Happy Life with State Life Insurance.

Happy Life with State Life Insurance. Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Happy Life with State Life Insurance., 31-Napier Road, Lahore.

21/11/2025
08/06/2025

تقریب کا آغاز ہو گیا قاری صاحب نے تلاوت کی اور نعت شریف کا نذرانہ پیش کیا۔۔پھر ایریا مینجر جو میرے ساتھ آئے تھے انکو اسٹیج پر بلایا گیا۔۔
ایریا مینجر صاحب وہاں بیٹھے لوگوں سے مخاطب ہوئے اور کہا آج سے 11 مہینے پہلے ہمارے ایک سیلز نمائندہ نے احسن نامی ایک لڑکے کی بیمہ پالیسی کی ہے جو آپ کے اس محلے کا ہے اور ابھی ہم جس کے گھر موجود ہیں۔۔۔
پالیسی لینے کے 6 مہینوں بعد روڈ ایکسڈینٹ میں اس کی موت واقع ہو چکی ہے۔ میرا اور میری ٹیم کا اب یہ فرض بن گیا تھا کے ہم اسٹیٹ لائف کا ڈیتھ کلیم اس کے ورثا تک پہنچائیں۔۔
پالیسی کے کاغذات پر وارث مرحوم کی بیوی جو ابھی بیوہ ہو چکی ہیں ان کا نام درج ہے اس لیئے اسٹیٹ لائف نے رقم کا چیک جو 48 لاکھ روپے ہےوہ بھی اسکی بیوہ کے نام کا دیا ہے۔۔
اب ہم احسن کے بھائی کو چیک دے ریے ہیں۔۔
یہ خود اپنی بھابی کو دئے دیں گئے۔
کیونکہ چیک پر احسن کی بیوی کا نام درج ہے تو کیش بھی وہی کروا سکیں گی۔۔سب نے اس بات پر رضامندی ظاہر کی۔

لیکن اسی دوران ایک لڑکی برقع پہنے نقاب کیئے اور ہاتھوں میں سیاہ کالے رنگ کے دستانے پہنے اسٹیج کے قریب آ گئیں۔۔۔ ہم سب اس کے عمل پہ بہت حیران ہوئے۔۔
وہ کہنے لگی میں آپ سب سے کچھ کہنا چاہتی ہوں ایریا مینجر صاحب نے مائیک چھوڑ دیا اور آ کی اپنی نشست پر بیٹھ گئے۔۔۔
وہ کہنی لگیں۔۔
میں احسن کی بیوہ ہوں۔۔۔!!!
احسن رشتے میں میرے خالہ زاد لگتے ہیں۔۔ احسن پاکستان سے باہر ایلومینیم اور گلاس کا کام کرتے تھے۔۔۔
شادی کے پہلے دن سے احسن کی امی جو میری خالہ ہیں مجھے سمجھا دیا کے اگر میرا بیٹا زد نہ کرتا تو میں کبھی بھی تمہیں یہاں بیاہ کے نہ لاتی۔۔۔پہلے ہی دن اس طرح کا رویہ دیکھ کے میں نے سوچا میں انکو اتنی عزت دوں گی کی ان کے دل میں محبت پیدا کر دونگی۔۔۔
لیکن روز روز کے جھگڑے ہونے لگے۔۔ اس لیئےکچھ دن بعد ہم علیحدہ ہو گئے۔
میرے سسرال سے میرا یہ گھر 4 خالی پلاٹ چھوڑ کے ہے۔۔ ہمارے اردگرد اور کوئی گھر نہیں ہے۔۔ سب گھر تھوڑے فاصلے پہ ہیں۔ ایک دن رات کو 12 بج گئے لیکن احسن گھر نہیں ائے میں اکیلی بہت پریشان تھی۔۔ جب فون کیا تو نمبر بھی بند تھا۔۔میری پریشانی میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔
رات کے 12 بج گئے گھر کے باہر گاڑی رکی احسن آ گئے۔۔ گاڑی والا انکو اتار کے چلا گیا۔۔
میں نے دروازہ کھولا اور ناراضگی کا اظہار کیا کے آپکو پتہ بھی ہے میں اکیلی ہوتی ہوں پھر بھی آپ نے نمبر بند کیا ہوا ہے۔۔اور اتنا لیٹ آ رہے ہیں۔۔۔
انہوں نے کہا اچانک میرا ایک دوست آ گیا تھا میں اس کے ساتھ کھانا کھانے چلا گیا باتوں باتوں میں بہت دیر ہو گئی۔اور چارجنگ نہ ہونے کی وجہ سے موبائل بند ہو گیا۔۔

انہیں پتہ تھا میں نے کھانا نہیں کھایاہو گا۔۔۔اس لیئے کچن سے کھانا اٹھایا میرے پاس لے آئے اور نوالہ توڑ کے مجھے کھلایا۔۔۔
انکے ایک ہاتھ پر انگوٹھے پر میں نے سیاہی لگی ہونے کی وجہ پوچھی۔
تو کہا اسی لیئے لیٹ آیا ہوں میں نے آج اسٹیٹ لائف کی انشورنس کروائی ہےمیں نے انشورنس کا نام سنا تو مجھے اور زیادہ غصہ آ گیا۔۔
میں نے کہا آپکو پتہ ہے میں کی عالمہ ہوں مجھ سے میری شاگردہ اکثر انشورنس کا پوچھتیں تو میں کہتی #حرام ہے۔ اور آپ اپنی انشورنس کروا آئے ہیں۔
کل جا کے ختم کروا کے آئیں۔۔۔
ہمیں ایسے پیسوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔
اگلے دن جیسے ہی انہوں نے گھر قدم رکھا میرا پہلا سوال یہی تھا کے آپ نے انشورنس ختم کروائی یا نہیں.....
انہوں نے مجھے یہی جواب دیا کے میں نے دوست کو کہا ہے کے ختم کر دو۔۔۔اس نے کر دی ہے۔۔۔
لیکن لیکن لیکن۔۔۔۔
کچھ عرصے بعد انکی ڈیتھ ہو گئی۔۔
انکی وفات کے 1 مہینہ بعد اللہ پاک نے مجھے بیٹا دیا ہے۔۔۔
جب بیٹا پیدا ہوا تو میں نے سمجھا میرے جینے کا آسرا پیدا ہو گیا۔۔
میں عدت میں تھی گھر میں کھانے پینے کو کچھ نہیں تھا۔۔۔
میری ساس میرے شوہر کی رسم قل کے بعد ایک دن بھی میرے گھر نہیں آئی۔۔
میرے دیور نے کبھی 1 ہزار روپے ان 5 مہینوں میں میرے گھر نہیں دیئے۔۔۔
میں ماں باپ کی اکلوتی بیٹی ہوں۔۔
میرے بابا شوگر کے مریض ہیں۔۔
میری ماں میرے پاس ہوتی ہیں اب۔۔
اور لوگوں کے گھروں میں کام کر کے 5 ہزار روپے سے میرا اور اپنا پیٹ پال رہی ہیں۔
2 مہینوں سے میرا بیٹا بیمار ہے۔۔
میں نے سب سے اپیل کی کوئی بھی مدد کے لیئے راضی نہ ہوا۔۔
یہ حاجی صاحب جو سامنے بیٹھے ہیں انکا بیٹا روز کسی نہ کسی کے زریعے مجھےمیسجز بھیجواتا ہے میرے ساتھ فرینڈ شپ کر لو۔۔ جو کہو گی وہ ہو گا۔۔ 😭😭😭😭
میرے استاد جناب مفتی صاحب ہیں ساری عمر لوگوں کو انسانیت اور حلال حرام کا درس دیتے گزار دی ہے 4 دفعہ دعا کرنے آئے ہیں ایک دفعہ بھی اپنی بیٹی سمجھ کے ہی میری مجبوری سمجھ کے میری مدد کر جاتے تو کیا ہو جاتا۔۔اب انکے فتوےکہاں ہیں۔۔۔؟؟؟
جس بیٹے کی دوا کے پیسے میرے پاس نہیں ہیں اسکی تعلیم کا خرچہ میں 24 سالہ لڑکی کیسے اٹھاتی۔۔۔
مجھے لوگوں کے گھروں میں کام کرنا پڑھتا۔۔
اور روز آتے جاتے ہزار لوگوں کی اٹھنے والی انگلیوں کو خاموشی سے دیکھنا پڑھتا۔۔۔
اس معاشرے میں بوجھ سب اٹھانے کے لیئے تیار ہیں۔۔
لیکن سب کی رال ٹپک رہی ہے۔۔۔
ایک عورت اپنی اولاد کے لیئے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔
معاشرے میں کتنی بیوہ حالات سے مجبور ہو کے اپنا جسم بیچ کے اپنا اور اپنی اولاد کا پیٹ پال رہی ہیں۔
آج یہ پالیسی کا کلیم میرے شوہر کی کمی تو پوری نہیں کر سکتا لیکن مجھے اور میرے بیٹے کو باوقار زندگی گزارنے کا موقع دے گا۔۔۔
میں سب کو یہ ہی سبق دیتی بڑی ہوئی ہوں کے انشورنس حرام ہے انشورنس حرام ہے۔۔۔
لیکن اگر انشورنس حرام ہے تو بیوہ اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ جسم بیچ کے پالے تو وہ حلال ہو گا۔۔۔۔؟؟؟
میری جگہ اپنی بہو بیٹیوں کو رکھ کے سوچو۔۔۔
اور معاشرے کا سفاک چہرا اپنے گریبانوں میں منہ ڈال کے سوچو سب کو پتہ چلے کیا حلال ہے کیا حرام ہے۔۔۔
لڑکیوں کو رات کے اندھیروں میں بستروں تک لانا سب حلال اور فخر سمجھتے ہیں۔۔۔
پھر انشورنس جو بیوہ لڑکیوں کا سہارا ہے جو یتیم بچوں کی کفالت کرنے والا ادارہ ہے وہ کیسے حرام ہے۔.
حرام صرف انسانوں کی سوچ ہے۔۔۔صرف سوچ ہے 😭😭😭

اس کے اس بیان کے بعد ہر آنکھ اشک بار نظر آئی۔۔
لیکن کیا فائدہ ہمارا دل جو مردہ ہو چکا ہے۔۔۔

سامنے اس کے کبھی اس کی ستائش نہیں کی دل نے چاہا بھی اگر ہونٹوں نے جنبش نہیں کی اہل محفل پہ کب احوال کھلا ہے اپنا میں بھی...
18/10/2024

سامنے اس کے کبھی اس کی ستائش نہیں کی
دل نے چاہا بھی اگر ہونٹوں نے جنبش نہیں کی

اہل محفل پہ کب احوال کھلا ہے اپنا
میں بھی خاموش رہا اس نے بھی پرسش نہیں کی

جس قدر اس سے تعلق تھا چلا جاتا ہے
اس کا کیا رنج ہو جس کی کبھی خواہش نہیں کی

یہ بھی کیا کم ہے کہ دونوں کا بھرم قائم ہے
اس نے بخشش نہیں کی ہم نے گزارش نہیں کی

اک تو ہم کو ادب آداب نے پیاسا رکھا
اس پہ محفل میں صراحی نے بھی گردش نہیں کی

ہم کہ دکھ اوڑھ کے خلوت میں پڑے رہتے ہیں
ہم نے بازار میں زخموں کی نمائش نہیں کی

اے مرے ابر کرم دیکھ یہ ویرانۂ جاں
کیا کسی دشت پہ تو نے کبھی بارش نہیں کی

کٹ مرے اپنے قبیلے کی حفاظت کے لیے
مقتل شہر میں ٹھہرے رہے جنبش نہیں کی

وہ ہمیں بھول گیا ہو تو عجب کیا ہے فرازؔ
ہم نے بھی میل ملاقات کی کوشش نہیں کی

✍️ احمد فراز

شب بخیر۔ ❤️♥️

27/04/2024
Trophy Awarded to me on business performance of December 2023.I am thankful to my Allah on this reward. 👍❤
31/12/2023

Trophy Awarded to me on business performance of December 2023.
I am thankful to my Allah on this reward. 👍❤

When I'm up against a hurdle that feels insurmountable, I cast my thoughts back to my ancestors and the harsher trials t...
03/10/2023

When I'm up against a hurdle that feels insurmountable, I cast my thoughts back to my ancestors and the harsher trials they endured. Their resilience lives within me, etched into my very genes.

Assalam o Aalikum..!
Subah bakhair.🙆😲

Address

31-Napier Road
Lahore

Opening Hours

Monday 14:00 - 17:00
Tuesday 13:00 - 19:00
Wednesday 13:00 - 19:00
Thursday 13:00 - 19:00
Friday 13:00 - 19:00
Saturday 13:00 - 19:00

Telephone

+923004836600

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Happy Life with State Life Insurance. posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Happy Life with State Life Insurance.:

Share