31/03/2024
لیلة القدر میں کرنے کے دس کام،
ان کاموں کو کرنے سے ان شاء اللہ لازمی شب قدر حاصل ہوجائی گی:
۱) دن کے وقت بھی اللہ تعالی کی نافرمانی سے گریز کریں تاکہ رات میں عبادت کی توفیق مل سکے۔ بعض اسلاف کا کہنا ہے:
لا تعصه بالنهار وهو يقيمك بين يديه في الليل
کہ دن کے وقت اللہ تعالی کی نافرمانی کرو تو وہ تمھیں رات کو اپنے سامنے قیام کی توفیق دےگا۔
۲) روزہ افطار کرتے ساتھ ہی عبادت کا اھتمام۔ کیونکہ لیل کی ابتداء مغرب کی نماز سے ہی ہوجاتی ہے لہذا عشاء کی نماز کا انتظار کرنا یا دیر رات کا انتظار کرنا، رات کے ایک برے حصہ کو ضائع کرنا ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيامَ إِلَى اللَّيْلِ پھر رات تک روزے کو پورا کرو، یعنی مغرب کے بعد ہی رات شروع ہوجاتی ہے۔ امام ابن قدامہ نے فرمایا ہے کتنے ہی لوف ہے جو اس رات کے ابتدائی حصے مین ہی ہارجاتے ہیں یعنی نماز عشا سے پہلے گناہ یا فضول گوئیاں کر کے۔
۳) اللہ تعالی کے سامنے کھڑے ہونے کے لیے اھتمام کرنا:
سلف صالحین، آخری عشرے کی ہر رات کو غسل کرنا پسند کرتے تھے.
لطائف المعارف، ص : 189
سیدنا تمیم الداری رضی اللہ عنہ کا ایک خاص لباس تھا جسے انہوں نے ہزار درہم میں خریدا تھا، وہ اسے صرف اس رات پہنتے جس میں لیلۃ القدر کی امید ہوتی
الجزء المتمم للطبقات الكبرى لابن سعد، ص: 723
۴) عشاء اور فجر کی نماز با جماعت ادا کرنا:
عثمان بن عفان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: جو عشاء کی جماعت میں حاضر رہے گا تو اسے آدھی رات کے قیام کا ثواب ملے گا اور جو عشاء اور فجر دونوں نمازیں جماعت سے ادا کرے گا، اسے پوری رات کے قیام کا ثواب ملے گا۔ (ترمذی: 221)
۵) انفرادی یا باجماعت قیام اللیل کرنا:
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے روزہ رکھا، اس کے اگلے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔ (ابن ماجہ 1641)
آدمی جب امام کے ساتھ نماز پڑھتا ہے یہاں تک کہ وہ فارغ ہو جائے تو اس کے لیے پوری رات کا قیام شمار کیا جاتا ہے۔ (نسائی 1365)
۶) تلاوت ِ قرآن:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے کتاب اللہ سے ایک حرف پڑھا، اس کے لئے اس کے بدلے میں ایک نیکی ہے، اور ایک نیکی اپنے جیسی دس نیکیوں کے برابر ہے (یعنی دس گنا اجر ملے گا) میں نہیں کہتا کہ «الم» ایک حرف ہے لیکن الف ایک حرف ہے لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے۔ (ترمذی: 2910)
۷) ذکر اذکار:
شب قدر کی خصوصی دعا:
اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّی
اے اللہ! تو معاف کرنے والا ہے اور تو معافی کو پسند کرتا ہے پس مجھ کو معاف فرمادے۔ (ترمذی:3513)
۸) اللہ تعالی سے عافیت، مغفرت، اور اپنی دینی دنیوی اور اخروی حاجات کا خوب سوال کرنا۔ سیدہ عائشہ فرماتی ہے: اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ کونسی رات شب ِقدر کی رات ہے تو میں اللہ تعالی سے سوائے عافیت کے کچھ نا مانگتی۔
۹) حسب ِاستطاعت صدقہ کرنا:
آگ سے بچو چا ہے آدھی کھجور کے ساتھ (صحیح مسلم 2349)
۱۰) سحری کے وقت کثرت اس استغفار
وَ بِالْاَسْحَارِ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ (سورۃ الذاریات 18)
اور اھل ایمان سحری کے وقت اپنے راست سے مغفرت طلب کرتے ہیں