12/05/2017
انکی دہلیز کے قابل میں اگر ہو جاؤں۔۔۔۔۔
سجدوں میں ماتھا ٹیکتے عمر گزری تھی اور میں جانتا تھا کہ میری عبادات کی کیا وقعت ہے۔۔۔ہمیشہ کمی سی رہی ماسوائے چند سجدوں کے جن میں " میں " نہ تھا۔مجھے علم تھا کہ میرے اعمال نامے میں سب سے ہلکی میری عبادات ہیں۔
شب برات۔۔۔میں گڑگڑانا چاہتا تھا، رونا چاہتا تھا اور سب کچھ مانگنا چاہتا تھا۔۔۔احباب نے جو اوراد و وظایف اور نوافل لکھ بھیجے تھے سب پڑھنا چاہتا تھا۔میں چاہتا تھا کہ میرے اعمال نامہ میں لکھی ہلکی بے وقعت عبادات میں کوئی ایک عبادت تو وزنی ہو جائے۔
حضور قبلہ عالم حضرت خواجہ نور محمد مہاروی علیہ رحمتہ کے آستانہ پر تل دھرنے کو جگہ نہ تھی، صلوات التسبیح کے نوافل ادا کرنے کے لیے باہر گلی تک صف بندی تھی۔۔۔
اور پھر جماعت جیسے ہی کھڑی ہوئی یوں لگا جیسے حشر کے میدان میں ہوں۔۔۔سر ہی سر نظر آتے تھے۔اپنے اپنے اعمال نامے ہاتھوں میں لیے سر جھکائے جیسے بنی نوع انسان سب صف بند کھڑے ہوں۔۔سب کے سب اس مقدس بارگاہ الہ میں۔۔۔میں اسکی تسبیح کرتے ہوئے عجب ندامت و خوف کی حالت میں سے گزر رہا تھا۔۔وہ جانتا ہے، وہ دیکھ رہا ہے، وہ سن رہا ہے۔۔۔۔اس حالت میں قیام بھی قیامت ہو جاتا ہے بس رکوع اور پھر ہار مان کر سجدہ ہی واحد پناہ نظر آتا پے۔۔۔امام صاحب نے جیسے ہی سلام پھیرا میں صف میں سے نکل کر اندر آستان کو چلا۔۔۔مجھے علم تھا کہ میری عبادت کی کیا وقعت ہے۔۔۔میں نے ہی تو ادا کی تھی مجھے سب معلوم تھا کہ عبادت میں کتنا وزن تھا۔پھر دل کہیں، دماغ کہیں، زہن کہیں۔۔۔۔شرع کے تقاضے اور حجت تمام ہوئی تھی۔اسکے سوا کیا تھا کہ اک رسم نبھائی ہو جیسے۔۔۔۔۔زندگی بھر اس سے " رسمی" رشتہ رکھنے میں ناکام رہا تھا۔۔اپنے خالق سے رشتہ اور وہ بھی صرف "رسم و راہ" کا؟؟
اپنے کریم کی بارگاہ میں تربت کے پاس ہاتھ اٹھائے اس نیت سے کھڑا ہوا کہ آج ان "بخشے لوگوں" کے چہروں کی تلاوت کروں، ان امید بھری آنکھوں کے واسطے دوں۔ میرے اٹھے ہاتھ دیکھ کر لوگ مجھے دعا کا کہتے رہے۔اب انہیں کیا بتاتا کہ میں تو " محمد کے امتیوں" کی زیارت کر رہا ہوں۔۔تم سب کے چہرے کھبی قیام میں لے جا رہے ہیں، تو کھبی تمہارے چہروں پر آج کی رات بکھرا نور اس درویش کو رکوع میں لے جاتا ہے۔۔کچھ مانگ تھوڈی رہا ہوں ہاتھ اٹھائے۔۔۔سوائے معافی کے۔۔۔خالق کو اسکی مخلوق کے واسطے سے اپنی خطاؤں پر بخشش کی دعا۔۔
مجھے پتہ تھا میرے اعمال نامے میں سب سے ہلکی میری عبادات ہیں۔۔مجھے پتہ تھا کہ میرے اعمال نامے میں اگر کسی چیز کو وزن ملا تو وہ ندامت کے آنسو اور تنہائی میں اس سے کی گئی وہ بے ربط اور لایعنی گفتگو ہو گی جسے " موسیٰ علیہ اسلام بھی نہ سمجھ سکے۔۔۔
مجھے پتہ ہے کہ میرے اعمال نامہ میں سب سے ہلکی میری عبادات ہیں۔وہ جانتا ہے کہ میں اس کی بارگاہ میں شرمندہ رہا ہوں مجھے یقین ہے کہ وہ میری لاج شرم رکھے گا۔