29/07/2017
بکریوں کو آزاد کرنے کے لئے انسانوں کو قید کرنے کا انوکھا واقعہ یقیناً افسوس ناک ہے میں یہ نہیں بتا سکتا کہ اس واقعے میں غلطی کس کی ہے کیونکہ فریقین ایک دوسرے کو غلط ثابت کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں البتہ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ کہیں کسی بھی معاملے میں اگر پچاس آدمی ایک نکتے پر اور دو چار آدمی دوسرے نکتے پر ہو تو یقینا پچاس آدمی غلط نہیں ہو سکتے پھر بھی اگر پچاس آدمیوں کو غلط تسلیم کر لیاجائے تو بھی شرافت کا تقاضا یہ ہے کہ دو آدمیوں کو پچاس کے ساتھ اتفاق کرنا چاہئے لیکن یہاں پر بات پچاس آدمیوں کی نہیں بلکہ پوری وادی کی ہے وادی کریم آباد ایک طرف جبکہ حیدرالملک ایک طرف ۔ ایسے میں جناب حیدرالملک کو علاقے کے مفاد میں بکریوں پر انسانوں کو ترجیح دے کر ان کے ساتھ چراگاہ کو محفوظ کرنے کے مشن میں شامل ہونا چاہئے تھا لیکن افسوس کہ انہوں نے ایسا کرنے کے بجائے اثر رسوخ استعمال کرکے بیس افراد کو جیل بھجوادیا یہ واقعہ جہاں ان کے اپنے لئے نقصان دہ ہے تو وہاں چترال کی سیاست میں بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے اب بھی وقت ہے کہ اس معاملے کو مزید طول دینے کے بجائے گرفتار افراد پر مقدمات ختم کرکے ان کو باعزت رہا کیا جائے