15/05/2025
🌓 سعودی عرب نے اپنا اسلامی بخار اتار کر ہمیں دے دیا اور خود لبرل سیکولر بننے کی طرف تیزی سے ترقی کر رہا ہے.
خانہ کعبہ اور مسجد نبوی میں روبوٹ سے آذان، تلاوت قرآن، دعائیں اور فتویٰ وغیرہ شروع کر دیا گیا ہے.
بیت اللہ کے سب سے مشہور امام شیخ عبد الرحمن السدیس نے اپنے ہاتھوں سے روبوٹ کا افتتاح کیا.
اس روبوٹ میں کیو آر کوڈ ہے، ٹچ سکرین سے صارفین کمانڈز دے سکتے ہیں. آپ کو سوال پوچھنا ہے روبوٹ آپ کو جواب میں فتویٰ دے گا.
آذان، مؤذن اور نماز کے اوقات کی ہفتہ وار جانکاری دے گا. اس جمعے کونسا امام پڑھائے گا نام بتائے گا. شیخ السدیس نے اپنے خطاب میں بتایا کہ یہ سعودی عرب کے ویژن 2030 کے سلسلے کی ایک کڑی ہے.
خانہ کعبہ اور مسجد نبوی میں دو مزید روبوٹس متعارف کروائے گئے ہیں جو سینیٹائیزر چھڑکیں گے اور فرش صاف کریں گے.
اب آپ آجائیں پاکستان کی طرف، آج سے سو سال پہلے حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی نے لاؤڈ-اسپیکر میں آذان کو ممنوع قرار دیا تھا.
پھر اگلے پچاس سال لاؤڈ سپیکر کے حرام حلال کی بحث چلتی رہی. پھر کیمرا تصویر اور ویڈیو حرام قرار دی گئی.
ٹی وی بیچ چوراہوں پر توڑے گئے، وی سی آر کو آگ لگا دی گئی. پھر موبائل فون کو حرام قرار دے دیا گیا، دارالعلوم حقانیہ نے موبائل فون جمع کر کے آگ لگا دی.
آج آپ اپنے کسی مفتی صاحب کے پاس چلے جائیں اس سے پوچھیں کیا مؤذن کی جگہ ایک روبوٹ آذان دے سکتا ہے؟
ایسا کیسے ہو سکتا ہے، یہ تو ممکن ہی نہیں. وہ فوراً اسے حرام قرار دے دے گا. پھر پاکستان میں اگلے پچاس سال یہ بحث شروع ہو جائے گی کہ روبوٹ کی آذان حلال ہے یا حرام، جائز ہے یا ناجائز..
پاکستانی مولوی پہلے ہی بھوکے ننگے ہیں، روبوٹ نے آذان، تلاوت، فتویٰ جاری کرنا شروع کر دیا تو ہمارے پچیس لاکھ علمائے کرام مزید بےروزگار ہو جائیں گے.
ڈیڑھ سال قبل میری لکھی گئی یہ تحریر دوبارہ کسی اور کے نام سے وائرل ہو رہی ہے، ریکارڈ کی درستگی کے لیے دوبارہ لگا رہا ہوں. آپ کو کہیں نظر آئے تو اسے بتا دیں.
قمر نقیب خان
دنیا اور موز .
کافى