ESEC International UAE

ESEC International UAE Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from ESEC International UAE, Pindi Gheb.

اللہ پاک عثمان بھائی کی مغفرت فرمائے اور جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے بہت ہی اچھے انسان تھے اللہ پاک ان کے گھر والوں کو ...
25/11/2023

اللہ پاک عثمان بھائی کی مغفرت فرمائے اور جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے بہت ہی اچھے انسان تھے اللہ پاک ان کے گھر والوں کو صبر عطا فرمائے آمین😭😭😭

 Opposite National Bank Main Katchery Road PindighebOwner: Eng. Aamir FaridFOR ONLINE APPLY CONTACT USContact: 0330-5564...
08/06/2020


Opposite National Bank Main Katchery Road Pindigheb
Owner: Eng. Aamir Farid
FOR ONLINE APPLY CONTACT US
Contact: 0330-5564684/ 0317-8508460

24/04/2020
15/04/2020

سپر مارکٹ میں محتاط رہیں.
میں اور میری اہلیہ گروسری اسٹور پر کچھ شاپنگ کے لئے گئے۔ ہمارے پاس محفوظ رہنے کے لئے چہرے کے ماسک اور چشمے تھے۔ جب ہم وہاں پہنچے تو وہاں لوگوں کا بہت ہجوم تھا۔سوچا کہ کہیں كرونا نہ چمٹ جائے میں نے بیوی کا ھاتھ پکڑ کر اشارے سے گھر واپس جانے کا کہا لیکن اس نے مزاحمت کی اور اس کے رویہ سے لگا کہ وہ ابھی گھر جانا نہیں چاہتی۔ اسکی مزاحمت کے باوجود میں نے اسکا بازو پکڑا اور بنا بولے زبردستی کھینچتے ہوۓ اسے کار میں بٹھایا۔راستے میں وہ مجھے نظر انداز کرتی رہی اور غصہ میں بات تک نہیں کی۔ جب ہم گھر پہنچے اور چہروں سے نقاب ہٹائے تو میں یہ دیکھ کے حیران رہ گیا کہ وہ میری بیوی ھی نہیں تھی۔

محتاط رہیں.گھر میں رھیں اور محفوظ رھیں۔
Copy paste

28/03/2020

✨❄ *اِصلاحِ اَغلاط: عوام میں رائج غلطیوں کی اِصلاح*❄✨

*سلسلہ نمبر 194:*
🌻 *گھر میں باجماعت نماز کی ادائیگی کے احکام*

کرونا وائرس وبا سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر کے طور پر ماہرینِ صحت مساجد میں لوگوں کے زیادہ اجتماع سے منع کرتے ہوئے گھروں میں نماز کی ادائیگی کی ترغیب دیتے ہیں، اسی بنیاد پر بعض صوبائی حکومتوں نے مساجد میں جمعہ اور جماعت کی نماز میں نمازیوں کی تعداد نہایت ہی محدود کرتے ہوئے یہ فیصلہ صادر کیا ہے کہ صرف چار پانچ افراد ہی مسجد میں جمعہ اور جماعت کی نماز ادا کرسکتے ہیں، باقی حضرات اپنے گھروں میں نماز ادا کریں، اسی طرح بعض علاقوں میں مساجد میں داخلے ہی پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ ایسے فیصلے صادر ہوتے ہی گھروں میں نماز ادا کرنے سے متعلق متعدد سوالات سامنے آرہے ہیں، ذیل میں اسی حوالے سے چند اہم مسائل ذکر کیے جاتے ہیں۔

📿 *گھروں میں باجماعت نماز کا اہتمام کیجیے:*
شریعت نے بڑی تاکید کے ساتھ مرد حضرات کو باجماعت نماز کی ادائیگی کا حکم دیا ہے، یہی وجہ ہے کہ بہت سے حضرات فقہائے کرام اس کو واجب قرار دیتے ہیں، اسی کے ساتھ ساتھ احادیث مبارکہ میں باجماعت نماز کے بڑے فضائل بھی بیان کیے گئے ہیں، چنانچہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ‘‘جماعت کی نماز انفراد ی نماز سے ستائیس درجے افضل ہے۔’’
☀ صحیح مسلم میں ہے:
1509- عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَالَ: «صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ أَفْضَلُ مِنْ صَلَاةِ الْفَذِّ بِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً».
اس ایک حدیث سے بھی جماعت کی نماز کی عظیم فضیلت معلوم ہوجاتی ہے۔

☀ فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
الْجَمَاعَةُ سُنَّةٌ مُؤَكَّدَةٌ كَذَا في الْمُتُونِ وَ«الْخُلَاصَةِ» وَ«الْمُحِيطِ» وَ«مُحِيطِ السَّرَخْسِيِّ»، وفي «الْغَايَةِ»: قال عَامَّةُ مَشَايِخِنَا: إنَّهَا وَاجِبَةٌ، وفي «الْمُفِيدِ»: وَتَسْمِيَتُهَا سُنَّةً؛ لِوُجُوبِهَا بِالسُّنَّةِ، وفي «الْبَدَائِعِ»: تَجِبُ على الرِّجَالِ الْعُقَلَاءِ الْبَالِغِينَ الْأَحْرَارِ الْقَادِرِينَ على الصَّلَاةِ بِالْجَمَاعَةِ من غَيْرِ حَرَجٍ.
(الْبَابُ الْخَامِسُ في الْإِمَامَةِ: الْفَصْلُ الْأَوَّلُ في الْجَمَاعَةِ)
☀ الدر المختار:
(وَالْجَمَاعَةُ سُنَّةٌ مُؤَكَّدَةٌ لِلرِّجَالِ) قَالَ الزَّاهِدِي: أَرَادُوا بِالتَّأْكِيدِ الْوُجُوبَ إلَّا فِي جُمُعَةٍ وَعِيدٍ فَشَرْطٌ....(وَقِيلَ: وَاجِبَةٌ، وَعَلَيْهِ الْعَامَّةُ) أَيْ عَامَّةُ مَشَايِخِنَا، وَبِهِ جَزَمَ فِي «التُّحْفَةِ» وَغَيْرِهَا. قَالَ فِي «الْبَحْرِ»: وَهُوَ الرَّاجِحُ عِنْدَ أَهْلِ الْمَذْهَبِ. (فَتُسَنُّ أَوْ تَجِبُ) ثَمَرَتُهُ تَظْهَرُ فِي الْإِثْمِ بِتَرْكِهَا مَرَّةً (عَلَى الرِّجَالِ الْعُقَلَاءِ الْبَالِغِينَ الْأَحْرَارِ الْقَادِرِينَ عَلَى الصَّلَاةِ بِالْجَمَاعَةِ مِنْ غَيْرِ حَرَجٍ) .... إلخ
☀ رد المحتار:
(قَوْلُهُ قَالَ فِي «الْبَحْرِ» إلَخْ) وَقَالَ فِي «النَّهْرِ»: هُوَ أَعْدَلُ الْأَقْوَالِ وَأَقْوَاهَا، وَلِذَا قَالَ فِي «الْأَجْنَاسِ»: لَا تُقْبَلُ شَهَادَتُهُ إذَا تَرَكَهَا اسْتِخْفَافًا وَمَجَانَةً، إمَّا سَهْوًا أَوْ بِتَأْوِيلٍ كَكَوْنِ الْإِمَامِ مِنْ أَهْلِ الْأَهْوَاءِ أَوْ لَا يُرَاعِي مَذْهَبَ الْمُقْتَدِي فَتُقْبَلُ. اهـ. ط.(قَوْلُهُ: ثَمَرَتُهُ إلَخْ) هَذَا بِنَاءً عَلَى تَحْقِيقِ الْخِلَافِ، أَمَّا عَلَى مَا مَرَّ عَن الزَّاهِدِيِّ فَلَا خِلَافَ. (قَوْلُهُ: بِتَرْكِهَا مَرَّةً) أَيْ بِلَا عُذْرٍ، وَهَذَا عِنْدَ الْعِرَاقِيِّينَ، وَعِنْدَ الْخُرَاسَانِيِّينَ: إنَّمَا يَأْثَمُ إذَا اعْتَادَهُ كَمَا فِي «الْقُنْيَةِ» وَقَدْ مَرَّ ....

📿 *گھروں میں باجماعت نماز کی ادائیگی کے فوائد:*
مرد حضرات کے لیے اصل حکم تو یہی ہے کہ وہ مسجد کی جماعت میں شرکت کرے، لیکن موجودہ صورتحال میں جب عارضی بندش کی وجہ سے مسجد کی جماعت میسر نہیں آرہی تو جماعت کی اہمیت اور تاکید کے پیشِ نظر اپنے آپ کو جماعت کی نماز سے محروم نہ کیجیے، بلکہ اپنے گھروں میں باجماعت نماز قائم کیجیے کیوں کہ یہاں دو باتیں الگ ہیں: ایک ہے مسجد کی فضیلت اور دوسری ہے جماعت کی فضیلت، اس لیے اگر اس عارضی بندش کی وجہ سے مسجد کی فضیلت حاصل ہونی مشکل ہے تو جماعت کی فضیلت تو حاصل کی جاسکتی ہے، اس سے تو اپنے آپ کو محروم نہ کیا جائے۔ البتہ جہاں باجماعت نماز کی ادائیگی مشکل ہو تو وہاں انفرادی طور پر ہی نماز ادا کرلی جائے۔ واضح رہے کہ موجودہ صورتحال میں گھروں میں جماعت کی ادائیگی کے متعدد فوائد ہیں جیسے:
▪جماعت کی تاکید پر مشتمل شریعت کے حکم کی تعمیل ہوگی۔
▪جماعت کی فضیلت حاصل ہوگی۔
▪گھر کے افراد نماز کے عادی بنیں گے اور وہ افراد بھی شریک ہوسکیں گے جو نماز میں کوتاہی کرتے ہیں۔
▪گھروں میں نماز کے فضائل وبرکات حاصل ہوں گے جو کہ محتاجِ بیان نہیں۔ اور یہ بڑی سعادت کی بات ہوگی کہ گھروں میں باجماعت نماز کا اہتمام کیا جائے۔
▪باجماعت نماز سے متعلق بنیادی مسائل عام ہوجائیں گے اور ہر ہر مسلمان اس سے آگاہ ہوجائے گا جس کے فوائد ظاہر ہیں۔
ذیل میں گھروں میں باجماعت نماز کی ادائیگی سے متعلق بنیادی احکام ذکر کیے جاتے ہیں۔

📿 *اوقاتِ نماز سے متعلق احکام:*
1⃣ گھر کے افراد کو چاہیے کہ وہ باجماعت نماز کی ادائیگی کی صورت میں نمازوں کے اوقات کا خصوصی خیال رکھیں تاکہ وقت پر نماز کی ادائیگی کا اہتمام ہوسکے۔
2⃣ نمازوں کے اوقات سے متعلق اپنے شہر اور علاقے کا مستند نقشہ اپنے گھر میں رکھیے تاکہ اس سے راہنمائی لی جاسکے۔
3⃣ گھروں میں پنج وقتہ نمازوں کے لیے اوقات مقرر کیجیے تاکہ گھر کے افراد کو شریک ہونے میں سہولت کا باعث رہے۔

📿 *گھر کی جماعت کے لیے اذان واقامت کے احکام:*
1⃣ واضح رہے کہ گھر کی جماعت کے لیے بھی اذان واقامت کہنا سنت ہے، البتہ اگر محلے کی مسجد کی آواز گھر تک پہنچ رہی ہو تو ایسی صورت میں مسجد کی اذان بھی کافی ہے۔
2⃣ اگر اقامت والا کوئی میسر نہ ہو یا کسی کو اقامت نہ آتی ہو تو امام خود بھی اقامت کہہ سکتا ہے۔
3⃣ گھر میں موجود مرد حضرات کو اذان اور اقامت سیکھ لینی چاہیے تاکہ یہ ذمہ داری حسنِ خوبی کے ساتھ نبھائی جاسکے، البتہ نابالغ سمجھ دار بچے کی اذان واقامت بھی جائز ہے، اس لیے اس کو بھی اذان واقامت سکھادینی چاہیے تاکہ بوقتِ ضرورت اذان واقامت دے سکے۔
4⃣ واضح رہے کہ اگر اقامت کہنے کے لیے کوئی مرد یا سمجھ دار بچہ نہ ہو تو عورت اقامت نہ کہے بلکہ امام خود ہی اقامت کہہ دے۔

📿 *صفیں بنانے کی ترتیب:*
شریعت نے صفوں کی ترتیب یہ مقرر فرمائی ہے کہ امام کے پیچھے پہلے مردوں کی صف ہوگی، پھر نابالغ لڑکوں کی، پھر عورتوں کی، البتہ اگر بچے مردوں کے ساتھ کھڑے ہوں، اسی طرح بچیاں عورتوں کے ساتھ کھڑی ہوں تب بھی جائز ہے۔ اسی ترتیب کو مدنظر رکھتے ہوئے مزید صورتوں کا حکم درج ذیل ہے:
1⃣ *دو بالغ مرد ہوں:* ایسی صورت میں مقتدی امام کے دائیں جانب ذرا پیچھے کھڑا ہوجائے۔ واضح رہے کہ اگر مقتدی نابالغ بچہ ہے تب بھی یہی حکم ہے۔
2⃣ *ایک مرد اور ایک عورت ہوں:* مرد کے ساتھ اس کی بیوی، بہن، بیٹی یا والدہ ہو تو وہ امام کے پیچھے علیحدہ صف میں کھڑی ہوگی۔ واضح رہے کہ اس صورت میں اگر ساتھ میں نابالغ بچہ بھی ہو تو وہ امام کے دائیں جانب ذرا پیچھے کھڑا ہوگا اور عورت امام کے پیچھے علیحدہ صف ہی میں کھڑی ہوگی۔
3⃣ *ایک مرد، کچھ بچے اور عورتیں ہوں:* ایسی صورت میں امام کے بعد بچوں کی صف بنائی جائے پھر عورتوں کی صف بنائی جائے، اور بچیوں کو بھی عورتوں کی صف میں کھڑا کردیا جائے۔
4⃣ *دو مرد اور ایک عورت ہوں:* ایسی صورت میں امام کے پیچھے علیحدہ صف میں مرد کھڑا ہوجائے اور اس کے پیچھے علیحدہ صف میں عورت کھڑی ہوجائے۔

🌼 *مسئلہ:*
اگر گھر کی خواتین میں نامحرم خواتین بھی جماعت میں شریک ہونی چاہیں تو ایسی صورت میں خواتین کی صف پردے کے پیچھے بنائی جائے تو یہ زیادہ مناسب ہے۔

📿 *امامت سے متعلق چند بنیادی احکام:*
1⃣ نابالغ بچے کی اقتدا میں بالغ افراد کی نماز جائز نہیں، اس لیے ضروری ہے کہ بالغ افراد کے لیے بالغ مرد ہی امام بنے، البتہ نابالغ بچہ نابالغ بچوں کی امامت کرسکتا ہے۔
2⃣ امام کو چاہیے کہ وہ مستند اہلِ علم سے امامت کے ضروری مسائل سیکھ لے تاکہ غلطی سے حفاظت ہوسکے۔

⭕ *تنبیہ:*
1⃣ مرد حضرات کے لیے گھروں میں باجماعت نماز کی ادائیگی وبا کی وجہ سے اس عارضی بندش کی وجہ سے ہے تاکہ جماعت کی فضیلت سے محرومی نہ ہو، اس لیے جیسے ہی حکومت کی جانب سے یہ پابندی ختم ہوگی تو حسبِ معمول مسجد میں نماز کی ادائیگی کا حکم لاگو ہوگا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس کورونا وائرس وبا سے ہمیں مکمل نجات عطا فرمائے تاکہ دوبارہ مسجد کی حاضری نصیب ہوسکے۔
2⃣ مذکورہ بالا مسائل صرف اس عارضی بندش کے لیے نہیں، بلکہ زندگی بھر کے لیے ہیں، کیوں کہ مسئلہ یہ ہے کہ جب کسی مجبوری کی وجہ سے مسجد کی جماعت رہ جائے تو ایسی صورت میں بھی بہتر یہی ہے کہ گھر میں جماعت ادا کرلی جائے، تو ایسے موقع میں بھی تقریبًا انھی مسائل کی ضرورت پیش آتی ہے۔

❄ *وضاحت:* یہ مسائل رد المحتار، فتاویٰ ہندیہ، الموسوعۃ الفقہیۃ سمیت دیگر فقہی کتب سے لیے گئے ہیں۔

✍🏻۔۔۔ مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہ
فاضل جامعہ دار العلوم کراچی
3 شعبان المعظم1441ھ/ 28 مارچ 2020

03362579499

New project in KSA
26/01/2018

New project in KSA

Allah ka shukar ha sab safe hain koi jani nuqsan nai hua.......
01/11/2017

Allah ka shukar ha sab safe hain koi jani nuqsan nai hua.......

Duty time?
18/09/2017

Duty time?

Camp Shifting....
15/09/2017

Camp Shifting....

Address

Pindi Gheb

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ESEC International UAE posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share