Riyasat Bahawalpur

Riyasat Bahawalpur Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Riyasat Bahawalpur, Chak. no. 7/b. c bahawalpur, Bahawalpur.

09/05/2026

عنوان: ستلج کے بعد — بہاولپور کی پیاس، پالیسی کی آزمائش
تحریر: Abdul Ghafar Sajid
بہاولپور کی تاریخ کو اگر ایک جملے میں سمیٹا جائے تو وہ یہ ہے کہ یہ خطہ پانی کے ساتھ اٹھا اور پانی کے ساتھ ہی لڑکھڑا گیا۔ کبھی دریائے کے بہاؤ نے اس خطے کو خوشحالی دی، اور ریاستی دور میں قائم نہری نظام نے اسے ایک مثالی زرعی معیشت میں ڈھال دیا۔ اس نظام کی بنیاد ، اور جیسے بڑے ڈھانچوں پر تھی، جہاں سے نکلنے والی نہریں ہزاروں ایکڑ رقبہ سیراب کرتی تھیں۔
پھر 1960 میں ہوا—ایک ایسا معاہدہ جس نے پورے خطے کی آبی جغرافیہ بدل کر رکھ دی۔ ستلج، جو بہاولپور کی معیشت کی شہ رگ تھا، عملی طور پر خشک ہو گیا۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف نہری نظام متاثر ہوا بلکہ ایک مکمل معاشی ڈھانچہ کمزور پڑ گیا۔
اعداد و شمار اس حقیقت کو مزید واضح کرتے ہیں۔ اندازاً بہاولپور ڈویژن میں لاکھوں ایکڑ زمین براہِ راست یا بالواسطہ طور پر ستلج کے پانی پر منحصر تھی۔ معاہدے کے بعد اس پانی میں 70 سے 80 فیصد تک کمی واقع ہوئی۔ چولستان کے علاقے، جو تقریباً 26 ہزار مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے، میں آج بھی 70 فیصد سے زائد آبادی صاف پانی کی مستقل فراہمی سے محروم ہے۔ مویشیوں کی تعداد میں نمایاں کمی اور چراگاہوں کے سکڑنے نے مقامی معیشت کو شدید متاثر کیا۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب ملک نے مجموعی طور پر ترقی کی تو بہاولپور کیوں پیچھے رہ گیا؟ اس کی کئی وجوہات ہیں۔
اول، پالیسی کا جھکاؤ۔ سندھ طاس معاہدے کے بعد جو بڑے آبی منصوبے بنائے گئے، ان کا زیادہ تر فائدہ وسطی پنجاب کے علاقوں کو پہنچا، جبکہ بہاولپور جیسے دور دراز علاقے ترجیحات میں پیچھے رہ گئے۔
دوم، مقامی قیادت کی کمزوری۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بہاولپور کی سیاسی و سماجی قیادت اس مسئلے کو قومی سطح پر مؤثر انداز میں اجاگر نہ کر سکی۔ نہ کوئی بڑا واٹر پروجیکٹ منظور کروایا جا سکا اور نہ ہی مستقل بنیادوں پر چولستان کے لیے پالیسی بن سکی۔
سوم، ادارہ جاتی عدم توجہ۔ ریاست بہاولپور کے دور میں جو مربوط انتظامی ڈھانچہ موجود تھا، وہ بعد میں تحلیل ہو گیا۔ اس کے بعد آنے والا نظام اس خطے کی مخصوص ضروریات کو پوری طرح سمجھنے میں ناکام رہا۔
چہارم، ماحولیاتی تبدیلیاں۔ وقت کے ساتھ ساتھ بارشوں میں کمی اور درجہ حرارت میں اضافہ نے بھی خشک سالی کو مزید بڑھایا، جس سے پہلے سے موجود مسائل سنگین ہو گئے۔
ان تمام عوامل کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک بار پھر پیاس اور محرومی کی علامت بن گیا۔ آج بھی وہاں پانی ایک بنیادی مسئلہ ہے، اور زندگی مشکلات کے سائے میں گزرتی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا کیا جا سکتا ہے؟
سب سے پہلے، چولستان اور بہاولپور کے لیے ایک جامع واٹر مینجمنٹ پالیسی بنانا ہوگی، جس میں نہ صرف نہری پانی بلکہ زیر زمین پانی اور بارشی پانی کو بھی شامل کیا جائے۔
دوسرے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے آبی ذخائر (Small Dams) اور رین واٹر ہارویسٹنگ کے منصوبے فوری طور پر شروع کیے جائیں۔
تیسرے، پرانے نہری نظام کی بحالی اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے پانی کے ضیاع کو کم کیا جائے۔
چوتھے، مقامی آبادی کے لیے لائیوسٹاک، زراعت اور متبادل روزگار کے پروگرامز شروع کیے جائیں تاکہ وہ صرف بارش یا نہری پانی پر انحصار نہ کریں۔
پانچویں، سیاسی نمائندوں کو اس مسئلے کو سنجیدگی سے قومی ایجنڈے پر لانا ہوگا، کیونکہ جب تک پالیسی سطح پر ترجیح نہیں ملے گی، عملی تبدیلی ممکن نہیں۔
بہاولپور کی کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ترقی صرف بڑے منصوبوں کا نام نہیں، بلکہ اس بات کا بھی نام ہے کہ اس کے ثمرات ہر خطے تک پہنچیں۔ اگر آج بھی ہم نے اس خطے کی پیاس کو نظر انداز کیا تو یہ صرف ایک علاقے کا نقصان نہیں ہوگا بلکہ قومی سطح پر ایک مسلسل ناانصافی بن کر رہ جائے گا۔
ستلج شاید واپس نہ آئے، مگر انصاف پر مبنی پالیسی کے ذریعے بہاولپور کو دوبارہ زندگی دی جا سکتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اس کے لیے تیار

10/12/2023

جنوبی پنجاب میں پانچ دریاؤں کے سنگم پر واقع ایک شہر ایسا ہے جو کسی زمانے میں ایک بڑی سلطنت کا عظیم الشان دارالحکومت تھا، اور جہاں سے پھوٹنے والے علم و عرفان کے سوتوں نے سارے برصغیر کو سیراب کیا، لیکن آج اسے تحصیل کا درجہ بھی حاصل نہیں۔
‏بہاول پور سے جنوب مغرب کی طرف 73 کلومیٹر کے فاصلے پر قائم یہ شہر کسی زمانے میں سات بڑی آبادیوں میں تقسیم تھا۔ 36 میل لمبائی اور 24 میل چوڑائی پر محیط حدود اربعہ کی وسعتوں کے حامل اس شہر کی زوال پذیری کا آغاز اس وقت ہوا جب 400 عیسوی میں وسطی ایشیا سے آنے والی ہن قوم اس پر حملہ آور ہوئی اور اس کو تباہ وبرباد کر ڈالا۔ امتدادِ زمانہ کے بے رحم ہاتھوں یہ شہر کئی بار اجڑا اور کئی بار آباد ہوا۔ اپنی قدامت اور تہذیبی خصوصیات کے سبب اس کے ڈانڈے ہڑپہ اور موہن جو ڈرو سے جا ملتے ہیں۔
‏صدیوں پرانی تہذیب کے حامل اس شہر نے بہت سے عروج و زوال دیکھے۔ زمانے نے اس کو مختلف ادوار میں مختلف نام دیے۔ کبھی اسے سپیڈا کے نام سے پکارا گیا تو کبھی اسے اساش کہا گیا، کبھی اس کا نام اوسا رہا تو کبھی دیو گڑھ، کبھی یہ سکلاندا کے نام سے مشہور ہوا تو کبھی اسے سکندریہ کہا گیا اور پھر یہ ہود بھی بنا اور چچ بھی۔
‏ناموں کا طویل سفر طے کرنے کے بعد بالآخر یہ شہر اوچ شریف بن گیا، اوچ کے ساتھ شریف کا لاحقہ اس کے تقدس اور احترام کی وجہ سے لگایا جاتا ہے۔ 550 قبل از مسیح میں آباد ہونے والا اوچ شہر اپنی قدامت، امارت اور روحانیت کے باعث ہمیشہ سے ہی فاتحین اور علم و فضل کی بڑی شخصیات کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔ اپنی سیاسی، سماجی اور ثقافتی اہمیت کے پیش نظر ہر دور میں علم وادب کے گیانی، سادھو اور بعدازاسلام اولیائے کرام نے اس شہر کا رخ کیا جن کے اب یہاں محض تذکرے اور مقبرے ہی باقی رہ گئے ہیں۔
‏کہا جاتا ہے کہ اوچ شہر دریائے ہاکڑا کے کنارے تعمیر اور آباد ہوا۔ اس دریا کی باقیات اب بھی نظر آتی ہیں۔ صحرائے چولستان میں تعمیر شدہ پرانے قلعے اور ان کی یادیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ کبھی یہاں دریا بہتا تھا اور خطے میں بہت زرخیزی اور خوش حالی تھی۔
‏برصغیر میں احیائے اسلام سے پہلے سندھ ہندو سلطنت کا حصہ تھا اور اوچ اس کے اہم شہروں میں سے ایک۔ اس عرصے کے دوران علاقے میں بہت سے قلعے اور فصیلیں تعمیر ہوئیں۔ سلطان محمود غزنوی اور محمد بن قاسم کی آمد سے ہندو سلطنت تباہی سے ہمکنار ہوئی اور پھر اس کے بعد اوچ کو صحیح معنوں میں عروج اور ترقی حاصل ہوئی۔
‏اوچ موغلہ: ضلع بہاول پور کا الف لیلوی قصبہ
‏اوچ شریف میں علوم اسلامی کی ابتدا 370 ہجری میں سید صفی الدین گاذرونی کی آمد سے ہوئی۔ وہ پہلے صوفی بزرگ تھے جو برصغیر میں وارد ہوئے اور اوچ میں رہائش اختیار فرما کر محض 17 سال کی عمر میں انہوں نے برصغیر کی پہلی اسلامی یونیورسٹی ’جامعہ فیروزیہ‘ کی بنیاد رکھی، جس نے برصغیر میں اس وقت اسلامی تعلیم کے فروغ و ترویج کا فرض انجام دیا جب ہندوستان کی فضا مسلمانوں کے لیے پوری طرح سازگار بھی نہیں ہوئی تھی۔
‏سلطان ناصر الدین قباچہ کے عہد (607 ہجری تا 625 ہجری) میں اس جامعہ کو بڑا عروج حاصل ہوا۔ مشہور ایرانی مورخ، قاضی وقت علامہ منہاج سراج جیسے جلیل القدر عالم جامعہ فیروزیہ کے صدر مدرس تھے۔ اس مدرسے میں بیک وقت اڑھائی ہزار طلبہ تعلیم حاصل کرتے تھے۔
‏سلطان ناصر الدین قباچہ کے دور میں اوچ کو سلطنت کے دارالحکومت کا درجہ ملا اور اس عرصہ کے دوران اوچ خوشحالی کے عروج پر پہنچا اور منگولوں کے حملوں کے باوجود اوچ نے اپنی اہمیت برقرار رکھی۔ التمش نے اوچ پر حملہ کیا اور مشہور زمانہ یونیورسٹی سمیت کئی مدرسوں اور کتب خانوں کو تباہ کر دیا۔ تباہی کے بعد جب وہ حاکم بنا تو اس نے دہلی کو اپنا دارالحکومت بنا دیا۔ اس کے بعد اوچ کو کبھی اپنی کھوئی حیثیت واپس نہ مل سکی اور یہاں صرف کھنڈرات اور روحانی عظمت کے آثارہی باقی رہ گئے۔
‏اوچ کے حالیہ نام کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ جب اس علاقے پر راجہ دیو سنگھ کی حکومت تھی تو حضرت سید جلال الدین سرخپوش نے یہ شہر اس سے حاصل کر لیا اور راجہ دیو سنگھ وہاں سے بھاگ نکلا۔ راجہ دیو سنگھ کی خوبرو لڑکی اوچاں رانی نے اسلام قبول کر لیا تو حضرت سید جلال الدین سرخپوش بخاری نے اس علاقے کا نام اس خاتون سے منسوب کرتے ہوئے اوچ رکھ دیا۔
‏اوچ شریف کو ہمیشہ صوفیائے کرام اور بزرگان دین کے حوالے سے یاد رکھا جائے گا۔ حضرت صفی الدین گاذرونی، حضرت سید جلال الدین سرخپوش بخاری، حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت، حضرت صدر الدین راجن قتال، حضرت فضل الدین لاڈلہ، حضرت جمال الدین خنداں رو، حضرت کبیر الدین حسن دریا، حضرت غوث بندگی اور حضرت بہاء الحلیم جیسی عظیم ہستیاں خطہ پاک اوچ میں ہی آسودۂ خاک ہیں۔ اس علاقے میں بہت سے ایسے نوادرات اور تبرکات بھی موجود ہیں جو اس علاقے کے تقدس میں بے حد اضافے کا سبب ہیں۔ ہمایوں کے دور میں اوچ پر مرزا کامران کی حکومت تھی۔ جب مرزا کامران اور مغلوں کی سلطنت مجتمع ہوئی تو اوچ مغلیہ سلطنت کا حصہ بنا۔ مرزا کامران کے دور حکومت میں بہت سارے مقبروں اور مزاروں کی تعمیر و مرمت کی گئی۔ جب بہاولپور میں عباسیہ سلطنت کی بنیاد رکھی گئی تو اوچ شریف اس نئی سلطنت کا حصہ بن گیا۔ سکھوں کے دور حکومت میں اوچ پر دو مرتبہ حملے ہوئے اور شہر کو کافی نقصان پہنچا۔
‏1817 میں آنے والے سیلاب نے اس شہر بے مثال کے قدیم آثار کو بری طرح متاثر کیا اور اپنے ساتھ بہت سی نشانیاں بہا کر لے گیا، تاہم چند ایک باقیات آج بھی معدومی سے پہلے آخری ہچکی کی صورت موجود ہیں۔ اس شہر کی تاریخی اہمیت کی بنیاد یہاں کے تین مشہور مقبرہ جات ہیں جو اپنی بوسیدگی اور خستہ حالی کے باعث کسی وقت بھی زمین بوس ہو سکتے ہیں۔
‏ان میں پہلا ادھورا مقبرہ حضرت بی بی جیوندی کا ہے جو حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت کی پوتی اور ایک درویش خاتون تھیں۔ یہ مقبرہ 15ویں صدی کے آخری عشرے میں خراسان کے حکمران محمد دلشاد نے بنوایا تھا۔ دوسرا مقبرہ حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت کے استاد حضرت بہاء الحلیم کا جبکہ تیسرا مقبرہ ان مقابر کے معمار استاد نوریا کا ہے جن کی خوبصورت کاریگری نے عہد گم گشتہ میں ان مقبروں کو شان و شوکت بخشی۔ یہ تینوں نادر و نایاب مقبرے آج اپنے اکھڑے، ٹوٹے پھوٹے در و دیوار لیے کسی قدردان کی نگاہ کو ترستے ہیں۔
‏اوچ شہر آریائی دور میں آباد ہوا، آریائی باہر سے آنے والی قوم تھی۔ خوبصورت اور سفید رنگت والی یہ نسل مقامی ہندو آبادی سے کافی ترقی یافتہ تھی۔ آریائی لوگوں کی آمد کے ساتھ ساتھ ہی اس علاقے میں ذات پات کا نظام بھی آیا جو اوچ شہر کی تعمیرات میں نمایاں ہے۔ اوچ میں آریائی لوگوں کے نقوش آج بھی موجود ہیں لیکن اس ورثے کو بچانے والا کوئی نہیں۔ اوچ شریف کی تاریخی عمارتوں کو بچانے کے لیے اوچ مانومنٹ کمپلیکس بھی قائم کیا گیا، تاہم اس کا عملی کردار کہیں نظر نہیں آتا۔
‏1998 میں اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کے ورلڈ ہیریٹیج سائٹ نے اوچ کے چار مقامات کو اپنی واچ لسٹ میں شامل کیا جبکہ فن تعمیر کے بےبدل شاہکار مقبرہ بی بی جیوندی کی وجہ سے امریکن ایکسپریس کمپنی نے اوچ شریف کو ’اولڈ بگ سٹی‘ کا خطاب دیا۔
‏ملتانی فن تعمیر کا شاہکار یہ مقبرہ 2000 میں دنیا بھر کی سو قدیم تاریخی عمارات کی فہرست میں پہلے نمبر پر تھا۔ امریکی قونصلیٹ برائن ڈی ہنٹ نے 2006 میں جبکہ پیٹرسن نے 2008 میں اس شہر کا دورہ کیا اور اس کے عظیم تاریخی ورثے کو محفوظ کرنے کے لیے 50 ہزار ڈالر عطیہ بھی کیا جس کا عشر عشیر بھی اوچ کے آثار قدیمہ پر لگا ہوتا تو آج اس کی یہ حالت نہ ہوتی۔
‏ اساطیری عہد سے لے کر موجودہ دور تک اوچ شریف کی تاریخ کئی الم ناک مراحل سے گزری ہے لیکن پُرآشوب ادوار کے سارے جبر کے تناظر میں مثبت اور حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ یہ خطہ ہمیشہ علم وعرفان اور روحانیت کا مرکز رہا ہے۔

16/04/2023
12/03/2023

Address

Chak. No. 7/b. C Bahawalpur
Bahawalpur
63100

Telephone

+923027706142

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Riyasat Bahawalpur posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Riyasat Bahawalpur:

Share