13/04/2026
*`جسمانی امراض`*
*اگر آپ ہمیشہ پیٹ بھر کر کھانا کھاتے ہیں تو پھر…جسمانی صحت کا خیال ہی دل سے نکال دیں……*
ہر مسلمان کو چاہیے کہ سنت کے مطابق کھانا کھائے… یعنی تھوڑی سی بھوک باقی رکھے…کھانے کے آخر میں کیفیت یہ ہونی چاہیے کہ…دل مزید دو چار یا زیادہ لقمے کھانے کی خواہش رکھتا ہو…مگر آپ خود پر احسان کرتے ہوئے دستر خوان سے اُٹھ جائیں… یہ صحت کا ایک لازمی راز ہے…کبھی کبھار کسی ضرورت یا حالات کی وجہ سے مکمل پیٹ بھر کر کھا بھی لیں تو پھر زیادہ سے زیادہ جسمانی حرکت کریں… پیدل چلیں، بھاگیں دوڑیں یا کوئی بھی جسمانی محنت کریں……
*صحت کا دوسرا راز یہ ہے کہ جب تک بھوک نہ لگے کھانا نہ کھائیں……*
کھانا کھانا کوئی فرض عمل نہیں ہے…اور نہ ہی ہم اس کے لیے پیدا ہوئے ہیں…اور نہ ہی اس دنیا میں مسلمانوں کی شان کے مطابق کھانے موجود ہیں…کھانا ایک ضرورت ہے…جب ضرورت ہوتو کھائیں…جیسے بیت الخلاء جانا ایک ضرورت ہے…ہر انسان صرف ضرورت کے وقت ہی وہاں جاتا ہے…ایسا نہیں ہوتا کہ جہاں بھی کوئی اچھا ”بیت الخلاء“ نظر آئے تو انسان وہاں جاکر اس میں بیٹھ جائے…تو پھر بغیر بھوک کے کھانا کیوں کھاتے ہیں؟…جہاں بھی اچھا کھانا نظر آئے وہاں ٹوٹ پڑیں… یہ تو اپنے اوپر ظلم ہے……
حضرت امام شافعی ؒ فرماتے ہیں کہ…کھانے پر کھانا داخل کرنا خود کو ہلاکت میں ڈالنا ہے… یعنی پہلے سے معدہ میں کھانا موجود ہے…ابھی وہ ہضم نہیں ہوا کہ اوپر سے مزید ڈال دیا……
*صحت کے رازوں میں سے ایک اہم راز کھانے سے پہلے ”بسم اللہ“ پڑھنا…اور کھانے کے بعد نہایت اہتمام سے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا ہے……*
کافر اگر کھانے سے پہلے اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیتے اور آخر میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتے تو انہیں کوئی نقصان نہیں ہوتا…کیونکہ اُن کے لیے بس یہی دنیا ہی کھانے پینے کی جگہ ہے اور آخرت میں اُن کے لیے کوئی اچھا کھانا نہیں…مگر ایک مسلمان کے لیے یہ معاملہ بہت اہم ہے…وہ اگر کھانے سے پہلے اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیتا تو اس کے کھانے میں شیطان شریک ہو جاتا ہے…اور کھانے کو نقصان اور بیماری سے بھر دیتا ہے…کیونکہ وہ مسلمانوں کا دشمن ہے اور سراپا گندگی ہے…اور اگر وہ آخر میں کھانے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتا تو یہ کھانا…اس کے لیے وبال بن سکتا ہے……
ایک نکتہ سمجھ لیں کہ… بعض چیزیں شرعی طور پر فرض اور واجب ہوتی ہیں…اور بعض چیزیں فوائد کے لحاظ سے معنوی طور پر فرض ہوتی ہیں…کھانے کے شروع میں بسم اللہ پڑھنا…اور آخر میں حمد وشکر کرنا یہ شرعی طور پر فرض نہیں ہے…شرعی طور پر فرض ہوتا تو اس میں لوگوں کے لیے بہت حرج اور سختی ہوجاتی…اللہ تعالیٰ نے آسانی فرمائی کہ شرعی طور پر لازم نہیں فرمایا…مگر روحانی اور معنوی فوائد کے لحاظ سے یہ اتنا لازم ہے کہ…اس کے بغیر نہ کھانے کا کوئی فائدہ ملتا ہے اور نہ اس کے نقصانات سے حفاظت رہتی ہے……
آپ نے کبھی غور فرمایا کہ…لوگ دوائی کھاتے ہیں مگر اس دوائی کا اثر نہیں ہوتا… پھر کہتے ہیں کہ ”جادو“ وغیرہ ہے…حالانکہ ”دوائی“ کھانے سے پہلے ”بسم اللہ الرحمٰن الرحیم“… یا… ”بسم اللہ على برکۃ اللہ“ نہیں پڑھتے…اور ”دواء“ کھانے کے بعد حمد وشکر نہیں کرتے…جبکہ یہ ”دواء“ بھی تو ایک کھانا ہے…مفید کھانا…اور یہ اللہ تعالیٰ کا ”رزق“ ہے…جو اس نے عطاء فرمایا ہے…کتنے لوگ بےچارے ”دواء“ نہیں خرید سکتے… پھر یہ بھی پکی بات ہے کہ…”دواء“ سے ”شفاء“ تبھی ملے گی جب اللہ تعالیٰ اس میں ”شفاء“ رکھیں گے…اس لیے ”دواء“ کھانے سے پہلے اچھی طرح ”بسم اللہ“ پڑھیں…اور ”دواء“ کھانے کے بعد حمد وشکر کی دعاء پڑھیں…سب سے زبردست دعاء وہ ہے…جو کھانے کے بعد پڑھی جائے تو اللہ تعالیٰ سارے گناہ بھی معاف فرما دیتے ہیں……
*”اَلْحَمْدُلِلّٰهِ الَّذِیْ أَطْعَمَنِیْ هٰذَا وَرَزَقَنِيْهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِّنِّیْ وَلَا قُوَّةٍ“*
یہ ایسی شاندار اور ایمان افروز دعاء ہے کہ…ایک مسلمان کو اس دعاء کا انتظار رہتا ہے…اور وہ بہانہ ڈھونڈتا ہے کہ…کوئی چیز کھائے… بےشک تھوڑی سی ہی کیوں نہ ہو اور پھر اس دعاء کا فیض اُٹھائے……
حضرت مولانا وسیدنا محمد ﷺ کا فرمان مبارک ہے:
*من اكل طعاما فقال ”اَلْحَمْدُلِلّٰهِ الَّذِیْ أَطْعَمَنِیْ هٰذَا وَرَزَقَنِيْهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِّنِّیْ وَلَا قُوَّةٍ“ غفرله ما تقدم من ذنبه (ابوداؤد)*
”جس نے کچھ کھانے کے بعد یہ دعاء پڑھ لی تو اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں“……
اَلْحَمْدُلِلّٰهِ الَّذِیْ أَطْعَمَنِیْ هٰذَا وَرَزَقَنِيْهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِّنِّیْ وَلَا قُوَّةٍ……
کھانے کے بعد اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے…اور حمد بجا لانے کے لیے اور بھی کئی دعائیں احادیث مبارکہ میں آئی ہیں…کوشش کریں کہ زیادہ سے زیادہ شکر ادا ہو اور جتنی دعائیں یاد ہوں اُن کو پابندی سے پڑھا کریں……
* *