19/12/2025
اٹھ جاؤ لڑکیوں فجر کی اذان ہونے والی ہے"حلیمہ بیگم نے کمرے میں دخل ہو کر دونوں کو آواز لگائی.
"اچھاامی"چھوٹی بیٹی زارا نے نیند بھری آواز میں کہا پھر اٹھ بیٹھی.
"اے سارا میں کہتی ہوں اٹھ جا"انہوں نے بڑی بیٹی سارا کے اپر سے چادر کھینچی. سارا کو ہمیشہ فجر کی نماز کے لئے اٹھتے ہوئے موت پڑتی تھی.
"اچھا ناں امی"وہ اب بھی نہ اٹھی تھی.
"بتاؤں تیرے ابا کوکہ اٹھتی ہے"امی نے دھمکی دی جسنے جادو والا کام کیا اور سارا بیڈ سے نیچے اتری.جبکہ زارا نماز کی تیاری کرچکی تھی.روز نماز کے لئے حلیمہ بیگم اسے ایسے ہی دھمکی دے کر اٹھاتی تھیں.ورنہ تو وہ کبھی نہ ہلتی پر ابا کےڈر سے وہ اٹھ بیٹھتی تھی.اسکے ابا نماز کے معاملے میں بہت سخت تھے.دونوں بہنوں نے نماز ادا کی سارا تو نماز ادا کر کے پھر لیٹ گئی.جبکہ زارا ،امی کے ساتھ ناشتہ بنوانے لگی.کیونکہ کچھ دیر میں ابا اور بھائی نے نماز پڑھ کے آ جانا تھا. انکا تعلق مڈل کلاس سے تھا.ابا کی کپڑے کی دکان تھی.جسے دونوں باپ، بیٹا چلاتے تھے.دکان بہت اچھے سے چل رہی تھی.
انھیں کسی چیز کی کمی نہ تھی.وہ ایک چھوٹا خوش حال گھرانہ تھا.ابا کچھ سخت طبیعت کے مالک تھے.بچے انسے ڈرتے بھی تھے.پر وہ تینوں بچوں سے پیار بھی بہت کرتے تھے.آج تک ابا نےانھیں کسی چیز کی کمی نہیں لگنے دی تھی. ابا کی طرح بھائی بھی سخت مزاج تھا.پر بہنوں سے بڑی محبت کرتا تھا.ابا کی طرف سے بہت سی باتوں پر پابندی تھی. وہ بیٹیوں کو پردے میں رکھتے تھے تاکہ زمانے کی بری نظروں سے انکی بیٹیاں بچیں رہیں.پر اس سب کے باوجود انھیں نے کبھی پڑھائی پر پابندی نہیں لگائی تھی.اسلئے دونوں لڑکیاں پڑھ رہی تھیں.سارا نے نئی نئی یونیورسٹی جوائن کی تھی اور زارا دسویں کلاس کی اسٹوڈنٹ تھی.
سارا نے جب سے یونی جوائن کی تھی.کبھی اسے اپنا عبایا پہننا برا لگتا کہ باقی لڑکیاں تو عبایا نہیں پہنتیں مجھے بھی نہیں پہننا تو امی اسے ڈانٹ دیتیں تو وہ خاموش ہو جاتی پر کچھ دنوں بعد پھر کوئی نئی بات نکال دیتی اب بھی وہ امی کے کمرے میں انکے پاس بیٹھی انکا سر کھا رہی تھی.
"بس کرجاسارا کیوں پیچھے پڑ گئی ہے" امی نے بے زاری سے کہا
"امی پلیز ناں موبائل لے دیں.یونیورسٹی میں سب کے پاس ہوتا ہے.یہ جو ارم ہے اسکے پاس بھی ہے"اسنے اپنی یونی فیلو کا کہا جو اسکے پڑوس میں رہتی تھی.
"اپنے ابا سے بات کر"امی لاپرواہی سےکہہ کر اٹھ کھڑی ہوئیں.ابا اچانک کمرے میں دخل ہوئے." کیا بات کرنی ہے مجھ سے"وہ مسکرا کر کہتے صوفے پر بیٹھے. بیگم کی آخری بات انکے کانوں میں پڑ چکی تھی.
"بیٹی سے پوچھیں"امی نے اسکی طرف اشارہ کیا تو وہ سر جھکا گئی.پھر جھجھک کر بول پڑی" ابا مجھے موبائل لینا ہے"اسکی بات پر ابا سنجیدہ ہوئے"بیٹا ابھی آپ پڑھائی پر دھیان دو جب عمر ہوگی تو لے دینگے ٹھیک" انہوں نے نرمی سے سمجھایا.وہ جی کہتی وہاں سے اپنے کمرے میں آئی"اب اس سے زیادہ اور کیا بڑی ہونگی میں یونیورسٹی تک تو پہنچ گئی اب بھی بچی سمجھتے ہیں"وہ غصے سے بڑبڑائی"کیوں جلا رہی ہیں خود کو ابا ہمارے اچھے کے لئے ہی کہتے ہیں" زارا نے کتاب سے سر اٹھا کر کہا."ہاں ہاں جانتی ہوں تم مت بتاؤ مجھے"بے زاری سے کہتی وہ منہ لپٹ کر لیٹ گئی.زارا بھی سر جھٹک کر پھر کتاب پڑھنے لگی.
*********
"امی ناشتہ دیں"سارا نے کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوئے آواز لگائی
"لا رہی ہوں.خود بھی ہاتھ ہلا لیا کرو" انہوں نے کچن سے کہا. ابا ،بھائی دکان پر جا چکے تھے.زارا آج اسکول نہیں گئی تھی.اسلئے امی کے ساتھ کچن میں تھی.
"یہ لیں" زارا نے ناشتہ میز پر رکھا تو وہ تیزی سے کھانے لگی.
"اچھاجاؤ میرا بیگ اور عبایا کمرے سے لے آؤ ابھی ارم نے بلانے آجانا ہے" اسنے چاۓ کا سپ لیتے ہوئے کہا. زارا نےاسکا عبایا اور بیگ صوفے پر رکھا.سارا نےناشتہ کر کےجلدی سے عبایا پہنا.اسکے اپر کالا دوپٹہ اچھے سےاوڑھا. ابھی اسنے بیگ اٹھایا ہی تھا کہ ارم آگئی.
"تیار ہو سارا "ارم نے کہا وہ جدید فیشن کے خوبصورت لباس میں ملبوس تھی.سارا نے اسے دیکھ کر لمبی سانس کھینچی اسے بھی ایسا لباس پہن کر یونی جانا پسند تھا.پر وہ اس عباۓ سے باہر نکلتی تو پہن پاتی. اسنے سر جھٹکا "ہاں چلو"اسنے امی کو اللّه حافظ کہا اور ارم کے ساتھ باہر کی طرف بڑھ گئی.
وہ دونوں ایک ساتھ بس سے یونیورسٹی جاتی تھیں. دونوں کے ڈیپارٹمنٹ الگ تھے.ان میں بہت حد تک دوستی بھی تھی.پر کچھ باتوں میں وہ دونوں ایک دوسرے سے مختلف تھیں.ارم کی زیادہ کسی سے دوستی نہ تھی. اپنی کلاس میں بھی وہ اکیلی رہتی تھی.جبکہ سارا کو دوست بنانے کا بڑا شوق تھا.آجکل بھی وہ اپنی کلاس میں آئی نئی لڑکی مایا کے ساتھ نظر آرہی تھی.سارا کی اس سے بہت دوستی ہو گئی تھی.ارم کو جب کچھ لڑکیوں سے معلوم ہوا کہ مایا اچھی لڑکی نہیں ہے تو اسنے سارا کو روکاپر سارا نے اسے کہہ دیاکہ مایا اسکی دوست ہے.وہ اسکے بارے میں کچھ نہیں سننا چاہتی.اسکےدوٹوک انداز میں کہنے پر ارم نے پھر اسے کچھ نہ کہا.
**********
یونیورسٹی میں سارا اب زیادہ تر مایا کے ساتھ ہی نظر آنے لگی تھی.کچھ دنوں میں مایا کے ایک دوست نے بھی یونیورسٹی جوائن کر لی .عباس, مایا کے ساتھ ساتھ رہتا اور مایا سارا کو خود سے جدا نہیں ہونے دیتی تھی.شروع میں سارا کو عجیب لگا اسنے مایا سے کہا کہ یہ لڑکا کیوں ہمیشہ انکے ساتھ رہتا ہے. جواباً اسنے کہاکہ وہ اسکا دوست ہے.یہاں نیا ہے.اسلئے وہ اسکے ساتھ رہتا ہے.عباس ایک خوش شکل نوجوان تھا.پر اسنے اپنی عجیب حالت بنائی ہوئی تھی.لمبے الجھے بال ، کان میں چھوٹی سی بالی ڈالی ہوتی.گھسی ہوئی جینز پہنی ہوتی تھی .ایسے حلیے میں وہ کوئی اورہی مخلوق لگتاتھا.
جیسے وقت گزرتا گیا سارا اور عباس ایک دوسرے کے قریب ہوتے چلے گئے.مایا اب کبھی کبھی انکے ساتھ ہوتی. زیادہ تر وہ دوسرے ڈیپارٹمنٹ کے ایک لڑکے کے ساتھ نظر آرہی تھی. سارا اب یونیورسٹی سے عباس کے ساتھ گھومنے چلی جاتی.عباس نے اسے اچھا سا موبائل بھی لے دیا تاکہ وہ دونوں بات کر سکیں.پوری کلاس میں دونوں کی اس حد تک دوستی پر چرچے ہونے لگے .پر وہ دونوں جیسے اندھے ، بہرے بنے ہوئے تھے.ارم نےسارا کو بہت سمجھایا تھاکہ وہ یہ سب اچھا نہیں کر رہی.سارا نے اس سے جھگڑا کر کے چپ کروا دیا.اسکا کہنا تھا کہ ارم اسکے معاملےمیں نہ بولے.اس جھگڑے کے بعد سے وہ ارم سے بات کرنا چھوڑ چکی تھی.بس ایک ساتھ یونیورسٹی آتیں جاتیں .سارا ابھی ایک نئی دنیا میں جی رہی تھی.اسے سب اچھا ہی لگ رہاتھا.جیسے آج سے پہلے اسنے زندگی جی ہی نہ ہو پر اسے یہ نہیں معلوم تھا.وہ جو کر رہی ہے اسکی منزل گھور اندھیرے کے سوائے کچھ نہ تھی. پر ابھی اس بات کو وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی.
***********
سارا موبائل مل جانے پر بہت خوش تھی.اسنے موبائل کو چھپا کر رکھا تھا.دونوں بہنیں ایک کمرے میں ہوتی تھیں.اسلئے سارا کو جب عباس سے بات کرنی ہوتی تو واش روم میں چلی جاتی.پر جب زارا کمرے میں ہوتی تو وہ میسج پر بات کیا کرتی تھی.
ابھی بھی اسنے بات کر کے موبائل جلدی سے بیگ میں چھپا کر رکھا.وہ بیڈ پر بیٹھی. جب امی کمرے میں داخل ہوئیں اور اسکے سامنے بیٹھیں .
"ساراتجھ سے کچھ بات کرنی ہے"امی نے تمہید باندھی
"بولیں امی" اسنے لاپرواہی سے کتاب کھولتے ہوئے کہا
"تیری پھوپھو نے تیرے لئے عمیر کے رشتے کی بات کی ہے"امی کی بات پر اسنے ایک دم سر اٹھا کر انھیں دیکھا
"امی یہ کیا بات ہوئی. میں پڑھ رہی ہوں ابھی اور اس عمیر سے مجھے شادی کرنی بھی نہیں ہے" اسنے بے زاری سے کہا پھوپھو کا بیٹا عمیر اسے ذرا پسند نہ تھا.
"اےکیا برائی ہے اس میں اچھی نوکری کرتا ہے جلد کہیں باہر چلا جائے گا.شکل بھی اچھی ہے.پھر تجھے کیا مسئلہ ہے"اسکی بات پر امی کو غصہ آیا تھا.تو وہ عمیر صاحب کی تعریفیں کرنے لگیں.
"بس نہیں اچھا لگتا وہ مجھے"وہ کتاب زور سے رکھتی بیڈ سے اٹھ کر الماری کی طرف بڑھی اور کپڑے نکالنے لگی.جبکہ امی نے اسکی پیٹھ کو گھورا تھا.
"ہاں اب تیرے لئےکیا کوئی شہزادہ آۓ گا بڑی آئی اچھا نہیں لگتا" امی نے طنزیہ لہجے میں کہا جبکہ سارا کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھری ایک دم سے عباس کی صورت اسکی آنکھوں کے سامنے لہرائی .
"تیرے ابا سے کہتی ہوں ابھی رک جائیں تیری پڑھائی ختم ہونے کے بعد بات آگے بڑھائیں گے" وہ اپنی بات کہہ کر کمرے سے نکل گئیں.سارا نےغصے سےدوپٹے کا گولہ بنا کر دور پھینکا.
"نہیں کرنی مجھے اس سے شادی ہونہہ"وہ بیڈ کی طرف آئی بیگ سے موبائل نکالا اور عباس کو میسج کرنے لگی.ابھی زارا کمرے میں نہیں تھی.اسلئے وہ آرام سے بات کر سکتی تھی.
**********
یونیورسٹی ٹائمنگ میں سارا ، مایا اور عباس کے ساتھ ایک ہوٹل میں آئی.مایا کا برتھ ڈے تھا تو اسنے سارا کو کہا کہ وہ اچھے سے تیار ہو کر آۓ.یونی پہنچ کر اسنے عبایا اتار دیا بلیک خوبصورت سے لباس میں وہ بہت پیاری لگ رہی تھی.دوپٹہ اسنے گلے کے ساتھ چپکایا ہوا تھا. عباس تو اس پر فدا ہوگیا تھا.ہوٹل پہنچے تو مایا کا بواۓ فرینڈ اسد بھی وہاں موجود تھا.سب نے مل کر خوب مزہ کیا کیک کاٹا گیا.ان تینوں نے مایا کو گفٹ دیے.کچھ دیر بعد اسد اور مایا وہاں سے چلے گئے.تو وہ دونوں اکیلے رہ گئے.وہاں بیٹھے وہ ایک دوسرے سے محبت بھری باتیں کرتے رہے.عباس بات بات پر اسکی خوبصورتی کی تعریف کر رہا تھا کہ وہ بغیر عباۓ کے بہت پیاری لگ رہی ہے.اسکی باتوں پر سارا ہواؤں میں اڑ رہی تھی.اسے اپنا آپ بہت خوبصورت لگ رہا تھا.پر اسے اتنی فکر نہ تھی کہ اگر اسکے باپ ، بھائی نے اسے ایسے دیکھ لیا تو کیا ہوگا.ہر بات کی فکر بھلائے وہ عباس کی محبت میں اندھی ہو چکی تھی
ارم ، سارا سے ملنے گھر آئی تھی.حلیمہ بیگم نے اسے سارا کے کمرے میں بھیج دیا.جب ارم کمرے میں دخل ہوئی تو سارا کتاب میں سر دیئے بیٹھی تھی.
"اسلام و علیکم"ارم کی آواز پر اسنے سر اٹھا کر دیکھا "اوه ارم تم...آؤ بیٹھو" اسنے بیڈ پر اپنے سامنے بیٹھنے کا اشارہ کیا.ارم اسے زہر لگنے لگی تھی.ایسا ہوتا ہے ناں کہ جب آپ اپنے پسندیدہ راستے پر چل رہے ہوتے ہیں بھلے وہ غلط ہو اور تب اگر کوئی آپکو روکے کہ مت چلو اس راستے پر یہ تمہارے لئے اچھا نہیں ہے.تو وہ شخص آپکو اپنا دشمن لگنے لگتا ہے.سارا کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہورہا تھا.ارم اسے روک رہی تھی کہ وہ اس بربادی کے راستے پر نہ چلے اور سارا کو وہ اپنی سب سے بڑی دشمن لگ رہی تھی.
"بتاؤ کیسےآنا ہوا ؟"سارا نے بے زاری سےپوچھا
"سارا بات یہ ہے کہ آج ایک لڑکی سے پتہ چلا کہ تم ہوٹل..."سارا نےہاتھ اٹھاکر اسےروکا
"بس ارم تم کیوں بڑی بن رہی ہو.مجھے اپنا اچھا برا پتہ ہے.تم اپنے کام سےکام رکھو"سارا اسکی بات کاٹ کر نحوست سے بولی
"دیکھو سارا تم یہ اچھا نہیں کر رہی اپنے ساتھ میں تمہاری دوست ہوں. تمہارا برا نہیں چاہتی"ارم نے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھا تو سارا نےغصے سےاسکا ہاتھ جھٹک دیا.
"تمہیں میری ماں بننے کی ضرورت نہیں ہے سمجھی اور نہ مجھے تم جیسی دوست کی ضرورت ہے" اسنے بے زاری سے کہا
"تم اپنی زندگی برباد کر رہی ہو.پلیز تھوڑاغور کرو ان باتوں پر بعد میں پچھتانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا.لڑکی کی عزت کانچ کی طرح ہوتی ہے ایک بار ٹوٹ کر بکھر جائے تو دوبارہ پہلے جیسی نہیں ہو سکتی.سارا تم..." ارم اور بھی بہت کچھ کہنا چاہ رہی تھی.پر سارا اٹھ کھڑی ہوئی.اسکی برداشت ختم ہو چکی تھی."بس بہت بول چکی تم اب جاسکتی ہو یہاں سے...پلیز گیٹ آوٹ"اسنے دروازے کی طرف اشارہ کر کے تلخ لہجے میں کہا.تو ارم کا چہرہ لال ہوگیا.وہ اٹھی اور بغیر کچھ کہے وہاں سے جانے لگی کہ دروازے کے قریب پھر سارا کی آواز نے اسے روکا.
"اور ہاں تم میری دوست نہیں ہو اسلئے تمہیں آئندہ یہاں آنے کی ضرورت نہیں"اسکے تلخ لہجے میں کہے الفاظ ارم کے دل میں پیوست ہوئے . اسکی آنکھیں نم ہونے گئیں.تو وہ جلدی سے وہاں سے نکلی تھی. وہ سارا کا بھلا چاہتی تھی. پر سارا نے تو انکی دوستی کا بھی ذرا لحاظ نہیں کیا .ارم کے جاتے ہی وہ موبائل لے کر واش روم میں چلی گئی.آدھا گھنٹہ وہ عباس سے بات کرتی رہی بات کر کے جب باہر نکلی تو زارا بیڈ پر کتابیں کھولے بیٹھی تھی.اسنے جلدی سے موبائل دوپٹے کے نیچے کیا اور میز پر رکھےاپنےبیگ کی طرف بڑھی"آپی یہ واش روم میں تم کیا بڑبڑا رہی تھی؟" زارا نےمصروف سے انداز میں پوچھا .
"کک ...کچھ بھی تو نہیں"وہ ہکلائی.ماتھے پر پسینہ چمک اٹھا."پر آواز آ رہی تھی" اب زارا نے ساراکو دیکھ کر کہا.
"ہاں وہ کل ٹیسٹ ہے ناں تو میں بس وہی ریوائس کر رہی تھی" اسنے جلدی سے خود کو سنبھال کر جھوٹ بولا تو زارا اچھا کہتی اپنا کام لکھنے لگی.جبکہ سارا نے بچ جانے پر لمبی سانس کھینچی اور آئندہ عباس سے رات کو بات کرنے کا ارادہ کیاتاکہ سب سو جائیں تو وہ آرام سے بات کر سکے.
***********
رات کا کھانا کھا کر سب اپنے کمروں میں چلےگئے .سارا بکس کھولے بیٹھی تھی.جبکہ زارا سونے کی تیاری کر رہی تھی.
"آپی سو جاؤ اب" وہ سارا سے کہتی اپنے بیڈ پر لیٹ گئی.سارا نے بھی بکس بند کی پھر لائٹ اوف کر کے لیٹ گئی.وہ زارا کے سونے کا انتظار کر رہی تھی.آج وہ یونیورسٹی نہیں گئی تھی.دن بھر اسکی عباس سے بات نہیں ہوئی تو اب وہ بے چین سی تھی.اسنے چادر سے سر نکال کر دیکھا زارا سو گئی تھی.وہ آرام سے اٹھی موبائل لیا اور واش روم میں چلی گئی.کال ملا کر موبائل کان سے لگایا دوسری طرف سے کال پک کی گئی.
"ہیلو" سارا نے دھمی آواز میں کہا
"کیاہیلو آج یونیورسٹی کیوں نہیں آئی اور سارا دن ایک مسیج تک نہیں کیا" وہ خفا ہو رہا تھا.پھر سارا نے اسے بتایا کہ اسکی پھوپھو
نے آنا تھا.اسلئے امی نے اسے یونیورسٹی نہیں جانے دیا.دن بھر پھوپھو نے اسے اپنے قریب سے ہلنے نہیں دیا تھا.تو وہ عباس سےبات نہ کرسکی.
"اوکے ڈارلنگ پر کل اچھے سے تیار ہو کر آنا پرسوں میں گھر جارہا ہوں.جانے سے پہلے تمہارے ساتھ وقت گزرنا چاہتا ہوں اوکے"وہ پیار سے بولے جارہا تھا.جبکہ اسکے جانے کی بات پر سارا کا دل گھبرا رہا تھا.
"آپکوکیوں جانا ہے عباس میرا دل نہیں لگے گا آپ کے بغیر" وہ اداسی سے بولی
"اوہ سویٹ ہارٹ کچھ دنوں کی بات ہے پھر اپنی جان کے پاس ہونگا.بس کل مجھ سے ملو" وہ اب سارا کو بہلانے لگا.
"میں آپکو بہت مس کروں گی" وہ جیسے رونے والی ہوگئی.عباس قہقہہ لگا کر ہنسا
"میری جان تم تو ایسے بات کر رہی ہو جیسے میں ہمیشہ کے لئے جا رہا ہوں"
"آئی لوو یو ناں اور آپکو پتہ ہے میں آپ سے دور رہنے کا میں سوچ بھی نہیں سکتی"وہ لاڈ سے کہتی کھلم کھلا اظہار کر رہی تھی.
"آئی نو بےبی اینڈ لوو یو ٹو چلو اب اچھی اچھی باتیں کرو اداس ہونا چھوڑو کل ملنا تو ہے.پھر ایک دوسرے کے بہت قریب رہیں گے" اسنے کمینگی سے ہنس کر کہا تو سارا شرما سی گئی. پھر دونوں راز و نیاز میں لگ گئے.جلد سو جانے والی سارا اب دیر رات تک اس سے بات کرتی تھی.
***********
رچاکر ڈھونگ الفت کا حوس دل کی بجھاتے ہیں.
حوس کا نام دنیا نے بدل کر عشق رکھا ہے.
وہ اچھے سے تیار ہو کر گھر سے نکلی .گھر سے کافی فاصلے پر عباس نے گاڑی کھڑی کی تھی.سارا اور عباس گھومتے پھرتے رہے پھر عباس اسے اپنے اپارٹمنٹ لے آیا تھا.
دروازہ کھول کر وہ اندر دخل ہوئے.سارا جھجھک رہی تھی.پر عباس نے اسے بہلا لیا.
"اچھا یار اس عبایا کو تو اتارو" دونوں کمرے میں دخل ہوئے.سارا نے عبایا اتارا تو عباس اسکے حسن کے قصیدے پڑھنے لگا.سارا اسکی باتوں پر مسکرا رہی تھی.بھلا وہ خوش کیوں نہ ہوتی کوئی پورےدل سے اسکی تعریف کر رہا تھا.وہ دونوں کافی دیر باتیں کرتے رہے.باتوں کرتے کیسے وہ ایک دوسرے کے قریب ہوتے چلے گئے. یہ انھیں خود بھی معلوم نہ ہوا.کہتے ہے کہ نا محرم مرد اور عورت کے بیچ تیسرا شیطان ہوتا ہے.جو انھیں بہکاتا ہے.سارا اور عباس کو بھی شیطان نے بہکا دیا تھا.وہ ایک نا قابل معافی گناہ کرنے جا رہے تھے.ان دونوں میں سے ایک کو بھی ہوش نہ تھا کہ وہ کیا کر رہے ہیں.وہ بس جذبات کی رو میں بہتے چلے جا رہے تھے.مرد تو گناہ کر کے کپڑے جھاڑ کر پھر سے پاک صاف ہو جاتا ہے.پر عورت اگر بہک جائے تو اسکا جرم صدیوں اسکا پیچھا کرتا ہے.سارا نے یہ قدم اٹھانے سے پہلے نہ اپنے گھر والوں کی عزت بارے میں سوچا تھا نہ یہ کہ ایک لڑکی کی عزت ہی تو اسکے لئے سب کچھ ہوتی ہے.جو اگرلٹ جائے تو وہ خالی ہاتھ رہ جاتی ہے.پر وہ محبت کے نام پر سب کچھ کرتی چلی جا رہی تھی.جو اصل میں محبت کہاں تھی. وہ تو انکی حوس تھی.وہ دونوں اپنے نفس کے غلام بنے ایک بڑا گناہ کرنے جارہے تھے.
***********
سارا ابھی تک یونیورسٹی سے نہیں لوٹی تھی. وقت کافی اپر ہو چکا تھا. امی ، ابا دونوں پریشانی میں چکر کاٹ رہے تھے.وہ فکر مند تھے.نجانے کیا بات ہوگئی کہ بیٹی ابھی تک واپس نہیں آئی.
"زاراجا کر ارم کو دیکھ وہ آگئی کیا" حلیمہ بیگم نے پریشانی سے کہا
"اچھا امی" زارا چادر لے کر گھر سے نکلی کچھ دیر بعد واپس آئی "امی آج تو ارم آپی یونیورسٹی گئیں ہی نہیں"اسنے جلدی سے بتایا تو امی اور ابا مزید پریشان ہوئے. اکیلی لڑکی کہیں کچھ ہو ہی نہ گیا ہو.
"ساراکے ابا جاکر یونیورسٹی سے پتہ کریں سارا ابھی تک کیوں نہیں آئی"حلیمہ بیگم گھبراہٹ سے بولیں انکا دل بے چین تھا. جیسے کہیں کچھ غلط ہو رہا تھا.
"اچھا میں دیکھتا ہوں" ابا پریشانی میں جلدی سے دروازے کی طرف بڑھے .جوان بیٹی ابھی تک گھر نہیں آئی تھی.انکا دل کانپ رہا تھا.کہیں ایکسیڈنٹ نہ ہو گیا ہو یا کچھ غلط نہ ہوگیا ہو. وہ گھر سے باہر نکلنے ہی والے تھے.جب سارا گھر میں دخل ہوئی.اسکی رنگت اڑی ہوئی تھی.ماتھے پر پسینہ چمک رہا تھا."سارابیٹا کہا رہ گئی تھی ہم بہت پریشان ہو گئے تھے" ابا نے اسکے سر پہ ہاتھ رکھ کر کہا تو سارا جیسے کانپ سی گئی.
"ہا..ہاں وہ ابا میں اپنی دوست کے ساتھ اسکی گاڑی میں آرہی تھی تو راستے میں کار خراب ہوگئی اسلئے اتنی لیٹ ہوگئی" اسنے تھوک نگل کر کہا.اسنے نظریں اپر نہ اٹھائیں .وہ اب اس قابل کہا تھی کہ باپ کو دیکھ کر بات کر سکتی."آگےسے خیال رکھنا بیٹا"ابا وہاں سے چلے گئے تو وہ آگے بڑھی امی نے بھی اسے سمجھایا کہ آتے جاتے خیال رکھا کرو.پھر وہ کمرے میں آئی عبایا اتارا اور واش روم میں گھس گئی.
واش بیسن پرہاتھ رکھ کر اسنے اپر لگے آئینے میں خود کو دیکھا تو اسے اپنا آپ عجیب سا لگا.وہ کیا کر آئی تھی اس بات کا احساس اسے اب ہوا تھا.پر اب کوئی فائدہ نہیں تھا.اسنے عباس کو کہا تھا کہ وہ اپنے والدین کو اسکے گھر بھیجے تو اسنے کہہ دیا کل وہ گھر جائے گا.پھر بات کریگا. پر سارا کو وہ بدلہ بدلہ سا لگ رہا تھا.سارا نہیں جاتی تھی کہ مرد کو عورت میں دلچسپی اس وقت تک ہوتی ہے.جب تک عورت کی عزت اسکے پاس مخفوظ ہو. پر جس وقت مرد کی پہنچ عورت کی عزت تک ہو جاتی ہے. تب مرد کی عورت سے دلچسپی ، لگاؤ ، محبت سب ختم ہو جاتا ہے. اسکے ساتھ بھی یہی ہونے والا تھا.عباس اسے کسی طرح بہلا کر گھر چھوڑ گیا.سارا نے اسے جلد واپس آنے کا کہا. تو اسنے خاموشی سے سر ہلا دیا.سارا نے خود کو بے مول کر دیا تھا. اب وہ خاموش آنسو بہا رہی تھی.وہ زناجیسا گناہ کر آئی تھی.اپنی عزت وہ اپنے ہاتھوں لٹا آئی تھی. وہ واش بیسن پر سے ہاتھ ہٹا کر نیچے بیٹھتی چلی گئی. پچھتاوے کے علاوہ اب اسکے دامن میں اور کچھ نہ بچا تھا.
**
طبیعت خرابی کی وجہ سے وہ یونیورسٹی نہیں گئی تھی.عباس کو وہ کال کرتی رہی تھی.پر اسکا فون بند تھا
جاری ہے
لائک کرے جلدی جلدی پوسٹ ہوگی پھر 😉
اگلی قسط آخری ہے