State life Abeer

State life Abeer Mr. Abeer Ahmed
(State Life Insurance Advisor)
Karachi Eastern Zone
WhatsApp No. 0335-0751971

State Life Best Plan for Job PersonBest time to investMr. Abeer (Insurance Advisor)📞 Call & WhatsApp 0335 0751971Visit O...
14/11/2023

State Life Best Plan for Job Person
Best time to invest
Mr. Abeer (Insurance Advisor)
📞 Call & WhatsApp 0335 0751971
Visit Our YouTube Channel : https://bit.ly/3tEBzgi

State Life Best Investment Plan✅ Just Invest 100,000 yearly✅ Get Maturity 80-85 Lakh Expected✅ Loan Facility 80%✅ Injury...
03/10/2023

State Life Best Investment Plan

✅ Just Invest 100,000 yearly
✅ Get Maturity 80-85 Lakh Expected
✅ Loan Facility 80%
✅ Injury Claims (AIB)
✅ Family Income Benefits (FIB 10%)
✅ Natural Death Claim 20 Lakh + Bonus
✅ Accidentally Death Claim 40 Lakh + Bonus

How to Get?
Mr. Abeer Ahmed (Insurance Advisor)
📞 Call & WhatsApp 0335 0751971
Visit Our YouTube Channel : https://bit.ly/3tEBzgi
______________________________________________________________________

Just Invest 12000 & Get Profit 8 Lac Expected,Contact us: Mr. Abeer Ahmed (Insurance Advisor - Karachi)WhatsApp No. 0335...
03/10/2023

Just Invest 12000 & Get Profit 8 Lac Expected,
Contact us: Mr. Abeer Ahmed (Insurance Advisor - Karachi)
WhatsApp No. 0335 0751971
Subscribe for more info: https://bit.ly/3CjO3wf

#سروس اور #ٹرسٹ کے 50 سال کی #جشن کے موقع پر اسٹیٹ لائف کے قابل قدر صارفین کے لیے خصوصی اعلانات۔
پاکستان کی #سب سے بڑی زندگی اور #صحت #بیمہ کنندہ، #سو ملین سے زیادہ پاکستانیوں کی حفاظت اور بچت،
#اسٹیٹلائف #تحفظ #بچت #سرمایہکاری

Just Invest 25000Contact us: Mr. Abeer Ahmed (Insurance Advisor - Karachi)WhatsApp No. 0335 0751971Subscribe for more in...
03/10/2023

Just Invest 25000
Contact us: Mr. Abeer Ahmed (Insurance Advisor - Karachi)
WhatsApp No. 0335 0751971
Subscribe for more info: https://bit.ly/3CjO3wf

#سروس اور #ٹرسٹ کے 50 سال کی #جشن کے موقع پر اسٹیٹ لائف کے قابل قدر صارفین کے لیے خصوصی اعلانات۔
پاکستان کی #سب سے بڑی زندگی اور #صحت #بیمہ کنندہ، #سو ملین سے زیادہ پاکستانیوں کی حفاظت اور بچت،
#اسٹیٹلائف #تحفظ #بچت #سرمایہکاری

Best Investment for Business PersonContact us: Mr. Abeer Ahmed (Insurance Advisor - Karachi)WhatsApp No. 0335 0751971 Fo...
03/10/2023

Best Investment for Business Person
Contact us: Mr. Abeer Ahmed (Insurance Advisor - Karachi)
WhatsApp No. 0335 0751971
For More Detail Please Subscribe Our YouTube Channel: https://bit.ly/3CjO3wf

#سروس اور #ٹرسٹ کے 50 سال کی #جشن کے موقع پر اسٹیٹ لائف کے قابل قدر صارفین کے لیے خصوصی اعلانات۔
پاکستان کی #سب سے بڑی زندگی اور #صحت #بیمہ کنندہ، #سو ملین سے زیادہ پاکستانیوں کی حفاظت اور بچت،
#اسٹیٹلائف #تحفظ #بچت #سرمایہکاری

State Life Plans, Please subscribe my Youtube channel (State Life Karachi) for more Plans & Policy :https://bit.ly/3CjO3...
03/10/2023

State Life Plans,
Please subscribe my Youtube channel (State Life Karachi) for more Plans & Policy :https://bit.ly/3CjO3wf
Contact us: Mr. Abeer Ahmed (Insurance Advisor - Karachi)
WhatsApp No. 0335-0751971
سروس اور ٹرسٹ کے 50 سال کی جشن کے موقع پر اسٹیٹ لائف کے قابل قدر صارفین کے لیے خصوصی اعلانات۔
پاکستان کی سب سے بڑی زندگی اور صحت بیمہ کنندہ، سو ملین سے زیادہ پاکستانیوں کی حفاظت اور بچت،

#اسٹیٹلائف #تحفظ #بچت #سرمایہکاری

Grow your StateLife business with us (0335-0751971)Digital Marketing for State Life Insurance...1. Create Your Business ...
03/10/2023

Grow your StateLife business with us (0335-0751971)
Digital Marketing for State Life Insurance...
1. Create Your Business YouTube Channel & Setup
2. Design Profile Logo & Banner
3. Channel Keyword, Tag, SEO, Description
4. Make 1 Video in your business
4. page, Facebook Group
5. FB Post Design (No. of Post 5)
6. Boost 1 Post Included (Targeted Audience)
8. Visiting / Business Card Design
Best Offer (Package Rs. 4,999/-)
for more detail contact hurry up: 0335-0751971

State Life Child Education and Marriage PlanBest Investment for EveryoneContact : Mr. Abeer Ahmed (State Life Insurance ...
03/10/2023

State Life Child Education and Marriage Plan
Best Investment for Everyone

Contact : Mr. Abeer Ahmed (State Life Insurance Advisor)
Cell & WhatsApp No. 0335-0751971

Please Subscribe My YouTube Channel: https://bit.ly/3tEBzgi

بیمہ زندگی/لائف انشورنش کی شرعی حیثیت کیا ہے؟سوال نمبر:3045انشورنش کی شرعی حیثیت کیا ہے؟سائل: محمد شہبازمقام: گجرانوالہت...
03/10/2023

بیمہ زندگی/لائف انشورنش کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
سوال نمبر:3045
انشورنش کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
سائل: محمد شہبازمقام: گجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 05 فروری 2014ء
زمرہ: بیمہ و انشورنس
جواب:
انشورنس اور بیمہ کے تفصیلی احکامات درج ذیل ہیں:

بیمہ کالغوی معنیٰ
بیمہ کے لئے انگریزی زبان میں Insurance (انشورنس) کا لفظ استعمال ہوتا ہے اور عربی زبان میں اس کو تامین کہا جاتا ہے۔ ان تینوں الفاظ یعنی بیمہ، انشورنس، تامین کے معنی ’’یقین دہانی‘‘ کے ہیں۔

اصطلاحی تعریف
اردو دائرہ معارف اسلامیہ کا مقالہ نگار لکھتا ہے ’’بیمہ فریقین کے درمیان ایک معاہدے کا نام ہے جس میں ایک فریق (بیمہ کمپنی) دوسرے فریق (بیمہ کرانے والا) کے نامعلوم نقصان کے واقع ہونے پر ایک مقررہ رقم ادا کرنے کا ذمہ لیتا ہے اور اس کے بدلے دوسرا فریق ایک مقررہ رقم اقساط (پریمیئم) کی شکل میں اس وقت تک ادا کرنے کا عہد کرتا ہے جب تک کہ وہ نامعلوم نقصان واقع نہ ہو جائے۔

اردو دائرہ معارف اسلامیہ ، 14: 456 ، زیر اہتمام دانش گاہ پنجاب ، لاہور

بیمہ کی ابتداء
بیمہ کی ابتداء 1400ء میں اٹلی کے تاجروں نے کی۔
سترہویں صدی عیسوی میں انگلستان میں بیماروں کی امداد کے لئے یہی طریقہ اختیار کیا گیا۔
اٹھارہویں صدی میں تاجروں نے اپنی انجمنیں قائم کیں اور تاجر برادری کا جو فرد کسی حادثہ کا شکار ہو جاتا اس کی مشترکہ فنڈ سے مدد کی جاتی۔
تاہم انگلستان سے متعلق قدیم ترین بحری انشورنس کی تاریخ 1547ء بتائی جاتی ہے۔

بیمہ کی اقسام
اس کی مندرجہ ذیل مشہور اقسام ہیں۔

زندگی کا بیمہ
املاک کا بیمہ
اعضاء کا بیمہ
ذمہ داریوں کا بیمہ (مثلاً بچوں کی تعلیم اور شادی وغیرہ)
قیمتی کاغذات اور اسناد کا بیمہ
بیمہ کا طریقہ کار
ایک شخص اپنی زندگی کا بیمہ کرانا چاہے تو اس کا طریق کار یہ ہے کہ بیمہ کمپنی کا ڈاکٹر اس کی حیات کا اندازہ کرتا ہے کہ یہ شخص اتنی مدت مثلاً بیس سال تک طبعی طور پر زندہ رہنے کے قابل ہے۔ اس کے مطمئن ہونے کے بعد بیمہ کمپنی اور بیمہ دار کے درمیان ایک معاہدہ طے پاتا ہے۔ بیمہ دار جتنی رقم کا بیمہ کرانا چاہتا ہے اسے سالانہ اقساط میں تقسیم کر کے بالاقساط بیمہ کمپنی کو ادا کرتا رہتا ہے۔ ایک مقررہ مدت کے بعد وہ رقم اسے یا اس کے لواحقین کو شرائط کے تحت واپس کر دی جاتی ہیں اور اصل رقم کے ساتھ مقررہ شرح فیصد کے حساب سے کچھ مزید رقم بھی دی جاتی ہے۔ اس رقم کا نام بونس (منافع) رکھا گیا ہے۔

بیمہ علماء کی نظر میں
بیمہ زندگی اصولی طور پر نہایت مفید سکیم ہے جس سے کوئی شہری اپنا اور اپنے بچوں کا معاشی مستقبل محفوظ کر سکتا ہے۔ بس اتنی حد تک درست ہے۔ اسی پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے عام علمائے کرام نے اسے جائز قرار دیا ہے حتی کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان حنفی قادری رحمۃ اﷲ علیہ نے بھی اسے جائز قرار دیا ہے۔

امام احمد رضا خان ، احکام شریعت: 202 ، شبیر برادرز

لہٰذا ہم بھی اسے جائز قرار دیتے ہیں۔

مجوزین بیمہ کے دلائل اور ان کا تنقیدی جائزہ:
مجوزین بیمہ‘ بیمہ کے حق میں مندرجہ ذیل دلائل دیتے ہیں۔

اس طرح انسان کی دولت بھی محفوظ رہتی ہے اور اس میں اضافہ بھی ہوتا ہے۔
دنیا حوادث کی آماجگاہ ہے۔ حوادث کی صورت میں نقصان کی تلافی ہو سکتی ہے۔
غریب آدمی کے لئے تمام حالات میں رقم پس انداز (جمع) کرنا مشکل ہوتا ہے۔ بیمہ پالیسی کی صورت میں تھوڑی تھوڑی جمع شدہ رقم یتیموں اور بیواؤں کا سہارا بنتی ہے اور مشکل وقت میں ان کے کام آتی ہے۔
یہ خادم انسانیت نظام ہے جس کا مقصد غریبوں اور محتاجوں کی اعانت ہے۔
شریعت اسلامیہ اجتماعی زندگی میں تعاون و تکافل پر بہت زور دیتی ہے لہٰذا بیمہ تعاون و تکافل کی ایک قانونی اور منظم شکل ہے۔
انسان کے مرنے کے بعد اس کے پسماندگان کی مالی امداد ہو جاتی ہے۔
حادثاتی صورت میں انسان کے سرمایہ کا تحفظ ہوتا ہے۔
بیمہ کے موجودہ نظام کے لئے قابل عمل اصلاحی ترامیم:
بیمہ کمپنی شرکت اور مضاربت کے اصول پر اپنا سرمایہ لگائے۔
جو شخص دو یا تین قسطیں جمع کروا کر باقی اقساط جمع نہ کرے اس کی رقم واپس کر دی جائے البتہ اس سے اخراجات وضع کر لئے جائیں اور بیمہ بولڈر ایک قسط ادا کرنے کے بعد کسی مرحلہ پر فوت ہو جائے تو معاہدہ کے مطابق کمپنی پوری رقم مرنے والے کے شرعی وارثوں کو ادا کرنے کی پابند ہو جیسا کہ آج کل ہے۔
بیمہ کرانے والوں کو بیمہ کمپنی حصہ دار قرار دے اور ان کے سرمایہ کو حصص قرار دے اور ان کے حصص کا جس قدر اوسط منافع بنتا ہے وہ ان کو دے دیا جائے۔ البتہ کمپنی اپنا کمیشن مقرر کر کے اس کو وضع کر سکتی ہے۔
بیمہ کمپنیوں کو حکومت اپنی تحویل میں لے لے۔
ضروری نوٹ :
بیمہ اور انشورنس جان و زندگی کا ہو یا جائیداد و کاروبار کا، چونکہ براہ راست اس میں سود، جوا وغیرہ نہیں اور بیمہ ہولڈر کمپنی سے کوئی ایسا معاہدہ نہیں کرتا جس میں کوئی غیر شرعی صورت پیدا ہو، پس ہمارے نزدیک یہ کاروبار اصلاً مفید اور شرعاً جائز ہے۔ رہ گیا یہ معاملہ کہ یہ کمپنیاں پریمیئر کی رقوم کو کہاں انوسٹ کرتی ہیں؟ تو ظاہر ہے کہ یہ انوسٹمنٹ زراعت، تجارت، صنعت وغیرہ جائز منصوبوں میں شرعی اصولوں کے مطابق بھی ہو سکتی ہے اور سود، جوا اور فحاشی کے شعبوں میں بھی، جو حرام ہے۔ اب جائز و ناجائز کا فرق کرنا متعلقہ کمپنیوں پر ہے۔ بیمہ ہولڈرز براہ راست کسی ناجائز کام میں ملوث نہیں۔ اللہ تعالی سودی نظام کو کلیتہً ختم کرنے اور اسلامی نظام معاش اپنانے کی منزل ہمارے لئے آسان فرمائے پس ہماری قطعی رائے یہی ہے کہ بیمہ و انشورنس کی سکیم نہایت مفید اور شرعاً جائز ہے۔

حالت اضطرار میں لائف انشورنس جائز ہے :
لائف انشورنس یا زندگی کا بیمہ وغیرہ کے نام سے جتنے ادارے قائم ہیں ان کے متعلق چند گزارشات پیش ہیں۔

کفالت عامہ اسلامی حکومت کے فرائض میں شامل ہے یعنی اسلامی حکومت کا فرض اولین ہے کہ اپنے باشندوں کی ضروریات زندگی، رہائش، خوراک، تعلیم، علاج، لباس وغیرہ پوری کرے خواہ روزگار مہیار کر کے خواہ ملازمت کی صورت میں خواہ وظیفہ دے کر جیسا کہ مغربی ممالک میں اور بعض سوشلسٹ ممالک میں یہ اصول مسلم ہے لیکن افسوس کہ اصول دینے والے اسلام کے نام لیوا یہ ذمہ داری پورے کرنے سے ناکام رہے ہیں اور مسلمان کہلانے والے حکمران اس اصول سے انکاری ہیں لہٰذا ہر آدمی سوچتا ہے کہ اولاً میں سود پر مبنی اس تمام نظام معیشت سے منہ موڑ لوں؟ اور اس کے نتیجے میں خود بھی تنگدست رہوں اور مرنے کے بعد پسماندگان کو بھی در در کی ٹھوکریں کھانے کے لئے چھوڑ جاؤں بصورت دیگر لائف انشورنس والوں کی بات مان لوں اور سودی نظام معیشت سے منسلک ہو کر جیسے تیسے ہو اپنے بچوں کے مستقبل کو محفوظ کر لوں۔ موت کا وقت مقرر ہے مگر ہمیں اس کا علم نہیں۔ یہی سوچ کر ہر انسان اپنے عیال کے لئے تحفظ کا فیصلہ کرتا ہے۔

اگر انشورنس یا دوسرے ادارے عوام سے لیا ہوا سرمایہ نفع و نقصان کی شراکت کے اسلامی اصولوں پر صنعت، تجارت اور زراعت وغیرہ کے شعبوں میں لگائیں تو اس سے منافع بھی سود کے مقابلہ میں زیادہ ہو اور رزق حلال بھی میسر ہو لیکن افسوس کہ سامراج کے ایجنٹ ہمارے حکمران خدا و رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کھلا اعلان جنگ کر کے اس سرمایہ کوسود پر لیتے اور سود پر چلاتے ہیں اور مسلمان عوام کو حرام کھلانے پر تلے بیٹھے ہیں چونکہ انشورنس ہولڈر اپنی رقم سود پر نہیں دیتے لہذا ان کے حق میں ہر طرح سے انشورنس، بیمہ وغیرہ جائز ہے۔ رہی یہ بات کہ کمپنیاں ان رقوم کو آگے سود پر چڑھاتی ہیں،اس میں دونوں امکان ہیں اولاً یہ کہ صنعت و تجارت، زراعت و دفاع پر نفع و نقصان کی شراکت کے شرعی اصولوں پر رقوم دیں یہ بلاشبہ صحیح و درست ہے یا ضرورت مندوں کو قرض حسنہ کے طور پر دیں یہ بہت اچھی اسلامی سکیم ہے مگر کمپنیاں اس پر عمل نہیں کریں گی کہ ان کے اخراجات پورے نہیں ہو سکتے۔ پس وہ مضاربہ و مشارکہ کے اصولوں کے مطابق یہ نظام کامیابی سے چلا سکتی ہیں۔ پبلک کے لئے بیمہ و انشورنس بہرحال شرعاً درست ہے۔ اگر اس کے خلاف ہماری کوئی تحریر ہو تو اس کو منسوخ سمجھا جائے۔ ہم اس سے رجوع کرتے ہیں۔ دوسری صورت یہ کہ کمپنیاں ان رقوم کو زیادہ شرح سود پر بڑے تاجروں، صنعت کاروں یا زمینداروں میں تقسیم کرتی ہیں یہ بیشک حرام ہے مگر بیمہ ہولڈرز نے تو اپنی رقوم سود پر نہیں دیں پس ان کے لئے بیمہ ہر طرح سے جائز ہے۔

المختصر آپ، اپنی، گاڑی، مکان، دوکان، فصل، کاروبار وغیرہ سب کی انشورنس کروا سکتے ہیں جائز ہے۔

لائف انشورنس کمپنی میں ملازمت کرنا:
لائف انشورنس کے جو ادارے کام کر رہے ہیں ان میں ہر عہدہ پر ملازمت کرنا جائز ہے کوئی ممانعت نہیں ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اسٹیٹ لائف انشورس کارپوریشن آف پاکستان
0335-0751971

State Life - Best Saving and Investment PlanBest time to invest Mr. Abeer Ahmed (Insurance Advisor)📞 Call & WhatsApp 033...
03/10/2023

State Life - Best Saving and Investment Plan
Best time to invest
Mr. Abeer Ahmed (Insurance Advisor)
📞 Call & WhatsApp 0335-0751971
Visit Our YouTube Channel : https://bit.ly/3tEBzgi

Address

Shahra E Faisal
Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when State life Abeer posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to State life Abeer:

Share