Gareeb Nawaz welfare society

Gareeb Nawaz welfare society Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Gareeb Nawaz welfare society, Insurance Agent, Tapper pattan baramulla, Pattan.

ATZ ONLINE INSURANCE OFFICE TAPPER PATTAN BARAMULLA Call freely or what's app on 7780904881-9906801351ATZ ONLINE INSURAN...
25/01/2026

ATZ ONLINE INSURANCE OFFICE TAPPER PATTAN BARAMULLA

Call freely or what's app on
7780904881-9906801351

ATZ ONLINE INSURANCE OFFICE TAPPER PATTAN

ATZ ONLINE INSURANCE OFFICE
All types of vehicle insurance available bike🚲 car 🚘bus 🚍truck🚛 sumo tipper taxi 🚕tractor🚜
Full insurance and third party insurance available from all companies
24x7 online service available
Complete online facilities available
Online inspection
Online insurance policy
Online claims

Online payment
Need not to disturb your schedule get zero dip bumper to bumper insurance comprehensive insurance and third party insurance easily

Travel✈️️ insurance
Health insurance
Life insurance available
House🏠 shop building🏢 insurance available
Transportation insurance of goods
Cattle cow🐄 sheep 🐑poultry insurance available
Please call freely on 7780904881-9906801351-6006049571
Just click link to connect on what's app

https://whatsapp.com/dl/
https://advisor.turtlemint.com/profile/217310/ATZ_INSURANCE_ONLINE_OFFICE

https://www.pbpartners.com/v2/partner/IP132572

ATZ ONLINE INSURANCE OFFICE Call freely or what's app on 7780904881-9906801351ATZ ONLINE INSURANCE OFFICE PATTANATZ ONLI...
20/01/2026

ATZ ONLINE INSURANCE OFFICE

Call freely or what's app on
7780904881-9906801351

ATZ ONLINE INSURANCE OFFICE PATTAN

ATZ ONLINE INSURANCE OFFICE
All types of vehicle insurance available bike🚲 car 🚘bus 🚍truck🚛 sumo tipper taxi 🚕tractor🚜
Full insurance and third party insurance available from all companies
24x7 online service available
Complete online facilities available
Online inspection
Online insurance policy
Online claims

Online payment
Need not to disturb your schedule get zero dip bumper to bumper insurance comprehensive insurance and third party insurance easily

Travel✈️️ insurance
Health insurance
Life insurance available
House🏠 shop building🏢 insurance available
Transportation insurance of goods
Cattle cow🐄 sheep 🐑poultry insurance available
Please call freely on 7780904881-9906801351-6006049571
Just click link to connect on what's app

https://whatsapp.com/dl/
https://advisor.turtlemint.com/profile/217310/ATZ_INSURANCE_ONLINE_OFFICE

https://www.pbpartners.com/v2/partner/IP132572

31/10/2025

‏ماں نے بارہ سال کے بیٹے کو سکول کے لیے تیار کیا ناشتے کرنے کے بعد اسکا لنچ اسکے بیگ میں ڈالا جو ایک جوس پراٹھا اور آملیٹ پہ مشتمل تھا۔ بچے نے بیگ اٹھایا اور ماں نے زمین پہ بیٹھ کر اسکو سینے سے لگا کر پیار کیا

اس نے ماں کے کان میں ہلکے سے کہا

" مما آج میں لیٹ آونگا "

" وہ کیوں میرے چندا"
ماں نے واری جاتے اسکے چہرے پہ بوسہ دیتے ہویے مسکرا کر پوچھا

" مما میں نے آج خدا کو ڈھونڈنا ھے اسلیے میں دیر سے آونگا "

" میرے جگر کے ٹوٹے خدا کو تم کیسے ڈھونڈوں گے وہ تو نظر نہیں آتا ناں "

ماں نے شفقت سے اپنے معصوم بچے کے سر پہ ہاتھ پھیرتے ہویے کہا لیکن بچے نے کوئی جواب نہیں دیا اور دوڑ کر باہر گیٹ کی طرف چلا گیا۔ اور اسے بھاگتے ہوئے دیکھتی ماں مسکرا دی۔

سکول سے واپس کے بعد بچے نے ایک بینچ پہ ایک غریب بوڑھی اماں جی کو دیکھا جو پریشان بیٹھی ہوئی تھی۔ بھوک اور غربت اسکے چہرے پر عیاں تھی۔ بارہ سال کا بچہ اسکے پاس بینچ پہ بیٹھ گیا اور اپنا ناشتہ نکال لیا۔
اس بوڑھی مسکین اماں جی نے ترستی ہوئ نگاہوں سے روٹی کی طرف دیکھا اور اپنا منہ دوسری طرف کر کے بھوک چھپانے لگی۔

بارہ سال کے معصوم نونہال نے پراٹھے کو ہاتھ میں پکڑا اور کچھ سوچا پھر اس نے پراٹھا اور آملیٹ بڑھا کر بوڑھی مسکین لاچار اور غریب اماں جی کی طرف بڑھا دی۔

ڈوبتے کو تنکے کا سہارہ ، بوڑھی اماں جی نے مسکرا کر وہ قبول کرلیا۔ اسکے بعد بارہ سال کے معصوم فرشتہ نما بچے نے بیگ میں ہاتھ ڈالا اور ہنستے مسکراتے ہویے جوس کی بوتل بیگ سے برآمد کرلی جیسے آلہ دین کے چراغ سے جن برآمد ہوتا تھا۔اس نے ننھے ہاتھوں سے پورا زور لگا کر جوس کا ڈھکن کھولا اور بڑھا کر اس مسکین عورت کو مسکراتے ہویے دیکھا۔

بوڑھی عورت بھوکی بھی تھی اور پیاس کی ستائی ہوئی بھی اس نے ایک ہی سانس میں سارا جوس پی لیا۔ کھانا کھاتے بوڑھی اماں بچے کو دیکھتی اور بچہ بوڑھی کو۔ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکراتے ۔

کھانا ختم کرنے کے بعد بچے نے اپنا بیگ اٹھایا اور گھر کی طرف چلتا بنا

گھر پہنچ کر دروازے پہ گھنٹی بجایی تو ماں نے مسکرا کر اسکو بانہوں میں بھر لیا ماں نے اسکے گال پہ پیار کیا اور پوچھا

" میرے لال کو اج خدا ملا کہ نہیں "

" ہاں مما خدا ایک عورت ہے وہ بہت اچھی ہے اور جب وہ مسکراتی ہے تو اپ کی طرح لگتی ہے بلکہ خدا کی مسکراہٹ تو آپ سے بھی زیادہ پیاری ہے"

______________

دوسرا سین

بوڑھی اماں جی پراٹھا انڈہ کھا کر بینچ سے اٹھی اور اپنی راہ لی چلتے چلتے بوڑھی اماں کافی تھک گئ تھی تو وہ ایک جگہ بینچ پر بیٹھ گئیں جہاں مزید ایک عورت بیٹھی ہوئ تھی۔

بوڑھی اماں کافی خوش تھی اور مسکرا رہی تھیں

" آپ کچھ زیادہ ہی خوش دکھائی دے رہی " پہلے سے موجود عورت نے بوڑھی اماں سے پوچھا

" ہاں میں آج کافی خوش ہوں پتہ ہے آج میں نے خدا کے ساتھ ملکر بہت اچھا لنچ کیا ہے۔ تمہیں پتہ ہے خدا دراصل ایک معصوم بچہ ہے بہت ہی پیارا اور چھوٹا سا۔ میری توقعات سے بھی چھوٹا بچہ اتنا مہربان "
__________________

تیسرا سین

قیامت کا منظر ہے

آقائے دو جہاں رحمت اللعامین حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہیں اپنی امت کی شفاعت کے لیے۔

اسی دوران اللہ جل و شان ایک انسان کو بلایے گا اور اس سے شکوہ کرے گا

" میں بھوکا تھا تم نے مجھے کھانا نہیں کھلایا "
" میں بیمار تھا تم نے میری عیادت نہیں کی "
" میں حاجت مند تھا تم نےمیری حاجت پوری نہیں"

وہ انسان کہے گا

"یا اللہ آپ کی عیادت یا بھوک یا حاجت میں کیسے پوری کرسکتا تھا آپ کو کہاں ڈھونڈتا آپ تو خود حاجت پوری کرنے والی ذات ہیں"

اللہ فرمایے گا

" میرا فلاں بندہ بیمار تھا تو اسکی عیادت کرتا تو مجھے وہاں پاتا میرا فلاں بندہ بھوکا تھا تو اسکو کھانا کھلاتا تو مجھے وہاں پاتا میرا فلاں بندہ حاجت مند تھا تم نے اسکی حاجت پوری کی ہوتی تو تم مجھے اسکے پاس پاتے

تم نے مجھے کھبی ڈھونڈنے کی کوشیش ہی نہیں کی میں تم سے بڑا ناراض ہوں ۔

اس بارے میں ضرور سوچیں کہ آپ کا رویہ کیسا ہے دوسروں کے ساتھ ان کی ضرورت کے وقت ؟؟

مزہ تب ہے جب آپ خود مجبور ہو کر بھی کسی کی مدد کریں..!!

# # #@ like share and follow our page

28/10/2025

Qoute of the day

ایک سبق آموز دلچسپ واقعہ:
کہا جاتا ہے کہ پرانے زمانے میں ایک قاضی تھے جن کا نام نور الدین تھا۔ وہ اپنی عقلمندی، سمجھداری اور حکمت کی وجہ سے بہت مشہور تھے۔ جو اپنے مالکوں اور مظلوموں کے حق میں ہونے والے ظلم کو دور کرنے میں کام آتے تھے۔ اس کے بعد اس نے ایک مقدمہ حل کیا جو بہت ہی کھٹن مقدمہ تھا۔۔۔۔
کہ دو آدمی ایک دوسرے کے پڑوس میں رہتے تھے۔ ان میں سے ایک نیک دل تھا اور دوسرا چلاک تھا۔ لیکن نیک دل پڑوسی اس بات سے بے خبر تھا۔ کہ اسکا پڑوسی مکار اور دھوکے باز ہے۔ ایک دن چلاک پڑوسی ایک مصیبت میں پڑ گیا اسکے گھر میں کھانے کو کچھ نہیں تھا۔ تو وہ اپنے پڑوسی کے گھر قرض مانگنے گیا۔ لیکن وہاں اسے کچھ نہ ملا۔ حالانکہ کے اسکے پڑوسی کی بیوی نے اسے بتایا کہ اسکا شوہر صبح سے کام پر گیا ہے۔ اور ابھی تک لوٹا نہیں۔ تو وہ پڑوسی سیدھے اپنے پڑوسی کی طرف سیدھے اس کے کام پر چل پڑا۔ چلتے چلتے اسے اپنا پڑوسی کام سے لوٹتے وقت دیکھائی دیا۔۔۔۔۔۔
اس نے اسے روکا اور کہا۔ کہ میں بہت سخت مصیبت میں ہوں۔ مجھے دو ہزار درہم قرض دے دو۔ تو نیک دل پڑوسی نے بنا کسی ڈر کے اسے ایک اچھا قرض دینے کا ارادہ کیا۔ پاس ہی ایک کجھور کا درخت تھا۔ نیک دل پڑوسی نے اسے کہا کہ کل انشاءاللّٰہ میں دو ہزار درہم کا انتظام کر دوں گا۔ تم سے یہی اس کجھور کے درخت کے پاس ملاقات ہو گی۔ اگلے دن نیک پڑوسی وعدے کے مطابق وہاں پہنچا اس نے دو ہزار درہم اکٹھا کر کے اپنے پڑوسی کو دے دئیے۔ بدقسمت پڑوسی نے کہا میں یہ رقم تین مہنوں میں لوٹا دوں گا۔ نیک دل پڑوسی نے کسی قسم کی شرط یا ثبوت نہیں لیا۔۔۔۔
تین مہنے بعد نیک دل پڑوسی اپنے پڑوسی سے دو ہزار درہم لینے گیا۔ مگر وہ پڑوسی صاف مُکر گیا۔ نیک دل پڑوسی حیران رہ گیا۔ نیک دل پڑوسی نے اپنے دل میں سوچا کہ ہم ایسے دور میں پہنچ گئے ہیں۔ جہاں بھلائی کو برائی سے لوٹا جاتا ہے اور برائی کو بھلائی سے لوٹا جاتا ہے۔ مگر نیک دل پڑوسی کو نور الدین قاضی کی انصاف پسندی اور مضبوط ضمیر کا علم تھا۔ اس نے سوچا اس معاملے کا فیصلہ عدالت میں ہونا چاہیے۔۔۔۔۔
نیک دل پڑوسی اپنے پڑوسی کی شکایت لے کر عدالت پہنچ گیا۔ جب اس نے قاضی نورالدین کے سامنے اپنا سارہ حال بیان کیا۔ تو قاضی نے اپنے سپاہی کو حکم دیا کہ اس پڑوسی کو بلایا جائے۔۔۔۔
جب وہ پڑوسی آیا تو قاضی نورالدین نے اس سے پوچھا کہ تمہارا پڑوسی دعوا کرتا ہے کہ اس نے تمہیں دو ہزار درہم قرض دیا ہے۔
کیا یہ دعوا سچ ہے؟ اس بدتمیز پڑوسی نے صاف انکار کر دیا اس نے کہا کہ جناب میں نے اپنے پڑوسی سے کبھی قرض لیا ہی نہیں۔ اسکا دعوا جھوٹا ہے۔ تو نورالدین نے نیک پڑوسی کی طرف رخ کر کے کہا کہ تمہارے پاس کوئی گواہ یا ثبوت ہے۔ نیک پڑوسی نے کہا نہیں حضور۔
جب میں نے اسے قرض دیا تھا تو میں نے اس پر بھروسہ کیا۔ اسوقت میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ میرا پڑوسی میرے حق سے مجھے اسطرح محروم کر دے گا۔۔۔۔۔۔۔
قاضی نورالدین کچھ دیر سوچ میں پڑ گئے کہ اگر تمہاری بات سچ ہے۔ تو جاؤ جہاں تم نے اسے قرض دیا تھا۔ اسی جگہ سے مُٹھی بھر مٹی لے کر آؤ۔ نیک پڑوسی حیران ہوا اور ادب سے چُپ چاپ چلا گیا۔ جب دیر ہو گئی تو وہ واپس نا آیا۔ تو قاضی نورالدین نے اس بد چلن پڑوسی کی طرف دیکھا اور اچانک پوچھا۔ کہ تمہارا پڑوسی اتنی دیر کیوں کر رہا ہے۔ کیا تم جانتے ہو؟ بِنا سوچے سمجھے اس بدتمیز پڑوسی نے جواب دیا۔
جناب وہ جگہ یہاں سے کافی دور ہے۔ قاضی مُسکرائے اور بولے کہ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ تم وہ جگہ جانتے ہو۔ اگر تم نے وہاں کبھی قرض لیا ہی نہیں۔ اب صاف ہو گیا کہ تمہارے پڑوسی کا دعوا سچ ہے۔ اسطرح قاضی نورالدین نے حق دار کا حق ثابت کیا۔ اور حکم دیا کہ اس قرض دار کو قید کیا جائے۔ جب تک وہ دو ہزار درہم واپس نا لوٹا دے۔

Like share and follow our page

18/10/2025

سبق آموز کہانی
دو بھائی چالیس برس سے آپس میں محبت اور اتفاق سے رہ رہے تھے۔ ان کا ایک وسیع زرعی فارم تھا، جس میں ان کے گھر آمنے سامنے بنے ہوئے تھے۔ دونوں خاندان ایک دوسرے کا خیال رکھتے، اور ان کی اولادوں میں بھی پیار و محبت کی مثالیں دی جاتی تھیں۔

مگر ایک دن معمولی بات پر اختلاف ایسا بڑھا کہ نوبت گالی گلوچ تک جا پہنچی۔
غصے میں چھوٹے بھائی نے دونوں گھروں کے درمیان ایک گہری اور لمبی کھائی کھدوا کر اُس میں قریبی نہر کا پانی چھوڑ دیا، تاکہ ایک دوسرے کے گھر آنے جانے کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے۔

اگلے روز بڑے بھائی نے ایک مستری کو اپنے گھر بلایا۔
اس نے کہا،
"سامنے والا فارم ہاؤس میرے بھائی کا ہے۔ کل اُس نے میرے اور اپنے گھر کے درمیان کھائی بنوا کر پانی چھوڑ دیا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ تم یہاں آٹھ فٹ اونچی دیوار بنا دو تاکہ میں اُس کی شکل دیکھوں اور نہ ہی اس کا گھر۔ اور یہ کام جلد از جلد مکمل کر دو، اجرت تمہاری مرضی کے مطابق دوں گا۔"

مستری نے سر ہلاتے ہوئے کہا،
"پہلے وہ جگہ دکھا دیجیے جہاں سے باڑ شروع کرنی ہے، تاکہ پیمائش کے مطابق سامان ساتھ والے قصبے سے لے آئیں۔"

موقع دیکھنے کے بعد وہ بڑے بھائی کو ساتھ لے کر قریبی قصبے گیا، چند کاریگروں کے ساتھ ایک بڑی پک اپ پر سارا سامان لے آیا۔
اس نے کہا،
"اب آپ آرام کریں، یہ کام ہم پر چھوڑ دیجیے، ہم یہ کام رات کو ہی مکمل کر دیں گے۔"

مستری اور اس کے کاریگر ساری رات کام کرتے رہے۔

صبح جب بڑے بھائی کی آنکھ کھلی اور دیوار دیکھنے کے لیے گھر سے باہر نکلا تو سامنے منظر دیکھ کر حیران رہ گیا۔ وہاں آٹھ فٹ اونچی دیوار تو کجا، ایک انچ دیوار بھی نہیں تھی... بلکہ اس کی جگہ ایک شاندار پل بنا ہوا تھا۔

وہ حیرانی سے پل کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ دوسری جانب چھوٹا بھائی کھڑا، نم آنکھوں سے اسے دیکھ رہا ہے۔ دونوں چند لمحے خاموشی سے کھائی اور اس پر بنے پل کو تکتے رہے۔ چھوٹے بھائی کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے... اُس نے سوچا، میں نے باپ جیسے بھائی کا دل دکھایا، مگر اس نے پھر بھی تعلق نہیں توڑا۔

بڑے بھائی کا دل بھی پگھل گیا۔ اس نے خود سے کہا، غلطی جس کی بھی تھی، مجھے یوں جذباتی ہو کر معاملہ بگاڑنا نہیں چاہیے تھا۔

دونوں بھائی آنکھوں میں آنسو لیے ایک دوسرے سے لپٹ گئے۔ ان کی دیکھا دیکھی دونوں گھروں کے بیوی بچے بھی دوڑتے ہوئے آئے اور پل پر اکٹھے ہو گئے۔

بڑا بھائی مستری کو تلاش کرنے کے لیے ادھر ادھر نظر دوڑانے لگا۔ وہ اپنے اوزار سمیٹ کر جانے کی تیاری میں تھا۔
بڑا بھائی جلدی سے اس کے پاس گیا اور بولا،
"اپنی اجرت تو لیتے جاؤ!"

مستری مسکرا کر بولا،
"اس پل کی اجرت میں آپ سے نہیں لوں گا، بلکہ اُس سے لوں گا جس کا وعدہ ہے کہ،
'جو شخص اللہ کی رضا کے لیے لوگوں میں صلح کروائے، اللہ اسے عظیم اجر سے نوازے گا۔'"

یہ کہہ کر مستری نے "اللہ حافظ" کہا اور چلا گیا۔

سبق،
کوشش کریں کہ اس مستری کی طرح لوگوں کے درمیان پل بنائیں،
خدارا دیواریں نہ اٹھائیں۔
Like Share and follow our page

22/09/2025

ایک بزرگ ولی اللہ جناب داؤد طائی رحمتہ اللہ علیہ سے منسوب ایک حکایت ہے کہ:
ان کے شہر ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻋﻮﺭﺕ ﺑﯿﻮﮦ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺋﯽ ﮐﮧ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻣﺼﯿﺒﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﮩﺎﮌ ﭨﻮﭦ ﭘﮍﮮ۔ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﺎ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﻭﺭ ﮐﻞ ﺟﻤﻊ ﭘﻮﻧﺠﯽ ﺑﺲ ﺗﯿﻦ ﺩﺭﮨﻢ۔ ﺣﺎﻻﺕ ﺳﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﭨﮭﺎﻧﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﺳﮯ ﺍﻥ ﺗﯿﻦ ﺩﺭﮨﻢ ﮐﺎ ﺍﻭﻥ ﺧﺮﯾﺪ ﻻﺋﯽ، ﮐﭽﮫ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮐﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﺎﻧﭻ ﺩﺭﮨﻢ ﻭﺻﻮﻝ ﭘﺎﺋﮯ۔ ﺩﻭ ﺩﺭﮨﻢ ﺳﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﭘﯿﻨﺎ ﺧﺮﯾﺪﺍ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﻦ ﺩﺭﮨﻢ ﮐﺎ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﺍﻭﻥ ﻟﯿﺘﯽ ﺁﺋﯽ۔ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﮐﭽﮫ ﺩﻥ ﮔﺰﺭ ﺑﺴﺮ ﮐﯿﺎ، ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﺳﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﭘﯿﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﻥ ﻟﯿﮑﺮ ﮔﮭﺮ ﮐﻮ ﻟﻮﭨﯽ، ﺍﻭﻥ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﭘﯿﻨﺎ ﺩﯾﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﭘﺮﻧﺪﮦ ﮐﮩﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﮌﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﻥ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﻟﮯ ﮔﯿﺎ۔ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﻞ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﮐﺎ ﯾﻮﮞ ﻟُﭧ ﺟﺎﻧﺎ ﺳﻮﮨﺎﻥ ﺭﻭﺡ ﺗﮭﺎ، ﻣﺴﺘﻘﺒﻞ ﮐﯽ ﮨﻮﻟﻨﺎﮐﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺧﻮﻓﺰﺩﮦ ﺍﻭﺭ ﻏﻢ ﻭ ﻏﺼﮯ ﺳﮯ ﭘﺎﮔﻞ ﺳﯽ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺭﮦ ﮔﺌﯽ۔
ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺩﻥ ﺳﯿﺪﮬﺎ جناب داؤد طائی ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺍُﻥ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﻗﺼﮧ ﺳﻨﺎ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﺳﻮﺍﻝ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﯿﺎ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺭﺏ ﺭﺣﻤﺪﻝ ﮨﮯ ﯾﺎ ﻇﺎﻟﻢ؟ جناب داؤد طائی ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺩﺭﺩ ﺑﮭﺮﯼ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﺳﻦ ﮐﺮ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﻋﺎﻟﻢ ﻣﯿﮟ ابھی اسے تسلی دے رہے تھے کہ اتنے میں ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﺮ ﺩﺳﺘﮏ ﮨﻮﺋﯽ، ﺟﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺩﺱ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﺍﺷﺨﺎﺹ ﮐﻮ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﭘﺎﯾﺎ۔ ﺍُﻥ ﺳﮯ ﺁﻣﺪ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﺟﺮﺍ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ؛ ﺣﻀﺮﺕ ﮨﻢ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﺳﻔﺮ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﮐﺸﺘﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺳﻮﺭﺍﺥ ﮨﻮﮔﯿﺎ۔ ﭘﺎﻧﯽ ﺍﺱ ﺗﯿﺰﯼ ﺳﮯ ﺑﮭﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮨﻤﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻣﻮﺕ ﺻﺎﻑ ﻧﻈﺮ ﺁ ﮔﺌﯽ۔ ﻣﺼﯿﺒﺖ ﮐﯽ ﺍﺱ ﮔﮭﮍﯼ ﻣﯿﮟ، ﮨﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﻋﮩﺪ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺟﺎﻥ ﺑﭽﺎ دیں ﺗﻮ ﮨﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﺮ ﺁﺩﻣﯽ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﮨﺰﺍﺭ ﺩﺭﮨﻢ ﺻﺪﻗﮧ ﺩﮮ ﮔﺎ۔ ﺍﺑﮭﯽ ﮨﻢ ﯾﮧ ﺩُﻋﺎ ﮐﺮ ﮨﯽ
ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﭘﺮﻧﺪﮮ ﻧﮯ کہیں سے ﮨﻤﺎﺭﯼ ﮐﺸﺘﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﻥ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﮔﻮﻻ ﻻ ﮐﺮ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯾﺎ۔ ﺟﺴﮯ ﮨﻢ ﻧﮯ ﻓﻮﺭﺍً ﺳﻮﺭﺍﺥ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻨﺴﺎﯾﺎ، ﮐﺸﺘﯽ ﮐﻮ ﭘﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺧﺎﻟﯽ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﺪﮬﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﺗﺮﯾﻦ ﺳﺎﺣﻞ ﭘﺮ ﺁ ﭘﮩﻨﭽﮯ۔ ﮨﻢ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮩﺎﮞ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﺗﮭﮯ ﺍﺱ ﻟﯿﺌﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﻣﻌﺘﺒﺮ ﺁﺩﻣﯽ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﭘﻮﭼﮭﺎ تو ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﮭﯿﺞ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﻟﯿﺠﯿﺌﮯ ﺩﺱ ﮨﺰﺍﺭ ﺩﺭﮨﻢ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﻣﺴﺘﺤﻘﯿﻦ ﮐﻮ ڈھونڈ کر ﺩﮮ ﺩﯾﺠﯿﺌﮯ گا
داؤد طائی رحمتہ اللہ علیہ اللہ رب العزت کی اس حکمت پر حیران و پریشان ہوتے ہوئے ﺩﺱ ﮨﺰﺍﺭ ﺩﺭﮨﻢ ﻟﯿﮑﺮ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﺍﻧﺪﺭ ﺍُﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮔﺌﮯ۔ ﺳﺎﺭﮮ ﭘﯿﺴﮯ ﺍُﺳﮯ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ؛ ﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﺗﯿﺮﺍ ﺭﺏ ﺭﺣﻤﺪﻝ ﮨﮯ ﯾﺎ ﻇﺎﻟﻢ؟
بیوہ عورت داؤد طائی رحمتہ اللہ کے چہرے کو تکتی رہ گئی... اسکی آنکھوں سے اشک جاری تھے... گویا اس کے جسم کا ہر ہر حصہ, ہر ہر بال رب کے شکر میں ڈوبا جا رہا ہو.
اللہ کی تدبیریں ہماری سوچ سے کہیں بہتر ہیں. اللہ کا شکر ادا کریں اور اسکی ذات پر مکمل بھروسہ رکھیں. وہ کسی کو تنہا نہیں چھوڑتا.

12/07/2025

ایک عابد نے خدا کی زیارت کے لیے 40 دن کا چلہ کاٹا دن کو روزہ رکھتا اور رات کو قیام کرتا تھا۔ اعتکاف کی وجہ سے خدا کی مخلوق سے یکسر کٹا ہوا تھا اس کا سارا وقت آہ و زاری اور راز و نیاز میں گذرتا تھا
36 ویں رات اس عابد نے ایک آواز سنی شام 6 بجے، ‏تانبے کے بازار میں فلاں تانبہ ساز کی دکان پر جاؤ اور خدا کی زیارت کرو_*
عابد وقت مقررہ سے پہلے پہنچ گیا اور مارکیٹ کی گلیوں میں تانبہ ساز کی اس دوکان کو ڈھونڈنے لگا۔
وہ کہتا ہے:
"میں نے ایک بوڑھی عورت کو دیکھا جو تانبے کی دیگچی پکڑے ہوئے تھی اور اسے ہر تانبہ ساز کو دکھارہی تھی"
‏اسے وہ بیچنا چاہتی تھی- وہ جس تانبہ ساز کو اپنی دیگچی دکھاتی وہ اسے تول کر کہتا:
"4 ریال ملیں گے"
وہ بڑھیا کہتی:
"6 ریال میں بیچوں گی"
پر کوئی تانبہ ساز اسے چار ریال سے زیادہ دینے کو تیار نہ تھا-
آخر کار وہ بڑھیا ایک تانبہ ساز کے پاس پہنچی۔ تانبہ ساز اپنے کام میں مصروف تھا۔
‏بوڑھی عورت نے کہا:
"میں یہ برتن بیچنے کے لیے لائی ہوں اور میں اسے 6 ریال میں بیچوں گی کیا آپ چھ ریال دیں گے؟"
تانبہ ساز نے پوچھا:
"چھ ریال میں کیوں؟؟؟"
بوڑھی عورت نے دل کی بات بتاتے ہوئے کہا:
"میرا بیٹا بیمار ہے، ڈاکٹر نے اس کے لیے نسخہ لکھا ہے جس کی قیمت 6 ریال ہے"
‏تانبہ ساز نے دیگچی لے کر کہا:
"ماں یہ دیگچی بہت عمدہ اور نہایت قیمتی ہے۔ اگر آپ بیچنا ہی چاہتی ہیں تو میں اسے 25 ریال میں خریدوں گا!!"
بوڑھی عورت نے کہا:
"کیا تم میرا مذاق اڑا رہے ہو؟!!! "
تانبہ والے نے کہا:
"ہرگز نہیں،میں واقعی پچیس ریال دوں گا"
یہ کہہ کر اس نے برتن لیا اور ‏بوڑھی عورت کے ہاتھ میں 25 ریال رکھ دیئے !!!
بوڑھی عورت، بہت حیران ہوئی۔ دعا دیتی ہوئی جلدی اپنے گھر کی طرف چل پڑی۔
عابد کہتا ہے میں یہ سارا ماجرہ دیکھ رہا تھا جب وہ بوڑھی عورت چلی گئی تو میں نے تانبے کی دوکان والے سے کہا:
"چچا، لگتا ہے آپ کو کاروبار نہیں آتا؟
‏بازار میں کم و بیش سبھی تانبے والے اس دیگچی کو تولتے تھے اور 4 ریال سے زیادہ کسی نے اسکی قیمت نہیں لگائی اور آپ نے 25 ریال میں اسے خریدا"
بوڑھے تانبہ ساز نے کہا:
"میں نے برتن نہیں خریدا ہے۔ میں نے اس کے بچے کا نسخہ خریدنے کے لیے اور ایک ہفتے تک اس کے ‏بچے کی دیکھ بھال کے لئے پیسے دئیے ہیں۔ میں نے اسے اس لئے یہ قیمت دی کہ گھر کا باقی سامان بیچنے کی نوبت نہ آئے-"
عابد کہتا ہے میں سوچ میں پڑگیا۔ اتنے میں غیبی آواز آئی:
‏"چلہ کشی سے کوئی میری زیارت کا شرف حاصل نہیں کرسکتا۔ گرتے ہووں کو تھامو؛ غریب کا ہاتھ پکڑو؛ ہم خود تمہاری زیارت کو آئیں گے"۔
وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُم°
"وہ تمہـــارے ساتھ ہــے جہـــاں بھـــی تــم ہـــو .

Like share and follow

26/06/2025

*کرپشن کہاں نہیں ، بد عنوان کون نہیں؟*

{صرف چند موٹی موٹی تصویریں دکھا رہوں، مضمون طویل ہے لیکن ہمارے ضمیر کو جگانے کےلئے یا معاشرے کے صحیح خدوخال سے واقف کرنے کے لئے ضروری ہے، ہمیں صرف بڑی بدعنوانیاں اور دوسروں کی بدعنوانیاں ہی نظر آتی ہیں، چھوٹی چھوٹی بدعنوانیوں پر دھیان نہیں جاتا، *شاید اس لیے کہ ان چھوٹی چھوٹی بدعنوانیوں میں، ہم خود ملوث ہیں، اور ہم نے تو اس کے خلاف بولنا ہے، اب خود کے خلاف کیسے بول سکتے*۔۔

١. وہ ڈاکٹر جو بلا ضرورت مختلف اقسام کا ٹیسٹ لکھ کر فالتو پیسہ لیتے ہیں، ہسپتال میں ٹھیک سے علاج نہیں کرتے اور خود کے کلینک میں بہتر علاج کرتے ہیں، کیا وہ کرپٹ نہیں؟
2. وہ ٹیکسی یا رکشہ ڈرائیور اور قلی جو زیادہ کرایہ یا مزدوری لیتا ہے، کیا وہ کرپٹ نہیں۔۔
3. وہ اسکول ٹیچر جو سکول میں ٹھیک سے نہیں پڑھاتے مگر ٹیوشن خوب دل لگا کر پڑھاتے ہیں، کیا وہ کرپٹ نہیں ۔۔
4. کیا وہ ملازم جو ایمانداری سے کام نہیں کرتا، بدعنوان نہیں
5. وہ طالب علم جو والدین کی کمائی خرچ کر کے بھی دل لگا کر پڑھائی نہیں کرتا، کیا وہ کرپٹ نہیں
6. وہ لوگ جو رشوت دے کر نوکری ایڈمیشن یا ٹھیکہ لیتے ہیں، کیا وہ کرپٹ نہیں۔۔
7. وہ مینیجر جو کسی قابل امیدوار کو نہ چن کر اپنے رشتہ دار یا اپنے ہم مذہب یا اپنے علاقے کے کمتر کا انتخاب کرتا ہے، کیا وہ کرپٹ نہیں۔۔۔
٨. وہ لوگ جو لاکھوں روپے کے اصلی سافٹ ویئر کے بجائے نقلی سافٹ ویئر سستے میں خرید کر استعمال کرتے ہیں یا بنا خریدے کاپی کرلیتے ہیں ، کرپٹ نہیں ۔۔
9. وہ لوگ جو شادی جیسے پاک رشتے کو تجارت بنا کر جہیز لیتے، کیا وہ کرپٹ نہیں۔۔
10. وہ لوگ جو زکوٰۃ نکال کر یا برائے نام زکوٰۃ نکال کر غریبوں کے حق کو اپنی ضرورت کے لیے استعمال کرتے ہیں، کیا وہ کرپٹ نہیں ۔۔
١١. وہ جرنلسٹ جو ان کے خلاف تو کچھ نہیں لکھتے جن سے ان کو فائدہ پہنچتا ہے، لیکن ان کے بال کی کھال اتار دیتے ہیں جن سے ان کو فائدہ نہیں ہوتا، کیا وہ کرپٹ نہیں ۔۔۔
12. وہ دین کے ٹھیکے دار جو آپس میں دوریاں اور اختلافات بڑھاتے ہیں، مذہب کو پیچیدہ بناتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی باتوں کا بتنگڑ بنا کر دکان چلاتے ہیں، کیا وہ کرپٹ نہیں۔۔
13. وہ بھکاری جو جھوٹی معذوری دکھا کر بھیک مانگتا ہے اور اچھی خاصی رقم جمع کرنے کے باوجود بھیک مانگنا نہیں چھوڑتا، کیا وہ کرپٹ نہیں۔۔۔
14. وہ لوگ جو تنظیم کے نام پر لاکھوں روپیہ جمع کرتے ہیں اور اسے ایمانداری کے ساتھ ضرورت مندوں میں خرچ نہیں کرتے، کیا وہ کرپٹ نہیں۔۔۔؟؟؟

Address

Tapper Pattan Baramulla
Pattan
193121

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Gareeb Nawaz welfare society posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Gareeb Nawaz welfare society:

Share