13/08/2026
ہر بار کی طرح اس بار بھی بھاولپور میں پی ٹی ای دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئی۔ہر الیکشن میں ہم امید کے ساتھ ووٹ ڈالتے ہیں لیکن جب اپنی ہی صفوں میں اختلافات اور گروہ بندیاں بڑھ جائیں تو کارکن اور ووٹر مایوس ہو جاتے ہیں۔ ہم نے اپنا ووٹ کسی شخصیت اور نظریے پر اعتماد کرتے ہوئے دیا تھا نہ کہ اندرونی لڑائیوں کے لیے۔ کئی مواقع پر یا تو الیکشن بچایا نہیں جا سکا یا ایسے سمجھوتے کیے گئے جن کا خمیازہ صرف ووٹرز نے بھگتا۔ نقصان نہ کسی عہدیدار کا ہوتا ہے اور نہ کسی گروپ کا بلکہ اس کارکن کا ہوتا ہے جو دن رات پارٹی کے لیے محنت کرتا ہےاگر قیادت اور ذمہ دار افراد باہمی اختلافات ختم کر کے ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو جائیں تو کارکن بھی پہلے سے زیادہ جوش و جذبے سے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ اتحاد اتفاق اور عوام کا اعتماد ہی ہر سیاسی جماعت کی اصل طاقت ہے۔ اگر یہ یکجہتی قائم رہے تو ووٹرز کا اعتماد بھی مزید مضبوط ہوگا۔ہم جیسے کارکن اور ووٹر ہر الیکشن میں اپنا ووٹ عمران خان کے نظریے اور پی ٹی آئی کے منشور پر دیتے ہیں، کسی فردِ واحد کی بنیاد پر نہیں۔ آج بھی اگر ایک ہی سیٹ پر ایک سے زیادہ امیدوار سامنے آئیں گے تو ووٹ تقسیم ہوگا اور نقصان صرف پی ٹی آئی اور اس کے ووٹرز کا ہوگا۔ ہماری گزارش ہے کہ مرکزی قیادت اس کا فوری نوٹس لے تمام اختلافات ختم کروائے اور میرٹ پر سب سے موزوں امیدوار کو ٹکٹ دے۔ ہمارے لیے نام اہم نہیں چاہے کوئی بھی امیدوار ہو اگر اسے پارٹی ٹکٹ دیتی ہے تو ہم عمران خان کے نظریے کے مطابق اسی کی حمایت کریں گے۔ لیکن خدارا آپس کی سیاست اور اختلافات ختم کریں کیونکہ تقسیم صرف ووٹ کو کمزور کرتی ہے، جبکہ اتحاد ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔