UBL

UBL Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from UBL, Investment Management Company, Cairo.

Happy islamic new year  #1442
19/08/2020

Happy islamic new year
#1442

06/08/2020

U can do also....

17/06/2020

إنا لله وإنا إليه راجعون

 #تجارتاصلی اور نسلی تاجرکہتا ہے: چالیس سال گزر گئے ہیں اس بات کو، لیکن مجھے آج بھی اس دکاندار اور اس دکاندار کے بیٹے کی...
30/05/2020

#تجارت
اصلی اور نسلی تاجر

کہتا ہے: چالیس سال گزر گئے ہیں اس بات کو، لیکن مجھے آج بھی اس دکاندار اور اس دکاندار کے بیٹے کی شکل ہر زاویئے سے یاد ہے۔

جیسے ہی میرا مڈل سکول کا نتیجہ اخباروں میں چھپا، میرے تو پاؤں زمین پر نہیں ٹک رہے تھے۔ حالانکہ میں نے کوئی معرکہ بھی نہیں مارا تھا۔ بس آٹھویں جماعت کو فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا تھا۔ لیکن مجھے کچھ بھی نہیں سوجھ رہا تھا کہ اپنی خوشی کا کیسے اظہار کروں۔

دوسرے دن میں نے منصوبہ بنایا کہ اپنے قصبے "سویداء" سے "دمشق" جا کر سیر کر کے آتا ہوں۔ میرے لیئے امتحان میں پاس ہونے کا اس سے بڑا جشن نہیں ہو سکتا تھا۔ میری جیب میں ایک "لیرے" کا سکہ تھا اور پانچ لیرے کا کڑکتا نوٹ۔ میں نے سیدھا بس کے اڈے پر جا کر دم لیا۔ بس والے نےسکے والا ایک لیرا کرایہ لے لیا، باقی کے پانچ لیرے میرے جیب میں موجود تھے۔ میں نے منصوبہ بنا لیا تھا کہ ان پیسوں سے دمشقی مٹھائی گھر لے کر جاؤنگا اور مزے کرونگا۔ میرا شامی کیک خریدنے کا تو پکا ارادہ تھا۔

دمشق کے بازار ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت۔ الصالحیہ بازار اور الحمیدیہ بازار کی تو کیا ہی بات تھی۔ وہیں جابی گیٹ کے پاس مجھے مٹھائی کی ایک بڑی دکان نظر آئی۔ میں نے اندر جا کر دکاندار سے، جس کے پہلو میں اس کا ایک بیٹا بھی بیٹھا ہوا تھا، کلو کیک، کلو برازق اور ایک کلو غُرائیبہ مانگا۔ لیکن جیسے ہی پیسے دینے کیلیئے میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا تو جیب خالی تھی، میرے پانچ لیرے جیب میں نہیں تھے۔

میری حالت دیدنی تھی اور شاید میرے چہرے سے یاسیت بھی نظر آ رہی ہو گی۔ میں نے دکاندار سے معذرت کرتے ہوئے کہا: جناب، میں کچھ دیر بعد آوںگا اپنا سامان اٹھانے کیلیئے۔

دکاندار نے مسکراتے ہوئے مجھے دیکھا اور کہا

پیسے گھر بھول آئے ہو؟

میں نے کہا:

نہیں پیسے تو میری جیب میں ہی تھے۔ پورے پانچ لیرے کا ایک ہی نوٹ تھا،

کدھر رہتے ہو؟ دکاندار نے پوچھا۔

سویداء میں رہتا ہوں۔ میں نے جواب دیا۔

اچھا، ادھر آؤ، پہلے ذرا بیٹھ لو، تھوڑا آرام کرو۔

پھر اس نے چائے کا ایک کپ مجھے بھر کر پکڑاتے ہوئے کہا؛ میرے بیٹے کے ساتھ بیٹھ کر چائے پیو۔

اتنی دیر میں دکاندار نے جو میرا سامان تول کر رکھا تھا، لفافوں میں پیک کر کے مجھے دیتے ہوئے کہا: یہ لو تمہارا سامان، جب کبھی دوبارہ دمشق آنا تو پیسے دے جانا۔

میں نے انکار کرتے ہوئے کہا: سیدی ، میں نے اتنی جلدی دوبارہ دمشق نہیں آنا۔ اور پھر یہ چیزیں کوئی ضروری بھی نہیں ہیں۔ معذرت کے ساتھ، میں اب یہ نہیں خریدنا چاہتا، آپ رہنے دیجیئے۔ آپ کا شکریہ۔

دکاندار نے کہا: بیٹے، تم دمشق ضرور آؤ گے۔ اور مجھے یہ بھی پورا یقین ہے کہ تم میرے پیسے بھی ضرور واپس کروگے۔

اور اس کے ساتھ ہی دکاندار نے اصرار کر کے مجھے سامان اٹھوا دیا۔

میں سامان لیکر شرمندہ شرمندہ دکاندار اور اس کے بیٹے کو سلام کر کے باہر نکلا۔ ابھی چند قدم ہی دور گیا ہونگا کہ دکاندار کا بیٹا مجھے پیچھے سے آوازیں دیتا ہوا دکھائی دیا۔

میں رک گیا، دکاندار کے بیٹے نے مجھۓ آ کر بتایا کہ ابو کو تمہارے پانچ لیرے دکان میں گرے ہوئے مل گئے تھے۔ لگتا ہے تم نے جب جیب میں ہاتھ ڈالا ہوگا تو نیچے گر پڑے ہونگے۔

ابو نے اپنی مٹھائیوں کے پیسے کاٹ لیئے ہیں اور یہ رہے تمہارے باقی کے پیسے۔

میری خوشی دیدنی تھی۔ کہاں میں ادھار کے بوجھ تلے دبا یہ سوچتا ہوا جا رہا تھا کہ چلو سامان تو ٹھیک ہے مگر سویداء جانے کا کرایہ کس سے مانگوں گا۔ اور کہاں اب یہ ادھار چکتا ہو گیا تھا، کسی کے آگئے ہاتھ پھیلائے بغیر کرائے کے پیسے نکل آئے تھے اور میں ہلکا پھلکا ہو چکا تھا۔

میں نے دکاندار کے بیٹے کا شکریہ ادا کیا۔ اسے اپنے ابو کو جا کر میری طرف سے شکریہ ادا کرنے کا کہا، باقی کے پیسے جیب میں ڈالے اور اڈے کی طرف چل پڑا۔

گھر جا کر کپڑے تبدیل کرنے کیلیئے میں نے جیسے ہی اپنی پرانی والی پتلون پہنی تو مجھے اپنے پانچ لیرے کا نوٹ اسی کی جییب میں مل گیا۔

ابا جی کو ساری قصہ کہہ سنایا۔ سن کر مسکرا دیئے اور کہنے لگے۔

پُتر، یہ لوگ شام کے تاجر ہیں۔ جدی پشتی تجارت پیشہ لوگ۔ ان کو انسانیت کے سارے معانی اور مطلب آتے ہیں۔ بہر حال پانچ لیرہ تیرے اوپر قرض ہے۔ اپنی امی سے کہہ، کل پرسوں تجھے میٹھے ڈھوڈھے بنا دے، ہماری طرف سے ھدیہ لیتا جا، پانچ لیرہ قرض بھی اتارنا، ہماری طرف سے شکریہ ادا کرنا اور ہماری طرف سے سلام بھی کہنا۔

اگلے ہفتے میں نے امی سے میٹھی روٹیاں پکوا کر، اور پانچ لیرہ قرضہ چکانے کیلیئے لیکر دمشق کی راہ لی۔

دکاندار نے جیسے ہی مجھے دیکھا، ہنس دیا اور کہنے لگا: میں نہیں کہتا تھا کہ تو جلد ہی دمشق واپس آئیگا۔ یہ ایک کلو ھریسہ میری طرف سے واپس لیتے جانا اور سویداء کے لوگوں کو میرا سلام کہہ دینا۔

کہتا ہے: آج بھی جب میں کسی تاجر کو دیکھتا ہوں تو دل فوراً ہی نسلی تاجر اور فصلی تاجر کا موازنہ کرنا شروع کر دیتا ہے۔“

  کے موجد "جین کوم" کو خود اپنے والد سے دوری اور فون پر بھی بات نہ کر پانے کا جو دکھ تھااس کے احساس کی وجہ سے اس نے دوسر...
03/05/2020

کے موجد "جین کوم" کو خود اپنے والد سے دوری اور فون پر بھی بات نہ کر پانے کا جو دکھ تھا
اس کے احساس کی وجہ سے اس نے دوسروں کو قریب لانے والی یہ ایجاد کی.

جین کوم یوکرائن کے ایک غریب یہودی خاندان میں پیدا ہوا..... گھر میں بجلی تھی نہ گیس...... یہ لوگ سردیوں میں بھیڑوں کے ساتھ سونے پر مجبور ہو جاتے تھے.

1992ء میں یہودیوں پر حملے بھی شروع ہو گئے تو والدہ نے نقل مکانی کا فیصلہ کیا لیکن والد نے وطن چھوڑنے سے انکار کر دیا.....
ماں نے بیٹے کا ہاتھ تھاما اور یہ دونوں امریکا آ گئے.....
کیلیفورنیا میں ان کے پاس مکان تھا نہ ہی کچھ کھانے کو.....
امریکا میں حکومت انتہائی غریب لوگوں کو کھانے پینے کی اشیاء خریدنے کیلئے فوڈ سٹیمپس دیتی ہے..... یہ سٹیمپس دراصل خیرات ہوتی ہیں.... یہ لوگ اتنے غریب تھے کہ زندگی بچانے کے لیے خیرات لینے پر مجبور تھے.

جین کوم پڑھنے لگا..... وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پڑھائی بھی مہنگی ہونے لگی..... فوڈ سٹیمپس سے گزارہ مشکل ہو گیا تو جین کوم نے پارٹ ٹائم نوکری تلاش کی اُسے ایک گروسری اسٹور میں خاکروب کی ملازمت ملی....
وہ برسوں یہ کام کرتا رہا..... اتنی غربت میں والد سے فون پر بات بہت مشکل خواہش تھی.

وہ اٹھارہ سال کی عمر میں کمپیوٹر پروگرامنگ کے خبط میں مبتلا ہو گیا
یہ شوق اسے سین جوز اسٹیٹ یونیورسٹی لے گیا...... 1997ء میں وہ یاہو "Yahoo " میں بھرتی ہوا.

2004ء میں فیسبک آئی اور 2007ء میں دنیا کی بڑی کمپنی بن گئی....
جین کوم نے فیسبک میں اپلائی کیا لیکن فیسبک کو اس میں کوئی پوٹینشل نظر نہ آیا اور اسے نوکری نہ دی.....
وہ مزید دو سال "یاہو" میں رہا.... اس دوران اس نے تھوڑے تھوڑے پیسے جمع کر کے آئی فون خرید لیا.

اس آئی فون نے اس کے مستقبل کی تشکیل کی.....
جین کوم نے فون استعمال کرتے کرتے ایک دن سوچا کہ میں کوئی ایسی ایپلی کیشن کیوں نہ بناؤں جو فون کا متبادل بھی ہو.....
ایس ایم ایس بھی کیا جا سکے..... تصاویر اور ڈاکو منٹس بھی بھجوائی جا سکیں اور جسے ہیک بھی نہ کیا جا سکے.

یہ آئیڈیا اپنے ایک دوست "برائن ایکٹون" کے ساتھ شیئر کیا..... یہ دونوں اسی آئیڈیا پر کام میں جت گئے...... یہاں تک کہ دو سال میں ایک طلسماتی ایپلی کیشن بنانے میں کامیاب ہو گئے.

یہ ایپ فروری 2009ء میں لانچ ہوئی اور اس نے پوری دنیا کو جوڑ دیا.
یہ ایپلی کیشن 'واٹس ایپ' کہلاتی ہے.
دنیا کے ایک ارب لوگ اس وقت یہ ایپ استعمال کر رہے ہیں......
آپ واٹس ایپ ڈاؤن لوڈ کریں اور دنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں.....
آپ کو نیا فون اور نیا نمبر خریدنے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور آپ پوری دنیا کے ساتھ رابطے میں رہیں گے.

جین کوم کو واٹس ایپ نے چند ماہ میں ارب پتی بنا دیا..... یہ ایپلی کیشن اس قدر کامیاب ہوئی کہ دنیا بھر کی کمپنیوں نے اس کی خریداری کیلئے بولی دینا شر وع کر دی لیکن یہ انکار کرتا رہا.

فروری 2014ء میں فیس بک بھی واٹس ایپ کی خریداری کی دوڑ میں شامل ہو گئی.....
فیس بک کی انتظامیہ نے جب اس سے رابطہ کیا تو اس کی ہنسی نکل گئی..... اس نے خدا کا شکر ادا کیا اور قہقہہ لگا کر کہا__ "یہ وہ ادارہ تھا جس نے مجھے 2007ء میں نوکری دینے سے انکار کر دیا تھا" ہنستے ہنستے اس نے فیس بک کو 'ہاں' کر دی.
19 ارب ڈالر میں سودا ہو گیا......

یہ کتنی بڑی رقم ہے آپ اس کا اندازہ پاکستان کے کل مالیاتی ذخائر سے لگا لیجیے.
پاکستان کا فارن ایکسچینج اس وقت 22 ارب ڈالر ہے اور پاکستان 70 برسوں میں ان ذخائر تک پہنچا
جب کہ جین کوم نے ایک ایپلی کیشن 19 ارب ڈالر میں فروخت کی.

جین کوم نے فیس بک کے ساتھ سودے میں صرف ایک شرط رکھی کہ میں فوڈ سٹیمپس دینے والے ادارے کے ویٹنگ روم میں بیٹھ کر معاہدے پر دستخط کروں گا......
فیس بک کے لیے یہ شرط عجیب تھی، یہ لوگ معاہدہ اپنے دفتر یا اس کے آفس میں کرنا چاہتے تھے لیکن فیس بک کو اس کی ضد ماننا پڑی، تاریخ طے ہوئی، فیس بک والے فلاحی سینٹر پہنچے......
وہ ویٹنگ روم کے آخری کونے کی آخری کرسی پر بیٹھا ہوا رو رہا تھا.....
وہ کیوں نہ روتا.....
یہ وہ سینٹر تھا جس کے اس کونے کی اس آخری کرسی پر بیٹھ کر وہ اور اس کی ماں گھنٹوں فوڈ سٹیمپس کا انتظار کرتے تھے......
یہ دونوں کئی بار بھوکے پیٹ یہاں آئے اور شام تک بھوکے پیاسے یہاں بیٹھے رہے......
ویٹنگ روم میں بیٹھنا اذیت ناک تھا لیکن اس سے بڑی اذیت کھڑکی میں بیٹھی خاتون تھی.....
وہ خاتون ہر بار نفرت سے ان کی طرف دیکھتی تھی.....
طنزیہ مسکراتی تھی اور پوچھتی تھی.....
"تم لوگ کب تک خیرات لیتے رہو گے.... تم کام کیوں نہیں کرتے"؟
یہ بات سیدھی ان کے دل میں ترازو ہو جاتی تھی لیکن یہ لوگ خاموش کھڑے رہتے تھے.
خاتون انھیں سلپ دیتی تھی.....
ماں کاغذ پر دستخط کرتی تھی اور یہ لوگ آنکھیں پونچھتے ہوئے واپس چلے جاتے تھے..... وہ برسوں اس عمل سے گزرتا رہا.

چنانچہ جب کامیابی ملی تو اس نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی اسی ویٹنگ روم میں منانے کا فیصلہ کیا.....
اس نے 19 ارب ڈالر کی ڈیل پر فوڈ سٹیمپس کے انتظار میں بیٹھے لوگوں کے درمیان بیٹھ کر دستخط کئے.....
چیک لیا....
اور سیدھا کاؤنٹر پر چلا گیا، فوڈ سٹیمپس دینے والی خاتون آج بھی وہاں موجود تھی.....
جین نے 19 ارب ڈالر کا چیک اس کے سامنے لہرایا اور ہنس کر کہا___ "آئی گاٹ اے جاب" اور سینٹر سے باہر نکل گیا.....🙂

یہ ایک مفلس غریب الوطن کے عزم و ہمت کی انوکھی داستان ہے
جو ثابت کرتی ہے کہ آپ ڈٹے رہیں، محنت کرتے رہیں تو بالآخر کامیابی آپ کے قدم چومتی ہے.
منقول

1st May  Day
01/05/2020

1st May
Day

 Rest in peace1967- 2020
29/04/2020


Rest in peace
1967- 2020

Happy Ramadan for you and your family.May Allah bless all of us with his countless blessings. Ameen
23/04/2020

Happy Ramadan for you and your family.
May Allah bless all of us with his countless blessings. Ameen

100 سال بھی رہیں، لگنا آپ کا اقامہ ہی ہے۔۔۔!بیرون ممالک رہنے والے پاکستانیوں سے چند اہم گذارشات:1. اپنی صحت و خوراک و لب...
12/02/2020

100 سال بھی رہیں، لگنا آپ کا اقامہ ہی ہے۔۔۔!
بیرون ممالک رہنے والے پاکستانیوں سے چند اہم گذارشات:

1. اپنی صحت و خوراک و لباس کا خاص خیال رکھیں کیونکہ ایک تو آپ کی جان کا آپ پہ پہلا حق ھے، دوسرا پاکستان میں پیسے کبھی پورے نہیں ھوتے!

2۔ آمدن میں سے بچت کیلئے کچھ نہ کچھ ضرور الگ کریں، اخراجات سے پہلے۔ کیونکہ اخراجات کے بعد کبھی بچت نہیں ھوتی۔ لیکن اس بچت کا مطلب اپنی ذات اور گھر والوں پہ ظلم ہرگز نہیں!
3۔ اپنی رشتہ داریوں کا حلقہ انہی لوگوں تک محدود رکھیں جو آپ کے برے وقت کے ساتھی رہے۔ نکمی کھڑپینچی کیلئے خواہ مخواہ اپنے پاوں نہ پھیلائیں، ورنہ سال یا دو سال بعد پاکستان جا کر اپنی فیملی و بچوں کو وقت نہیں دے سکیں گے۔

4۔ کسی آسمانی صحیفے میں نہیں لکھا کہ کے ساتھ آپ نے

5پلاٹ و کوٹھی کے چکر میں خود کو ہلکان نہ کریں، جتنے وسائل ہیں اس میں آسانی سے جو بنا سکتے ہیں بنا لیں
5 مرلہ کا مکان میاں بیوی اور 2 بچوں کیلئے کافی ہے
باہر کمپنیوں اور بنکوں سے قرضے لیکر پاکستان میں کوٹھی صرف رشتہ داروں کی بلے بلے یا شریکوں کو ساڑنے کیلئے بنانا کون سی عقل مندی ھے، جب کہ خود نہ اچھا کھانا، نہ مناسب پہننا!

6۔ پاکستان میں اپنے گھر والوں کو اپنی آمدن اور وسائل بارے صاف صاف بتا دیں، تا کہ وہ کویت ٹاورز اور الحمرا ٹاورز کے ساتھ آپ کی تصویریں دیکھ آپ کے بارے کسی غلط فہمی کا شکار نہ ھوں۔ پاکستان میں بیٹھے اکثر لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ جو باہر بیٹھے ہیں، پیسوں کی تو ان کو کوئی کمی ھو ہی نہیں سکتی!

7۔ پاکستان میں ماہانہ اخراجات ایک شیڈول کے مطابق بھیجیں ورنہ ہمیشہ ذہنی دباو کا شکار رہیں گے۔ اگر آپ ماہانہ 50 ہزار گھر بھیجتے ہیں، تو تجربے کے طور ایک مہینے لاکھ روپے گھر بھیج کر دیکھ لیں، اگلے مہینے پاکستان سے آپ کو کوئی فون نہیں کرے گا کہ اس مہینے پیسے نہ بھیجیں، پچھلے مہینے آپ نے ڈبل بھجوا دئیے تھے! و علی ھذا القیاس؟
8۔ پلاٹوں کی تعداد کے بجائے اپنے بچوں کی تعلیم پہ توجہ دیں، اچھی جگہ پڑھائیں اور ان کے سکول کی انتظامیہ سے رابطے میں رہیں۔ ان سے ان کی سکول کی سرگرمیوں بارے بات کریں۔ یہ نہیں کہ صرف بیگم سے گفت و شنید ھو رہی ھو!

9۔ پاکستان جائیں تو واجب نہیں کہ ائیرپورٹ پہ ایک فلائنگ کوچ بیس بندوں کے ساتھ آپ کو لینے آئے اور واپسی پہ اتنے ہی چھوڑنے آئیں۔ اور کئی جگہ تو یہ بھی دیکھا کہ خاندان کی ولیمہ نما دعوتیں ھو رہی ہیں۔ اس کے بجائے اگر ارد گرد کوئی ایسا بچہ یا بچی ہے جسکی تعلیم میں مالی مسائل حائل ہیں، تو اس کی مدد کر دیں۔
10 آخری بات، اپنے اہداف مقرر کر لیں کہ آپ نے وہ حاصل کر کے پاکستان واپس جانا ھے وہ بھی
اگر آپ مڈل ایسٹ میں ہیں تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ آپ کا یہاں لانگ ٹرم کوئی مستقبل ہے
گی
منقول

سرمایہ کاری  *Javed Choudary*بیٹا فرش پر بیٹھا تھا‘ والد کے پاؤں گرم پانی کی بالٹی میں تھے‘ وہ والد کے پاؤں باہر نکالتا ...
11/02/2020

سرمایہ کاری

*Javed Choudary*

بیٹا فرش پر بیٹھا تھا‘ والد کے پاؤں گرم پانی کی بالٹی میں تھے‘ وہ والد کے پاؤں باہر نکالتا تھا‘ تپائی پر رکھتا تھا‘ روئی سے صاف کرتا تھا‘ سکرب کرتا تھا اور دوبارہ پانی میں رکھ دیتا تھا‘ وہ مساج والا لگ رہا تھا‘ اس نے اگر سوٹ نہ پہنا ہوتا یا اگر مجھے یہ معلوم نہ ہوتا یہ اس دفتر‘ اس کمپنی اور اس فیکٹری کا مالک ہے تو میں اسے ملازم یا مساج والا ہی سمجھتا‘ وہ مالک تھا لیکن وہ زمین پر بیٹھا تھا‘ اس کا والد کرسی پر تھا اور وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کے پاؤں دھو رہا تھا۔

وہ فارغ ہوا‘ اس نے تولیے سے والد کے پاؤں صاف کیے‘ بالٹی اٹھائی‘ باتھ روم میں گیا‘ پانی الٹا‘

ہاتھ دھوئے‘ خشک کیے اور میرے سامنے بیٹھ گیا۔میں نے مدت بعد کسی شخص کو اپنے والد کی اتنی خدمت کرتے دیکھا تھا‘ میں حیران بھی تھا اور شرمندہ بھی‘ میرے والد پوری زندگی میرے ساتھ رہے تھے‘ میں ان کی اس طرح خدمت کرنا چاہتا تھا لیکن میں شرمیلے پن اور سستی کی وجہ سے ان کے پاؤں نہ دھو سکا‘ میں مصروفیت کی وجہ سے آخری دنوں میں ان سے روزانہ ملاقات بھی نہ کر سکا لہٰذا میں جب بھی اور جہاں بھی کسی کو اپنے بوڑھے والد کا ہاتھ پکڑے دیکھتا ہوں یا ان کے پاؤں دھوتے یا کندھے دباتے دیکھتا ہوں تو میرے افسوس میں اضافہ ہو جاتا ہے‘ میں اس وقت بھی دکھی اور خاموش بیٹھا تھا‘ وہ دونوں باپ بیٹا تھوڑی دیر مجھے دیکھتے رہے اور پھر بیک وقت بول پڑے ”جاوید صاحب اصل زندگی یہی ہے“ میں نے چونک کر پہلے بیٹے کی طرف دیکھا اور پھر باپ کی طرف‘ وہ دونوں مسکرا کر میری طرف دیکھ رہے تھے‘ دونوں کے چہروں پر سکون اور خوشی تھی‘ میں نے مدت بعد کسی کے چہرے پر اتنی خوشی اور اتنا سکون دیکھا تھا۔والد نے ہاتھ ملے اور میری طرف دیکھ کر بولا ”میں نے یہ اپنے باس سے سیکھا تھا‘ میں جوانی میں فیصل آباد کی ایک مل میں اکاؤنٹنٹ بھرتی ہو گیا‘ میں مالک کے قریب تھا لہٰذا میری اس سے روز ملاقات ہوتی تھی۔

میں نے دیکھا میرا مالک سرمایہ کاری کے خبط میں مبتلا ہے‘ اس کی جیب میں دس روپے بھی بچ جاتے تھے تو وہ انہیں بھی کاروبار میں لگا دیتا تھا‘ وہ دن رات کام کرتا تھا‘ فیکٹری کے بعد امپورٹ ایکسپورٹ کا بزنس‘ شاپنگ پلازے اور کرائے کے مکان اور اگر وقت بچ جاتا تو وہ یہ وقت گاڑیوں کی خریدوفروخت اور جائیداد کے لین دین میں صرف کر دیتا‘ وہ پیسے بنانے کی مشین تھا‘ وہ ہر ملاقات‘ ہر کام کے بعد سوچتا تھا مجھے اس کا کیا فائدہ ہوا؟ لوگ اس کے بارے میں کہتے تھے وہ پیسوں کے بغیر چھینک بھی نہیں مارتا۔

اسے اگر خارش بھی ہوتی تھی تو وہ خارش پر وقت ضائع کرنے کی بجائے نوٹ گنتا تھا‘ وہ ان کاروباری مصروفیات کی وجہ سے بچوں پر توجہ نہ دے سکا‘ اس نے بچوں کو اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخل کرایا مگر بچے پڑھ نہ سکے‘ آپ یہ بات ذہن میں رکھیں بچوں کو ٹیوٹر‘ سکول یا کالج نہیں پڑھاتے والدین پڑھاتے ہیں‘ والدین اگر بچوں پر توجہ نہ دیں‘ یہ اگر انہیں وقت اور محبت نہ دیں تو آپ انہیں خواہ آکسفورڈ میں داخل کرا دیں یہ تعلیم مکمل نہیں کر سکتے‘ بچوں کو والدین کی توجہ اور محبت چاہیے ہوتی ہے۔

بچے پھل ہوتے ہیں اور والدین کی محبت اور توجہ سورج اور چاند‘ یہ دونوں جب تک انہیں روشنی نہیں دیتے پھلوں میں اس وقت تک رس نہیں آتا‘ یہ نہیں پکتے‘ میرے سیٹھ کے بچے بھی والد کی توجہ اور محبت سے محروم تھے چناں چہ وہ کچے رہ گئے‘ بڑا بیٹا تعلیم کے لیے امریکا گیا‘ گوری سے شادی کی‘ کرسچین ہوا اور کبھی واپس نہ آیا‘ دوسرا نشے کی لت کا شکار ہو گیا‘ بیٹی نے مرضی کی شادی کر لی‘ والد نے رو پیٹ کر شادی قبول کر لی‘ وہ داماد کو کاروبار میں لے آیا۔

داماد کاروبار اور بیٹی دونوں کو کھا گیا‘ آخر میں نتیجہ طلاق نکلی اور سب سے چھوٹا بیٹا نالائق تھا‘ وہ دن رات فضول اور نالائق دوستوں میں بیٹھا رہتا تھا اور دونوں ہاتھوں سے والد کی دولت اڑاتا رہتا تھا‘ والد روکتا تھا تو وہ اس کے گلے پڑ جاتا تھا اور سیٹھ کے بھائی‘ سالے اور بہنوئی تمام لفنگے اور فراڈیے تھے‘ وہ بار بار اسے دھوکا دے چکے تھے‘وہ ان سے الرجک تھا‘ یہ تمام ایشوز اکٹھے ہوئے‘ سیٹھ سٹریس میں گیا‘ بیمار ہوا اور تیزی سے میڈیکل سٹور بنتا چلا گیا‘۔

اس نے شراب پینا بھی شروع کر دی یہاں تک کہ ایک دن اسے ہارٹ اٹیک ہوا اور وہ فیکٹری کے گیٹ پر گر کر انتقال کر گیا‘ بس سیٹھ کے مرنے کی دیر تھی اس کی ہر چیز تباہ ہو گئی‘ وراثت تقسیم ہوئی اور بچوں نے وہ ساری دولت چند ماہ میں اڑا دی جسے جمع کرنے اور سنبھالنے میں سیٹھ نے پوری زندگی لگا دی تھی‘ اس کی بیگم نے بھی بڑھاپے میں اپنے منیجر سے شادی کر لی‘ بھائیوں کے پاس جو کچھ تھا وہ اس پر قابض ہو گئے‘ جو کچھ نشئی بیٹے کو ملا اس نے وہ نشے میں ڈبو دیا اور جو نالائق بیٹے کے ہاتھ آ گیا اس نے وہ مجروں میں ضائع کر دیا چناں چہ میری آنکھوں کے سامنے وہ ساری ریاست‘ وہ ساری ایمپائر زمین بوس ہو گئی۔

اکاؤنٹس میں تنخواہوں اور بجلی کے بل تک کے پیسے نہ بچے‘ میں نے استعفیٰ دیا اورنوکری چھوڑ کر آ گیا‘ میں جب فیکٹری کے گیٹ سے نکل رہا تھا تو میں نے اپنے آپ سے پوچھا ”محمد صفدر دنیا کی سب سے بڑی سرمایہ کاری کیا ہے“ میرے اندر سے آواز آئی ”بھلائی کے کام اور نیک اولاد“ چناں چہ میں نے فیصلہ کیا ”میں باقی زندگی دوسروں کے ساتھ بھلائی کروں گا اور اپنی ساری توجہ اپنی اولاد پر دوں گا“۔وہ رکے‘ لمبا سانس لیا اور بولے ”جاوید صاحب! آپ یقین کریں میں نے اس کے بعد زندگی میں کبھی ایک پیسے کی بچت نہیں کی۔

میں نے گاڑی تک نہیں خریدی اور گھر تک نہیں بنایا‘ میں جو کماتا تھا وہ میں اپنے خاندان پر لگا دیتا تھا‘ میں اپنے بچوں کو روز سکول چھوڑ کر آتا تھا‘ لنچ بریک کے دوران دوبارہ سکول جاتا تھا اور اپنے بچوں کو اپنے ہاتھ سے کھانا کھلا کر واپس آتا تھا‘ میرے بچے جانتے تھے اگر یہ کھانا نہیں کھائیں گے تو میں بھی اس دن لنچ نہیں کروں گا لہٰذا یہ میری اور میں ان کی خاطر لنچ کرتا تھا‘ میں روز ان کے جوتے بھی پالش کرتا تھا‘ ان کی یونیفارم بھی دھو کر استری کرتا تھا‘ میں روز انہیں گراؤنڈ بھی لے کر جاتا تھا۔

ان کے ساتھ کھیلتا بھی تھا اور واپسی پر گرم پانی سے ان کے پاؤں بھی دھوتا تھا‘ میں اپنے ہاتھ سے اپنی بیٹی کے سر میں تیل بھی لگاتا تھا اور کنگھی بھی کرتا تھا‘ میری ساری خوشیاں‘ میرے سارے غم میرے بچے تھے‘ یہ ہنستے تھے تو میں ہنستا تھا‘ یہ پریشان ہوتے تھے تو میں پریشان ہو جاتا تھا‘ اس محبت اور اس توجہ نے میرے اور ان کے درمیان ایک مضبوط بانڈ بنا دیا‘ ہم سب ایک یونٹ ہو گئے‘ یہ بڑے ہوئے‘ تعلیم مکمل کی اور اپنے اپنے کام شروع کر دیے‘ اللہ نے کرم کیا اور یہ ترقی کرنے لگے۔

یہ آج خوش حال بھی ہیں اور کام یاب بھی‘ میں آج بھی ان کے ساتھ لنچ کرتا ہوں‘ میں جس دن اس دفتر نہ آؤں میرے بچے اس دن لنچ نہیں کرتے‘ بچوں نے شیڈل بنا رکھا ہے ان میں سے کوئی ایک روز میرے پاؤں دھوتا ہے اور دوسرا شام کو مجھے دباتا ہے اور میری بیٹی روز کھانا پکا کر مجھے بھجواتی ہے‘یہ میری زندگی کی سرمایہ کاری تھی جب کہ میں نے پوری زندگی کسی کے ساتھ زیادتی‘ کسی کے ساتھ ظلم نہیں کیا‘ میں نے جب بھی کی لوگوں کے ساتھ بھلائی کی‘ میرا خیال ہے میری بھلائی میری آخری زندگی کی سرمایہ کاری ہے“۔

وہ خاموش ہو گئے‘ ملازم نے اس دوران میز پر کھانالگا دیا‘ بیٹے نے والد کی ویل چیئر کھینچی‘ میز کے ساتھ لگائی‘ گلے میں نیپکن باندھا اور ہاتھ سے پہلا لقمہ توڑ کر اس کے منہ میں رکھا‘ والد نے اس لقمے کے بعد اپنے ہاتھ سے کھانا شروع کر دیا‘ میں دونوں کو رشک سے دیکھنے لگا‘ والد کے دوسرے دونوں بیٹے بھی اس دوران آ گئے اور وہ بھی کھانے میں شریک ہو گئے‘ ایک بیٹا بینک میں منیجر تھا اور دوسرا ملٹی نیشنل کمپنی میں اکاؤنٹنٹ تھا۔

یہ دونوں روز لنچ بریک کے دوران تیسرے بھائی کے دفتر میں آتے ہیں اور یہ چاروں اکٹھے کھانا کھاتے ہیں‘ میں نے کھانے کے دوران میزبانوں سے ان کی والدہ کے بارے میں پوچھا‘ پتا چلا وہ انتقال فرما چکی ہیں‘ میں دو گھنٹے ان کے ساتھ رہا‘ ملازم بیٹے کھانے کے بعد اپنے دفتروں میں چلے گئے جب کہ بزنس مین بیٹا اور وہ دیر تک میرے ساتھ بیٹھے رہے‘ میں رخصت ہونے لگا تو والد میرا ہاتھ دبا کر بولا ”جاوید بیٹا! انسان کی اصل سرمایہ کاری اولاد اور نیکی ہوتی ہے لیکن زیادہ تر لوگ دولت کی جمع ضرب کے دوران یہ سرمایہ منفی کر بیٹھتے ہیں اور یوں خسارے میں جا گرتے ہیں۔

آپ لوگوں کو بتائیں ان کا اصل سرمایہ ان کی اولاد اور بھلائی ہے‘ یہ ان دونوں قسم کے سرمائے کو کسی قیمت پر ضائع نہ ہونے دیں‘ ان کی زندگی بھی جنت بن جائے گی اور آخرت بھی‘ یہ دونوں جہاں میں سرخرو ہو جائیں گے ورنہ دنیا میں دولت سے بڑی حماقت اور مصروفیت سے بڑی بے وقوفی کوئی نہیں“۔

*زند گی کا سب سے اہم سو ا ل* *شوق یا پیسہ*عظیم پریم جی جو ہندستان کے بڑے کاروباریوں میں سے ہیں، کہتے ہیں، ’’ میں اور میر...
08/02/2020

*زند گی کا سب سے اہم سو ا ل*
*شوق یا پیسہ*
عظیم پریم جی جو ہندستان کے بڑے کاروباریوں میں سے ہیں، کہتے ہیں، ’’ میں اور میری کمپنی کبھی پیسے کے پیچھے نہیں بھاگے۔ ہم ہمیشہ ساکھ کے پیچھے بھاگتے ہیں جس کی وجہ سے پیسہ ہمارے پیچھے بھاگتاہے۔‘‘

یہ الفاظ ایک کامیاب ترین کاروباری کے ہیں۔ اس کے برخلاف ہمیں سکھایا ہی یہ جاتا ہے کہ تم اس لیے پڑھ رہے ہو تاکہ نوکری مل جائے۔ لڑکی اس لیے پڑھ رہی ہے تاکہ اچھا رشتہ مل جائے۔ جب ہمارے اہداف (ٹارگٹس) ہی اتنے چھوٹے ہوں گے تو پھر زندگی کہاں گزرے گی۔ خدارا، اس کام کوکیجیے جس کیلئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو پیدا کیا ہے تاکہ کام آپ کو کام نہ لگے۔ اگر کام آپ کو کام لگے اور آپ کیلئے بوجھ بن جائے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ اپنے شوق کو دریافت نہیں کرسکے ہیں۔ آپ نے کاموں کا بوجھ اٹھایا ہوا ہے۔ اور زندگی جس کیلئے بوجھ ہوتی ہے، وہ مُردہ ہوتا ہے۔ صرف دفنا نا باقی ہوتا ہے۔ مشہور فلم ’’تھری ایڈیٹس‘‘ کے آخر میں فوٹوگرافر اپنے والد سے کہتا ہے، ’’فادر! اِٹس او کے۔۔۔ پیسہ کم کمالوں گا، لیکن وہ کروں گا جس میں میری تسلی ہے، میرا جذبہ ہے۔‘‘

یاد رکھیے، ہر ایک کے اندر میڑ لگا ہو ا ہے جو یہ بتاتا ہے کہ آپ کا کام کیا ہے۔ جو بتاتا ہے کہ آپ کو کدھر جانا ہے۔ بعض اوقات زمانے کی تقدیر زمانے کے ہاتھ کی لکیر پر نہیں، آپ کے ہاتھ کی لکیر پر لکھی ہوتی ہے۔ جناحؒ کے ہاتھ کو دیکھیں۔ جناحؒ کے ہاتھ پر قوم کی تقدیر لکھی ہوئی تھی۔ تقدیرآپ کو بدلنی ہوتی ہے۔ آپ انتظار کر رہے ہوتے ہیں کہ کوئی مسیحا آئے اور تقدیر بدلے، جبکہ خدا نے آپ سے کام لینا ہوتا ہے۔ عبدالستار ایدھی صاحب نہ ہوتے تو کتنے ہی لاوارث پڑے رہ جاتے، کتنے یتیم بے سہارا رہ جاتے۔ وہ کتنوں کے باپ بن گئے، کتنوں کے جنازوں کے کفن بن گئے اور کتنوں کیلئے آسانی کا ذریعہ بن گئے۔

بعض اوقات ایک فرد پورے معاشرے کے معیار کو بدل ڈالتا ہے۔ وہ Trendsetter کہلاتا ہے۔ یہ ٹرینڈ سیٹر آپ بھی ہو سکتے ہیں۔ شوق کی پہچان کا فارمولا شوق کی پہچان کا طریقہ یہ ہے کہ دوسروں سے مشورہ لینے سے پہلے اپنے آپ سے مشورہ کریں۔ اپنے آپ سے مشورہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اپنے دل کی آواز سنیں۔ جب آپ اپنے دل کی آواز سنیں گے تو آپ کو اندر سے آواز ضرور آئے گی کہ آپ اچھے انجینئر نہیں ہیں، بلکہ آپ اچھے بزنس مین ہیں۔ حضرت امام مالکؒ فرماتے ہیں، ’’انسان کی دو پیدائشیں ہیں۔ ایک پیدائش جس دن وہ اپنی ماں کے پیٹ سے دنیا میں آتا ہے۔ دوسری پیدائش جس دن اسے اپنے پیدا ہونے کا مقصد پتا چل جاتا ہے۔‘‘ عبدالستار ایدھیؒ مرحوم دو بار الیکشن میں کھڑے ہوئے اور دونوں بار ہار گئے۔ اگر وہ الیکشن جیت جاتے تو عبدالستار ایدھی نہ بن پاتے۔ حضرت اقبالؒنے مقابلے کا امتحان دیا۔ اگر آپؒ کامیاب ہوجاتے تو علامہ اقبالؒ نہ بنتے۔

جتنے بھی بڑے لوگ بنے ہیں، وہ بہت سی ناکامیوں کے بعد کامیاب ہوئے ہیں۔ آدمی کو درست جگہ پر پہنچنے کیلئے ٹھوکریں کھانی پڑتی ہیں۔ ہمارے تعلیمی نظام کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ اسٹوڈنٹ نمبروں میں تو ٹاپ کرجاتا ہے، لیکن زندگی میں فیل ہوجاتا ہے۔ کیونکہ وہ جو بنتا ہے، وہ اپنے لیے نہیں بنتا بلکہ وہ معاشرے کا ٹرینڈ دیکھتا ہے کہ اگر دوسروں کے گال سرخ ہیں تو میرے بھی سرخ ہونے چاہئیں۔
ہم جس طرح کے لوگوں سے متاثر ہوتے ہیں، انھی کا سا رجحان ہم اختیار کرتے ہیں۔ یہاں ہمارے فطری مزاج اور معاشرے کے انداز میں تصادم ہوتا ہے۔ ہم اپنے اندر سے کچھ ہوتے ہیں اور سماج کی دیکھا دیکھی کچھ اور کرتے ہیں۔ یہ دوغلا پن ہماری زندگی سے ہماری خوشی اور سکون چھین لیتا ہے۔

لوگوں کو نہ دیکھئے کہ وہ کیا کررہے ہیں۔ ٹی وی ڈراموں اور فلموں کے ہیرئووں کے کاموں سے بھی متاثر نہ ہوں۔ آپ جیسا کوئی دوسرا نہیں۔ اپنے اندر اپنی تلاش کیجیے۔ اپنے دل کے اندر جھانکئے اور کھوجئے کہ آپ کا رجحان کس طرف ہے۔ حضرت واصف علی واصفؒ فرماتے ہیں: ’’جو تیرا خیال ہے، وہی تیر ا حال ہے۔‘‘

پیسے کمانے کا آسان ذریعہ،پاکستانی انٹرنیٹ صارفین اکثر یہ سوال کرتے ہیں کہ آن لائن پیسے کیسے کمائے جا سکتے ہیں؟ اس سوال ک...
05/02/2020

پیسے کمانے کا آسان ذریعہ،
پاکستانی انٹرنیٹ صارفین اکثر یہ سوال کرتے ہیں کہ آن لائن پیسے کیسے کمائے جا سکتے ہیں؟ اس سوال کا جواب اتنا آسان نہیں اور اسے سمجھنے کے لیے ہمیں پہلے یہ سمجھنا پڑے گا کہ انٹرنیٹ کام کیسے کرتا ہے اور اس پر کمائی کے بنیادی ذرائع کیا ہیں؟

اس ساری گتھی کو سلجھانے کے لیے ہم نے دو اقساط پر مشتمل مضامین تیار کیے ہیں جن میں ہم نے انٹرنیٹ پر کمائی کے دو بنیادی ذرائع پر ماہرین اور صارفین دونوں سے بات کی ہے اور اپنے قارئین کے سامنے ایسی صورتحال رکھی ہے جس کے بعد ان کو آگاہی حاصل ہو کہ انٹرنیٹ پر کمائی کس طرح کی جا سکتی ہے۔

انٹرنیٹ پر کمائی کے دو بنیادی ذرائع ہیں
پہلا کونٹینٹ کے ذریعے کمائی ہے۔ کونٹینٹ سے مراد ایسا ملٹی میڈیا مواد ہے جسے دیکھنے، پڑھنے یا سننے کے لیے لوگ کسی پلیٹ فارم پر آئیں جو اس کے بدلے میں کونٹینٹ بنانے والے کو پیسے ادا کرے۔ یہ کونٹینٹ ویڈیو، تصاویر، آڈیو، بلاگنگ یا وی لاگنگ جیسا کوئی بھی تخلیقی کام ہوسکتا ہے جس کی مارکیٹ میں مانگ ہو۔
آن لائن


دوسرا کمائی کا ذریعہ ای کامرس یا انٹرنیٹ کے ذریعے خرید و فروخت ہے۔ جہاں پر آپ کو بغیر کسی دکان، فیکٹری یا اس قسم کے کاروباری ڈھانچہ بنائے بغیر آن لائن اشیاء کی خرید و فروخت کا موقع ملتا ہے۔

آن لائن
جس میں روایتی کاروبار کی طرح آپ چیزیں فروخت کے لیے آن لائن رکھتے ہیں، جنھیں طلب رکھنے والے صارفین خریدتے ہیں اور آپ کو کارڈ یا کیش آن ڈلیوری کے ذریعے اس کی قیمت ادا کرتے ہیں۔

اس مضمون میں ہم کونٹینٹ کے ذریعے کمائی کے آپشن پر بات کریں گے اور اسے سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ ایک تخلیق کار کیسے آن لائن پیسے کما سکتا ہے۔

ڈیجیٹل آبادی کتنی ہے؟
ڈیجیٹل سٹریٹجسٹ بدر خوشنود کہتے ہیں ’پاکستان میں اس وقت چھ کروڑ انٹرنیٹ صارفین ہیں‘ جو چند مہینے پہلے کا سرکاری ڈیٹا ہے۔ ’اس میں سے تقریبا ساڑھے تین، پونے چار کروڑ لوگ اس وقت صرف فیس بک پر ہیں۔ جن میں سے پچاس فیصد جنریشن زیڈ ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سنہ 1990 کے بعد پیدا ہوئے ہیں۔‘

اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ صرف پاکستان کے اندر آپ کی مارکیٹ کتنی بڑی ہے۔ اس میں آپ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے اردو زبان سمجھنے والے پاکستانیوں کو شامل کرلیں تو مارکیٹ بہت بڑی ہو جاتی ہے۔

کونٹینٹ کے ذریعے کمائی
بدر خوشنود کہتے ہیں ’ایڈور ٹائزر ان کو پیسے دیتے ہیں جن کے پاس ٹریفک ہوتی ہے۔ اب اگر آپ اس چیز کو سمجھ جائے کہ لوگ کس چیز کو پسند کر رہے ہیں۔‘

اس کے مطلب ہے کہ ہمیں انٹرنیٹ پر موجود صارفین کی ضررورت اور طلب کو جاننے کی ضرورت ہے کہ وہ کس قسم کا مواد پڑھنا، سننا، دیکھنا یا خریدنا چاہتے ہیں۔

مگر وہ مواد یا کونٹینٹ کیا ہے؟
یہ جاننے کے لیے ہم نے رخ کیا ضلع سیالکوٹ کے چھوٹے سے گاؤں کنگڑا کا جہاں ہم یوٹیوب پر دیہی زندگی کے بارے میں چینل چلانے والے وی لاگر مبشر صدیق سے ملنے کے لیے گئے۔

مبشر صدیق کے چینل کا نام ’ ولیج فوڈ سیکریٹ ‘ ہے اور ان کے نو لاکھ سے زیادہ سبسکرائبرز ہیں۔ ان کے چینل پر بڑی تعداد میں لوگ ان کی ویڈیوز دیکھنے کے لیے آتے ہیں جن میں پنجاب کی سادہ دیہی زندگی کو دکھایا گیا ہے۔ ان کی سب سے مقبول ویڈیو کو پچپن لاکھ سے زیادہ مرتبہ دیکھا جاچکا ہے۔

مبشر بہت سادہ انسان ہیں اور شاید ان کی یہی سادگی ان کے دیکھنے والوں کو پسند آتی ہے۔

جب ہم نے ان سے اس چینل کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے بڑی سادگی سے کہا ’یوٹیوب پر کھانا پکانے کا میرا چینل ہے۔ میری تعلیم جو ہے وہ میٹرک ہے، اور وہ بھی میں نے تھرڈ ڈویژن میں کی ہوئی ہے۔ اور میں ڈسٹرکٹ سیالکوٹ کے بالکل ایک چھوٹے سے گاؤں کا رہنے والا ہوں۔‘

آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ مبشر جس گاؤں میں رہتے ہیں وہاں انٹرنیٹ بھی باقاعدگی سے دستیاب نہیں اور انھیں اپنی ویڈیوز گاؤں سے ایک اور جگہ جا کر آپ لوڈ کرنی پڑتی ہیں۔

تو جیسا کہ مبشر صدیق نے دیہی زندگی کو اپنی بنیادی پیشکش کے طور پر اپنایا ویسے ہی آپ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ آپ دکھانا کیا چاہتے ہیں۔ کیا آپ معاشیات کے اوپر لکھنا چاہتے ہیں یا سیر و سیاحت پر وی لاگنگ کرنا چاہتے ہیں۔ آپ کو یہ بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آپ کس پلیٹ فارم کے لیے کیا کام کرنا چاہتے ہیں۔

آن لائن
یو ٹیوب پر بڑی تعداد میں لوگ ویڈیو دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔ اور چونکہ وہ ویڈیو دیکھنے کے لیے آتے ہیں اس لیے درمیانے سے طویل دورانیے کی ویڈیوز یوٹیوب پر بہتر کام کرتی ہیں۔

یہی بات اگر فیس بک کے بارے میں کی جائے تو وہاں مختصر دورانیے کی ویڈیوز زیادہ بہتر کارکردگی دکھاتی ہیں۔ فیس بک پر ایڈ بریکس فی الحال پاکستان کے اندر دستیاب نہیں۔

فیس بک پر مالی فائدہ حاصل کرنے کے لیے آپ کو دو مہینے کے اندر کم از کم تین منٹ کی ویڈیوز پر 30ہزار ویوز حاصل کرنا ہوگی اور آپ کے پیج کے کم از کم 10 ہزار فالورز ہوں۔

اس حوالے سے فیس بک کا ایک بہت مشہور پیج ناس ڈیلی تھا جس کے کروڑوں فینز تھے اور ان کی ایک منٹ کی ویڈیوز کو کروڑوں کے حساب سے لوگوں نے دیکھا ہے۔

کمانے کا آسان ذریعہ
پلیٹ فارمز جو پیسے دیتے ہیں؟
آن لائن کونٹینٹ کے ذریعے پیسے کمانے کے لیے تین بڑے پلیٹ فارمز ہیں۔ یوٹیوب، فیس بک اور ورڈ پریس یا بلاگنگ۔

گوگل اس لحاظ سے مارکیٹ میں سب سے نمایاں ہیں کیونکہ اس کے دو بڑے پلیٹ فارمز کے ذریعے کمائی کی جا رہی ہے۔ ایک یوٹیوب جسے دنیا کا سب سے بڑا ویڈیو سرچ انجن کہا جاتا ہے۔ دوسرا گوگل ایڈز جنھیں مختلف بلاگز پر لگا کر اشتہارات کی مد میں کمائی کی جاسکتی ہے۔

یوٹیوب پر بنیادی طور پر ویڈیوز شائع کی جاتی ہیں جنھیں دیکھنے کے لیے ایک بہت بڑی تعداد میں لوگ یوٹیوب پر موجود ہیں۔ بلاگ پر تحریر یا تصویر کی شکل میں مختلف معلومات شائع کی جاتی ہیں جن کے ساتھ گوگل یا دوسرے اشتہارات لگتے ہیں جن کے ذریعے پیسے کمائے جاتے ہیں۔

یہ نظام کام کیسے کرتا ہے؟
آن لائن
صدیق کے چینل کا نام ولیج فوڈ سیکریٹ ہے اور ان کے نو لاکھ سے زیادہ سبسکرائبرز ہیں
اگر آپ ایسا مواد بنانا شروع کریں جس پر ٹریفک آتی ہے تو ٹریفک ملے گی تو ایڈورٹائزر خود چل کر آپ کے پاس آئے گا۔ یہ ایڈورٹائزر گوگل یا فیس بک آپ کے پاس لے کر آئے گا۔

بدر خوشنود کہتے ہیں کہ ’یہ ایک پورا نظام بن جاتا ہے۔ کیونکہ ایڈورٹائزر کو قارئین چاہیے۔ قارئین کو اچھا مواد چاہیے۔‘

اس کا مرحلہ وار طریقہ بدر خوشنود کی زبانی کچھ یوں ہے۔

آپ کو اپنے مواد کے لیے پلیٹ فارم چاہیے ہوگا۔ وہ یوٹیوب چینل ہو سکتا ہے، فیس بک پیج ہو سکتا ہے۔ ویڈیو، آڈیو یا تصویری بلاگ ہوسکتا ہے یا سادہ تحریروں پر مشتمل بلاگ ہوسکتا ہے۔ تو سب سے پہلے آپ کو اپنے مواد کی اشاعت کے لیے ایک ڈیجیٹل اثاثہ بنانا پڑے گا۔ اگر ویب سائٹ ہے تو اس کے لیے ڈومین کے ساتھ آپ کو ہوسٹنگ خریدنی پڑے گی جس پر آپ کے ویب سائٹ قائم ہو گی۔

ویب سائٹ کی صورت میں اس کے بعد آپ کو ایک پروگرام اپلائی کرنا پڑے گا جو گوگل کا ایک پروگرام ہے، گوگل ایڈ سینس۔ مختصراً یہ کہ آپ نے ایڈ سینس اپلائی کرنا ہے۔

جب آپ اپنے پلیٹ فارم پر مواد ڈالنا شروع کریں گے تو ایک خاص وقت کے بعد آپ کی ویب سائٹ پر ایک خاص حد تک جب کچھ سو یا کچھ ہزار لوگ آنا شروع ہو جائیں گے۔ تو آپ گوگل ڈاٹ کام کے ایڈسینس پر جا کر اپلائی کر سکتے ہیں۔ اور یوں آپ کو اپنی ٹریفک کے مطابق آپ کو معاوضہ ملنا شروع ہو جائے گا۔

یوٹیوب پر ایڈورٹائزر پیسے دیتے ہیں، جن میں وہ ویڈیوز پر اشتہارات دیتے ہیں۔ اور 45 فیصد یوٹیوب والے رکھتے ہیں، اور 55 فیصد ویڈیو بنانے والے کو دیتے ہیں۔
ای کامرس سے آپ کو بغیر کسی دکان، فیکٹری یا اس قسم کے کاروباری ڈھانچہ بنائے بغیر آن لائن اشیاء کی خرید و فروخت کا موقع ملتا ہے
لوگ کیا دیکھنا چاہتے ہیں؟
یہ سوال ہم نے بدر خوشنود سے پوچھا جنھوں نے فوراً ہی کہا ’ملین ڈالر سوال ہے یہ ویسے۔‘

بدر نے مزید تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ’اس کا سب سے آسان اور سائنٹیفک طریقہ یہ ہے کہ گوگل کے کچھ مفت اور تھرڈ پارٹی ٹولز ہیں جو آپ استعمال کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر گوگل ٹرینڈز ایک ٹول ہے۔ وہاں جا کر آپ دیکھ سکتے ہیں کہ لوگ دنیا میں کیا چیز مانگ رہے ہیں، کیا چیز ڈھونڈ رہے ہیں۔‘

لیکن یہ سب تحقیق بدر کی مطابق ’آپ کو چھ مہینے پہلے کرنی ہو گی۔ اور اس کے مطابق مواد ابھی سے بنانا ہے تا کہ آپ سرچ انجنز کی درجہ بندی میں آ جائیں۔ جب رزلٹ پیجز میں آئیں گے تو آپ کے پاس خود بخود ٹریفک آئے گی۔‘

بدر نے تاکید سے کہا کہ ’مواد کیا بنانا ہے یا کیا نہیں یہ سب سائنٹیفک بنیاد پر ہونا چاہیے نہ کہ مفروضوں یا ذاتی پسند ناپسند کی بنیاد پر۔ سائنٹیفک ڈیٹا ہے جو آپ کو بتائے گا کہ لوگ کیا پڑھ رہے ہیں اور سرچ کر رہے ہیں۔ اس کے مطابق اگر آپ مواد بنائیں گے تو آپ کی کامیابی کا راستہ کم ہو جاتا ہے۔‘

کتنے پیسے ملتے ہیں؟
اس کا اندازہ پیش کرتے ہوئے بدر نے بتایا کہ ’دس لاکھ ویوز پر آپ سو ڈالرز سے لے کر ہزار ڈالرز تک کما سکتے ہیں۔‘ اور یہ کمائی ایک بار نہیں ہوتی کیونکہ لوگ سالوں تک ان ویڈیوز کو دیکھتے رہتے ہیں۔

جب ہم نے یہی سوال مبشر صدیق سے پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ ’الحمد اللہ میری جو ماہانہ کمائی ہے، ہر مہینے اوسطاً تین لاکھ ہے۔ تین لاکھ سے کبھی پچیس ہزار اوپر ہو جاتی ہے، کبھی پچیس ہزار نیچے ہو جاتی ہے۔‘

ٹاپ ٹپس
ہم نے بدر خوشنود اور مبشر صدیق دونوں سے پوچھا کہ وہ ہمارے قارئین کو بہترین ٹپس کیا دیں گے تو ان کی ٹپس کچھ ہوں ہیں۔

آن لائن
بدر خوشنود
ڈیجیٹل تعلیم کے لیے ’یوٹیوب ایک بہت بڑا وسیلہ ہے۔ مفت مواد ہے، بہت سارا مواد ہے۔ ہم نے ان معلومات کو علم اور علم کو حکمت میں بدلنا ہے۔ مگر ہم نے یہ خود کرنا ہے۔ اس لیے وقت ضائع کرنے کی بجائے اگر ہم معلومات کو علم اور علم کو حکمت میں تبدیل کرنے کی کوشش کریں گے۔ تو میرے خیال میں ہم نا صرف خود سیکھ سکتے ہیں۔ بلکہ آنے والی نئی نسل کو بہت کچھ سکھا سکتے ہیں۔‘

آن لائن
مبشر صدیق
مبشر کہتے ہیں کہ ’شروع کے چھ مہینے میں ویڈیوز کے بالکل بھی ویوز نہیں ہوتے تھے۔ دن میں دو، چار، دس ویوز۔ صرف بیس پچیس ویوز تک جا کر ویڈیوز رک جاتی تھی۔ لیکن جیسے ہی دو چار ویڈیوز وائرل ہوئیں، الحمداللہ ساری ویڈیوز کے ویوز آنا شروع ہوگئے۔‘

اور سیکھنے کے اہمیت کی بارے میں کہتے ہیں ’جب تک زندگی ہے آپ کی، تب تک آپ سیکھتے ہیں۔ سیکھنا نا چھوڑیں، غلطیوں سے سیکھیں۔ آنے والی ہر ویڈیو کو، آنے والے ہر دن کو پہلے دن سے بہتر بناتے جائیں۔ تو انشااللہ آپ کامیاب ہو جائیں گے۔
منقول

Address

Cairo
1000000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when UBL posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share