ZK Law Associates & Tax Consultant

ZK Law Associates & Tax Consultant Advocate High Court & Tax Consultant

تھرڈ پارٹی کے ذریعے ریٹرن فائلنگ آپ کی شناخت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے2 ستمبر، 2025انکم ٹیکس ریٹرن جمع کروانا ایک سالانہ ذم...
03/09/2025

تھرڈ پارٹی کے ذریعے ریٹرن فائلنگ آپ کی شناخت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے
2 ستمبر، 2025

انکم ٹیکس ریٹرن جمع کروانا ایک سالانہ ذمہ داری ہے، لیکن اب بہت سے ٹیکس دہندگان شارٹ کٹ کی تلاش میں سوشل میڈیا کے اشتہارات اور غیر تصدیق شدہ ٹیکس سروس فراہم کنندگان کا سہارا لیتے ہیں۔ یہ نام نہاد “سلوشن ادارے” آسان اور سستی ریٹرن فائلنگ کا وعدہ کرتے ہیں، لیکن بہت کم لوگ ان کی اصل حیثیت پر سوال اٹھاتے ہیں۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے ٹیکس سال 2025 کے لیے بڑے پیمانے پر تبدیلیاں متعارف کروائی ہیں، جس کے تحت ریٹرن فائلنگ کے عمل میں حساس معلومات درکار ہوتی ہیں جیسے آپ کا شناختی کارڈ نمبر (CNIC)، نیشنل ٹیکس نمبر (NTN)، بینک اکاؤنٹس، IBANs، جائیداد کے ریکارڈ، اور ودہولڈنگ ٹیکس سرٹیفکیٹس۔
یہ معلومات کسی غیر رجسٹرڈ بیچ والے کو دینا آپ کو شناخت کی چوری (Identity Theft) کے خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

سوچئے ذرا: اگر آپ اپنی لاگ اِن تفصیلات اور مالی معلومات کسی تیسرے فرد کے ساتھ شیئر کرتے ہیں تو آپ کے پاس کیا ضمانت ہے کہ آپ کا ریٹرن دیانت داری سے جمع کروایا گیا ہے اور آپ کی شناخت کا غلط استعمال نہیں ہوا؟

ایف بی آر کو پہلے ہی کئی شکایات موصول ہو چکی ہیں کہ اس طرح کی سرگرمیوں کے نتیجے میں فراڈ کے واقعات پیش آئے۔

✔ محفوظ ریٹرن فائلنگ کے لیے چیک لسٹ:
• اس بات کی تصدیق کریں کہ آپ کا بیچ والا ٹیکس حکام کے ساتھ رجسٹرڈ ہے۔
• اپنی CNIC یا بینک کی تفصیلات نامعلوم افراد کے ساتھ شیئر کرنے سے گریز کریں۔
• ریٹرن فائلنگ کے لیے سرکاری ایف بی آر پورٹل یا لائسنس یافتہ کنسلٹنٹ کو ترجیح دیں۔
• یاد رکھیں: براہِ راست اپنا ریٹرن فائل کرنا سب سے محفوظ طریقہ ہے۔

اگرچہ کچھ بینکوں نے صارفین کی سہولت کے لیے ریٹرن فائلنگ کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کی ہے، لیکن یہ انتظامات بھی مکمل طور پر ڈیٹا کے تحفظ کی ضمانت نہیں دیتے۔ بالآخر احتیاط برتنا ٹیکس دہندہ کی اپنی ذمہ داری ہے۔

سہولت ذاتی شناخت کے نقصان کی قیمت پر حاصل نہیں کی جانی چاہیے۔ اپنا ریٹرن محفوظ طریقے سے فائل کرنا ہی سکون اور مطمئن تعمیل کی ضمانت ہے۔

📢 ٹیکس کارڈ 2025-26 جاری کر دیا گیا!حکومت نے نیا انکم ٹیکس اسٹرکچر متعارف کرا دیا ہے، جو سال 2025-26 کے لیے لاگو ہوگا۔یہ...
03/07/2025

📢 ٹیکس کارڈ 2025-26 جاری کر دیا گیا!

حکومت نے نیا انکم ٹیکس اسٹرکچر متعارف کرا دیا ہے، جو سال 2025-26 کے لیے لاگو ہوگا۔
یہ جاننا ہر شہری کے لیے ضروری ہے 👇

🔹 تنخواہ دار افراد کے لیے
◽ 6 لاکھ سالانہ آمدنی تک کوئی ٹیکس نہیں
◽ 6 لاکھ سے زائد آمدنی پر 1% سے لے کر 35% تک ٹیکس

🔹 پنشن لینے والوں کے لیے (عمر 70 سال سے کم)
◽ 1 کروڑ سے کم پنشن = کوئی ٹیکس نہیں
◽ 1 کروڑ سے زائد پنشن = صرف اضافی رقم پر 5% ٹیکس

🔹 بزنس کرنے والے یا AOPs (ایسوسی ایشن آف پرسنز)
◽ آمدنی کے مطابق 15% سے 45% تک ٹیکس
◽ 1 کروڑ سے زائد آمدنی پر 9% اضافی سرچارج

🔹 پراپرٹی انکم پر ٹیکس
◽ ATL میں ہونے کی صورت میں کم شرح
◽ ATL سے باہر ہونے کی صورت میں ڈبل ٹیکس

🔹 کمپنیز کے لیے
◽ چھوٹی کمپنی: 21%
◽ عام کمپنی: 29%
◽ بینکنگ کمپنی: 39%
◽ Alternate Corporate Tax: 17%

📌 یہ تفصیلات FBR کی پالیسی کے مطابق ہیں، مزید رہنمائی کے لیے ہم سےرجوع کریں۔

WhatsApp or Call
03445309297
گھر بیٹھے فائلر بنیں۔ ایک فون کال میں ایک گھنٹے میں NTN حاصل کریں

14/12/2024

کچھ لوگ جب کسی ایجنٹ کے ذریعے فائلر بنتے ہیں تو اپنا پاسورڈ بھول جاتے ہیں، جس کی وجہ سے پاسورڈ ریکوری میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ اس مسئلے سے بچنے کے لیے درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کریں تاکہ اپنا پاسورڈ محفوظ رکھا جا سکے:

1. رجسٹریشن کے وقت درست معلومات فراہم کریں:
ہمیشہ ایف بی آر میں رجسٹریشن کرواتے ہوئے اپنا شناختی کارڈ پر درج موبائل نمبر اور ذاتی ای میل استعمال کریں۔ یہ اس لیے ضروری ہے کیونکہ پاسورڈ بحالی اسی نمبر اور ای میل کے ذریعے ممکن ہوگی جو رجسٹریشن کے وقت استعمال کی گئی ہو۔

2. پاسورڈ محفوظ رکھنے کا طریقہ:
اپنا پاسورڈ صرف موبائل میں محفوظ رکھنے کے بجائے اپنی ڈائری یا کسی فائل پر بھی لکھ کر رکھیں تاکہ بھولنے کی صورت میں آسانی سے دستیاب ہو۔

3. پروفیشنل سے این ٹی این بنوائیں:
ہمیشہ کسی قابل اعتماد پروفیشنل سے اپنا این ٹی این بنوائیں۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ آپ کا پاسورڈ اپنے پاس رکھنے کے بجائے آپ کو بھی فراہم کرے۔

4. پاسورڈ ریکوری کے بعد ضروری اقدام:
اگر آپ اپنا پاسورڈ ایف بی آر یا کسی ایجنٹ کی مدد سے ریکور کروائیں تو فوری طور پر اپنی ای میل اور فون نمبر کی معلومات اپڈیٹ کر کے پاسورڈ تبدیل کر لیں اور غیر ضروری طور پر کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں۔

*بیرون ملک سے آنیوالوں کے ایک موبائل فون کے سوا تمام موبائل فون ضبط ہونگے😱: ایف بی آر*اسلام آباد: بیرون ملک سے کمرشل ...
11/12/2024

*بیرون ملک سے آنیوالوں کے ایک موبائل فون کے سوا تمام موبائل فون ضبط ہونگے😱: ایف بی آر*

اسلام آباد: بیرون ملک سے کمرشل مقدار میں اشیاء ساتھ لانے پر مکمل پابندی کا فیصلہ کرلیا گیا، بیرون ملک سے ذاتی استعمال کے لیے ایک موبائل فون لانےکی اجازت ہوگی۔

ایف بی آر نے بیگیج اسکیم میں ترمیم سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

ایف بی آر کے مطابق بیگیج رولز 2006 میں مزید ترامیم سے متعلق مسودہ جاری کر دیا گیا ہے، قوانین میں ترامیم سے متعلق 7 روز میں سفارشات دی جاسکتی ہیں۔

ایف بی آر کے مطابق مقررہ معیاد کے بعد موصول ہونے والی تجاویز اور آراء قابل قبول نہیں ہوں گی۔

ایف بی آر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق بیگیج اسکیم میں ترمیم کے تحت 1200 ڈالر سے زائد مالیت کی اشیاء کمرشل تجارت تصور ہوگی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق بیرون ملک سے ذاتی استعمال کے لیے ایک موبائل فون لانےکی اجازت ہوگی۔ ایف بی آر کے مطابق ترمیم کے تحت ایک موبائل فون کے سوا تمام موبائل فون ضبط کر لیےجائیں گے۔

ایف بی آر کا کہنا ہےکہ بیگیج اسکیم میں ترمیم کے تحت اضافی اشیاء ڈیوٹی، ٹیکس اور جرمانے کے باوجود کلیئر نہیں ہوں گی۔

26/11/2024

بینک چارجز اسکیم کیا ہے؟
بینکوں نے ایک نئی پالیسی متعارف کروائی ہے، جس کے تحت مہینے کے آخری دن آپ کے بینک اکاؤنٹ میں موجود رقم پر مخصوص فیصد چارج کیا جائے گا۔ یہ چارج مختلف بینکوں کے لیے مختلف ہے اور آپ کے اکاؤنٹ میں موجود بیلنس پر منحصر ہوگا۔ اس چارج کو **"End-of-Month Balance Charge"** کہا جا رہا ہے، اور یہ انفرادی افراد (individuals) اور کمپنیوں (companies) دونوں پر لاگو ہوگا۔

اس کا طریقہ کار :-
- ہر مہینے کے آخری دن (month-end)، آپ کے اکاؤنٹ میں جتنی رقم موجود ہوگی، اس پر ایک خاص فیصد کے حساب سے کٹوتی کی جائے گی۔
- یہ چارج ہر بینک کے لیے مختلف ہوگا، کچھ بینک زیادہ فیصد چارج کریں گے جبکہ کچھ کم۔

مثال کے طور پر:
1. یو بی ایل (UBL):
اگر آپ کے یو بی ایل بینک اکاؤنٹ میں مہینے کے آخر میں 1 ارب روپے موجود ہیں، تو یو بی ایل آپ سے 6% چارج کرے گا۔

1 ارب × 6% = 6 کروڑ روپے۔
یعنی آپ کے اکاؤنٹ سے 6 کروڑ روپے کاٹ لیے جائیں گے۔

2. بینک الفلاح (Bank Alfalah):
اگر آپ کے الفلاح اکاؤنٹ میں 5 ارب روپے موجود ہیں، تو بینک آپ سے 5% چارج کرے گا۔

5 ارب × 5% = 25 کروڑ روپے۔
اس کا مطلب ہے کہ آپ کے اکاؤنٹ سے 25 کروڑ روپے کٹ جائیں گے۔

3. میزان بینک:
اگر آپ کے میزان بینک اکاؤنٹ میں مہینے کے آخر میں 5 ارب روپے موجود ہیں، تو میزان بینک آپ سے 5% چارج کرے گا۔

5 ارب × 5% = 25 کروڑ روپے۔

- یہ چارج آپ کے پورے بیلنس پر لگے گا جو مہینے کے آخری دن آپ کے اکاؤنٹ میں موجود ہوگا، چاہے آپ نے وہ رقم پورے مہینے استعمال کی ہو یا نہیں۔
- یہ چارج انفرادی افراد (Individuals) اور کاروباری اداروں (Companies) دونوں کے لیے یکساں ہوگا۔

اس پالیسی کا مقصد :-
بظاہر اس پالیسی کا مقصد بینکوں کو زیادہ منافع بخش بنانا اور شاید کچھ مالیاتی نظام کو بہتر بنانا ہو سکتا ہے، لیکن اس کے کئی ممکنہ منفی اثرات ہیں.

ممکنہ نقصانات :-
یہ پالیسی متعدد مسائل اور پیچیدگیوں کو جنم دے سکتی ہے، جن کا اثر نہ صرف انفرادی افراد پر بلکہ مجموعی معیشت پر بھی پڑے گا۔ ذیل میں ان نقصانات کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے:

1. بینک میں پیسہ رکھنے کی حوصلہ شکنی:-
لوگ بینکوں میں پیسہ رکھنے سے گریز کریں گے کیونکہ اس پر اضافی چارجز لگائے جا رہے ہیں۔

- پیسہ نکالنے کا رجحان:
لوگ اپنی جمع شدہ رقم بینکوں سے نکال کر ایسے متبادل ذرائع میں سرمایہ کاری کریں گے جہاں چارجز کا سامنا نہ ہو۔
- پراپرٹی یا زمین:
لوگ زمین خریدنے کو ترجیح دیں گے، کیونکہ یہ ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھی جاتی ہے۔

- سونا یا دیگر قیمتی دھاتیں:
سونے کی خریداری میں اضافہ ہو سکتا ہے، جو بینکوں کی بجائے ذاتی تحفظ میں محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔

- دیگر سرمایہ کاری کے مواقع:
اسٹاک مارکیٹ، بانڈز، یا غیر رسمی معیشت میں سرمایہ کاری بڑھ سکتی ہے۔

- بینکوں میں سرمائے کی کمی:

جب لوگ اپنے پیسے بینکوں سے نکال لیں گے تو بینکوں کے پاس سرمایہ کم ہو جائے گا۔
- قرضوں کی فراہمی میں رکاوٹ:
بینکوں کے پاس سرمایہ کم ہونے کی وجہ سے کاروباروں اور انفرادی افراد کو قرض ملنے میں مشکلات ہوں گی۔

- معیشت کی سست روی:
بینکوں کی کمزور پوزیشن معیشت کے دیگر شعبوں کو متاثر کرے گی، کیونکہ بینک سرمایہ کاری اور ترقی کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

2. مہنگائی میں اضافہ:-
کمپنیاں جو یہ اضافی چارجز ادا کریں گی، وہ ان چارجز کو اپنی مصنوعات اور خدمات کی قیمتوں میں شامل کر دیں گی۔
- پیداواری لاگت میں اضافہ:
کاروباروں کے لیے اضافی چارجز ایک اضافی خرچ ہوگا، جسے وہ اپنی پروڈکٹ یا سروس کی قیمتوں میں شامل کریں گے۔
مثال کے طور پر اگر ایک کمپنی کو بینک میں موجود رقم پر 5% چارج ادا کرنا پڑے تو وہ اس خرچ کو اپنی مصنوعات کی قیمت میں شامل کرے گی تاکہ نقصان پورا کر سکے۔

-مہنگائی کا دباؤ:
- مصنوعات اور خدمات کی قیمتیں بڑھنے سے عام عوام کے لیے روزمرہ کی ضروریات مہنگی ہو جائیں گی۔
- یہ مہنگائی کا ایک نیا سبب بن سکتا ہے، جو پہلے سے موجود معاشی دباؤ میں اضافہ کرے گا۔

غریب طبقے پر اثرات:
- کم آمدنی والے افراد کے لیے یہ مہنگائی زندگی مزید مشکل بنا دے گی۔
- ان کے لیے بنیادی ضروریات پوری کرنا بھی چیلنج بن سکتا ہے۔

3. بینکنگ سسٹم کا کم استعمال:-
لوگ بینکنگ سسٹم کو کم سے کم استعمال کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ چارجز سے بچا جا سکے۔
- کیش لین دین میں اضافہ:
- لوگ بینکنگ کے بجائے کیش کے ذریعے لین دین کریں گے تاکہ مہینے کے آخر میں بینک چارجز سے بچا جا سکے۔
- کیش پر زیادہ انحصار معیشت میں شفافیت کو کم کر دے گا۔

-معیشت پر اثرات:
- غیر رسمی معیشت (Informal Economy) میں اضافہ ہوگا، جو حکومت کے لیے مسائل پیدا کرے گا۔
- حکومت کے لیے ٹیکس جمع کرنا مشکل ہوگا کیونکہ کیش ٹرانزیکشنز پر نظر رکھنا آسان نہیں ہوتا۔
- ڈیجیٹل بینکنگ اور مالیاتی شمولیت (Financial Inclusion) کی حوصلہ شکنی ہوگی، جو معیشت کے لیے ایک نقصان دہ رجحان ہے۔

4. بینکنگ انڈسٹری پر دباؤ:-

بینکوں کو اپنے اخراجات پورے کرنے اور صارفین کو برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہوگا کیونکہ صارفین بینکنگ سسٹم سے دور ہو رہے ہوں گے۔
- یہ بینکوں کو اپنی دیگر خدمات کے چارجز بڑھانے پر مجبور کر سکتا ہے۔
- بینکوں کی منافع بخش پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے، جس سے بینکنگ سیکٹر میں بے چینی پیدا ہو سکتی ہے۔

مجموعی اثرات :-
یہ پالیسی نہ صرف افراد اور کاروباروں کے لیے مسائل پیدا کرے گی بلکہ معیشت کی مجموعی کارکردگی کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے۔
- لوگ بینکنگ کے بجائے غیر رسمی ذرائع کو ترجیح دیں گے۔
- معیشت میں شفافیت کم ہوگی، مہنگائی بڑھے گی، اور حکومت کے مالیاتی نظام پر دباؤ بڑھے گا۔
- اس کے نتیجے میں ملک کی مجموعی اقتصادی ترقی متاثر ہو سکتی ہے.
نوٹ یہ معلومات بینکس کی ویب سائٹ سے چیک کی جا سکتی ہیں. 03445309297

15/11/2024

ٹیکس قوانین کے مطابق قیمتی اثاثہ بیچنے پر جو منافہ حاصل ہوتا ہے اس کو کیپٹل گین ٹیکس کہتے ہیں سونا بھی قیمتی اثاثوں میں شما شمار ہوتا ہے اور اس پر کیپٹل گین ٹیکس لاگو ہوتا ہے
کیپٹل گین ٹیکس اس فارمولے کے تحت نکالا جاتا ہے
Profit=Sale Price-Purchase Price
مثال کے طور پر اگر اپ نے سونا 2022 میں چھ لاکھ میں لیا تھا اور 2024 میں 13 لاکھ میں فروخت کر دیا تو اس پر کیپٹن گین ٹیکس اس طرح نکالا جائے گا
1300,000-600,000=700,000
چھ لاکھ تک ہونے والے منافع پر کوئی ٹیکس لاگو نہیں ہوتا
اگر آپ کا منافع 6 لاکھ روپے تک ہے، تو اس پر کوئی ٹیکس نہیں۔ یعنی 6 لاکھ روپے تک کی حد ٹیکس فری ہے۔
6 سے 8 لاکھ روپے تک منافع: اس پر 7.5% ٹیکس لاگو ہوگا۔
8 سے 12 لاکھ روپے تک منافع: یہاں پہلے 1500 روپے فکسڈ ادا کریں، پھر 8 لاکھ سے زیادہ منافع پر 15% ٹیکس۔
12 سے 24 لاکھ روپے تک منافع: 75000 روپے فکسڈ ادا کریں، اور 12 لاکھ سے زیادہ منافع پر 20% ٹیکس دیں۔
24 سے 30 لاکھ روپے تک منافع: 3,15,000 روپے فکسڈ ادا کریں، پھر 24 لاکھ سے زیادہ منافع پر 25% ٹیکس دیں۔
30 سے 40 لاکھ روپے تک منافع: 4,65,000 روپے فکسڈ ادا کریں، اور 30 لاکھ سے زیادہ منافع پر 30% ٹیکس دیں۔
40 لاکھ روپے سے زیادہ منافع: 7,65,000 روپے فکسڈ ادا کریں، اور 40 لاکھ سے زیادہ منافع پر 35% ٹیکس دیں۔
انکم ٹیکس ریٹرن میں ہونے والی میں غلطیاں
- کیپٹل گین ٹیکس انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرتے وقت دینا پڑتا ہے
سونے کی کی قیمت خرید وہ تصور ہوگئی جو اپ نے انکم ٹیکس ریٹرن میں لکھی ہےنہ کہ اصل قیمت خرید جس پہ اپ نے خریدا تھا مثال کے طور پر اگر اپ نے سونا چھ لاکھ میں خریدا تھا لیکن انکم ٹیکس ریٹرن میں اپ نے صفر قیمت لکھی ہے جو عام طور پر لکھی جاتی جب سونا تحفے کے طور پر دیا جاتا ہے- تو قیمت فروخت صفر تصور ہو گئی نہ کہ چھ لاکھ اور اس پر کیپٹل گین ٹیکس اس طرح بنے گا
Profit
1300،000-0=1300,000
کیپٹل گین ٹیکس
85,000
اور اگر اپ نے سونے کی صحیح قیمت چھ لاکھ لکھی ہے تو کیپٹل گین اس طرح بنے گا
Profit
1300,000-600,000=700,000
کیپٹل گین ٹیکس
7,500
اس مسئلے سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ اپنی ٹیکس ریٹرن میں سونے کی اصل قیمت ہر سال درج کریں۔
اگر آپ کے پاس زیادہ مقدار میں سونا ہے۔ بہتر ہوگا کہ اسے ایک سال میں نہ بیچیں بلکہ سالوں میں تقسیم کر کے فروخت کریں اور
اگر آپ نے ٹیکس ریٹرن میں اپنے سونے کی ویلیو صفر درج کی ہے، تو یہ ضروری ہے کہ ہر سال تین سے چار لاکھ روپے کے درمیان اپنے سونے کی مالیت کو گین میں ظاہر کریں۔ کیونکہ چھ لاکھ روپے تک کی آمدنی پر ٹیکس نہیں لگتا، اس طرح آپ بتدریج اپنے سونے کی ویلیو ظاہر کر سکتے ہیں اور ٹیکس سے بھی بچ سکتے ہیں۔ اس سے آپ کے اثاثے قانونی طور پر ظاہر ہو جائیں گے اور ٹیکس بوجھ بھی کم رہے گا۔ مزید رہنمائی کے لئے آپ ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔


14/11/2024

جب آپ اپنا PSW (Pakistan Single Window) اکاؤنٹ یا امپورٹ ایکسپورٹ کا لائسنس بنوا رہے ہوں تو چند اہم باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے تاکہ بعد میں کسی بھی قسم کی پریشانی یا رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ یہاں ہم ان نکات کو تفصیل سے بیان کر رہے ہیں تاکہ آپ کو ایک واضح رہنمائی مل سکے۔

1. *اپنا ای میل ایڈریس اور فون نمبر استعمال کریں:-*

PSW یا امپورٹ ایکسپورٹ لائسنس بنواتے وقت ہمیشہ اپنی ذاتی معلومات استعمال کریں، خاص طور پر ای میل ایڈریس اور فون نمبر۔ ایسا کرنے کی چند اہم وجوہات ہیں:

- *پرائیویسی اور سیکورٹی:-* جب آپ اپنی ذاتی معلومات فراہم کرتے ہیں، تو آپ اپنی شناخت اور اکاؤنٹ کی تفصیلات کو محفوظ رکھتے ہیں۔ اگر آپ جلدی میں یا سہولت کے لیے کسی اور کا ای میل ایڈریس اور فون نمبر استعمال کرتے ہیں، تو بعد میں پروفائل کی معلومات یا دیگر اہم دستاویزات تک رسائی مشکل ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، اگر آپ کا کنسلٹنٹ یا کوئی ایجنٹ اپنا ای میل ایڈریس یا فون نمبر استعمال کرتا ہے تو آپ کو اپنی پروفائل میں تبدیلی کرنے، معلومات اپ ڈیٹ کرنے، یا کسی بھی دوسرے کام میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

- *پروفائل اپ ڈیٹ کی مشکلات:-* جب PSW یا امپورٹ ایکسپورٹ لائسنس کی پروفائل میں تبدیلی کرنا ضروری ہو تو اکثر OTP اس ای میل یا فون نمبر پر بھیجا جاتا ہے جو پروفائل میں درج ہوتا ہے۔ اگر آپ نے کسی اور کا نمبر یا ای میل ایڈریس دیا ہوا ہے اور اب آپ کو پروفائل میں تبدیلی کرنی ہے، تو یہOTP کوڈ آپ تک نہیں پہنچے گا، جس سے آپ کو پروفائل تک رسائی میں مسئلہ ہو گا۔

- *رینیوئل (Renewal) کے وقت او ٹی پی کا مسئلہ:-* جب لائسنس یا PSW اکاؤنٹ کو Renew کروانا ہو تو اکثر OTP کوڈ بھیجا جاتا ہے۔ یہ کوڈ اس ای میل یا فون نمبر پر بھیجا جاتا ہے جو آپ نے پروفائل میں پہلے سے دیا ہوا ہوتا ہے۔ اگر آپ کے کنسلٹنٹ نے اپنا ای میل ایڈریس یا فون نمبر درج کیا ہوا ہے اور اب وہ دستیاب نہیں ہے یا اس نے نمبر تبدیل کر دیا ہے، تو آپ کو شدید مشکلات پیش آسکتی ہیں۔

*2.ای میل اور فون نمبر کی اہمیت:-*

- *اہم نوٹیفکیشنز اور اپ ڈیٹس:-* PSW اور امپورٹ ایکسپورٹ لائسنس میں کسی بھی اہم تبدیلی یا اپ ڈیٹ کے لیے ای میل اور ایس ایم ایس کے ذریعے اطلاع دی جاتی ہے۔ اگر آپ کا ای میل یا فون نمبر درست نہیں ہے، تو آپ ان اہم پیغامات سے محروم رہ جائیں گے اور وقت پر اپنی پروفائل کو اپ ڈیٹ نہیں کر سکیں گے، جس سے مستقبل میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

- *کنٹرول اور رسائی:-* اپنی پروفائل کی مکمل رسائی آپ کے اپنے ہاتھ میں ہوتی ہے جب آپ ذاتی معلومات استعمال کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، اگر کسی دوسرے شخص کا ای میل یا فون نمبر درج ہے، تو وہ شخص آپ کے اکاؤنٹ اور پروفائل کو کنٹرول کر سکتا ہے۔ اگر اس شخص نے معلومات کو اپ ڈیٹ نہیں کیا یا اس کی رسائی ختم ہو گئی تو آپ کو اپنی پروفائل کی تفصیلات تک پہنچنے میں دشواری ہوگی۔

3. *کنسلٹنٹ کے ای میل ایڈریس یا نمبر استعمال کرنے کے نقصانات:-*

اکثر لوگ کنسلٹنٹ یا ایجنٹ کے ای میل ایڈریس اور فون نمبر کو جلدی میں درج کر دیتے ہیں تاکہ پروسیس آسانی سے مکمل ہو جائے، لیکن بعد میں اس کا نقصان ہوتا ہے۔ جب آپ کو اپنی پروفائل میں تبدیلی کرنی ہو یا Renewal کرنا ہو تو کنسلٹنٹ سے رابطہ کرنا پڑتا ہے۔ اگر وہ دستیاب نہ ہو یا اس نے اپنا نمبر تبدیل کر لیا ہو تو آپ کو اپنے اکاؤنٹ کی Renewal اور اپ ڈیٹس میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

- *پروفائل کی مالکیت😗 پروفائل میں آپ کی ذاتی معلومات درج ہونی چاہیے تاکہ آپ ہی اس کے مکمل مالک ہوں اور آپ کو پروفائل کے کسی بھی حصے تک رسائی میں دشواری نہ ہو۔ کنسلٹنٹ کی معلومات درج کرنے سے وہ مالکیت تبدیل ہو سکتی ہے، جس کا نقصان آپ کو اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

4. *حل اور مشورہ:-*

یہ ضروری ہے کہ PSW اور امپورٹ ایکسپورٹ لائسنس کی پروفائل بناتے وقت اپنے ذاتی ای میل ایڈریس اور فون نمبر استعمال کریں تاکہ آپ کو مستقبل میں کوئی مسئلہ پیش نہ آئے۔ اس کے علاوہ، اگر آپ کو اس پروسیس میں کوئی مدد یا رہنمائی چاہیے تو کسی تجربہ کار پروفیشنل سے رجوع کریں۔

اگر آپ PSW اور امپورٹ ایکسپورٹ لائسنس کے پروسیس میں نئے ہیں تو کسی قابل اعتماد کنسلٹنٹ یا پروفیشنل سےرہنمائی لیں، جو آپ کو اپنے ذاتی معلومات کے استعمال کی اہمیت اور اکاؤنٹ مینجمنٹ کے بارے میں مکمل تفصیل فراہم کر سکے۔

اپنا ای میل اور فون نمبر استعمال کرنے سے آپ کو پروفائل میں کسی بھی وقت تبدیلی کرنے کی سہولت میسر ہوتی ہے اور آپ کو کسی دوسرے فرد پر انحصار نہیں کرنا پڑتا۔

اس ساری وضاحت کا مقصد یہی ہے کہ آپ کو PSW یا امپورٹ ایکسپورٹ لائسنس بنوانے کے وقت اپنی ذاتی معلومات کے استعمال کی اہمیت اور اس کے فوائد کا علم ہو۔ اس طرح آپ مستقبل میں کسی بھی قسم کی مشکلات سے بچ سکیں گے اور اپنی پروفائل کو مکمل کنٹرول میں رکھ سکیں گے۔ 03445309297

وفاقی ریونیو بورڈ (ایف بی آر) نے ٹیکس کے ملکی نظام کو جدید بنانے کے لیے ادائیگیوں کا نیا سسٹم ’ای پیمنٹ 2.0‘ متعارف کرا ...
14/11/2024

وفاقی ریونیو بورڈ (ایف بی آر) نے ٹیکس کے ملکی نظام کو جدید بنانے کے لیے ادائیگیوں کا نیا سسٹم ’ای پیمنٹ 2.0‘ متعارف کرا دیا ہے جو ایف بی آر کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ ٹیکس ایڈمنسٹریشن کو بہتر بناتے ہوئے محصولات میں جدید ڈیجیٹل حل کے ذریعے اضافہ کیا جا سکے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ادائیگیوں کا یہ نیا سسٹم آئرس 2.0 پورٹل میں دستیاب ہے، یہ جدید پلیٹ فارم ہے جو ملک بھر کے ٹیکس دہندگان کے لیے ادائیگی کے عمل کو آسان بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

ڈائریکٹر جنرل (آئی ٹی اور ڈی ٹی) عائشہ فاروق نے اسلام آباد میں پی آر اے ایل ہیڈکوارٹرز میں ای پیمنٹ سسٹم کا افتتاح کیا۔

یہ جدید نظام انٹرنیٹ بینکنگ، اے ٹی ایم اور موبائل بینکنگ کے ذریعے ٹیکس دہندگان کو بینک اکاؤنٹس سے براہ راست قابل رسائی، محفوظ، موثر اور صارف دوست آن لائن ادائیگیوں کے قابل بناتا ہے، جس سے بینک جانے کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔

ای پیمنٹ 2.0 آمدنی، سیلز، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، اور ودہولڈنگ ٹیکس سمیت ٹیکسوں کی ایک وسیع رینج کا احاطہ کرتے ہوئے ریونیو مینجمنٹ میں ایک اہم پیشرفت کی نشاندہی کرتا ہے۔ پہلے، ٹیکس دہندگان آئرس 2.0 سے باہر ایک علیحدہ ای پیمنٹ سسٹم استعمال کرتے تھے، جس کے لیے انہیں پورٹلز کے درمیان سوئچ کرنے کی ضرورت ہوتی تھی۔

ای پیمنٹ 2.0 کے ذریعے ایف بی آر نے ایک متحد اور بہتر یوزر فرینڈلی انٹرفیس فراہم کیا ہے جو آئرس 2.0 میں براہ راست دستیاب ہے۔ ایک منفرد پیمنٹ سلپ آئی ڈی (پی ایس آئی ڈی) تیار کرکے یہ سسٹم دونوں رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کے لیے فوری اور آسان ادائیگی کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ ادائیگی مکمل ہونے پر تصدیق شدہ کمپیوٹرائزڈ ادائیگی کی رسید (سی پی آر) ای میل اور ایس ایم ایس کے ذریعے جاری کی جاتی ہے اور اسے آئرس 2.0 سسٹم کے اندر مستقبل میں استعمال کے لیے باضابطہ تصدیق اور آسان رسائی فراہم کرتی ہے۔

مزید تفصیلات سے پتا چلتا ہے کہ یہ سسٹم محفوظ اور درست ملٹی اسٹیپ ورک فلو کے ذریعے ٹیکس دہندگان کو پی ایس آئی ڈی بنانے، اے ڈی سی چینلز کے ذریعے ادائیگی مکمل کرنے اور فوری طور پر کمپیوٹرائزڈ پیمنٹ رسید وصول کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے، جو آئرس کے اندر مستقبل کی تعمیل کی ضروریات کے لیے قابل رسائی ہے۔

اس میں شفافیت اور جوابدہی کو بڑھانے کے لیے پی آئی ایس ڈی تلاش کرنے کی جامع خصوصیت شامل ہے، جس سے ٹیکس دہندگان آسانی سے ادائیگی کے ریکارڈز کو بازیافت اور ان کی تصدیق کر سکتے ہیں۔

آٹومیشن اور انضمام کی یہ سطح غلطیوں اور تاخیر کو کم کرتی ہے، ٹیکس کی ادائیگی کے تجربے میں نمایاں طور پر بہتری لاتی ہے اور کاروبار کے لیے موافق، تعمیلی ٹیکس ماحول کے لیے ایف بی آر کے وژن کی حمایت کرتی ہے۔

ای پیمنٹ 2.0 متعارف کرانے کے ساتھ، ایف بی آر نے ٹیکس کی ادائیگی کے عمل کو آسان بنا دیا ہے اور اسے آئرس 2.0 پلیٹ فارم کے اندر متحد کر دیا ہے، تاکہ ٹیکس دہندگان کو بغیر کسی رکاوٹ کے بہتر تجربہ فراہم ہو۔

یہ مربوط نظام ایک سے زیادہ لاگ ان اور پلیٹ فارم کے درمیان سوئچ کرنے کی ضرورت کو ختم کرتا ہے، ایک سنگل، مربوط انٹرفیس پیش کرتا ہے جو بدیہی اور موثر ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹیکس دہندگان اب ایک ہموار عمل سے مستفید ہو سکتے ہیں جو ٹیکس کی ادائیگی کے تمام ضروری افعال کو ایک چھت کے نیچے لاتا ہے، جس سے تعمیل پہلے سے کہیں زیادہ قابل رسائی اور آسان ہوتی ہے۔

ایک جدید، مستحکم انٹرفیس کے ذریعے صارف کے تجربے کو ترجیح دیتے ہوئے، ایف بی آر ٹیکس دہندگان کی حمایت اور ایک زیادہ موثر، ڈیجیٹل طور پر ترقی پذیر پاکستان کو فروغ دینے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔

اگر آپ نے کوئی پراپرٹی کرایہ پر دی ہوئی ہے تو ٹیکس فائل کرنے سے پہلے سات طرح کے اخراجات کو اپنی کل آمدنی میں سے منہا کر ...
10/11/2024

اگر آپ نے کوئی پراپرٹی کرایہ پر دی ہوئی ہے تو ٹیکس فائل کرنے سے پہلے سات طرح کے اخراجات کو اپنی کل آمدنی میں سے منہا کر سکتے ہیں، جس کے بعد جو رقم بچے گی، اسی پر آپ کو ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ پچھلے دو سالوں سے پراپرٹی انکم کو نارمل ٹیکس سلیب میں شامل کر دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے، پراپرٹی انکم پر ٹیکس سیکشن 155 کے تحت ود ہولڈنگ کی بنیاد پر ہوتا تھا۔ لیکن اب، رینٹل انکم کو بھی کاروباری آمدنی کی طرح شمار کیا جاتا ہے، جس طرح کاروبار میں سیلز سے پہلے اخراجات نکال کر پروفٹ نکالا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، کاروبار میں ہم "Cost Of Sale" مائنس کرتے ہیں اور پھر "Gross Profit " حاصل ہوتا ہے، جس میں سے اخراجات منہا کرنے کے بعد "Profit Before Tax" آتا ہے، اور اس کے بعد ہی ٹیکس ریٹ لاگو ہوتا ہے۔

اسی طرح پراپرٹی انکم میں بھی ہمیں چند مخصوص کٹوتیوں کی اجازت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر، اگر سالانہ کرایہ 15 لاکھ روپے ہے، تو سب سے پہلے آپ کو 20 فیصد ریپیئر اور مینٹیننس کی مد میں کٹوتی کی اجازت ہے۔ اس طرح کے اخراجات کو سمجھنا اور اپنی آمدنی سے منہا کرنا ضروری ہے تاکہ آپ کا ٹیکس درست اور کم ہو۔
پراپرٹی انکم پر ٹیکس فائلنگ کرتے وقت سات طرح کے اخراجات کو ٹوٹل انکم میں سے مائنس کیا جا سکتا ہے۔ یہ اخراجات پراپرٹی کی دیکھ بھال، قانونی تقاضوں اور دیگر متعلقہ پہلوؤں کو پورا کرنے کے لیے اجازت شدہ ہیں۔ آئیے، ان سات اخراجات کو تفصیل سے دیکھتے ہیں:

1. **ریپیئر اور مینٹیننس کا خرچ**
پراپرٹی کی دیکھ بھال اور مرمت کے اخراجات کو بھی رینٹل انکم میں سے کٹوتی میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ آپ کل کرایہ کا 20% مرمت اور مینٹیننس کی مد میں منہا کر سکتے ہیں۔ مثلاً اگر آپ کی رینٹل انکم 1.5 ملین روپے ہے تو اس کا 20% یعنی 3 لاکھ روپے ریپیئر اور مینٹیننس کے خرچ کے طور پر مائنس کیا جا سکتا ہے۔

2. **انشورنس پریمیم**
اگر آپ نے پراپرٹی کی حفاظت کے لیے کوئی انشورنس پالیسی لے رکھی ہے تو انشورنس پریمیم کو بھی رینٹل انکم سے مائنس کیا جا سکتا ہے۔ یہ کٹوتی پراپرٹی کی حفاظت کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے ہے۔ مثال کے طور پر، اگر آپ کا انشورنس پریمیم 1 لاکھ روپے ہے، تو یہ رقم بھی آپ کی کل رینٹل انکم سے منہا کی جا سکتی ہے۔

3. **پراپرٹی ٹیکس**
جو پراپرٹی ٹیکس آپ نے سال کے دوران پہلے ہی ادا کیا ہو، وہ بھی آپ کی رینٹل انکم سے مائنس کیا جا سکتا ہے۔ اگر آپ نے 50 ہزار روپے پراپرٹی ٹیکس ادا کیا ہے تو یہ رقم بھی ٹوٹل رینٹل انکم سے کٹوتی میں شامل ہو جائے گی۔

4. **بینک سود**
اگر آپ نے اپنی پراپرٹی خریدنے کے لیے یا کسی دوسری ضرورت کے تحت بینک سے قرض لیا ہو تو اس قرض پر دیا جانے والا سود بھی رینٹل انکم میں سے مائنس ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر آپ بینک کو لون کی صورت میں ماہانہ سود دے رہے ہیں تو اس سود کی رقم کو بھی آپ رینٹل انکم سے کٹوتی کر سکتے ہیں۔

5. **لیگل اور ٹرانسفر اخراجات**
اگر کرایہ داری کے دوران پراپرٹی کی ملکیت یا کرایہ داری کی منتقلی کے لیے کسی قانونی تقاضے کو پورا کرنے کے اخراجات کیے گئے ہوں تو انہیں بھی آپ اپنی کل رینٹل انکم میں سے مائنس کر سکتے ہیں۔ اس میں ٹرانسفر فیس، قانونی فیس اور دیگر متعلقہ اخراجات شامل ہو سکتے ہیں۔

6. **متفرق اخراجات**
قانون کے مطابق آپ کچھ متفرق اخراجات کو بھی کٹوتی میں شامل کر سکتے ہیں، جو کہ کل رینٹل انکم کا 4% ہے۔ مثال کے طور پر، اگر آپ کی رینٹل انکم 1.5 ملین ہے، تو اس کا 4% یعنی 60 ہزار روپے کٹوتی میں شامل کیا جا سکتا ہے، جو غیر متوقع یا متفرق اخراجات کو کور کرنے کے لیے ہے۔

7. **اضافی ریپیئر اور مینٹیننس خرچ**
اگرچہ سسٹم 20% ریپیئر اور مینٹیننس الاؤنس فراہم کرتا ہے، مگر اگر آپ کی مرمت اور مینٹیننس کے اخراجات 20% سے زیادہ ہوں اور آپ نے اضافی مرمت کا کام کروایا ہو تو یہ اضافی خرچ بھی کل رینٹل انکم میں سے منہا کیا جا سکتا ہے۔

یہ تمام اخراجات آپ کی رینٹل انکم کو کم کرکے ٹیکس کو درست اور منصفانہ بنا سکتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ درست فائلنگ آپ کو مالی نقصان سے بچا سکتی ہے۔
عموماً پراپرٹی انکم کی ٹیکس فائلنگ میں ایک سادہ اصول اپنایا جاتا ہے جس میں سسٹم ہمیں صرف 20 فیصد ریپیئر اور مینٹیننس کی مد میں الاؤنس دیتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم بقیہ ضروری اخراجات کو مائنس نہیں کرتے، جس کی وجہ سے ہماری ریٹرن مکمل طور پر درست نہیں ہوتی اور یا تو ہم زیادہ ٹیکس ادا کر رہے ہوتے ہیں یا کم۔

یہی وجہ ہے کہ ضروری ہے کہ چاہے آپ خود ریٹرن فائل کریں یا کسی کنسلٹنٹ سے کروائیں، دونوں کو مکمل معلومات ہونی چاہیے اور فائلنگ کرتے وقت دو بار چیک کرنا بھی ضروری ہے تاکہ کسی بھی غلطی کو بروقت درست کیا جا سکے۔

کچھ صورتوں میں پراپرٹی ٹیکس انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 155 کے تحت at source کٹ ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت میں آپ اپنی رینٹل انکم پر قابلِ ادائیگی ٹیکس میں یہ ایڈجسٹمنٹ کر سکتے ہیں۔ مثلاً، اگر آپ کے کرایہ پر ایک لاکھ روپے ٹیکس بنتا ہے اور آپ نے پہلے ہی 70 فیصد (70 ہزار روپے) ودہولڈنگ کی صورت میں ادا کیا ہوا ہے تو سی پی آر کے ذریعے اس رقم کو ایڈجسٹ کرتے ہوئے بقیہ 30 ہزار روپے ٹیکس جمع کروا سکتے ہیں۔

یہ معمولی باتیں ٹیکس پیئر کے مالی فائدے اور ریٹرن کے درست ہونے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اس لیے، ٹیکس ریٹرن فائل کرتے وقت ان تمام پہلوؤں کا دھیان رکھیں۔ اگر آپ کو مزید رہنمائی چاہیے تو ہماری ٹیم ہمیشہ آپ کی مدد کے لیے حاضر ہے۔ 03445309297

**📢 ٹیکس اپڈیٹ 2024 – انکم ٹیکس ریٹرنز کی آخری تاریخ گزر چکی ہے!***کیا آپ نے اب تک اپنی انکم ٹیکس ریٹرن جمع نہیں کروائی؟...
09/11/2024

**📢 ٹیکس اپڈیٹ 2024 – انکم ٹیکس ریٹرنز کی آخری تاریخ گزر چکی ہے!**

*کیا آپ نے اب تک اپنی انکم ٹیکس ریٹرن جمع نہیں کروائی؟ پریشان نہ ہوں! ابھی بھی موقع ہے، لیکن چند باتیں ذہن میں رکھنی ہوں گی۔* 👇

**1️⃣ 2024 کی ریٹرن لیٹ فیس کے ساتھ فائل کریں**
اب اگر آپ فائلر بننا چاہتے ہیں تو 2024 کی انکم ٹیکس ریٹرن کو **لیٹ فیس** کے ساتھ جمع کروانا ضروری ہے۔ مقررہ تاریخ گزر چکی ہے، اور بغیر لیٹ فیس کے ریٹرن قبول نہیں ہوگی۔ لہٰذا جلدی کریں اور فائلر بننے کا موقع ضائع نہ کریں!

**2️⃣ لیٹ فائلر کا اسٹیٹس**
چونکہ آپ نے ریٹرن وقت پر جمع نہیں کروائی، آپ کا اسٹیٹس اگلے سال تک **لیٹ فائلر** کا ہی رہے گا۔ اس دوران آپ کو مختلف مالیاتی معاملات، جیسے بینک ٹرانزیکشنز اور پراپرٹی لین دین پر **زیادہ ودہولڈنگ ٹیکس** کا سامنا کرنا پڑے گا، جو اضافی مالی بوجھ ثابت ہو سکتا ہے۔

**3️⃣ 2023 کی ریٹرن پر ایف بی آر کی خصوصی رعایت**
اچھی خبر یہ ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے 2023 کی ریٹرن فائل کرنے اور اس پر لیٹ فیس دینے کی ضرورت ختم کر دی ہے۔ لہذا اگر آپ نے 2023 کی ریٹرن فائل نہیں کی تھی تو اس پر کسی قسم کی پریشانی کی ضرورت نہیں۔

**فائلر بننے کے مالی فوائد:**

💰 بینک ٹرانزیکشنز پر کم ودہولڈنگ ٹیکس:
فائلر بننے کے بعد آپ کو بینک ٹرانزیکشنز، ، اور کیش ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی ملے گی، جو کہ مالیاتی بوجھ کو کم کرنے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ یہ بچت آپ کے دیگر مالیاتی منصوبوں کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہے!

🏠 پراپرٹی اور گاڑیوں پر کم ٹیکس:
فائلر کے طور پر، جب بھی آپ کوئی پراپرٹی خریدیں یا گاڑی کی رجسٹریشن کروائیں، آپ کو ودہولڈنگ ٹیکس میں خصوصی رعایت ملے گی۔

📈 بہتر کریڈٹ پروفائل:
فائلر بننے سے آپ کا کریڈٹ اسکور اور پروفائل بہتر ہوتا ہے۔ مستقبل میں بینکوں اور مالیاتی اداروں سے قرض یا مالی معاونت حاصل کرنے میں یہ آپ کے حق میں ایک اضافی پوائنٹ ہو سکتا ہے۔

🛡️ قانونی تحفظ اور مراعات:
وقت پر ٹیکس فائل کرنے والے افراد کو کئی قانونی اور مالی مراعات ملتی ہیں۔ آپ اپنی مالیاتی زندگی میں ایک نظم پیدا کرتے ہیں اور کسی بھی قسم کی قانونی پیچیدگیوں سے بچتے ہیں۔

⛔ لیٹ فائلر ہونے کے نقصانات:
لیٹ فائلر کی حیثیت سے، آپ کو کچھ مراعات کا نقصان ہو سکتا ہے۔ وقت پر ریٹرن فائل نہ کرنے کی وجہ سے ممکنہ طور پر آپ کو قانونی پیچیدگیوں کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

📜 ٹیکس قوانین میں تبدیلیاں:
ٹیکس قوانین میں وقتاً فوقتاً تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں، جو کہ سمجھنا ہر کسی کے لیے آسان نہیں ہوتا۔ پروفیشنل مدد سے آپ ان قوانین کو باآسانی سمجھ سکتے ہیں اور تمام قانونی تقاضے پورے کر سکتے ہیں۔

پروفیشنل ٹیکس ایڈوائزر کی مدد کیسے فائدہ مند ہو سکتی ہے؟.

- **ٹیکس پروفائل کا جائزہ اور بہتری:** پروفیشنل ایڈوائزر آپ کے مکمل ٹیکس پروفائل کا جائزہ لیتا ہے اور قانونی طریقوں سے آپ کے مالی فوائد میں اضافہ کرتا ہے۔

- **ریٹرن فائلنگ میں درستگی:** وہ آپ کی ریٹرن بروقت اور درست طریقے سے فائل کرتے ہیں، جس سے آپ کو لیٹ فائلنگ فیس اور قانونی پیچیدگیوں سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔

**موجودہ قوانین اور تبدیلیاں:** ایڈوائزر آپ کو تازہ ترین قوانین اور کسی بھی نئی تبدیلی کے مطابق رہنمائی فراہم کرتے ہیں تاکہ آپ قانونی طور پر مطمئن رہ سکیں۔

**اب اگلا قدم کیا ہے؟**

1. اپنی 2024 کی ریٹرن کو لیٹ فیس کے ساتھ فوراً جمع کروائیں . تاکہ آپ فائلر کی فہرست میں شامل ہو سکیں۔
2. پروفیشنل ٹیکس ایڈوائزر سے مشورہ کریں.تاکہ آپ کے تمام معاملات درست طریقے سے ترتیب دیے جا سکیں اور کسی قسم کے مالی مسائل سے بچا جا سکے۔

**یاد رکھیں:**

وقت پر اور درست طریقے سے ٹیکس فائل کرنا آپ کے مالی مستقبل کے لیے نہایت ضروری ہے۔ ایک پروفیشنل کی مدد سے آپ اپنے ٹیکس سے متعلق تمام مسائل کو باآسانی اور مؤثر طریقے سے حل کر سکتے ہیں۔ اپنی مالیاتی زندگی کو منظم اور پرسکون بنائیں – درست فائلنگ اور پیشہ ورانہ رہنمائی آپ کو مالیاتی پیچیدگیوں سے بچا سکتی ہے۔

--

مزید جاننے کے لیے یا مدد حاصل کرنے کے لیے، 03445309297

-

08/11/2024
04/11/2024

سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججز کی تعداد میں اضافے کا بل قومی اسمبلی سے منظور ہونے کے بعد سینیٹ سے بھی منظور کروا لیا گیا ہے.

سپریم کورٹ ایکٹ 1997 کی شق دو میں ترمیم کی گئی ہے جس کے تحت سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد 17 سے بڑھا کر 34 کردی گئی ہے۔

اس کے علاوہ اسلام آباد ہائی کورٹ ایکٹ 2010 کی شق تین میں بھی تبدیلی کی گئی ہے جس کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججز کی تعداد نو سے بڑھا کر 12 کردی گئی ہے۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے سینیٹ کی قائمہ کمٹیی نے سینیٹر عبدالقادر کے بل کی حمایت کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد 25 کرنے کی منظوری دی تھی۔

Address

Opposite GPO, Muzaffarabad
Azad Kashmir
13100

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ZK Law Associates & Tax Consultant posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category