09/07/2025
📢 نئی ترمیم – سیکشن 21 (Income Tax Ordinance, 2001)
🧾 فنانس بل 2025-26 کے تحت
💼 کیش سیلز پر مبنی اخراجات کی جزوی نااہلی (Partial Disallowance of Expenses)
ایف بی آر نے اب یہ واضح کر دیا ہے کہ اگر آپ کی سیلز میں کیش انوائسز کا تناسب زیادہ ہے تو آپ کے کچھ اخراجات کو disallow کر دیا جائے گا، اور وہ رقم آمدنی میں شامل (add-back) کر دی جائے گی۔
📊 مثال سے مکمل وضاحت:
1️⃣ Gross Sales (مجموعی فروخت):
👉 Rs. 10,000,000 (1 کروڑ روپے)
2️⃣ Cash Sales (نقد فروخت):
👉 Rs. 4,000,000
➡️ Cash Sales Ratio: 40%
3️⃣ Claimed Expenses (ظاہر کردہ اخراجات):
👉 Rs. 9,000,000
4️⃣ Declared Income (ظاہر کردہ آمدنی):
👉 Rs. 1,000,000
🔍 حساب کتاب (Computation):
▪️ Cash Sale Ratio کو اخراجات پر لاگو کریں:
Rs. 9,000,000 × 40% = Rs. 3,600,000
▪️ Disallowance @ 50%:
Rs. 3,600,000 × 50% = Rs. 1,800,000
▪️ Add-back to Income:
Rs. 1,000,000 + Rs. 1,800,000 = Rs. 2,800,000
✅ نتیجہ (Conclusion):
آپ نے ابتدا میں اپنی آمدنی Rs. 1,000,000 ظاہر کی تھی۔
مگر کیش سیلز کے تناسب سے Rs. 1,800,000 اخراجات disallowed ہوئے،
جسے آمدنی میں add-back کر دیا گیا۔
لہٰذا اب آپ کی Total Taxable Income = Rs. 2,800,000 بن گئی ہے۔
📌 مشورہ:
اگر آپ اپنے اخراجات اور سیلز کو بینکنگ چینل سے کریں گے تو اس قسم کی قانونی پیچدگیوں اور اضافی ٹیکسوں سے بچا جا سکتا ہے۔
ٹیکس قوانین کے مطابق کاروباری شفافیت اپنائی