05/12/2025
اسٹیٹ لائف انشورنس کا سب سے بہترین اور شارٹ ٹرم پلین جس نے اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن میں تاریخ رقم کردی۔
خوشخبری خوشخبری خوشخبری
اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن آف پاکستان نے ایک شاندار 3 سالہ اقساط والی پالیسی پلاٹینیم اینڈومنٹ پلان کا اجرا کردیا ہے۔
1. اس پلین میں آپ نے صرف اور صرف 3 اقساط دینی ہیں۔
2. اس پلین میں آپ کو تخفظ پورے 10 سال تک دیا جائے گا۔
3. اس پلین میں باقی تمام پلانز کی نسبت کم عرصے میں سب سے زیادہ میچورٹی دی جائے گی۔
4. شارٹ ٹرم پلان ہے۔
5. لون کی سہولت بھی میسر کی گئی ہے۔
6. پہلے سے زیادہ بونس والا پلین ہے۔
تو آئیں اس پلین کو لے کر اپنے اور اپنے بچوں کا مستقبل بہترین بنائیں۔
🏢اسٹیٹ لائف جو نام ہے اعتماد کا
برائے رابط: 03144755481
لائف انشورنس کیوں ضروری ہے؟
اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن آف پاکستان اسلامی نقطئہ نظر سے کیسے حلال اور شرعی طور پر جائز ہے؟
بونس سسٹم کیا ہے؟ اسٹیٹ لائف کہاں اپنا پیسا لگاتا ہے؟
پوری تفصیل بغور پڑھنے کے بعد کوئی بھی سوال ہو تو آپ کمنٹ کرسکتے ہیں۔
یہ بات نوٹ کی گئی ہے کہ معاشرتی طور پے ہم خاندانی نظام سے کٹ چکے ہیں .
بھائی ہوں یا والدین معاشی طور پے یا تو حالات کی ستم ظریفی کا شکار ہیں یا رشتوں میں وہ احساس باقی نہ رہا ہے .
ایک خاوند اور ایک باپ کے طور پہ جو ذمہ داریاں آپ پے ہیں کوئی اس میں حصہ دار بننے کو تیار نہیں .
بچوں کی شادیاں ہوں یا آپکے ذمہ خاندانی معاملات صرف آپ ہی ذمدار ہیں .
جب تک آپ کی سانس چل رہی ہے آپ دن رات محنت کرتے ہیں اور اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہیں ..
لیکن یہ زندگی کی سانس کی ڈوریں کب ٹوٹ کے شیرازہ بکھیر جائیں اس کی کوئی ضمانت نہیں .
انشورنس پالیسی کے ذریعہ آپ اپنی ذمہ داریوں کو ریاست پاکستان کے ساتھ بانٹ لیتے ہیں ..
اسٹیٹ لائف آپ کو آپکی بچت پہ دنیا میں دستیاب تمام اداروں سے زیادہ منافع دیتا ہے جس سے آپکی رقم آپکے بچوں کی شادیوں کے وقت انتہائی معقول اضافہ کے ساتھ واپس مل جاتی ہے جسکی حفاظت کی ذمہ داری ریاست کی ہے ..
اچانک ڈیتھ کی صورت میں مشترکہ فنڈز سے بچوں کی تعلیم کے لیے بیس سال تک وظیفہ اور دیگر ضروریات کے لیے فوری خاندان کا حق ادا کر دیا جاتا ہے ..
یہ ایک زبردست نظام ہے اور اسٹیٹ لائف پاکستان ایک قومی ادارہ ہے جسکے اثاثہ جات کا اندازہ آپ یوں لگا سکتے ہیں کہ صرف ڈیتھ کلیمز کے لیے جو رقم ادارہ اس وقت مختص کر چکا ہے وہ تقریباً 1400 ارب سے زیادہ ہے اور یہ رقم کل اثاثوں کا صرف5. 2 فیصد ہے .
ذمہ دار بنیں اور اس عظیم ادارہ سے منسلک ہو جائیں۔
اسٹیٹ لائف زندگی کے ساتھ بھی
اسٹیٹ لائف زندگی کے بعد بھی
ایک سچا ساتھ۔
⬅سود ایک لعنت ہے:
سود کے لیے تین 3 چیزوں کا ہونا ضروری ہے.
1 اصل زر (رقم)
2 مدت
3 فیکسیشن
مثلا" اگر ایک شخص کسی دوسرے شخص کو 10,00,000(اصل زر) دیتا ہے اور کہتا ہے کہ 1 سال (مدت) بعد 15,00,000 (فیکسیشن)لوں گا اس نظام کو سود کہتے ہیں.
⬅ کیا انشورنس سود ہے:
نہیں انشورنس سود سے پاک ہے جیسا کہ بتایا گیا ہے کہ سود کیلے تین چیزوں کا ہونا ضروری ہے.پر انشورنس میں فیکسیشن نہیں ہوتی.
مثلا" اگر ایک شخص اسٹیٹ لائف کو 20 سالوں میں 10,00,000(اصل زر) دیتا ہے تو اسے 20 سال (مدت) کے بعد 40,00,000 سے 50,00,000 ملیں گے یعنی 40,00,000 سے 50,00,000 کے درمیان کوئی بھی رقم ہو سکتی ہے جو کہ فکس( فیکسیشن) نہیں ہوتی.
اب سوال یہ ہے کہ اسٹیٹ لائف اتنی رقم کیوں دیتی ہے.
اس کیلیے موداربہ نظام کو سمجنا پڑے گا.
⬅ موداربہ نظام
اس نظام میں کم سے کم دو افراد کا ہونا ضروری ہے.
✔ ایکسپرٹی
✔ فائنانسر
مثال کے طور پر ایک پراپرٹی ڈیلر (یعنی ایکسپرٹی) کو ایک انویسٹر (یعنی فائنانسر) 1,00,00,000 دیتا ہے.اب پراپرٹی ڈیلر (یعنی ایکسپرٹی) اس رقم سے ایک بلڈنگ خرید لیتا ہے اور کچھ عرصہ بعد اس کو 1,10,00,000 میں بیچ دیتا ہے.
اس کو 10,00,000 کا منافع ہوتا وہ اس میں سے کچھ رقم خود رکھتا ہے اور باقی منافع اور 1,00,00,000 انویسٹر (یعنی فائنانسر) کو دیتا ہے.
حضرت محمد (ص) اور حضرت خدیجہ (س) شادی سے پہلے موداربہ نظام کے تحت تجارت کرتے تھے اس میں حضرت خدیجہ (س) فائنانسر اور حضرت محمد (ص) ایکسپرٹی تھے.
اسٹیٹ لائف بھی اسی نظام کے تحت کام کرتی ہے اس میں پالیسی ہولڈر فائنانسر اور اسٹیٹ لائف ایکسپرٹی ہے.
اسٹیٹ لائف انشورنس آپ کا پیسہ رئیل سٹیٹ، سٹاک ایکسچینج، سوزوکی موٹرز، ہاؤسنگ سوسائٹی، موٹروے، PIA, سٹیل ملز، منگلا ڈیم، تربیلا ڈیم، گوادر پورٹ، CPEC, PSO, فوجی فرٹیلائزرز کمپنیز میں لگاتا ہے۔ جو کہ کنفرم بھی کیا جا سکتا ہے۔
اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن آف پاکستان کی ملکیت 67کمرشل بلڈنگ پاکستان میں۔ جن کی مالیت اربوں میں ہے۔ ان کمرشل بلڈنگ کا کرایہ اسٹیٹ لائف کی آمدن کا تقریباً 75% ہے.
اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن آف پاکستان ایک ترین مالیاتی ادارہ ہے جس کی مالیت بک ویلیو کے مطابق(One Thousand Billion) -1 ہزار ارب روپے سے ذیادہ ہے جبکہ مارکیٹ ویلیو اس سے بھی کئی گناہ بڑھ کر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسٹیٹ لائف کی میچورٹی (Return value) پوری دنیا کی انشورنس کمپنیوں سے ذیادہ ہے۔
قرآن پاک اور احادیث مبارکہ کے مطالعہ سے یہ پتہ چلا ہے کہ کسی بھی عمل کے اسلامی اور غیر اسلامی ہونے کا معیار یہ ہے کہ اس کا استعمال دیکھا جائے۔ اگر کسی چیز کے استعمال سے معاشرے کو فائدہ پہنچے اور معاشرے کا نقصان نہ ہو تو وہ چیز اور عمل اسلامی کہلائے گا۔
لائف انشورنس کے خریدنے سے اور استعمال کرنے سے اور اس کے لئے اقساط جمع کرنے اور اس کا میچورٹی کلیم اور Death Claim معاشرے کیلئے فائدے ہی فائدے لانے کا باعث بنتا ہے اور معاشرہ اس سے منفی طور پر متاثر نہیں ہوتا ہے۔ لہذا اس کو غیر اسلامی نہیں کہا جاسکتا۔
اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن آف پاکستان امداد باہمی کے اصول پر قائم ہے۔ جس میں مختلف بیمہ دار اپنے ساتھی بیمہ دار کے مالی نقصان کو اس کی وفات کی صورت میں مل کر پورا کرتے ہیں۔ اگر بیمہ دار پالیسی کی مدت تک زندہ رہتا ہے تو اس کی اقساط کی صورت میں جمع شدہ رقم اور اس پر شامل کئے گئے بونس بیمہ دار کو ادا کردئیے جاتے ہیں۔ اسلام میں اس کی بہترین مثال بیت المال کی صورت میں موجود ہے۔ جس میں مخیر حضرات حسب توفیق یا حسب حیثیت رقم جمع کراتے تھے اور اس سے غریب ناداروں اور بیواؤں کی مدد کی جاتی تھی۔ کسی بھی مذہب میں اپنے ساتھی کی مالی امداد کرنا ناجائز اور غیر شرعی نہیں۔ اور اسلام تو اخلاقیات کی بہت زیادہ تاکید کرتا ہے۔ تو حقیقت میں یہ کام انسانیت کی خدمت ہے اور شرعاً قطعہ طور پر حرام نہیں ہے۔
دنیا میں لوگ بہت سے ناجائز کام اور کاروبار کرتے ہیں جنہیں وہ جائز سمجھتے ہیں۔
کیا اپنے افراد کیلئے حساس ہونا اور ذمہ دار ہونا بری بات ہے؟
کیا ان کے فائدے، ضرورت اور خوشحالی کے لئے سوچنا اور مستقبل کیلئے منصوبہ بندی کرنا ناجائز ہے؟
یتیم بچے کے سر پر ہاتھ رکھنے سے حدیث مبارکہ کے مطابق جتنے سر کے بال ہاتھ کے نیچے آگئے اتنی نیکیاں ملیں گی اور اتنے گناہ صغیرہ معاف ہو جائیں گے۔ اس عمل سے بچے کو کیا فائدہ ہوا کہ ہاتھ رکھنے والے کو اتنا بڑا اجر ملا۔ یہاں غور فرمائیے کہ بچے کے سر پر صرف ہاتھ رکھ کر حساس تحفظ دیا تو کتنا اجر ملا۔ اور اگر دوسرے ہاتھ سے پانچ یا دس لاکھ کا کلیم چیک دے کر یہ کہا جائے کہ بیٹا یہ رقم تمہارے باپ نے بیمہ کی صورت میں آپ کیلئے چھوڑی تھی یہ لے اور اپنے گھر کی چادر اور چار دیواری کا تقدس بحال رکھو اور باعزت زندگی گزارو، تو کیا احساس تحفظ کم ہوگا یا زیادہ یقیناَ زیادہ، تو پھر اجر ثواب بھی زیادہ ہوگا۔
لہذا بیمہ زندگی یا اسٹیٹ لائف انشورنس کے عمل کے ردعمل سے بیوہ،یتیم معزور اور بڑھاپے میں لوگوں کی مدد کی جاتی ہے اور معاشرے میں امن اور سکون پیدا ہوتا ہے لہذا بیمہ زندگی یا لائف انشورنس جائز، حلال اور شرعی طور پر جائز ہے۔
مزید اسٹیٹ لائف انشورنس کیسے سود نہیں ہے جانیے۔
https://youtu.be/D-lzr9Ee6xI
https://youtu.be/Tk1Zrj0NXAo
اسٹیٹ لائف مختلف بزنس میں رقم لگاتی ہے اور منافع بانٹ لیتی ہے.
For updates please like our official page
www.facebook.com/slicgujratzone
اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن آف پاکستان ایشیا کا سب سے بڑا مالیاتی ادارہ ہے اور دنیا کی واحد انشورنس کارپوریشن ہے جو اپنے منافع کا 97.5 فیصد پالیسی ہولڈرز کو بونس کی شکل میں ادا کرتی ہے
بحثیت مجموعی ہمارے معاشرے میں ہم ایک دوسرے سے کٹ چکے ہیں بھائیوں بہنوں میں وہ پیار محبت جو بہت سال پہلے ہوا کرتا تھا اب وہ بات نہیں رہی اور زیادہ تر ہماری زمہ داریاں صرف اور صرف ہمیں خود ہی نبھانا پڑتی ہیں کوئی ان کو بانٹنے والا نہیں ہوتا یہ ایک المیہ ہے
سٹیٹ لائف کی بچت سکیم سے آپ اپنی زمہ داریاں احسن طریقے سے پوری کر سکتے ہیں
مثلاً بچوں کی شادی
اپنے گھر کی تعمیر
حج کی سعادت
بڑھاپے میں پرسکون زندگی
سٹیٹ لائف آپ کے سرمایے کو مختلف کاموں میں لگاتی ہے سال کے آخر میں حاصل ہونے والے منافع کو آپ کی پالیسی میں آپ کی انویسٹمنٹ کے مطابق 97.5 فیصد کے حساب سے بونس کی شکل میں جمع کرتی رہتی ہے اور پالیسی کی مدت پوری ہونے پر آپ کی جمع شدہ رقم اور منافع آپ کو یکمشت ادا کر دیتے ہیں
یاد رہے کہ سٹیٹ لائف انشورنس کسی سودی کاروبار میں پیسہ نہیں لگاتی
جنت کی خواہش ہر کوئی کرتا ہے
لیکن
مرنے کا دل کسی کا نہیں کرتا
جنت کے حصول کے لیے موت شرط ہے
بہتر روشن مستقبل کے لئے آپ کو کچھ نا کچھ جمع تو کرنا پڑے گا تاکہ آپ کو بڑھاپے میں کوئی مالی مشکلات نا آئیں
اور آپ بڑپاپے میں اپنی زمہ داریاں احسن طریقے سے نبھا سکیں
ہر انسان آخری سانس تک اپنی فیملی کے لئے محنت کرتا رہتا ہے
انٹرنیشنل سروے کے مطابق انسان اپنی آمدن کا صرف پانچ سے دس فیصد اپنی ذات پر صرف کرتا باقی نوے فیصد اپنی فیملی پر صرف کرتا ہے
اس مشکل دور میں جب کوئی چاچا ماما ماسی پھپھی کوئی نہیں بنتا اور گھر کا سربراہ نا رہے تو سوچیں اس گھر کے افراد پر کیا گزرتی ہے
جب کسی کے گھر کا سربراہ نا رہے تو گھر والے اسے نہیں روتے بلکہ اپنی ضروریات کو روتے ہیں کہ اب کون ہماری ضروریات پوری کرے گا
اس وقت جب سب رشتے دار منہ موڑ جاتے ہیں سٹیٹ لائف اس وقت ان کا سہارا بنتا ہے وہ ان کا سربراہ باپ بھائی تو واپس نہیں کر سکتا پر سربراہ کی موت کی وجہ سے جو آمدن کی بھی موت ہوئی تھی جس کی وجہ سے مالی مشکلات آتی ہیں وہ دور کرنے کی کوشش کرتا ہے
برصغیر میں سب سے پہلی انشورنس کمپنی حضرت علامہ اقبال کے قلم سے 1934 میں قائم ہوئی تھی اس کے بانی چیئرمین علامہ اقبال صاحب تھے
1972 میں تمام 32 کمپنیوں کو ملا کر یہ گورنمنٹ کا ادارہ بنا تھا
میری 32 سال کی سروس میں سیکنڑوں لوگوں کو میچورٹی چیک اور کلیم لے کر دئے ہیں اور جب کسی بیوہ کو یتیم کو یا کسی بزرگ کو پیسے ملتے ہیں تو ان چہروں پر مسکراہٹ دیکھ کر میرا دل بھی بہت خوشی محسوس کرتا ہے
اگر آپ کی گنجائش ہے تو کوئی بچت سکیم کوئی کمیٹی کوئی انویسٹمنٹ اس سے بہتر نہیں اور یہ میں اپنے تجربے کی روشنی میں اور دل سے کہ رہا ہوں
اسٹیٹ لائف انشورنس آپ کی زندگی میں آپ کی اور آپ کے نا رہنے کی صورت میں آپ کے گھر والوں کی خدمت گار ثابت ہوتی ہے
ہر مشکل وقت میں یہ آپ کا سہارا بنتا ہے
اسٹیٹ لائف نے صرف کلیم کی مد میں 950 ارب مختص کئے ہوئے ہیں جو اس کے اثاثوں کا صرف 2.5 فیصد ہے اسے لائف فنڈ کہتے ہیں
ڈاکٹر قدیر خان صاحب نے فرمایا تھا کہ اگر اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن آف پاکستان نا ہوتا تو پاکستان ایٹمی طاقت نا بن سکتا کیونکہ پیسہ سٹیٹ لائف نے لگایا تھا پاکستان کی معیشت میں یہ ریڑ کی ہڈی کا کردار ادا کرتا ہے
یہ مختصر تعارف ہے مشورے کے لئے اور تفصیلی معلومات کے لئے رابطہ کریں دسمبر میں پالیسی حاصل کریں اور پورے سال کا بونس حاصل کریں
تعلیم اور انشورنس کے فائدے پندرہ بیس سال بعد ہی حاصل ہوتے ہی اور ہم دونوں سے ہی بھاگتے ہیں
بھاگیں نہیں اپنائیں پر سکون زندگی کی بنیادی رکھیں
اللّٰہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو
آمین ثم آمین
I am posting this I can help you with providing an affordable and best insurance plan for your spouse, son, daughter or Life Insurance / Investment Plan for yourself or your spouse.
You can have insurance plan for your Child Education, Child Marriage Plan, Child Protection, Insurance for Spouse, Life Insurance with Accidental Death and Injury Benefit, Best Investment plan and many more for the minimum period of 10 years with a minimum sum of 15,000 PKR.
*According to the Article 35-A of the Life Insurance (Nationalizations) Order 1972, your insurance policy will be guaranteed by the Federal Government of Pakistan*
State Life Insurance is the only trust able and guaranteed Pakistani Government owned Insurance Company with best premiums and transparency.
If you are interested to have a plan or want to know more. Let me know by inbox or call me .
A better approach in life is to dream big and plan accordingly to achieve them. State Life of Pakistan, provides you with a plan to make your dreams turn into a reality.
اسٹیٹ لائف مختلف قسم کے انشورنس پلان مہیا کرتا ہے جوآپ کی ضروریات کے عین مطابق ہیں۔
مناسب انشورنس پالیسی کا انتخاب کل نہیں آج
اپنا اور اپنے بچوں کا آج روشن اور مستقبل خوشحال بنائیں۔
منصوبوں کے بارے میں تفصیل سے جاننے کیلئے رابطہ کریں
Cover all Aspects of your life with our Endowment Insurance Plan. Secure all major aspects, like retirement, education, or capital for business.
Please like our page for more information.
www.facebook.com/slicgujratzone
Please call for more detail
Area Manager
MUHAMMAD BILAL
Cell:00923144755481
WHATSAPP: 00923144755481
IMO:
00923016287678