UBL

UBL Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from UBL, Investment Management Company, Cairo.

مصر میں تعلیمی ویزہ کی تجدیدتعلیمی ویزہ کی تجدید کے لیے اگر آپ کو تصویر و فنگر پرنٹس کے لیے کافی دور کی تاریخ ملی ہے اور...
05/03/2026

مصر میں تعلیمی ویزہ کی تجدید
تعلیمی ویزہ کی تجدید کے لیے اگر آپ کو تصویر و فنگر پرنٹس کے لیے کافی دور کی تاریخ ملی ہے اور آپ ہنگامی بنیادوں پر ویزہ کی تجدید کروانا چاہ رہے ہیں تو اس کے لیے:
آپ جوازات العباسیہ میں پانچویں فلور پر چلیں جائیں وہان پر ایک کمپنی ترابط کے نام سے کام کر رہی ہے جس کی فیس 65 امریکی ڈالر ہے.
آپ کو سب سے پہلے 250 جنیہ کی رصید دی جائے گی اس کے بعد آپ 65 ڈالر وہی پانچویں فلور پر جمع کروائیں گے اور مطلوبہ کاغذات کی جانچ پرٹال کے بعد 25 ڈالر ویزہ کی فیس جمع کروائیں گے، فنگر پرنٹس کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد آئندہ سات سے دس دن میں آپ کو اقامہ کارڈ مل جائے گا۔
جب آپ کا ویزہ کارڈ پرنٹ ہو جائے گا تو ترابط کمپنی کی جانب سے ان کا نمائندہ آپ کو کال کر کے آپ کا ویزہ کارڈ خود آپ تک پہنچا دے گا.




Happy islamic new year  #1442
19/08/2020

Happy islamic new year
#1442

06/08/2020

U can do also....

17/06/2020

إنا لله وإنا إليه راجعون

 #تجارتاصلی اور نسلی تاجرکہتا ہے: چالیس سال گزر گئے ہیں اس بات کو، لیکن مجھے آج بھی اس دکاندار اور اس دکاندار کے بیٹے کی...
30/05/2020

#تجارت
اصلی اور نسلی تاجر

کہتا ہے: چالیس سال گزر گئے ہیں اس بات کو، لیکن مجھے آج بھی اس دکاندار اور اس دکاندار کے بیٹے کی شکل ہر زاویئے سے یاد ہے۔

جیسے ہی میرا مڈل سکول کا نتیجہ اخباروں میں چھپا، میرے تو پاؤں زمین پر نہیں ٹک رہے تھے۔ حالانکہ میں نے کوئی معرکہ بھی نہیں مارا تھا۔ بس آٹھویں جماعت کو فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا تھا۔ لیکن مجھے کچھ بھی نہیں سوجھ رہا تھا کہ اپنی خوشی کا کیسے اظہار کروں۔

دوسرے دن میں نے منصوبہ بنایا کہ اپنے قصبے "سویداء" سے "دمشق" جا کر سیر کر کے آتا ہوں۔ میرے لیئے امتحان میں پاس ہونے کا اس سے بڑا جشن نہیں ہو سکتا تھا۔ میری جیب میں ایک "لیرے" کا سکہ تھا اور پانچ لیرے کا کڑکتا نوٹ۔ میں نے سیدھا بس کے اڈے پر جا کر دم لیا۔ بس والے نےسکے والا ایک لیرا کرایہ لے لیا، باقی کے پانچ لیرے میرے جیب میں موجود تھے۔ میں نے منصوبہ بنا لیا تھا کہ ان پیسوں سے دمشقی مٹھائی گھر لے کر جاؤنگا اور مزے کرونگا۔ میرا شامی کیک خریدنے کا تو پکا ارادہ تھا۔

دمشق کے بازار ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت۔ الصالحیہ بازار اور الحمیدیہ بازار کی تو کیا ہی بات تھی۔ وہیں جابی گیٹ کے پاس مجھے مٹھائی کی ایک بڑی دکان نظر آئی۔ میں نے اندر جا کر دکاندار سے، جس کے پہلو میں اس کا ایک بیٹا بھی بیٹھا ہوا تھا، کلو کیک، کلو برازق اور ایک کلو غُرائیبہ مانگا۔ لیکن جیسے ہی پیسے دینے کیلیئے میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا تو جیب خالی تھی، میرے پانچ لیرے جیب میں نہیں تھے۔

میری حالت دیدنی تھی اور شاید میرے چہرے سے یاسیت بھی نظر آ رہی ہو گی۔ میں نے دکاندار سے معذرت کرتے ہوئے کہا: جناب، میں کچھ دیر بعد آوںگا اپنا سامان اٹھانے کیلیئے۔

دکاندار نے مسکراتے ہوئے مجھے دیکھا اور کہا

پیسے گھر بھول آئے ہو؟

میں نے کہا:

نہیں پیسے تو میری جیب میں ہی تھے۔ پورے پانچ لیرے کا ایک ہی نوٹ تھا،

کدھر رہتے ہو؟ دکاندار نے پوچھا۔

سویداء میں رہتا ہوں۔ میں نے جواب دیا۔

اچھا، ادھر آؤ، پہلے ذرا بیٹھ لو، تھوڑا آرام کرو۔

پھر اس نے چائے کا ایک کپ مجھے بھر کر پکڑاتے ہوئے کہا؛ میرے بیٹے کے ساتھ بیٹھ کر چائے پیو۔

اتنی دیر میں دکاندار نے جو میرا سامان تول کر رکھا تھا، لفافوں میں پیک کر کے مجھے دیتے ہوئے کہا: یہ لو تمہارا سامان، جب کبھی دوبارہ دمشق آنا تو پیسے دے جانا۔

میں نے انکار کرتے ہوئے کہا: سیدی ، میں نے اتنی جلدی دوبارہ دمشق نہیں آنا۔ اور پھر یہ چیزیں کوئی ضروری بھی نہیں ہیں۔ معذرت کے ساتھ، میں اب یہ نہیں خریدنا چاہتا، آپ رہنے دیجیئے۔ آپ کا شکریہ۔

دکاندار نے کہا: بیٹے، تم دمشق ضرور آؤ گے۔ اور مجھے یہ بھی پورا یقین ہے کہ تم میرے پیسے بھی ضرور واپس کروگے۔

اور اس کے ساتھ ہی دکاندار نے اصرار کر کے مجھے سامان اٹھوا دیا۔

میں سامان لیکر شرمندہ شرمندہ دکاندار اور اس کے بیٹے کو سلام کر کے باہر نکلا۔ ابھی چند قدم ہی دور گیا ہونگا کہ دکاندار کا بیٹا مجھے پیچھے سے آوازیں دیتا ہوا دکھائی دیا۔

میں رک گیا، دکاندار کے بیٹے نے مجھۓ آ کر بتایا کہ ابو کو تمہارے پانچ لیرے دکان میں گرے ہوئے مل گئے تھے۔ لگتا ہے تم نے جب جیب میں ہاتھ ڈالا ہوگا تو نیچے گر پڑے ہونگے۔

ابو نے اپنی مٹھائیوں کے پیسے کاٹ لیئے ہیں اور یہ رہے تمہارے باقی کے پیسے۔

میری خوشی دیدنی تھی۔ کہاں میں ادھار کے بوجھ تلے دبا یہ سوچتا ہوا جا رہا تھا کہ چلو سامان تو ٹھیک ہے مگر سویداء جانے کا کرایہ کس سے مانگوں گا۔ اور کہاں اب یہ ادھار چکتا ہو گیا تھا، کسی کے آگئے ہاتھ پھیلائے بغیر کرائے کے پیسے نکل آئے تھے اور میں ہلکا پھلکا ہو چکا تھا۔

میں نے دکاندار کے بیٹے کا شکریہ ادا کیا۔ اسے اپنے ابو کو جا کر میری طرف سے شکریہ ادا کرنے کا کہا، باقی کے پیسے جیب میں ڈالے اور اڈے کی طرف چل پڑا۔

گھر جا کر کپڑے تبدیل کرنے کیلیئے میں نے جیسے ہی اپنی پرانی والی پتلون پہنی تو مجھے اپنے پانچ لیرے کا نوٹ اسی کی جییب میں مل گیا۔

ابا جی کو ساری قصہ کہہ سنایا۔ سن کر مسکرا دیئے اور کہنے لگے۔

پُتر، یہ لوگ شام کے تاجر ہیں۔ جدی پشتی تجارت پیشہ لوگ۔ ان کو انسانیت کے سارے معانی اور مطلب آتے ہیں۔ بہر حال پانچ لیرہ تیرے اوپر قرض ہے۔ اپنی امی سے کہہ، کل پرسوں تجھے میٹھے ڈھوڈھے بنا دے، ہماری طرف سے ھدیہ لیتا جا، پانچ لیرہ قرض بھی اتارنا، ہماری طرف سے شکریہ ادا کرنا اور ہماری طرف سے سلام بھی کہنا۔

اگلے ہفتے میں نے امی سے میٹھی روٹیاں پکوا کر، اور پانچ لیرہ قرضہ چکانے کیلیئے لیکر دمشق کی راہ لی۔

دکاندار نے جیسے ہی مجھے دیکھا، ہنس دیا اور کہنے لگا: میں نہیں کہتا تھا کہ تو جلد ہی دمشق واپس آئیگا۔ یہ ایک کلو ھریسہ میری طرف سے واپس لیتے جانا اور سویداء کے لوگوں کو میرا سلام کہہ دینا۔

کہتا ہے: آج بھی جب میں کسی تاجر کو دیکھتا ہوں تو دل فوراً ہی نسلی تاجر اور فصلی تاجر کا موازنہ کرنا شروع کر دیتا ہے۔“

  کے موجد "جین کوم" کو خود اپنے والد سے دوری اور فون پر بھی بات نہ کر پانے کا جو دکھ تھااس کے احساس کی وجہ سے اس نے دوسر...
03/05/2020

کے موجد "جین کوم" کو خود اپنے والد سے دوری اور فون پر بھی بات نہ کر پانے کا جو دکھ تھا
اس کے احساس کی وجہ سے اس نے دوسروں کو قریب لانے والی یہ ایجاد کی.

جین کوم یوکرائن کے ایک غریب یہودی خاندان میں پیدا ہوا..... گھر میں بجلی تھی نہ گیس...... یہ لوگ سردیوں میں بھیڑوں کے ساتھ سونے پر مجبور ہو جاتے تھے.

1992ء میں یہودیوں پر حملے بھی شروع ہو گئے تو والدہ نے نقل مکانی کا فیصلہ کیا لیکن والد نے وطن چھوڑنے سے انکار کر دیا.....
ماں نے بیٹے کا ہاتھ تھاما اور یہ دونوں امریکا آ گئے.....
کیلیفورنیا میں ان کے پاس مکان تھا نہ ہی کچھ کھانے کو.....
امریکا میں حکومت انتہائی غریب لوگوں کو کھانے پینے کی اشیاء خریدنے کیلئے فوڈ سٹیمپس دیتی ہے..... یہ سٹیمپس دراصل خیرات ہوتی ہیں.... یہ لوگ اتنے غریب تھے کہ زندگی بچانے کے لیے خیرات لینے پر مجبور تھے.

جین کوم پڑھنے لگا..... وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پڑھائی بھی مہنگی ہونے لگی..... فوڈ سٹیمپس سے گزارہ مشکل ہو گیا تو جین کوم نے پارٹ ٹائم نوکری تلاش کی اُسے ایک گروسری اسٹور میں خاکروب کی ملازمت ملی....
وہ برسوں یہ کام کرتا رہا..... اتنی غربت میں والد سے فون پر بات بہت مشکل خواہش تھی.

وہ اٹھارہ سال کی عمر میں کمپیوٹر پروگرامنگ کے خبط میں مبتلا ہو گیا
یہ شوق اسے سین جوز اسٹیٹ یونیورسٹی لے گیا...... 1997ء میں وہ یاہو "Yahoo " میں بھرتی ہوا.

2004ء میں فیسبک آئی اور 2007ء میں دنیا کی بڑی کمپنی بن گئی....
جین کوم نے فیسبک میں اپلائی کیا لیکن فیسبک کو اس میں کوئی پوٹینشل نظر نہ آیا اور اسے نوکری نہ دی.....
وہ مزید دو سال "یاہو" میں رہا.... اس دوران اس نے تھوڑے تھوڑے پیسے جمع کر کے آئی فون خرید لیا.

اس آئی فون نے اس کے مستقبل کی تشکیل کی.....
جین کوم نے فون استعمال کرتے کرتے ایک دن سوچا کہ میں کوئی ایسی ایپلی کیشن کیوں نہ بناؤں جو فون کا متبادل بھی ہو.....
ایس ایم ایس بھی کیا جا سکے..... تصاویر اور ڈاکو منٹس بھی بھجوائی جا سکیں اور جسے ہیک بھی نہ کیا جا سکے.

یہ آئیڈیا اپنے ایک دوست "برائن ایکٹون" کے ساتھ شیئر کیا..... یہ دونوں اسی آئیڈیا پر کام میں جت گئے...... یہاں تک کہ دو سال میں ایک طلسماتی ایپلی کیشن بنانے میں کامیاب ہو گئے.

یہ ایپ فروری 2009ء میں لانچ ہوئی اور اس نے پوری دنیا کو جوڑ دیا.
یہ ایپلی کیشن 'واٹس ایپ' کہلاتی ہے.
دنیا کے ایک ارب لوگ اس وقت یہ ایپ استعمال کر رہے ہیں......
آپ واٹس ایپ ڈاؤن لوڈ کریں اور دنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں.....
آپ کو نیا فون اور نیا نمبر خریدنے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور آپ پوری دنیا کے ساتھ رابطے میں رہیں گے.

جین کوم کو واٹس ایپ نے چند ماہ میں ارب پتی بنا دیا..... یہ ایپلی کیشن اس قدر کامیاب ہوئی کہ دنیا بھر کی کمپنیوں نے اس کی خریداری کیلئے بولی دینا شر وع کر دی لیکن یہ انکار کرتا رہا.

فروری 2014ء میں فیس بک بھی واٹس ایپ کی خریداری کی دوڑ میں شامل ہو گئی.....
فیس بک کی انتظامیہ نے جب اس سے رابطہ کیا تو اس کی ہنسی نکل گئی..... اس نے خدا کا شکر ادا کیا اور قہقہہ لگا کر کہا__ "یہ وہ ادارہ تھا جس نے مجھے 2007ء میں نوکری دینے سے انکار کر دیا تھا" ہنستے ہنستے اس نے فیس بک کو 'ہاں' کر دی.
19 ارب ڈالر میں سودا ہو گیا......

یہ کتنی بڑی رقم ہے آپ اس کا اندازہ پاکستان کے کل مالیاتی ذخائر سے لگا لیجیے.
پاکستان کا فارن ایکسچینج اس وقت 22 ارب ڈالر ہے اور پاکستان 70 برسوں میں ان ذخائر تک پہنچا
جب کہ جین کوم نے ایک ایپلی کیشن 19 ارب ڈالر میں فروخت کی.

جین کوم نے فیس بک کے ساتھ سودے میں صرف ایک شرط رکھی کہ میں فوڈ سٹیمپس دینے والے ادارے کے ویٹنگ روم میں بیٹھ کر معاہدے پر دستخط کروں گا......
فیس بک کے لیے یہ شرط عجیب تھی، یہ لوگ معاہدہ اپنے دفتر یا اس کے آفس میں کرنا چاہتے تھے لیکن فیس بک کو اس کی ضد ماننا پڑی، تاریخ طے ہوئی، فیس بک والے فلاحی سینٹر پہنچے......
وہ ویٹنگ روم کے آخری کونے کی آخری کرسی پر بیٹھا ہوا رو رہا تھا.....
وہ کیوں نہ روتا.....
یہ وہ سینٹر تھا جس کے اس کونے کی اس آخری کرسی پر بیٹھ کر وہ اور اس کی ماں گھنٹوں فوڈ سٹیمپس کا انتظار کرتے تھے......
یہ دونوں کئی بار بھوکے پیٹ یہاں آئے اور شام تک بھوکے پیاسے یہاں بیٹھے رہے......
ویٹنگ روم میں بیٹھنا اذیت ناک تھا لیکن اس سے بڑی اذیت کھڑکی میں بیٹھی خاتون تھی.....
وہ خاتون ہر بار نفرت سے ان کی طرف دیکھتی تھی.....
طنزیہ مسکراتی تھی اور پوچھتی تھی.....
"تم لوگ کب تک خیرات لیتے رہو گے.... تم کام کیوں نہیں کرتے"؟
یہ بات سیدھی ان کے دل میں ترازو ہو جاتی تھی لیکن یہ لوگ خاموش کھڑے رہتے تھے.
خاتون انھیں سلپ دیتی تھی.....
ماں کاغذ پر دستخط کرتی تھی اور یہ لوگ آنکھیں پونچھتے ہوئے واپس چلے جاتے تھے..... وہ برسوں اس عمل سے گزرتا رہا.

چنانچہ جب کامیابی ملی تو اس نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی اسی ویٹنگ روم میں منانے کا فیصلہ کیا.....
اس نے 19 ارب ڈالر کی ڈیل پر فوڈ سٹیمپس کے انتظار میں بیٹھے لوگوں کے درمیان بیٹھ کر دستخط کئے.....
چیک لیا....
اور سیدھا کاؤنٹر پر چلا گیا، فوڈ سٹیمپس دینے والی خاتون آج بھی وہاں موجود تھی.....
جین نے 19 ارب ڈالر کا چیک اس کے سامنے لہرایا اور ہنس کر کہا___ "آئی گاٹ اے جاب" اور سینٹر سے باہر نکل گیا.....🙂

یہ ایک مفلس غریب الوطن کے عزم و ہمت کی انوکھی داستان ہے
جو ثابت کرتی ہے کہ آپ ڈٹے رہیں، محنت کرتے رہیں تو بالآخر کامیابی آپ کے قدم چومتی ہے.
منقول

1st May  Day
01/05/2020

1st May
Day

 Rest in peace1967- 2020
29/04/2020


Rest in peace
1967- 2020

Happy Ramadan for you and your family.May Allah bless all of us with his countless blessings. Ameen
23/04/2020

Happy Ramadan for you and your family.
May Allah bless all of us with his countless blessings. Ameen

100 سال بھی رہیں، لگنا آپ کا اقامہ ہی ہے۔۔۔!بیرون ممالک رہنے والے پاکستانیوں سے چند اہم گذارشات:1. اپنی صحت و خوراک و لب...
12/02/2020

100 سال بھی رہیں، لگنا آپ کا اقامہ ہی ہے۔۔۔!
بیرون ممالک رہنے والے پاکستانیوں سے چند اہم گذارشات:

1. اپنی صحت و خوراک و لباس کا خاص خیال رکھیں کیونکہ ایک تو آپ کی جان کا آپ پہ پہلا حق ھے، دوسرا پاکستان میں پیسے کبھی پورے نہیں ھوتے!

2۔ آمدن میں سے بچت کیلئے کچھ نہ کچھ ضرور الگ کریں، اخراجات سے پہلے۔ کیونکہ اخراجات کے بعد کبھی بچت نہیں ھوتی۔ لیکن اس بچت کا مطلب اپنی ذات اور گھر والوں پہ ظلم ہرگز نہیں!
3۔ اپنی رشتہ داریوں کا حلقہ انہی لوگوں تک محدود رکھیں جو آپ کے برے وقت کے ساتھی رہے۔ نکمی کھڑپینچی کیلئے خواہ مخواہ اپنے پاوں نہ پھیلائیں، ورنہ سال یا دو سال بعد پاکستان جا کر اپنی فیملی و بچوں کو وقت نہیں دے سکیں گے۔

4۔ کسی آسمانی صحیفے میں نہیں لکھا کہ کے ساتھ آپ نے

5پلاٹ و کوٹھی کے چکر میں خود کو ہلکان نہ کریں، جتنے وسائل ہیں اس میں آسانی سے جو بنا سکتے ہیں بنا لیں
5 مرلہ کا مکان میاں بیوی اور 2 بچوں کیلئے کافی ہے
باہر کمپنیوں اور بنکوں سے قرضے لیکر پاکستان میں کوٹھی صرف رشتہ داروں کی بلے بلے یا شریکوں کو ساڑنے کیلئے بنانا کون سی عقل مندی ھے، جب کہ خود نہ اچھا کھانا، نہ مناسب پہننا!

6۔ پاکستان میں اپنے گھر والوں کو اپنی آمدن اور وسائل بارے صاف صاف بتا دیں، تا کہ وہ کویت ٹاورز اور الحمرا ٹاورز کے ساتھ آپ کی تصویریں دیکھ آپ کے بارے کسی غلط فہمی کا شکار نہ ھوں۔ پاکستان میں بیٹھے اکثر لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ جو باہر بیٹھے ہیں، پیسوں کی تو ان کو کوئی کمی ھو ہی نہیں سکتی!

7۔ پاکستان میں ماہانہ اخراجات ایک شیڈول کے مطابق بھیجیں ورنہ ہمیشہ ذہنی دباو کا شکار رہیں گے۔ اگر آپ ماہانہ 50 ہزار گھر بھیجتے ہیں، تو تجربے کے طور ایک مہینے لاکھ روپے گھر بھیج کر دیکھ لیں، اگلے مہینے پاکستان سے آپ کو کوئی فون نہیں کرے گا کہ اس مہینے پیسے نہ بھیجیں، پچھلے مہینے آپ نے ڈبل بھجوا دئیے تھے! و علی ھذا القیاس؟
8۔ پلاٹوں کی تعداد کے بجائے اپنے بچوں کی تعلیم پہ توجہ دیں، اچھی جگہ پڑھائیں اور ان کے سکول کی انتظامیہ سے رابطے میں رہیں۔ ان سے ان کی سکول کی سرگرمیوں بارے بات کریں۔ یہ نہیں کہ صرف بیگم سے گفت و شنید ھو رہی ھو!

9۔ پاکستان جائیں تو واجب نہیں کہ ائیرپورٹ پہ ایک فلائنگ کوچ بیس بندوں کے ساتھ آپ کو لینے آئے اور واپسی پہ اتنے ہی چھوڑنے آئیں۔ اور کئی جگہ تو یہ بھی دیکھا کہ خاندان کی ولیمہ نما دعوتیں ھو رہی ہیں۔ اس کے بجائے اگر ارد گرد کوئی ایسا بچہ یا بچی ہے جسکی تعلیم میں مالی مسائل حائل ہیں، تو اس کی مدد کر دیں۔
10 آخری بات، اپنے اہداف مقرر کر لیں کہ آپ نے وہ حاصل کر کے پاکستان واپس جانا ھے وہ بھی
اگر آپ مڈل ایسٹ میں ہیں تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ آپ کا یہاں لانگ ٹرم کوئی مستقبل ہے
گی
منقول

Address

Cairo
1000000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when UBL posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share