہے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ آمدن مکمل طور پر ٹیکس فری ہے، کیونکہ زرعی آمدن پر ٹیکس لینے کا اختیار صوبائی حکومتوں کے پاس ہوتا ہے۔
یعنی اگر زمین پنجاب میں ہے تو پنجاب حکومت، اگر سندھ میں ہے تو سندھ حکومت، اور اسی طرح ہر صوبہ اپنے قانون کے مطابق زرعی آمدن پر ٹیکس عائد کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ FBR میں زرعی آمدن ظاہر تو کر دیتے ہیں، مگر بعد میں صوبائی نوٹس آنے پر حیران رہ جاتے ہیں۔
جب آپ IRIS پورٹل پر ریٹرن فائل کرتے ہیں تو وہاں Agricultural Income کے سیکشن میں صوبہ، تحصیل اور نیٹ زرعی آمدن درج کی جاتی ہے۔ FBR اس رقم پر ٹیکس نہیں لگاتا، لیکن یہ معلومات متعلقہ صوبائی اداروں کے ساتھ شیئر ہو جاتی ہیں۔ بعد میں DC آفس یا صوبائی ریونیو اتھارٹی آپ سے زرعی ٹیکس کا مطالبہ کر سکتی ہے۔
یہاں سب سے اہم بات یہ سمجھنا ہے کہ زرعی ٹیکس کل آمدن یا Gross Sale پر نہیں لگتا، بلکہ صرف نیٹ منافع پر لگتا ہے۔ یعنی آپ اپنی آمدن میں سے تمام جائز زرعی اخراجات منہا کر سکتے ہیں، جیسے بیج، کھاد، سپرے، مزدوری، ہارویسٹنگ اخراجات، ٹیوب ویل کے بل، مشینری کا کرایہ یا اگر زمین لیز پر ہے تو لیز کی ادائیگی۔
ان تمام اخراجات کے بعد جو اصل منافع بچتا ہے، وہی قابلِ ٹیکس زرعی آمدن شمار ہوتی ہے۔ اسی لیے ہر بڑے خرچے کی رسید اور ریکارڈ سنبھال کر رکھنا بہت ضروری ہے، تاکہ کل کو کسی نوٹس یا انکوائری کی صورت میں آپ کے پاس مکمل ثبوت موجود ہو۔
2026 کے لیے نئی زرعی ٹیکس سلیب ریٹس نافذ ہو چکی ہیں اور ٹیکس اسی حساب سے calculate کیا جاتا ہے۔ ادائیگی کا طریقہ بھی صوبائی ہوتا ہے، جو عموماً Form 32-A (Provincial Challan) کے ذریعے کی جاتی ہے۔ کچھ لوگ نوٹس آنے کا انتظار کرتے ہیں، لیکن غیر ضروری تاخیر جرمانے یا قانونی مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔
مختصر بات یہ ہے کہ زرعی آمدن FBR کے لیے Exempt ضرور ہے، مگر صوبائی حکومت کے لیے Taxable ہے۔ اس لیے اپنی نیٹ آمدن درست ظاہر کریں، اخراجات کا مکمل ریکارڈ رکھیں اور بروقت صوبائی ٹیکس ادا کریں تاکہ مستقبل میں کسی مشکل صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ٹیکس کو آسان زبان میں سمجھنے کے لیے پیج کو فالو کریں۔
مزید معلومات اور پروفیشنل رہنمائی کے لیے رابطہ کریں۔

Raja Shahzaib Tax & Legal Services

ٹیکس سسٹمز اپڈیٹنیا انکم ٹیکس ریٹرن فارم برائے سال 2026عزیزو!ایف۔بی۔آر نے رواں سال کے انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کیلئے ای...
12/05/2026

ٹیکس سسٹمز اپڈیٹ
نیا انکم ٹیکس ریٹرن فارم برائے سال 2026

عزیزو!

ایف۔بی۔آر نے رواں سال کے انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کیلئے ایس۔آر۔او 2026 (1) 835 کے تحت نیا ٹیکس فارم جاری کر دیا ہے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو سات دن کے اندر اپنے اعتراضات، تجاویز اور ردعمل جمع کرانے کی مہلت دی گئی ہے۔

اس فارم میں جو درج ذیل تبدیلیاں کی گئی ہیں ان کے تحت اب آپ کو اپنی ہر قسم کی مالی سرگرمیوں کی مکمل سمری بھی فراہم کرنی پڑے گی۔

1)۔
تنخواہ دار طبقے کو اپنے ایمپلائر کا نام، اس کا رجسٹریشن نمبر اور ٹیکس کٹوتی کی تفصیلات بھی فراہم کرنا ہوں گی۔

2)۔
پراپرٹی کا کرایہ پہلے سمپلی ایک اینٹری میں ڈال دیتے تھے لیکن اب الگ الگ ہر پراپرٹی کو مینشن کرکے بتانا پڑے گا کہ کس جگہ سے کتنا کرایہ آیا ہے اور اس کے ڈیڈکٹیبل اخراجات کیا ہیں۔

3)۔
ادر انکم میں بھی پہلے سب لوگ ایک سادہ سی اینٹری ڈال دیتے تھے اب اس کی بھی انسٹیٹیوشن وائز تفصیلات دینی ہوں گی۔

4)۔
اسی طرح زرعی انکم میں بھی ایک اینٹری ڈال دی جاتی تھی لیکن اب زرعی زمین کی تفصیلات بھی کھیت نمبر وغیرہ کیساتھ یعنی زمین کی لوکیشن بھی ساتھ میں فراہم کرنی پڑے گی۔

5)۔
ٹیکس ڈیڈکشنز کا بھی سارا نظام انٹیگریٹڈ ہے، آپ بتائیں گے فلاں نے پیسے کاٹے ہیں تو اس کا ہاں یا نہ کا ریفرینس خود بخود اپڈیٹ ہوجائے گا۔

6)۔
بزنس میں کتنی رقم پیمنٹ کی ہے یا وصول کی ہے اور اس پر دونوں طرف سے کتنا کتنا ٹیکس کاٹا گیا ہے یہ بھی بتانا پڑے گا۔

اس کا نقصان یہ ہوگا کہ اب ٹیکس ڈیڈکشن جہاں نہیں ہوئی ہوگی وہاں فوراً سیکشن 161 کے تحت سوال کھڑا ہوجائے گا جو کافی تکلیف دہ ہوسکتا ہے۔

یعنی جو بزنس ودہولڈنگ ایجنٹ بنتے ہیں ان سے یہ رقم وصول کر لی جائے گی۔

مثال کے طور پر بیشمار کمپنیاں ایسی ہیں جو ملازموں سے ٹیکس نہیں کاٹتیں، اب ایک ملازم بتاتا ہے کہ فلاں کمپنی سے میں لاکھ روپیہ مہینہ لیتا ہوں تو انٹیگریٹڈ سسٹم اب ٹیکس آفیسر کو خود بتائے گا کہ فلاں کمپنی کے دس ایمپلائیز نے بتایا ہے کہ وہ اتنی اتنی تنخواہ لیتے ہیں لیکن ایمپلائر نے کسی ایک کا بھی ٹیکس نہیں کاٹا۔

اب اس کیس میں جتنا ٹیکس ایمپلائر نے کاٹنا تھا اور نہیں کاٹا تو وہ اس ایمپلائر سے وصول کر لیا جائے گا۔

اس کے بعد ایمپلائر ملازموں سے کہے گا کہ پچھلے سال کا بل آگیا ہے مجھے لہذا یہ ٹیکس کٹواؤ اور ملازم کہیں گے صاحب ہم نے تو ریٹرن کیساتھ اپنی جیب سے ٹیکس جمع کرا دیا تھا اسلئے اب ہم آپ کو کیوں دیں لہذا وہ لائبلٹی ایمپلائر کے سر ہی پڑے گی۔

علی ہذا القیاس جو لوگ بزنس پیمنٹس پر بھی ڈیو ٹیکس نہیں کاٹتے ان کو بھی یہی پرابلم فیس کرنی پڑے گی۔

7)۔
ایک اچھی بات جو اس نئے فارم میں نظر آرہی ہے وہ یہ ہے کہ ریفنڈ کیلئے آپ کا ایک مین بینک اکاؤنٹ اس میں انٹیگریٹ ہو جائے گا اور ودہولڈنگ کے سارے ثبوت اپلوڈ ہو جانے کے بعد آپ کو آٹومیٹک طریقے سے ریفنڈ مل جایا کرے گا، اس کی منظوری کیلئے آئیندہ آپ کو ٹیکس آفس نہیں جانا پڑے گا۔

مجوزہ فارم کی قانونی حیثیت:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ فارم ابھی تجویز کیا گیا ہے اور اطلاع عام کیلئے سات دن کی قانونی مہلت کے بعد بزنس چیمبرز اور ٹیکس بارز سے حاصل ہونے والے ردعمل کے تحت تھوڑا بہت تبدیل بھی ہو سکتا ہے، پھر یہ بجٹ کیساتھ ہی منظور ہو کے نافذ العمل ہو جائے گا۔

احتیاط برائے سال 2026:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تنخواہ دار طبقہ جن کی تنخواہ ٹیکس ایبل ہے لیکن ایمپلائر ٹیکس نہیں کاٹتا وہ اپنا ریٹرن ایمپلائر کیساتھ مشورہ کرکے جمع کرائیں ورنہ جب اس کو نوٹس آئے گا تب وہ آپ سے ٹیکس مانگے گا اور آپ جیب سے ٹیکس ادا کر چکے ہوں گے۔

اس کا بہترین حل یہ ہے کہ آپ کا ایمپلائر جون میں آپ کا سال بھر کا ٹیکس جمع کرا دے، اس سے دونوں کی بچت ہو جائے گی، ممکن ہے لیٹ ٹیکس جمع کرانے پر اس کو پانچ چھ فیصد جرمانہ ہوجائے لیکن یہ اس سے بہتر ہے کہ لاکھوں روپے کا بل اس کو آجائے اور پھر وہ آپ سے کاٹنے بیٹھ جائے۔

گزشتہ سال میں نے ہر پارٹی کا ریٹرن ان کے بینک اکاؤنٹس کو بہت تفصیل کیساتھ سمرائز کرکے بنایا تھا تاکہ ان کو کوئی ٹکر نہ لگے، اس وجہ سے میرے کافی ریٹرن لیٹ ہوگئے تھے لیکن میں نے کوالٹی پر کمپرومائز نہیں کیا۔

اندریں حالات آپ کو بھی یہی کرنا چاہئے کہ اپنا ٹیکس ریٹرن کسی ایسے بندے سے جمع کرائیں جسے قانون اور مالیاتی امور پر یکساں عبور حاصل ہو تاکہ وہ بینک کو سمرائز کرکے نان بزنس ٹرانزیکشنز کو الگ کرے پھر انکم اسٹیٹمنٹ اور الاؤ۔ایبل اخراجات کو ڈیفائن کرکے آپ کا ریٹرن سیف زون میں لاکے فائنل کرے۔

گورنمنٹ نے اس سال تاریخ میں پہلی بار مئی میں فارم جاری کیا ہے ورنہ یہ مڈجولائی میں ہی آیا کرتا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ گورنمنٹ ٹیکس فائلنگ کو پہلی جولائی سے شروع کرانا چاہتی ہے تاکہ کنسلٹینٹس کو نوے دن کا پورا فائلنگ ٹائم مل جائے۔

اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس بار ٹیکس ریٹرن بنانے میں کنسلٹینٹ کا دو گنا ٹائم لگے گا جو ریوینیو بورڈ کو بھی نظر آرہا ہے لہذا ایک تو تیس جون کے فوراً بعد اپنا ڈیٹا کنسلٹینٹ کو لازمی فراہم کر دیں۔
Raja Shahzaib Tax & Legal Services

دوسرا، کنسلٹینٹ اگر فیس میں اضافے کا تقاضا کرے تو اس کی یہ بات بھی ماننی چاہئے کیونکہ پروفیشنل کنسلٹینٹ کبھی بھی کوالٹی پر کمپرومائز نہیں کرتے لہذا اضافی وقت دینے کیلئے اضافی فیس بھی ان کو ملنی چاہئے۔

💐💐💐

⏰ Limited Time Offer — Sirf 24 Hours!Aaj hi apna FREE NTN banwayein🚫 No Service Charges🚫 No Hidden FeeSirf 24 ghanton ke...
08/05/2026

⏰ Limited Time Offer — Sirf 24 Hours!

Aaj hi apna FREE NTN banwayein
🚫 No Service Charges
🚫 No Hidden Fee

Sirf 24 ghanton ke andar registration karwane walon ke liye special offer.

✔ Fast Process
✔ Professional Guidance
✔ Complete Assistance

📞 Raja Shahzaib Tax & Legal Services
03005227545

Inbox ya WhatsApp karein abhi.

Non-Filer reh kar extra tax dena band karein.Aaj hi Active Filer banein aur apna paisa bachayein.📞 Raja Shahzaib Tax & L...
08/05/2026

Non-Filer reh kar extra tax dena band karein.
Aaj hi Active Filer banein aur apna paisa bachayein.
📞 Raja Shahzaib Tax & Legal Services
03005227545

Address

Rawalpindi
46000

Telephone

+923005227545

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Raja Shahzaib Tax & Legal Services posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Raja Shahzaib Tax & Legal Services:

Share