علماء اکنامک ڈویلپمنٹ فورم

علماء اکنامک ڈویلپمنٹ فورم علماء صرف نوکری نہ کریں بلکہ اپنا کاروبار شروع کریں اور کامیاب بزنس مین بنیں

علماء کرام، دینی مدارس اور اجتماعی کاروبار کی ضرورتدنیا میں ترقی، استحکام اور معاشی خودمختاری کا راز صرف سرمایہ رکھنے می...
29/05/2026

علماء کرام، دینی مدارس اور اجتماعی کاروبار کی ضرورت

دنیا میں ترقی، استحکام اور معاشی خودمختاری کا راز صرف سرمایہ رکھنے میں نہیں بلکہ اجتماعی سوچ، باہمی اعتماد اور منظم منصوبہ بندی میں پوشیدہ ہے۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کی بڑی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں چند افراد کی مشترکہ محنت، شراکت داری اور اعتماد کی بنیاد پر وجود میں آئیں۔ سرمایہ دار مل کر بزنس گروپ بناتے ہیں، صنعت کار مل کر کارپوریشنز قائم کرتے ہیں، اور مختلف طبقات اپنے مشترکہ مفادات کے لیے ادارے تشکیل دیتے ہیں۔

اگر دوسرے طبقات یہ کام کر سکتے ہیں تو علماء کرام، دینی مدارس کے فضلاء اور دینی حلقے کیوں نہیں؟

اسلام نے تو چودہ سو سال پہلے ہی شراکت، مضاربت، مشارکت اور اجتماعی تجارت کے اصول دنیا کو سکھا دیے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں صحابہ کرامؓ تجارت میں شراکت داری کرتے تھے۔ اسلامی فقہ میں مشارکت اور مضاربت کے باقاعدہ ابواب موجود ہیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ اسلام اجتماعی معاشی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں دینی طبقہ اکثر مالی طور پر دوسروں کا محتاج نظر آتا ہے۔ مدارس چندوں پر چلتے ہیں، علماء کی ایک بڑی تعداد محدود آمدنی پر زندگی گزارتی ہے، اور دینی خدمات کے باوجود معاشی استحکام حاصل نہیں ہو پاتا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے اجتماعی معاشی منصوبہ بندی پر توجہ نہیں دی۔

اگر مختلف مدارس، علماء کرام، مخیر حضرات اور تاجر مل کر شرعی اصولوں کے مطابق کاروباری منصوبے شروع کریں تو نہ صرف ہزاروں علماء کے لیے باعزت روزگار پیدا ہو سکتا ہے بلکہ مدارس کے لیے مستقل آمدنی کے ذرائع بھی قائم ہو سکتے ہیں۔

مثال کے طور پر:

- امپورٹ اور ایکسپورٹ کے مشترکہ منصوبے
- زرعی فارم اور ڈیری فارمز
- اسلامی ہاؤسنگ اور تعمیراتی منصوبے
- آن لائن کاروبار اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ
- تعلیمی ادارے اور ٹیکنیکل ٹریننگ سینٹرز
- میڈیکل اور فلاحی منصوبے
- حلال فوڈ اور حلال انڈسٹری

یہ تمام شعبے ایسے ہیں جہاں شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے کامیاب کاروبار کیا جا سکتا ہے۔

تاہم صرف سرمایہ کافی نہیں ہوتا۔ کامیابی کے لیے تین بنیادی چیزیں ضروری ہیں:

پہلی چیز: ہمت
بڑے کام ہمیشہ بڑے حوصلوں سے شروع ہوتے ہیں۔ اگر علماء صرف محدود دائرے میں سوچتے رہیں گے تو بڑے معاشی ادارے وجود میں نہیں آئیں گے۔

دوسری چیز: رہنمائی
جدید کاروباری دنیا کے تقاضوں کو سمجھنا ہوگا۔ ماہرین معاشیات، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس، وکلاء اور بزنس ایکسپرٹس کی خدمات حاصل کرنا ہوں گی تاکہ منصوبے مضبوط بنیادوں پر قائم ہوں۔

تیسری چیز: امانت و دیانت
یہ سب سے اہم بنیاد ہے۔ بہت سے اجتماعی منصوبے سرمایہ کی کمی سے نہیں بلکہ اعتماد کی کمی سے ناکام ہوتے ہیں۔ اگر شرکاء اخلاص، شفافیت اور امانت داری کو اپنا شعار بنائیں تو اللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال ہوتی ہے۔

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

"وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى"

"نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو۔"

اجتماعی کاروبار بھی اگر حلال، دیانت دارانہ اور امت کی خدمت کے جذبے سے کیا جائے تو یہ بھی ایک نیکی اور تعاون کی صورت ہے۔

وقت آ گیا ہے کہ علماء کرام صرف مسجد، مدرسہ اور محراب تک محدود نہ رہیں بلکہ معیشت کے میدان میں بھی اپنی مثبت موجودگی ثابت کریں۔ جب دینی قیادت معاشی طور پر مضبوط ہوگی تو دینی ادارے بھی مضبوط ہوں گے، فلاحی منصوبے بھی بڑھیں گے اور امت کا اجتماعی وقار بھی بلند ہوگا۔

ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم شکایتوں سے آگے بڑھیں، اعتماد پیدا کریں، مشترکہ منصوبہ بندی کریں اور اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے عملی میدان میں قدم رکھیں۔ ممکن ہے کہ آج کا ایک چھوٹا سا مشترکہ کاروبار کل ایک عظیم اسلامی معاشی ادارے کی شکل اختیار کر لے۔

"سرمایہ سے زیادہ قیمتی چیز اعتماد ہے، اور اعتماد کے ساتھ دیانت شامل ہو جائے تو اللہ تعالیٰ برکتوں کے دروازے کھول دیتے ہیں۔"









29/05/2026

دینی تعلیم کے ساتھ ہنر اور کاروبار کی اہمیت

اسلام ایک متوازن دین ہے جو انسان کی دینی، اخلاقی، معاشرتی اور معاشی ضروریات کا مکمل خیال رکھتا ہے۔ دین اسلام صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ ایک ایسا ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو عزت، خودداری اور حلال روزی کمانے کی تعلیم دیتا ہے۔ اسی لیے دینی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ، علماء اور مدرسین کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ دینی علوم کے ساتھ کوئی نہ کوئی ہنر سیکھیں اور تدریس کے ساتھ مناسب کاروبار یا معاشی سرگرمی میں حصہ لیں۔

ہمارے اسلاف کی زندگیوں کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام، صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اکابر علماء نے محنت مزدوری، تجارت اور مختلف پیشوں کو اختیار کیا۔ نبی کریم ﷺ نے نوجوانی میں تجارت فرمائی۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ تاجر تھے، حضرت عثمان غنیؓ کامیاب کاروباری شخصیت تھے، جبکہ بہت سے صحابہ زراعت، صنعت اور مختلف ہنروں سے وابستہ تھے۔

آج کے دور میں مدارس اور دینی اداروں کے فضلاء کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ تدریسی مواقع محدود ہیں۔ بہت سے علماء معاشی مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں ان کی صلاحیتیں متاثر ہوتی ہیں۔ اگر طالب علم دورانِ تعلیم ہی کسی ہنر مثلاً کمپیوٹر، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، گرافک ڈیزائننگ، آن لائن کاروبار، الیکٹریکل ورک، پلمبنگ، زراعت یا دیگر فنی مہارتیں سیکھ لے تو وہ مستقبل میں بہتر معاشی زندگی گزار سکتا ہے۔

تدریس ایک مقدس خدمت ہے اور اس کا اصل مقصد دین کی اشاعت ہے، لیکن ایک مدرس یا عالم دین اگر تدریس کے ساتھ کوئی چھوٹا کاروبار بھی کرتا ہے تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔ بلکہ اس سے اس کی معاشی خودمختاری بڑھتی ہے، وہ مالی دباؤ سے آزاد ہو کر زیادہ یکسوئی کے ساتھ دین کی خدمت کر سکتا ہے اور لوگوں کے سامنے خودداری کی بہترین مثال قائم کرتا ہے۔

موجودہ دور میں آن لائن کاروبار اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ نے آمدنی کے بے شمار مواقع پیدا کر دیے ہیں۔ ایک عالم دین اپنی علمی صلاحیتوں، خطابت، تحریر اور عوامی رابطوں کو مثبت انداز میں استعمال کرتے ہوئے حلال ذرائع سے آمدنی حاصل کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنی دینی خدمات کو بھی جاری رکھ سکتا ہے۔

والدین، مدارس اور دینی اداروں کو چاہیے کہ وہ طلبہ کو صرف نصابی تعلیم تک محدود نہ رکھیں بلکہ ان کے اندر ہنر سیکھنے کا جذبہ بھی پیدا کریں۔ ایک ہنر مند عالم دین نہ صرف اپنے خاندان کے لیے سہارا بنتا ہے بلکہ معاشرے کے لیے بھی زیادہ مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔

آج وقت کا تقاضا ہے کہ دینی تعلیم کے ساتھ ہنر، مہارت اور معاشی خود کفالت کو بھی اہمیت دی جائے۔ تدریس کے ساتھ چھوٹا کاروبار یا کوئی فنی مہارت اختیار کرنا دین کے خلاف نہیں بلکہ سنتِ انبیاء، سنتِ صحابہ اور عملی زندگی کی ایک اہم ضرورت ہے۔ جو قوم علم کے ساتھ ہنر کو بھی اپناتی ہے وہ عزت، ترقی اور خودمختاری حاصل کرتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں علمِ نافع، عملِ صالح اور حلال و باعزت روزی عطا فرمائے۔ آمین۔

مفتی عرفان اللہ خان
#علماء علماء اکنامک ڈویلپمنٹ فورم

اس صدی کا ہدف ایسا عالمِ دین تیار کرنا ہونا چاہیے جو دین کا خادم بھی ہو اور معاشی طور پر خوددار بھی۔وقت کا تقاضا ہے کہ د...
28/05/2026

اس صدی کا ہدف ایسا عالمِ دین تیار کرنا ہونا چاہیے جو دین کا خادم بھی ہو اور معاشی طور پر خوددار بھی۔

وقت کا تقاضا ہے کہ دینی مدارس اپنے طلبہ کو قرآن، حدیث، فقہ اور علومِ اسلامیہ کے ساتھ ساتھ جدید اسکلز اور عملی ہنر بھی سکھائیں، تاکہ علماءِ کرام معاشرے کی دینی رہنمائی کے ساتھ اپنی معاشی ضروریات بھی باعزت طریقے سے پوری کر سکیں۔

اسلام محنت، کسبِ حلال اور خود انحصاری کی تعلیم دیتا ہے۔ تاریخِ اسلام کے بے شمار علماء، فقہاء اور محدثین تجارت، صنعت اور مختلف پیشوں سے وابستہ رہے اور ساتھ ہی دین کی عظیم خدمات بھی انجام دیتے رہے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مدارس سے فارغ ہونے والا طالبِ علم صرف ملازمت کا متلاشی نہ ہو بلکہ اپنے ہنر، علم اور صلاحیتوں کی بنیاد پر روزگار کے مواقع پیدا کرنے والا بنے۔

دینی تعلیم + جدید ہنر = خوددار عالمِ دین

یہی وہ ماڈل ہے جو آنے والی نسل کے علماء کو باوقار، خود کفیل اور معاشرے کے لیے زیادہ مؤثر بنا سکتا ہے۔

✍️ مفتی عرفان اللہ خان

🚨 اصلاحِ مدارس وقت کی اہم ضرورتیہ افسوسناک حقیقت ہے کہ دینی مدارس سے فارغ التحصیل ہونے والے بعض علماءِ کرام معاشی مجبوری...
28/05/2026

🚨 اصلاحِ مدارس وقت کی اہم ضرورت

یہ افسوسناک حقیقت ہے کہ دینی مدارس سے فارغ التحصیل ہونے والے بعض علماءِ کرام معاشی مجبوریوں کے باعث بیرونِ ملک مزدوری اور معمولی ملازمتوں پر جانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

اس مسئلے کا حل صرف وظائف بڑھانے میں نہیں بلکہ مدارس کے نصاب میں جدید اسکلز اور ہنر شامل کرنے میں بھی ہے۔

اگر طلبہ کو دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ:

✅ کمپیوٹر اور آئی ٹی
✅ ڈیجیٹل مارکیٹنگ
✅ ای کامرس
✅ الیکٹریشن اور ٹیکنیکل ہنر
✅ گرافک ڈیزائننگ
✅ کاروباری تربیت (Business Skills)

بھی سکھائی جائے تو وہ دین کی خدمت کے ساتھ معاشی طور پر خود کفیل بھی بن سکتے ہیں۔

ہمارا مقصد ایسا عالم دین تیار کرنا ہونا چاہیے جو مسجد، مدرسہ اور معاشرے کی رہنمائی کے ساتھ اپنی معاشی ضروریات بھی باعزت طریقے سے پوری کر سکے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاق المدارس، دینی مدارس، مخیر حضرات اور اربابِ اختیار مل کر "دینی تعلیم + ہنر" کے ماڈل کو فروغ دیں تاکہ آنے والی نسل کے علماء بیرونِ ملک مزدوری پر مجبور ہونے کے بجائے پاکستان میں رہ کر دین کی خدمت اور معاشی ترقی دونوں حاصل کر سکیں۔

دینی تعلیم کے ساتھ ہنر بھی، تاکہ عالمِ دین خوددار بھی ہو اور باوقار بھی۔

✍️ مفتی عرفان اللہ خان

اگر آپ کے پاس تقریباً 10,000 روپے ہیں تو سبزی منڈی سے شروع ہونے والے یہ کاروبار کم بجٹ میں اچھا آغاز بن سکتے ہیں:1. ریڑھ...
28/05/2026

اگر آپ کے پاس تقریباً 10,000 روپے ہیں تو سبزی منڈی سے شروع ہونے والے یہ کاروبار کم بجٹ میں اچھا آغاز بن سکتے ہیں:

1. ریڑھی پر تازہ سبزی فروخت

صبح منڈی سے سستی سبزی خریدیں اور گلی محلوں یا بازار میں ریڑھی لگا کر فروخت کریں۔

آغاز: 5k–10k

زیادہ منافع: ٹماٹر، آلو، پیاز، ہری مرچ

فائدہ: روزانہ کیش آمدن

2. فروٹ چاٹ / کٹے ہوئے فروٹ کپ

منڈی سے سستا فروٹ خرید کر فروٹ چاٹ یا فروٹ کپ بنا کر اسکول، بازار یا پارک کے قریب فروخت کریں۔

آغاز: 7k–10k

گرمیوں میں زیادہ کمائی

TikTok/Facebook reels سے جلد مشہور ہوسکتا ہے

3. ادرک، لہسن، مرچ پیکنگ بزنس

منڈی سے bulk میں سامان خرید کر چھوٹے پیکٹ بنا کر کریانہ دکانوں پر سپلائی کریں۔

آغاز: 5k–8k

گھر سے بھی ہوسکتا ہے

خواتین کیلئے بھی اچھا آپشن

4. سبزی ہوم ڈیلیوری

واٹس ایپ اسٹیٹس اور فیس بک گروپس میں روز ریٹ لگا کر آرڈر لیں اور گھروں تک سبزی پہنچائیں۔

آغاز: 5k–10k

صرف موبائل اور تھیلے درکار

مستقل کسٹمر جلد بن جاتے ہیں

5. آلو پیاز ہول سیل سے ری سیل

صرف آلو اور پیاز پر فوکس کریں کیونکہ ان کی demand ہر وقت رہتی ہے۔

کم رسک

خراب ہونے کا امکان کم

چھوٹی دکانوں کو سپلائی دے سکتے ہیں

تیز کامیابی کیلئے ٹپس

صبح جلدی منڈی جائیں تاکہ سستا مال ملے

Facebook اور WhatsApp status روز لگائیں

صاف ستھرا سامان اور اچھی آواز میں سیلنگ کریں

شروع میں کم منافع رکھیں، گاہک خود بڑھیں گے

افسوسناک انکشافخیبرپختونخوا کے بے شمار علماءِ کرام معاشی مشکلات، مدارس میں کم وظائف اور مساجد میں ناکافی معاوضوں کی وجہ ...
28/05/2026

افسوسناک انکشاف

خیبرپختونخوا کے بے شمار علماءِ کرام معاشی مشکلات، مدارس میں کم وظائف اور مساجد میں ناکافی معاوضوں کی وجہ سے مختلف عرب ممالک میں مزدوری اور معمولی ملازمتوں پر جانے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

یہ صورتحال نہ صرف علماءِ کرام بلکہ پورے دینی نظام کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ وہ حضرات جنہوں نے اپنی زندگیاں قرآن و سنت کی خدمت، تدریس، امامت، خطابت اور دینی رہنمائی کے لیے وقف کر رکھی ہیں، اگر اپنے اہلِ خانہ کی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہوں تو یہ معاشرے اور متعلقہ اداروں کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔

علماء انبیاء کے وارث ہیں۔ اگر ان کی معاشی حالت اس قدر کمزور ہو جائے کہ وہ گھر کا چولہا جلانے کے لیے دیارِ غیر میں مزدوری پر مجبور ہو جائیں، تو اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ مدارس، مساجد، مخیر حضرات، دینی تنظیمیں اور متعلقہ ادارے مل کر ایسا نظام تشکیل دیں جس سے علماء کو باعزت روزگار اور مناسب مالی استحکام حاصل ہو سکے۔

یہ معاملہ صرف ایک طبقے کا نہیں بلکہ دینی تعلیم، مذہبی رہنمائی اور آنے والی نسلوں کے فکری و اخلاقی مستقبل کا مسئلہ ہے۔ وفاق المدارس، دینی قیادت، اوقاف کے اداروں اور اربابِ اختیار کو اس جانب فوری توجہ دینی چاہیے تاکہ علماءِ کرام معاشی پریشانیوں سے نکل کر یکسوئی کے ساتھ اپنے دینی فرائض انجام دے سکیں۔

مفتی عرفان اللہ خان

28/05/2026

یقین جانیں، ای کامرس کوئی جادو کی چھڑی نہیں ہے، بلکہ یہ ایک خالص ریاضی اور سسٹمز کا کھیل ہے۔ اگر آپ اس کی اصل طاقت اور پاکستان کے زمینی حقائق کو سمجھ لیں، تو آپ آج ہی روایتی نوکری کی ذہنیت سے باہر نکل آئیں گے۔
لیکن ہوائی قلعے بنانے اور اپنے جاننے والوں یا واٹس ایپ گروپس پر لاکھوں پراڈکٹس بیچنے کے خواب دیکھنے کی بجائے، آئیے ایک حقیقت پسندانہ اور عملی حساب (Calculated Math) لگاتے ہیں جو پاکستان کی مارکیٹ میں واقعی کام کرتا ہے۔ دوستوں اور رشتہ داروں کو پراڈکٹ بیچ کر کبھی کوئی بڑا کاروبار کھڑا نہیں ہوتا، ( شروع ضرور ہو سکتا ہے )اصل کاروبار ڈیجیٹل لیوریج (Digital Leverage) کا استعمال کرتے ہوئے نامعلوم خریداروں تک پہنچنا ہے۔
پاکستان میں ای کامرس کا حقیقی حساب
فرض کریں آپ ہول سیل مارکیٹ سے ایک اچھی پراڈکٹ 500 روپے میں تلاش کرتے ہیں اور اسے آن لائن 1500 روپے میں فروخت کرتے ہیں۔ اب بظاہر یہ 1000 روپے کا منافع لگتا ہے، لیکن ایک حقیقت پسندانہ بزنس ماڈل میں اخراجات اس طرح کام کرتے ہیں۔
پراڈکٹ کی قیمت: 500 روپے
پیکنگ کا خرچ: 50 روپے
کوریئر چارجز: 200 روپے
فیس بک / ٹک ٹاک اشتہار کا خرچ (فی آرڈر)
300 روپے
واپسی (RTO - Return to Origin) کا نقصان: پاکستان میں کیش آن ڈیلیوری (COD) پر عموماً 20 فیصد پارسل واپس آ جاتے ہیں۔ ان کوریئر چارجز کے نقصان کو پورا کرنے کے لیے آپ کو ہر پراڈکٹ کے مارجن میں کم از کم 150 روپے کا بفر (Buffer) رکھنا پڑتا ہے۔
خالص منافع: ان تمام زمینی حقائق اور اخراجات (تقریباً 1200 روپے) کو نکالنے کے بعد، آپ کے پاس فی پراڈکٹ 300 روپے خالص منافع (Net Profit) بچتا ہے۔
خوابوں کی بجائے حقیقت پسندانہ ہدف:
شروع میں 3 ماہ کے اندر 1 لاکھ یونٹس بیچنے کا غیر حقیقت پسندانہ ہدف مت رکھیں۔ ایک عام مگر منظم شروعات میں آپ کا ہدف روزانہ صرف 30 پارسل کامیابی سے ڈیلیور کروانا ہونا چاہیے۔
روزانہ کے پارسل: 30
مہینے کے پارسل: 900
ماہانہ خالص منافع: 900 × 300 = 2 لاکھ 70 ہزار روپے
یہ کوئی دیومالائی کہانی نہیں ہے۔ یہ سب آپ اپنے لیپ ٹاپ کی مدد سے، فیس بک اور ٹک ٹاک پر ٹارگٹڈ اشتہارات (Paid Ads) چلا کر گھر بیٹھے کر سکتے ہیں۔
کامیابی کی اصل شرائط:
اس مارکیٹ میں کھوکھلی موٹیویشن سے کامیابی نہیں ملتی۔ اگر آپ واقعی اس سسٹم سے پیسہ بنانا چاہتے ہیں تو آپ کو ان تین چیزوں پر اپنی گرفت مضبوط کرنی ہوگی:
1 ایسی پراڈکٹ کی تلاش جو لوگوں کا کوئی مسئلہ حل کرتی ہو یا ان کی شدید خواہش ہو۔
2 فیس بک اور ٹک ٹاک پر اشتہارات (Ads) چلانے کی سائنس اور الگورتھم کو سمجھنا۔
3 ریٹرن ریشو (Return Ratio) کو کم کرنے کے لیے کسٹمر سروس اور کوریئر کے معاملات کو سختی سے کنٹرول کرنا۔
غربت تب ختم نہیں ہوتی جب آپ محض امید لگاتے ہیں، بلکہ غربت تب ختم ہوتی ہے جب آپ جذباتیت اور خوش فہمی کو چھوڑ کر ٹھوس حقائق کا سامنا کرتے ہیں، اور روایتی طریقوں کے بجائے سسٹمز اور ٹیکنالوجی کو اپنے حق میں استعمال کرنا سیکھتے ہیں۔
سوال یہ نہیں ہے کہ ای کامرس میں پیسہ ہے یا نہیں؟ سوال یہ ہے کہ کیا آپ ہوائی باتوں سے نکل کر ایک منظم اور حقیقت پسندانہ سسٹم کے ذریعے اپنا حصہ لینے کے لیے تیار ہیں؟

28/05/2026
عقل کے اندھے پن کے شکار لوگ پوسٹ پڑھنے سے باز رہے
28/05/2026

عقل کے اندھے پن کے شکار لوگ پوسٹ پڑھنے سے باز رہے

خواہش مند افراد کمنٹس میں لنک جوائن کریں شکریہ
28/05/2026

خواہش مند افراد کمنٹس میں لنک جوائن کریں شکریہ

Address

Swat Kpk
Kpk

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when علماء اکنامک ڈویلپمنٹ فورم posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share