29/08/2025
ملک میں حالیہ سیلابی صورتحال کے بعد بہت سے لوگ یہ کہتے سنائی دیے کہ اگر ہم نے ڈیمز اور نہریں بنائی ہوتیں تو شاید آج یہ حالات نہ ہوتے۔ کچھ طنزیہ انداز میں یہ بھی کہتے ہیں کہ جب پاکستان میں دنیا کا بہترین نہری نظام موجود ہے تو پھر ہر سال سیلاب کیوں آتا ہے؟
ایسے تمام لوگوں کو جان لینا چاہیے کہ پنجاب کے چار بڑے دریا — جہلم، چناب، راوی اور ستلج — میں صرف جہلم ایسا دریا ہے جو پہاڑی علاقوں سے نکلتا ہے، اور اسی لیے اس پر ڈیم بنانا ممکن ہوا، جیسے منگلا ڈیم۔ باقی تین دریا میدانی علاقوں سے گزرتے ہیں، اور موجودہ دور میں دنیا میں کوئی ایسی ٹیکنالوجی نہیں ہے جو میدانی دریاؤں پر بڑے ڈیمز تعمیر کر سکے۔
جہاں تک نہری نظام کی بات ہے تو سیلاب کے دوران نہریں بند کرنا مجبوری بن جاتی ہے کیونکہ سیلابی پانی میں بھاری مقدار میں مٹی اور کیچڑ ہوتا ہے، جو نہروں کو بند کر دیتا ہے اور اگر نہریں بند نہ کی جائیں تو وہ ٹوٹ کر آس پاس کی آبادیوں کو ڈبو سکتی ہیں۔
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ کالاباغ ڈیم بن جاتا تو شاید مسئلہ حل ہو جاتا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ کالاباغ ڈیم اگر بن بھی جاتا تو اس کا فائدہ پنجاب کے دریاؤں کو نہیں ملتا کیونکہ یہ میانوالی کے قریب تعمیر ہونا تھا، جہاں پنجابی دریاؤں کا پانی ویسے بھی نہیں پہنچتا۔
تو پھر سوال یہ ہے کہ ہمیں ان سیلابوں سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟ اس کا سیدھا سا جواب یہ ہے: دریاؤں کے قدرتی راستوں پر تعمیرات نہ کی جائیں، ہاؤسنگ سوسائٹیز اور دیگر رکاوٹیں نہ بنائی جائیں۔ دریا اپنے راستے میں بہتا ہے، اور جب ہم اس کا راستہ روکتے ہیں تو وہ اپنا پرانا حق واپس لینے آتا ہے — چاہے کوئی ڈوبے یا کنارے لگے۔